Bismillah

632

۶ تا۱۲جمادی الثانی ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۳تا۲۹فروری۲۰۱۸ء

دن بدل جائیں گے … دل بدل جانے سے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 628 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Din Badal Jaein Ge

دن بدل جائیں گے … دل بدل جانے سے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 628)

حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ اس امت کے اُن خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں ، جن کی گرفتاری اور غلامی ہی ان کیلئے بے انتہاء اعزاز و اکرام اور بے پناہ ناموری کا ذریعہ بن گئی ۔ مشہور تابعین میں سے ہیں اور اس مرتبہ کے محدث ہیں کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:

’’ سب سے صحیح ترین سند یہ ہے کہ امام مالک رحمۃاللہ علیہ حدیث روایت کرتے ہوں حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ سے اور یہ حدیث روایت کرتے ہوں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے‘‘

یہ سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام تھے اور خود فرمایا کرتے تھے:

’’ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھے لے کر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو انہوں نے بارہ ہزار درہم کے بدلے مجھے خریدنے کی پیش کش کی لیکن حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انکار کر دیا اور مجھے مفت میں آزاد کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ بھی اُنہیں جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرمائے‘‘۔

یہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں اتنے طویل عرصے تک رہے کہ تیس سے زائد حج اُن کی ہمراہی میں ادا کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ یہ ایک عجیب و غریب واقعہ سنایا کرتے تھے:

’’میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مدینہ منورہ کے ارد گرد کے علاقوں میں نکلا ۔ آپ ؓ کے ساتھ چند اور شاگرد بھی تھے ۔ جب حاضرین کیلئے کھانے کا دسترخوان بچھا دیا گیا تو اچانک وہاں سے ایک نو عمر چرواہا گزرا ۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُسے دیکھ کر فرمایا

’’آئو ! ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جائو‘‘

اُس چرواہے نے جو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو پہچانتا نہیں تھا ‘ جواب دیا :

’’ میں روزے سے ہوں ۔‘‘

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

’’اتنی شدید گرمی میں اور اتنے سخت کام میں کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں کے درمیان بکریاں چراتے پھرتے ہو ‘ پھر کیسے روزہ رکھ لیتے ہو؟‘‘۔

اس چرواہے نے عرض کیا :

’’ میں تو اپنے ان دنوں سے اپنی آخرت کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں ‘‘۔

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اُس سلامتی ٔ فکر اور جذبۂ خیر سے بہت متاثر ہوئے اور فرمایا :

کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اپنی بکریوں میں سے ایک بکری ہمیں بیچ دو ‘ ہم اُسے ذبح کر کے پکائیں گے ۔ تمہیں اُس میں سے کھانے کیلئے بھی دیں گے اور ساتھ ہی بکری کی پوری قیمت بھی ادا کر دیں گے؟‘‘۔

اس چرواہے نے کہا :

’’ محترم! آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بکریاں میری نہیں ہیں بلکہ میرے آقا کی ہیں‘‘۔

اب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اُس کو آزمانا چاہا اور فرمایا:

’’ تو ایسا کر لینا کہ تم اپنے مالک کو کہہ دینا کہ کوئی بھیڑیا آیا تھا اور ایک بکری کھا گیا ‘‘۔

آپ جانتے ہی ہیں کہ پہاڑی علاقوں میں بھیڑیے کا بکریوں پر حملہ اور ایک آدھ بکری کھا لینا کوئی بڑا واقعہ نہیں اور ایسے واقعات پیش آتے ہی رہتے ہیں لیکن اُس چرواہے کے دل میں خوفِ خدا اور فکرِ آخرت ایسے جاگزیں تھے کہ اُس نے ایک لمحہ کیلئے بھی اس ’’کرپشن‘‘ پر غور نہیں کیا۔ حضرت نافع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ :

اُس چرواہے نے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور کہنے لگا:

