Bismillah

632

۶ تا۱۲جمادی الثانی ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۳تا۲۹فروری۲۰۱۸ء

ایک التجاء (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 627 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aik ILteja

ایک التجاء

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 627)

یہ ایک پیغام نہیں ‘ التجا ہے … ہر مسلمان کے نام … ہر پاکستانی کے نام … ہر باپ اور ماں کے نام … ہر اُس شخص کے نام جو دل درد مند رکھتا ہے… ہر اُس فرد کے نام جو اپنے معاشرے کو حیوانوں اور درندوں کا معاشرہ نہیں بنانا چاہتا … ہر اُس انسان کے نام جو رشتوں کے تقدس ، شرافت ، انسانیت اور غیرت و حیاء کو کچھ بھی اہمیت دیتا ہے…

سوچئے اور خدارا سوچئے !

وہ مسلمان نوجوان جس کا دل خوفِ خدا سے لبریز ہوتا تھا … جو صرف مسلمان ماں ، بہن اور بیٹی کی عزت کا محافظ نہ تھا … بلکہ غیر مسلم بھی اپنی بچیوں کی چادر کے تحفظ کیلئے اُسی کی طرف دیکھتے تھے… مغرب کے کنارے پوری شان و شوکت کے ساتھ … صدیوں سے کھڑا جبل الطارق … آج بھی ہمیں وہ ایمان افروز داستان سنا رہا ہے… جب ایک عیسائی سردار ، مسلمانوں کے سالارِ اعلیٰ … موسی بن نصیر کی خدمت میں… صرف اس لیے حاضر ہوتا ہے کہ … ہم نے سنا ہے کہ مسلمان‘ عورتوں کی عزتوں کے محافظ ہوتے ہیں … مسلمان خواتین کے تقدس کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھتے ہیں… مسلمان ، غیر عورت کو دیکھتے ہی احترام سے سر جھکا لیتے ہیں… اور مسلمان معاشرے میں ہر عورت …ایک ملکہ کی طرح قابل احترام ، قابل عزت اور قابل تحفظ ہوتی ہے… اُس کی طرف غلط نگاہ اٹھانے کو شرمناک جرم سمجھا جاتا ہے۔

عیسائی سردار نے کہا : اے امیر ! ہمارا بادشاہ اس قدر اوباش اور بے ضمیر ہو چکا ہے … کہ خود ہماری بیٹیاں بھی اب اُس کی ہولناک نگاہوں سے محفوظ اور مامون نہیں … خدارا ! ہمیں اس سے نجات دلادیں اور اندلس پر اسلام کا پرچم لہرا کر ہماری بیٹیوں … کے دوپٹے کی لاج رکھ لیں … تب طارق بن زیادؒ نام کا وہ نوجوان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اٹھا… اور اندلس ہی پر نہیں‘ تاریخ کے صفحات پر بھی ایسا چھایا کہ … آج بھی ان علاقوں کے غیر مسلم اُس کا نام احترام سے لیتے ہیں

یہ مسلمانوں کا عروج تھا ، بلندی تھی ، اوجِ کمال تھا … اور اب آج کی پستی بھی ملاحظہ فرمالیں… روزانہ کے اخبارات اٹھالیں… ایسی ایسی خبریں ہیں کہ کلیجہ منہ کو آتا ہے اور دل خون کے آنسو روتا ہے … مسلمان نوجوان سے اُس کی گلی محلے کی … مسلمان ماں ، بہن ، بیٹی محفوظ نہیں … وہ جو حیاء کا پتلا تھا … سراپا شیطانیت کیسے بن گیا ؟ وہ جو غیرت ، حمیت کا استعارہ تھا ، بے غیرتی اور بے حمیتی میں جانوروں کو بھی کیسے شرمانے لگا ۔

جو رات کے اندھیروں میں بھی رب کے عذاب سے ڈرتا تھا … جس کے آنسوئوں سے اُس کی جائے نماز تر ہوتی تھی … جو خلوت میں غلط کام کرتے ہوئے کانپ جاتا تھا … جو ’’ذکر اللّٰہ خالیاً ففاضت عیناہ ‘‘ کی عملی تصویر تھا … جو ’’ شابٌّ نشاء فی عبادۃ اللّٰہ تعالیٰ‘‘ کا صحیح اور سچا مصداق تھا … جو اپنوں کیلئے باعث ِ اطمینان اور قابل فخر تھا … جو دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر … اپنا تن من دھن اسلام اور مسلمانوں پر لٹانے والا تھا … وہ اتنے زوال میں کیسے چلا گیا … وہ اتنی پستی کا شکار کیسے ہو گیا …

ہاں ! ہم سے بھول ہوئی ہے… اور بہت بڑی بھول ہوئی ہے… ہم نے بحیثیت قوم غلطی کی ہے … اور بہت خوفناک غلطی کی ہے… ہم نے تباہی کو دعوت دی ہے … اور بڑی پر زور دعوت دی ہے… اقبال مرحوم نے کہا تھا :

