Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

یہ جنگ ہماری ہے ؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 626 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Ye Jang Hamari Hay

یہ جنگ ہماری ہے ؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 626)

کونسی جنگ ہماری ہے اور کونسی جنگ ہماری نہیں ہے ۔ اس کا فیصلہ ہم نے نہیں ، آپ نے کرنا ہے ۔ وطن عزیز پاکستان کی تاریخ کا یہ سب سے اہم کیس آج ہم اپنے قارئین کی عدالت میں پیش کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری قوم کے ساتھ اتنے جھوٹ بولے گئے ہیں اور اتنے تو اتر کے ساتھ کہ اب ان کیلئے کسی کی بات پر اعتماد کرنا بہت مشکل ہو گیا ہے ۔

ہم آپ کی خدمت میں مختصر طور پر چند ناقابل تردید تاریخی اور مسلمہ حقائق رکھیں گے ، جن کے بعد آپ کیلئے اصل حقیقت تک پہنچنا کچھ مشکل نہ رہے گا ۔ آئیں ! اس سلسلے میں پہلے ایک نظر ہم ابتدائی صلیبی جنگوں کی تاریخ پر ڈالتے ہیں:

’’صلیب ‘‘عیسائیوں کا مقدس نشان ہے اور وہ اپنے مذہب کی بالادستی کیلئے لڑی جانے والی مذہبی لڑائیوں کو صلیبی جنگ یا کروسیڈ کا نام دیتے ہیں ۔ پہلی صلیبی جنگیں دو صدیوں سے زائد عرصے تک جاری رہیں ۔ ان کا آغاز ۴۸۹ھ سے ہوتا ہے اور ان کا اختتام ۶۹۰ھ پر ہوتا ہے ۔ ان جنگوں کی کچھ تفصیل عرض کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ہم ان جنگوں کے وہ اغراض و مقاصد سمجھ لیں‘ جن کیلئے یہ جنگیں لڑی گئیں ۔

ان جنگوں میں شرکت کیلئے یورپ کے لیڈر اپنی قوم کے سامنے جو نعرے اور مقاصد رکھتے تھے ، ان کو مختصر ترین لفظوں میں ہم یوں بیان کر سکتے ہیں:

۱… ایشیا کے مسلم ممالک پر قبضہ کرنا ، جن میں مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور القدس شریف سمیت مسلمانوں کے تمام تاریخی مقامات واقع ہیں ۔

۲… مسلمانوں سے اپنی گزشتہ شکستوں کا انتقام لینا ۔ یہود و نصاریٰ نے اہل ایمان کے ہاتھوں ملنے والی عبرتناک ہزیمتوں کو کبھی نہیں بھلایا اور یہ زخم انہوں نے کبھی فراموش نہیں کیے۔

۳… اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو یورپ سے دور رکھنا ، تاکہ یہ دین فطرت جو اپنے سچے اصولوں کی بنیاد پر ہر معقول انسان کو اپیل کرتا ہے ‘ یورپ میں نہ پھیلنے پائے ۔

پہلی صلیبی جنگ میں دس لاکھ صلیبیوں نے فرانس کے حاکم گاڈ فرے کی قیادت میں شعبان ۴۹۲ھ (جولائی 1099ئ) میں ارض مقدس پر پرچم صلیب لہرا دیا ۔ ستر ہزار مسلمان صرف مسجد اقصیٰ میں شہید کیے گئے جن کے خون میں عیسائی فاتحین کے گھوڑے گھٹنوں تک ڈوبے ہوئے تھے ۔

بیت المقدس کے سقوط کے ۲۶سال بعد ۵۱۸ھ (1124ئ) میں عماد الدین زنگی  ؒ نامی ایک غیر معروف فوجی افسرواسط اور بصرہ کے جاگیر دار بنے ۔ جلد ہی انہوں نے موصل میں ایک خود مختار حکومت قائم کر کے صلیبیوں سے جہاد شروع کر دیا ۔ ان کی فتوحات سے مدتوں بعد صلیبیوں کی قوت پر پہلی ضرب لگی اور وہ زنگی کی فتوحات سے خوفزدہ ہو گئے ۔

