Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

فاتحِ بیت المقدس کی خدمت میں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 625 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Fateh Bait ul Maqdas ki Khidmat mein

فاتحِ بیت المقدس کی خدمت میں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 625)

جب سے امریکی صدر نے اپنے سفارت خانے کو اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا ، پوری امت مسلمہ میں بیداری کی ایک لہر دوڑ گئی ہے ۔ مسلم ممالک کے ایوان ہائے اقتدار سے لے کر گلی کوچوں تک قبلۂ اول کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کے چرچے ہیں اور ہر طبقے کے مسلمان اپنے دینی جذبات کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں بھی اس مسئلہ پر امریکہ نے سخت شکست اٹھائی ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ ہمارے لیے کوئی خاص خوشی کی بات نہیں ۔ کشمیر ، افغانستان ، عراق ، برما اور ملک شام کے حوالے سے ’’ عالمی برادری‘‘ نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انسانی حقوق ، آزادی ٔ اظہار ‘ حق خودارادیت وغیرہ جیسے مقبول ترین نعرے صرف ایک ڈھکوسلا ہیں‘ جن کے ذریعے مسلمانوں کو بے وقوف بنایا جاتا ہے ورنہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی نظر میں وہ حقوق بھی حاصل نہیں ‘ جو اُن کے ہاں کسی جانور کے ہوتے ہیں۔

ایسے حالات میں ہم نے سوچا کہ کیوں نہ اپنے قارئین کے ساتھ عظیم فاتح سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒ کی خدمت میں حاضری دی جائے ، جنہوں نے ۲۷؍ رجب ۸۳ ۵ ھ (مطابق ۱۱۸۷ء ) کو یورپ کی متحدہ صلیبی طاقت کو شکست دے کر تقریباً نوے برس بعد بیت المقدس کو آزادی دلوائی تھی ۔ ان کی خدمت میں پہنچ کر ہی ہمیں یہ پتہ چل سکتا ہے کہ بیت المقدس اور دوسرے مقبوضہ مسلم ممالک کیسے آزاد ہو سکتے ہیں‘ اس مقصد کیلئے ہمیںاپنے اندر کیا وصف اور کیا ہنر پیدا کرنا ہو گا اور کن لوگوں سے امت مسلمہ اپنے تحفظ کی امیدیں وابستہ کر سکتی ہے ۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہوکہ ہمارا حال بھی یوں ہو کہ :

ترسم نرسی بہ کعبہ اے اعرابی

کیں راہ کہ تو میروی بہ ترکستان است

( اے سیدھے سادھے بھائی! مجھے ڈر ہے کہ تم کبھی ’’ کعبہ شریف ‘‘ نہیں پہنچ سکو گے کیونکہ تم جس راستے پر چل رہے ہو‘ یہ تو’’ ترکستان ‘‘ جاتا ہے)

سلطان کی زندگی کے چند زندہ و جاوید نقوش قارئین کی نذر ہیں:

یوسف بن ایوب ( سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒ ) ایک متوسط درجہ کے کرد شریف زادہ اور خاندانی سپاہی کی حیثیت سے ان کا نشوونما ہوا ۔ سلطان صلاح الدین ‘ ایوبی اس لیے کہلاتے ہیں کہ ان کے والد کا نام ایوب تھا ۔ اسی نسبت سے سارا خاندان ایوبی کہلاتا ہے ۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کا کوئی تعلق سیدنا حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے ہے ۔ سلطان اور ان کا پورا خاندان نسلاً کُرد ہے ۔ یہ قوم اب بھی عراق ، شام ، ترکی اور ایران میں مشہور ہے۔

مصر کی فتح اور صلیبیوں کے مقابلہ میں میدان میں آنے سے پہلے کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ یہ کرد نوجوان بیت المقدس کا فاتح اور عالم اسلام کا محافظ ثابت ہو گا ، اس کی قسمت میں وہ سعادت لکھی ہے جو بڑے بڑے عالی نسب شرفاء اور صلحاء کے لیے قابل رشک ہے اور تاریخ میں وہ اتنا بڑا کارنامہ انجام دے گا جس سے روح مبارک تک کو شادمانی حاصل ہو گی ۔