فطرت افراد سے اغماض بھی کر لیتی ہے

کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

ہم نے اپنے نوجوان کو جس راستے پر لگایا … ہم نے اُس کو جس راہ پر چلایا … اُس کا لازمی نتیجہ یہی نکلنا تھا … اور یہی انجام بد ہمیں آنکھوں سے دیکھنا تھا … ہم نے اُسے کبھی مخلوط تعلیم کے نام پر … کبھی انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام پر … کبھی آزادی اور ترقی کے نام … جو کچھ دیا … آج وہ قوم کو وہی کچھ واپس لٹا رہا ہے… تو ہمیں برا کیوں لگتا ہے … گندم بوئیں گے تو گندم ہی کاٹیں گے … جو کی فصل سے کبھی کپاس یا چاول نہیں اگتے … ہم نے بحیثیت قوم جو کچھ بویا ہے… اب اُسی کو کاٹ رہے ہیں… تو پوچھتے ہیں کہ یہ سب کہاں سے ہو گیا؟

رب تعالیٰ کی طرف سے ہمیں جواب آرہا ہے :

’’ وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ‘‘

’’ اور تمہیں جو کوئی بھی مصیبت پہنچی تو وہ خود تمہارے ہی ہاتھوں کی کاٹی ہے‘‘۔

قصور کے المیہ کے بعد اب ہر طرف سے … صدائیں ہیں‘ آوازیں ہیں اور نوحے ہیں… لیکن کوئی یہ سوچنے کیلئے تیار نہیں کہ … یہ دیمک لگا کہاں سے ہے… یہ بیماری آئی کہاں سے ہے… اور اپنی قوم و ملت کے ساتھ یہ بد ترین دشمنی کی کس نے ہے… حکمرانوں سے لے کر میڈیا تک کوئی بھی یہ گندگی اپنے سر پر اٹھانے کیلئے تیار نہیں … وہ ہی لوگ جنہوں نے قوم کو اس تباہی تک پہنچایا ہے ‘ اب اس کا حل بھی پیش کررہے … اسی لیے تو

’’ مرض بڑھتا گیا ‘ جوں جوں دوا کی‘‘

والی صورت حال ہے۔ تباہی کی وجہ یہی ہے کہ …یہ اپنے آپ کو عقلِ قل سمجھنے والے دانشور … قرآن و سنت سے راہنمائی لینے کے بجائے… یورپ کے افکار ہی کو نقل کر رہے ہیں… وہ لوگ جس غلاظت کو تھوک رہے ہیں… یہ اُسی کو چاٹنے کیلئے بے تاب ہو رہے ہیں … وہ جس طرزِ زندگی سے تنگ آئے ہیں …یہ اُسی کے پیچھے اندھا دھند بھاگ رہے ہیں… جن کے چراغ خود بجھ چکے ہیں… وہ ہمیں کیا راہ دکھلائیں اور …ہم اُن سے کیا روشنی پائیں گے …

ہمارے مفکرین کہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں بھی وہ تعلیم دی جائے ، جس کو سن کر ہی بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں… یہ لوگ اگلی بات کیوں نہیں بتاتے کہ … ہمارے ہاں قصور جیسے واقعات کبھی کبھار ہوتے ہیں … اور جن ممالک میں یہ تعلیم دی جارہی ہے… وہاں ایسے سانحے سال‘ مہینہ ‘ ہفتہ یا دن کے حساب سے نہیں … گھنٹوں اور منٹوں کی رفتار سے ہو رہے ہیں۔

ایک صاحب کہنے لگے کہ آزاد ماحول سے ہمارے ہاں ’’ سیاحت ‘‘ ترقی کر ے گی ۔ کیا آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں سیاحت کے نام کیا گل کھلائے جا رہے ہیں…

سیاحت دنیا کا سب سے زیادہ منفعت بخش شعبہ سمجھا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر ملک کو شش کرتا ہے کہ وہ اپنے ہاں زیادہ سے زیادہ سیاحت کے مواقع پیدا کرے، تاکہ دنیا بھر سے شائقین وہاں آئیں اور اپنے ذوق کی تسکین کیلئے اس کی جیب بھریں۔ خاص طور پر کئی پسماندہ ممالک تو ہیں ہی ایسے کہ ان کی اکثر گذر بسر سیاحت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ہوتی ہے … ہر سال 60 کروڑ افراد محض سیاحت کے شوق میں دنیا کے ایک ملک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے اور تیسرے سے چوتھے ملک جاتے ہیں اور دس کھرب ڈالر اس مد میں خرچ کر ڈالتے ہیں۔ کہا، سنا اور سمجھا جاتا ہے کہ یہ سب لوگ،د نیا کے مختلف خطوں میں موسم اور حالات کی پرواہ کیے بغیر اس لئے پھرتے ہیں کہ نگری نگری کے عجائبات دیکھیں، طرح طرح کے لوگ دیکھیں، بھانت بھانت کی بولیاں سنیں اور رنگ برنگے مشاہدات کریں، لیکن ایسا نہیں ہے…!