عماد الدین زنگیؒ کے بیٹے سلطان نورالدین زنگی ؒ نے اپنے والد کے شروع کردہ سلسلۂ جہاد کو جاری رکھا ۔ زنگی خاندان کی فتوحات کی روک تھام کے لیے دوسری صلیبی جنگ چھیڑی گئی ۔ ۵۴۲ھ (1148ئ) میں کئی لاکھ جرمن اور فرانسیسی سپاہیوں نے سینٹ برنارڈ لوئی ہفتم کی قیادت میں شام پر حملہ کیا مگر ۵۴۴ھ (1149ئ) میں شکست کھا کر بھاگ گئے ۔

پھر سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے مصر اور شام کو متحد کرنے کے بعد ربیع الثانی ۵۸۳ھ میں حطین کا معرکہ لڑا اور شام کے عیسائیوں کی طاقت کو فنا کر کے ۲۷رجب ۵۸۳ھ (ستمبر 1187ئ) کو ’’ بیت المقدس‘‘ فتح کر لیا ۔ اس پر یورپی حکام نے مشتعل ہو کر ۵۸۵ھ (1189ئ) میں فلسطین پر حملہ کر دیا ۔ یہ تیسری صلیبی جنگ تھی جو چار سال تک جاری رہی ۔ شعبان ۵۸۸ھ (ستمبر 1192ئ)میں صلیبی شکست کھا کر ناکام لوٹ گئے ۔

اس کے بعد جرمن حکمران ہنری ششم چوتھی صلیبی جنگ کا علم اٹھا کر ۵۹۱ھ (1195ئ) میں شام پر حملہ آور ہوا مگر عکا پہنچ کر مر گیا اور یہ مہم بالکل ناکام رہی ۔

۶۱۸ھ (1221ئ) میں پانچویں صلیبی جنگ چھڑی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی  ؒکے بھتیجے الملک الکاملؒ اور اس کے بھائیوں نے زبردست معرکوں کے بعد صلیبیوں کو عبرتناک شکست دی ۔

٭…چھٹی صلیبی جنگ ۶۲۴ھ (1228ئ) میں ہوئی جس میں شاہِ جرمنی فریڈ رک دوم کی قیادت میں فوج کشی ہوئی ۔ اس بار مسلمان مرعوب ہو گئے اور القدس کو ایک معاہدے کے تحت خاص مدت تک کے لیے جرمنوں کے حوالے کر دیا گیا ۔ اٹھارہ برس بعد ۶۴۲ھ (1244ئ) میں مصر کے ایوبی حکمران الملک الصالح ایوب نے خوارزمی سپاہیوں کے ساتھ مل کر القدس کو صلیبیوں سے چھین لیا اور مزاحمت کرنے والے فرنگیوں کو غزہ میں شکست فاش دی ۔

فرانس کے بادشاہ ’’ سینٹ لوئس ‘‘ نے پاپائے روم کی ترغیب پر 1248ء میں ساتویں صلیبی جنگ کا علم بلند کیا مگر۲؍محرم ۶۴۸ھ (6، اپریل 1250ء ) کو منصورہ کے مقام پر شکست کھا کر قیدی بن گیا ۔ چار سال بعد وہ وطن واپس گیا ۔

اٹھارہ برس بعد ۶۶۸ھ ( جولائی 1270ء ) میں سینٹ لوئس نے ایک بھار پھر حملہ کیا مگر محاصرے کے دوران بیمار پڑ کر مر گیا ۔ اس مہم پر صلیبی جنگوں کا سلسلہ اختتام پذیر ہو گیا ۔ ۶۹۰ھ (1291ئ) میں شاہِ مصر الملک الخلیل نے پورے شام سے عیسائی ریاستوں کا خاتمہ کر دیا ۔ اس طرح پانچویں صدی ہجری سے شروع ہونے والی صلیبی جنگوں کی باقیات کا نام و نشان بالکل مٹ گیا ۔