…٭…

یہ واقعہ بھی تاریخ میں یاد گار رہے گا ، جس سے سلطان کی دینی حمیت اور اس کی قوت ِ ایمانی کا اندازہ ہو تا ہے ۔

’’ سلطان صلاح الدین نے اپنا خیمہ لڑائی کے میدان میں نصب کر ایا جب خیمہ نصب ہو گیا ، تو حکم دیا کہ قیدی سامنے حاضر کئے جائیں۔

بادشاہ گائی اور ریجی نالڈ چاٹیلون (حنین) دونوں اندر لائے گئے ، سلطان نے ریجی نالڈ کو دیکھ کر کہا کہ یہ آدمی میرے انتقام سے نہیں بچ سکتا ۔

صلاح الدین اتنا کہہ کر کھڑا ہوا اور ریجی نالڈ کے سامنے آیا ، سلطان نے اس سے کہا سن! میں نے تجھے قتل کرنے کی قسم دو مرتبہ کھائی تھی ، ایک مرتبہ تو اس وقت جب کہ تونے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہروں پر حملہ کرنا چاہا تھا ، دوسری مرتبہ اس وقت جب کہ تو نے دھوکہ اور دغا بازی سے حاجیوں کے قافلہ پر حملہ کیا تھااور کہا تھا کہ ’’ اپنے محمد سے کہو تمہیں رہائی دیں‘‘

ھا انا انتصر لمحمد علیہ الصلوۃ والسلام ( لو میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقام لیتا ہوں)

اتنا کہہ کر صلاح الدین ؒ نے تلوار نکالی اور جیسا کہ عہد کیا تھا ، ریجی نالڈکو اپنے ہاتھ سے قتل کیا ، جو کچھ رمق باقی تھی ، اسے پہرے والوں نے آکر ختم کیا ۔

…٭…

سلطان عبادات و فضائل اعمال کے علاوہ حاکمانہ فضائل ، عدل ، عفو ، حلم ، جودو سخاوت ، مروت و شرافت ، صبر و استقامت ، شجاعت و فتوت اور شہامت و علو ہمت کے اوصافِ عالیہ سے آراستہ تھے۔

قاضی ابن شداد لکھتے ہیں کہ ’’ ہفتہ میں دو بار، پیر و جمعرات کو اذنِ عام ہوتا تھا ، فقہاء ، قضاۃ و علماء اور اہل مقدمہ حاضر ہوتے ، بڑے چھوٹے، امیر غریب ، بوڑھے اور عام بڑھیوں تک کو آنے کی اجازت تھ ی، رقعات و فرامین پر خود دستخط کرتے کبھی کسی صاحب غرض اور حاجت مند کو ناکام واپس نہ کرتے ، اس کے ساتھ ساتھ ذکر و تلاوت میں مشغول رہتے‘‘۔

اگر کوئی فریاد یا شکایت کرتا تو خود کھڑے ہو کر اس کا مقدمہ سنتے اس کی داد رسی کرتے ، خود ان کے خلاف ایک شخص نے دعویٰ کیا ، سلطان نے معاملہ کی پوری تحقیق کی ، اگرچہ مدعی کا حق ثابت نہیں ہوا ، لیکن سنطان نے اس کو ناکام واپس نہیں کیا ، اور خلعت و مال سے سرفراز کیا ۔

بڑے برد بار اور متحمل مزاج تھے ، مورخ ابن خلکان لکھتے ہیں کہ ’’ اپنے رفقاء و خدام کی غلطیوں اور لغزشوں سے چشم پوشی کرتے ، بعض مرتبہ کوئی ایسی بات سنتے جس سے ان کو تکلیف یا ناگواری ہوتی ، لیکن وہ اس کو محسو س بھی نہیں ہونے دیتے اور نہ اپنے طرز عمل سے کوئی فر ق آنے دیتے ۔