ہر سال کم از کم 2لاکھ افراد ایسے ہوتے ہیں ، جو بظاہر سیاح دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کا مقصد انتہائی شرمناک اور مشن انتہائی گھنائونا ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک بہ ملک، شہر بہ شہر صرف اس لئے گھومتے پھرتے ہیں کہ اپنی ہوس کی تسکین کا سامان مہیا کر سکیں اور فطرت کے قوانین سے آزاد ہو کر شیطانیت کا مظاہر ہ کر سکیں۔ یہ شیطان صفت لوگ ہر سال 30 لاکھ کم سن بچوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہیںاور ان نوخیز پھولوں کو کھلنے سے پہلے ہی مسل ڈالتے ہیں۔ سیاحت کا لبادہ اوڑھے اِدھر اُدھر گھوم پھر کر انسانیت کا شکار کرنے والے ایسے لوگوں کی بڑی تعداد امریکہ، کینیڈا، مغربی یورپ، جاپان، آسٹریلیا اور چین سے تعلق رکھتی ہے۔ ان سیاحوں میں سے 40 فیصد تھائی لینڈ کا رُخ کرتے ہیں جبکہ باقی 60 فیصد دنیا کے مختلف خطوں، جن میں بھارت خاص طور پر قابل ذکر ہے، کی طرف جاتے ہیں۔

ان جنسی درندوں کی ہوس کا نشانہ عام طور پر وہ بچے بنتے ہیں، جنہیں قسمت گھر بار سے جدا کر دیتی ہے، شیطانیت اغواء کر لیتی ہے اور پھر ہوس اور شہوت ان سے عصمت چھین لیتی ہیں۔ ایسے بچے عام طور پر کسی مخصوص کاروباری نیٹ ورک کے ذریعے ان بازاروں تک پہنچتے ہیں، جہاں مغربی سیاح چند ڈالروں کے عوض ان کے جسم خرید لیتے ہیں۔ ایسے مکروہ دھندا کرنے والے بیوپاری اپنے اپنے ملکوں میں اس قدر مضبوط انداز میں مضبوط سہاروں پر چلتے ہیں کہ وہاں کے ارباب اختیار چاہنے کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور پھر جہاں خود حکام ہی ایسے کاموں میں ملوث ہوں، وہاں روک تھام کا کیا سوال اور ممانعت کے کیا معنی؟

گذشتہ چند سال سے تھائی لینڈ حکومت نے اس سلسلہ میں سخت اقدامات شروع کیے تو جنسی بھیڑیوں نے اپنا رُخ بدلنا شروع کر دیا۔ اب ان کی بڑی تعداد ہندوستان چلی جاتی ہے، جہاں ہر سال کم از کم ایک لاکھ کم سن بھارتی بچے ان کا شکار بنتے ہیں۔ایسے ہر100 بدنصیب بچوں میں سے 63 لڑکیاںہوتی ہیں، جن کی عمریں 12 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔

ان سنگدل سیاحوں کیلئے افریقہ بھی انتہائی مرغوب علاقہ بنتا چلا جا رہا ہے، جہاں غربت اور فقر نے لاکھوں معصوم بچوں کو سود وزیاں سے بے نیاز ہو کر زندہ رہنے کیلئے دو دو ڈالر کا محتاج بنا رکھا ہے۔

دولت کے ذریعہ ہوس کی پرورش کرنے والے ان مغربی سیاحوں کی جس قدر رقم ہر سال 30 لاکھ بچوں سے ان کی انسانیت چھینتی ہے، اتنی ہی رقم اگر دنیا بھر میں غذائی قلت کے شکار معصوم بچوں کی امداد کیلئے دے دی جائے تو اقوام متحدہ کے غذائی پروگرام کے نگران کو یہ بیان کبھی نہ جاری کرنا پڑے کہ اس وقت دنیا میں 300 ملین یعنی 30 کروڑ بچے خطرناک حد تک غذائی قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

وہ لوگ جو پہلے خود معاشرے میں گندگی پھیلاتے ہیں اور معصوم ذہنوں میں غلاظتیں انڈیلتے ہیں، پھر انہی کے سیاہ کرتوتوں کی وجہ سے جب کوئی سانحہ جنم لیتا ہے تو یہ بد بخت گدھ کی طرح لاش نوچنے کیلئے اتر آتے ہیں ۔ ان سے یہ توقع کرنا کہ وہ قوم کی عزت بچائیں گے اور معصوم جانوں کا تحفظ کریں گے بالکل

ایں خیال است و محال است و جنوں

والی بات ہے … گویا:

میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب

اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں

اس لیے اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کے اخلاق اور عزتوں کے تحفظ میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں اس کے لیے خود ہی کردار ادا کرنا ہو گا ۔ جس کا طریقہ سوائے قرآن مجید کے انسداد فواحش پروگرام پر عمل کے سوا کچھ نہیں ۔

اس کی تفصیل آپ کے سامنے اگلی مجلس میں عرض کریں گے … ان شاء اللہ تعالیٰ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online