صلیبی جنگوں میں جب یورپی اقوام نے زبردست شکست کھائی تو انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ اب وہ اپنے طریقہ کار پر نظرثانی کریں ۔ فرانس کا بادشاہ ’’سینٹ لوئس ‘‘ نے چونکہ خود ان جنگوں میں شرکت کر کے شکست کے زخم کھائے تھے ، اس لیے اس نے مرتے وقت یہ وصیت کی کہ :

٭… مسلمان حکمرانوں میں پھوٹ ڈالی جائے اور انہیں کسی قیمت پر متحد نہ ہونے دیا جائے ۔

٭… مسلمانوں میں پختہ عقائد اور درست نظریات رکھنے والے کسی گروہ کو آگے بڑھنے کا موقع نہ دیا جائے ۔

٭… مسلمانوں کے معاشرے کو فحاشی ، اخلاق باختگی اور مالی بد عنوانیوں کے ذریعے کمزور کیا جائے ۔

٭… غزہ سے انطاکیہ تک ایک وسیع متحدہ یورپی حکومت قائم کی جائے ۔ اس علاقے میں آج فلسطین اور شام واقع ہیں ۔

عیسائی حکمران انہی مقاصد کو لے کر آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے اسلامی دنیا پر تسلط حاصل کر نے کیلئے ہر حربہ اختیار کیا ۔ صدیوں کی ہمہ جہت محنت کے بعد یورپ کو اقتصادی برتری ملی اور صلیبی قوتیں اس قابل ہو گئیں کہ اب وہ مسلمانوں کے مرکز ’’ خلافت عثمانیہ‘‘ پر ضرب لگا سکیں ۔ ۱۹۰۹ ء میں داخلی انقلاب برپا کیا گیا ، جس کے نتیجے میں خلیفہ کے تمام اختیارات سلب کر لیے گئے اور ۱۹۲۴ء کو ترکی میں ، کفریہ طاقتوں کے سب سے بڑے نمائندے مصطفی کمال نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کر دیا ۔

کفار نے ان خطوط پر برسوں نہیں صدیوں کام کیا اور اب انہیں واضح طور پر نظر آنے لگا کہ مسلمان حکمران سب ان کی مٹھی میں ہیں اور عالم اسلام سے اب کوئی بیداری کی آواز نہیں اٹھ سکتی ۔ یورپ کی سیاسی اور اقتصادی کمزوری کی بناء پر ان کفریہ طاقتوں کی قیادت اب امریکہ کے ہاتھ آچکی تھی اور و ہ پو ری دنیا میں گلو بلائز یشن اور نیو ورلڈ آرڈر پر عمل درآمد کروانے کیلئے ہر حد تک جانے کیلئے تیار تھا ۔

امت مسلمہ اپنے تمام ادوار میں کبھی مکمل طور پر جہاد سے غافل نہیں ہوئی اور اقبال مرحوم کے الفاظ میں:

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے!

جوانانِ تاتاری کس قدر صاحب ِ نظر نکلے

زمیں سے نوریان آسماں پرواز کہتے تھے!

یہ خاکی زندہ تر ، پایندہ تر ، تابندہ تر نکلے

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں!

اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے ، اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے

والی صورت حال چلتی رہی ۔ مسلمانوں نے مصائب کے دریا عبور کیے ، اپنی جان و مال کی قربانیاں پیش کیں اور اپنی آزادی کی ایسی تحریکیں چلائیں جنہوں نے ہمیشہ کفریہ طاقتوں کو پریشان ہی رکھا ۔ نجانے یہ صورت حال کب تک جاری رہتی کہ سر زمین افغانستان پر سوویت یونین حملہ آور ہوا اور جہاد افغانستان کے پہلے دور کا آغاز ہوا ۔ تب پوری دنیا سے خوش قسمت لوگ اس سر زمین کا رخ کرنے لگے اور یوں ایک نئے زمانے کا آغاز ہوا ۔ زمین پر کفار اپنی تدبیریں سوچ رہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آسمان سے اپنے فیصلے نازل فرماتے ہیں ‘ تب کفار کی تدابیر ناکامی سے دو چار ہو جاتی ہیں ۔

امریکہ اور یورپی ممالک کا خیال یہ تھا کہ سوویت یونین ٹوٹنے کے بعد اب پوری دنیا پر بلاشرکت غیرے ہماری حکومت ہو گی اور کوئی پتہ بھی ہماری اجازت کے بغیر ہلنے کی جسارت نہیں کرے گا ۔ اسی لیے جہاد افغانستان کے تمام ثمرات کو ضائع کرنے کی بھر پور عالمی سازشیں کی گئیں لیکن لاکھوں شہداء کا خون رنگ لایا اور ’’امارت ِ اسلامیہ افغانستان ‘‘ کی شکل میں اہل ایمان کو اپنی صدیوں کے خوابوں کی تعبیر نظر آنے لگی ۔

کفریہ طاقتیں بھلا اس کو کیسے برداشت کر سکتی تھیں ، جوں جوں’’ امارتِ اسلامیہ ‘‘ کے عظیم کارنامے سامنے آتے گئے اور ان کے عزائم واضح ہوتے گئے ، ویسے ویسے ان کے خلاف سازشیں تیز تر ہو تی گئیں ۔ صلیبی طاقتیں پھر سے مسلمانوں کے اندر کسی طرح کی اجتماعیت کو پنپنے کا موقع دینے کیلئے بالکل تیار نہیں تھیں ۔ پہلے تو پروپیگنڈوں کا سہارا لے کر ’’امارت اسلامیہ ‘‘ کو جھکانے کی کوشش کی گئی لیکن جب ایسی تمام کوششیں ناکام ہوئیں تو باقاعدہ صلیبی جنگ کا اعلان کر کے افغانستان کی اینت سے اینٹ بجانے کیلئے تمام صلیبی طاقتیں میدان میں اتر آئیں ۔ ان کے مقاصد ‘ نعرے اور دعوے سب وہ ہی تھے جو پہلی صلیبی جنگوں میں یورپی طاقتوں کے تھے۔ اس لیے اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں تھی کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ سراسر کفرو اسلام کی جنگ ہے ۔

اسے بد قسمتی کہیں یا کچھ اور کہ اُس وقت پاکستان پر ایک ایسے شخص کی حکومت تھی ، جس نے اپنے غلیظ کردار سے میر جعفر اور میرصادق کی یادیں تازہ کر دیں اور اس نے خود ہی اپنی کتاب میں سب کچھ لکھوا بھی دیا تاکہ سند رہے اور بوقت ِ ضرورت کام آئے ۔

’’امارت ِ اسلامیہ ‘‘ نے کبھی پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ افغانستان کی سر زمین پر پہلی مرتبہ کوئی ’’ پاکستان دوست ‘‘ حکومت قائم ہوئی تھی ۔ آج تک ارضِ وطن پر جتنی دہشت گردی ہوئی اور المناک واقعات نے جنم لیا ، یہ سب صلیبی جنگ شروع ہونے اور امارتِ اسلامیہ کے سقوط کے بعد ہوا ، پھر آخر یہ جنگ ہماری کیسے ہو گئی ۔ سوچیں اور خودفیصلہ کریں کہ کیا صلیب کے پجاریوں ، اسلام اور مسلمانوں کے اعلانیہ دشمنوں اور پاکستان کے ازلی بد خواہوں کی جنگ ، ہماری جنگ ہو سکتی ہے ؟

اللہ کریم وطن عزیز کو ہر آفت سے محفوظ فرمائے اور ہمارے مقتدر حلقوں کو صحیح فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online