’’سلطان بڑے شریف النفس ، رقیق القلب اور درد مند انسان تھے ، ظلم کو برداشت نہ کر سکتے تھے ، کسی آفت رسیدہ کمزور مخلوق کی تکلیف کی تاب نہ لا سکتے ، ابن شداد لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عیسائی بڑھیا ان کے پاس آئی ، وہ سینہ پیٹتی تھی اور برابر روئے جارہی تھی ، سلطان نے سبب پوچھا ، کہا کہ میری چھوٹی سی بچی کو ڈاکو میرے خیمہ سے اٹھا لے گئے ، مجھے روتے پوری رات ہو گئی ، اب میں اپنی بچی آپ ہی سے لوں گی ، سلطان کو اس کی حالت پر بڑا ترس آیا ، اُن کی آنکھیں پُر آب ہو گئیں، اسی وقت ایک شخص کو لشکر کے بازار میں بھیجا کہ تحقیق کرے کہ کس نے اس بچی کو خریدا ہے ، جس نے خرید ا ہو ، اس کو قیمت دے کر اور بچی کو لے کر آئے ، تھوڑی دیر میں وہ سوار بچی کو کندھے پر لئے ہوئے نظر آیا ، بڑھیا زمین پر گر گئی اور اپنی پیشانی خاک پر رکھ کر دیر تک اپنی (مغربی ) زبان میں کچھ کہتی رہی پھر خوش خوش اپنی بچی کو لے کر چلی گئی‘‘۔

قاضی ابن شداد کہتے ہیں کہ ’’ جب سلطان کسی یتیم کو دیکھتے تو محبت و شفقت کی باتیں کرتے اور اس کی دلجوئی فرماتے ، اس کو کچھ عنایت فرماتے ، اگر کوئی پرورش کرنے والا نہ ہوتا تو اپنی طرف سے اس کا کچھ انتظام فرماتے ، اسی طرح جب کسی معمر شخص یا بوڑھے کو دیکھتے تو بڑے متاثر ہوتے ، اس کے ساتھ کچھ سلوک کرتے۔‘‘

…٭…

سلطانؒ شجاعت میں ضرب المثل تھے ، قاضی ابن شداد راوی ہیں کہ سلطان ؒ دن میں ایک ایک دو دو بار دشمن کے گرد گشت کرتے۔ گھمسان کی لڑائی میں سلطان تن تنہا گھوڑے پر صفوں کے درمیان چکر لگاتے ۔ ایک کوتل گھوڑا سائیس کے ساتھ ہوتا ، اور وہ خیمہ سے میسرۃ تک فوجوں میں گھستے ، صفیں چیرتے نکل جاتے ۔ فوجی دوستوں کو بلاتے ، ان کو مناسب مقامات پر ٹھہرنے یا بڑھنے کا حکم دیتے ۔

عکہ کے سب سے بڑے معرکے میں مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے ، قلب لشکر تک نے اپنی جگہ چھوڑدی ، ، نشان و پرچم اور طاشے زمین پر گر گئے ،لیکن سلطانؒ چند ساتھیوںکے ساتھ اپنی جگہ پر جمے رہے ، یہاں تک کہ پہاڑ کو پشت پر رکھ کر کھڑے ہو گئے ، مسلمانوں کو للکارا ، اور شرم دلائی ، اور وہ میدان میں واپس آئے ، اور دوبارہ حملہ کیا ، جس میں دشمن کے ساتھ ہزار آدمی قتل ہوئے اور مسلمانوں کو فتح ہوئی ۔

قاضی ابن شداد کہتے ہیں کہ سلطان نے ایک روز فرمایا :  ’’ میں تم سے اپنے دل کی بات کہتا ہوں ، میرا ارادہ ہے کہ ساحل کو صلیبیوں سے پاک کرنے کے بعد ملک کو تقسیم کردوں ، وصیت کر کے ہدایات دے کر خود یہاں سے رخصت ہو کر چلا جائوں ، اور سمندر میں سفر کر کے یورپ کے جزائر تک پہنچوں ان مغربیوں ( یورپین قوموں) کا وہاں تک تعاقب کروں کہ روئے زمین پر کوئی کافر نہ رہ جائے ، یا میں اس ارادہ میں کام آجائوں۔‘‘