’’فأین اللّٰہ ؟‘‘

’’ پھر اللہ کہاں ہے‘‘۔

یعنی میرا آقا تو اگرچہ نہیں دیکھ رہا اور میں اُس کو کسی طرح جھوٹ بول کر مطمئن بھی کردوں گا لیکن میرا رب تو دیکھ رہا ہے‘ اُس کو میں کیا جواب دوں گا؟

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اُس چرواہے کی یہ بات اتنی اچھی لگی کہ آپؓ بھی بار باریہی دہراتے رہے:  فأین اللّٰہ ؟ فأین اللّٰہ ؟

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اُس چرواہے کی بات اور دیانت داری سے اتنے متاثر ہوئے کہ جب واپس مدینہ منورہ پہنچے تو اُس چرواہے کے آقا کا معلوم کیا اور اُس سے چرواہا اور بکریاں سب خرید لیں ۔ چرواہے کو آزاد کر کے وہ تمام بکریاں بھی اُسی کو تحفہ کے طور پر دے دیں۔‘‘ ( صفۃ الصفوۃ ، ابن الجوزی ‘ ۲؍ ۱۸۸)

اگر ہم غور کریں تو عرب کے صحرائوں کا بظاہر یہ غیر تعلیم یافتہ چرواہا ، ہمارے دور کے اُن ہزاروں نہیں لاکھوں تعلیم یافتہ انسانوں سے کتنا زیادہ سمجھدار اور باشعور تھا کہ ’’ کرپشن ‘‘ اور جرم کے تمام مواقع با آسانی میسر ہونے کے باوجود اور کسی قسم کی ظاہری رکاوٹ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ صرف اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے باز رہا۔ ہمارے ہاں کے بڑے بڑے ڈگری یافتہ لوگوں کا کیا حال ہے وہ سب کچھ یہاں بتانے کی ضرورت نہیں‘ روزانہ کے اخبارات ہماری اخلاقی پستی اور زوال کی پوری کہانی سنا رہے ہوتے ہیں ۔

یہ خوف ِ خدا اور فکرِ آخرت ہی وہ خوبی ہے جو انسان کو انسانیت سے ہم کنار کرتی ہے ورنہ جس کے دل میں یہ بات نہیں‘ حقیقت میں وہ انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں۔آپ آئے روز پیش آنے والے واقعات کو دیکھ لیں کہ جہاں جس انسان کو تھوڑا سا اقتدار ، اختیار یا موقع مل گیا ، اُس نے درندہ بننے میں ذرا دیر نہیں لگائی ۔

اسلامی تعلیمات کی یہی برتری ہے کہ وہ سب سے پہلے انسان کے دل کی اصلاح کرتی ہیں‘ جسے قرآن مجید کے الفاظ میں ’’ تزکیہ ‘‘ کہا جاتا ہے اور جب یہ نعمت ِ عظمیٰ نصیب ہو جائے تو انسان تنہائی میں بھی ‘ کسی رکاوٹ کے نہ ہونے کے باوجود بھی جرم سے باز رہتا ہے اور اگر خدانخواستہ انسان ہونے کی حیثیت سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو جب تک توبہ نہ کر لے ‘ تب تک اُسے چین اور آرام نہیں آتا ۔

حضرات ِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایسی ہی بہترین تربیت ہمارے آقا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ریاست ِ مدینہ منورہ میں سکیورٹی کے جدید آلات تھے اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے لیکن جوں ہی کسی سے کوئی جرم ہوتا ‘ وہ فوراً خود ہی دربارِ نبوت میں چلا آتا اور عرض کرتا :

’’ یا رسول اللّٰہ ! اقم فیّ حدود اللّٰہ ‘‘

’’ اے اللہ کے رسول ! مجھ پر شرعی سزا جاری فرمادیں‘‘ ۔

رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم طرح طرح سے آنے والے کوٹالتے اور کوشش فرماتے کہ وہ قانون کی گرفت میں آنے کے بجائے انفرادی توبہ سے ہی کام چلا لے لیکن آنے والے کے دل میں خوفِ خدا اور فکرِ آخرت کا اتنا غلبہ ہوتا کہ وہ آخرت کی پکڑ کے مقابلے میں دنیاوی سخت سے سخت سزا کو بھی کچھ نہ سمجھتا ۔