…٭…

سلطانؒ عالم فاضل شخص تھے ، عرب کے انساب و قبائل یہاں تک کہ اُن کے مشہور گھوڑوں کے سلسلہ نسب پر ان کو عبور تھا ، عربوں کے واقعات و حالات اُن کو مستحضر تھے ۔

دنیا کے عجائبات و نوادر کا علم تھا ، ہر طرح کی معلومات رکھتے تھے ، ان کے ہم نشینوں کو ان سے بہت نئی باتیں معلوم ہوتی تھیں ۔

بعض مؤرخین کا بیان ہے کہ ان کو حماسہ حفظ تھا ، لین پول ان کی ابتدائی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’ اس کا اصلی رجحانِ طبیعت دینیات کی طرف تھا ، علمائے وقت سے احادیث سنتے ، ان کے براہین اور راویوں کے سلسلہ کی تحقیق ، مسائل فقہ پر بحث ، آیات قرآنیہ کی تفسیر میں اسے بڑا انہماک رہتا تھا اور سب سے بڑھ کر اس بات کا ذوق تھا کہ مذہب اہل سنت والجماعت کی تائید اور ثبوت قوی دلائل سے دیا جائے۔‘‘

…٭…

’’ میدان جنگ میں سلطان کی کیفیت ایک ایسی غمزدہ ماں کی سی ہوتی تھی ، جس نے اپنے اکلوتے بچہ کا داغ اٹھایا ہے ، وہ ایک صف سے دوسری صف تک گھوڑے پر دوڑتے پھرتے ، اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے ، خود ساری فوج میں گشت کرتے اور پکارتے پھرتے ’’ یا للاسلام‘‘ اسلام کی مدد کرو ! آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے‘‘۔

عکّا کے معرکہ میں ان کی کیفیت یہ تھی :’’ سارے دن سلطان نے ایک دانہ منہ میں نہیں رکھا ، صرف طبیب کے مشورہ اور اصرار سے ایک مشروب کا استعمال کیا ۔ شاہی طبیب نے مجھے بتلایا کہ ایک مرتبہ جمعہ سے اتوار تک سلطان نے صرف چند لقمے کھائے ، ان کی طبیعت میدانِ جنگ کے علاوہ کسی اور طرف متوجہ ہی نہیں تھی‘‘۔

…٭…

سلطان کو جہاد سے عشق تھا ، جہاد اس کی سب سے بڑی عبادت ، سب سے بڑی لذت عیش ، اور اس کی روح کی غذا تھی ۔ قاضی ابن شداد کہتے ہیں:

’’ جہاد کی محبت اور جہاد کا عشق ان کے رگ و ریشہ میں سما گیا تھا ، اور ان کے قلب و دماغ پر چھا گیا تھا ، یہی ان کا موضوع گفتگو تھا ، اسی کا سازوسامان تیار کرتے رہتے تھے اور اس کے اسباب و وسائل پر غور کرتے ، اسی مطلب کے آدمیوں کی ان کی تلاش رہتی ، اسی کا ذکر کرنے والے اور اسی کی ترغیب دینے والے کی طرف وہ توجہ کرتے ، اسی جہاد فی سبیل اللہ کی خاطر انہوں نے اپنی اولاد اور اہل خاندان اور وطن و مسکن اور تمام ملک کو خیر باد کہا اور سب کی مفارقت گوارا کی اور ایک خیمہ کی زندگی پر قناعت کی ، جس کو ہوائیں بلا سکتی تھیں ، کسی شخص کو اگر ان کا قُرب حاصل کرنا ہوتا تو وہ ان کو جہاد کی ترغیب دیتا ( اور اس طرح ان کی نظر میں وقعت حاصل کر لیتا) قسم کھائی جا سکتی ہے کہ جہاد کا سلسلہ شروع کرنے کے بعد انہوں نے ایک پیسہ بھی جہاد اور مجاہدین کی امداد و اعانت کے علاوہ کسی مصرف میں خرچ نہیں کیا۔‘‘(ملخص از : تاریخ دعوت و عزیمت )

اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ سلطان صلاح الدین ؒ کے درجات بلند ہوں ،امت مسلمہ میں پھر ان جیسے عظیم کردار جنم لیں اور مظلوم مسلمان آزادی سے ہمکنار ہوں۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online