اب اس کے مقابلے میں آپ موجودہ دور کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھ لیں کہ جہاں بہترین اور جدید ترین سیکورٹی آلات موجود ہیں اور قسما قسم کی فورسز ہیں جن کا کام ہی معاشرہ میں جرائم کو کنٹرول کرنا ہے ‘ پھر آپ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اسلامی ممالک کے برعکس غیر مسلم ممالک میں باہمی رضا مندی سے منہ کالا کرنا کوئی جرم ہی نہیں اور وہ صرف تب ہی بدکاری کو جرم شمار کرتے ہیں‘ جب ایک فریق راضی نہ ہو اور دوسرے فریق کی طرف سے زبردستی ہو ‘ اب آپ انٹرنیٹ پر جا کر ایسے ممالک میں جرائم کی تفصیل پڑھ لیں تو سر شرم سے جھک جاتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ انسانیت ان کو چُھو کر بھی نہیں گزری ۔ افسوس کہ ’’ القلم‘‘ کے مقدس صفحات اُس گندگی کو نقل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ورنہ چند نمونے سامنے رکھ کر میں عرض کر تا کہ دیکھ لیں! جب انسان خوف ِ خدا سے عاری ہو جاتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اُسے جرم سے نہیں روک سکتی اور تمام آلات اور انتظامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں

اسی لیے تو اللہ کے حبیبﷺ کا ارشاد گرامی ہے 

’’الا وان فی الجسد مضغۃ ، ان صلحت صلح الجسد کلہ  واذا فسدت فسد الجسد کلہ ، الا وھی القلب‘‘ ( متفق علیہ)

’’ خبردار ! انسان کے جسم میں ایک گوشت کا حصہ ایسا ہے کہ اگر وہ درست ہو جائے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو سارا جسم ہی بگاڑ کا شکار ہو جاتا ہے‘ خوب جان لو کہ وہ انسان کا دل ہے‘‘۔

ہمارے ایک استاذِ محترم یہ واقعہ سنایا کرتے تھے کہ بہت عرصہ پہلے جب سفر کی یہ سہولیات نہ تھیں‘ ایک جوان لڑکی اپنے گائوں سے کسی عزیز کے ہاں جانے کیلئے نکلی ۔ راستہ بھٹک گئی اور سفر میں ہی رات ہو گئی ۔ اب آگے جانے کی کوئی صورت اور نہ ہی واپس پلٹنے کی کوئی گنجائش ۔ دیکھا تو سامنے ایک چھوٹی سے مسجد تھی ۔ سوچا کہ رات گئے پناہ لینے کیلئے اس کے علاوہ کوئی جگہ نہیں مل سکتی ۔ وہ مسجد پہنچی ، دروازہ کھٹکھٹایا ، اندر سے مؤذن صاحب نکلے ۔ دروازے پر ایک تنہا جوان لڑکی کو دیکھ کر گڑ بڑا گئے۔

جب لڑکی نے پوری بات بتائی تو انہوں نے راستہ چھوڑ دیا ۔ لڑکی مسجد میں داخل ہو کر ایک کونے میں بیٹھ گئی ۔ سردیوں کی رات تھی اور سردی زوروں پر تھی ۔ مؤذن صاحب نے اپنا اکلوتا بستر لڑکی کو دے دیا اور خود مسجد کے دوسرے کونے میں چراغ جلا کر بیٹھ گئے ۔ لڑکی گھبرائی ہوئی تو تھی ہی ‘ نیند بھلا کیسے آتی ۔ اُس نے عجیب منظر دیکھا کہ مؤذن صاحب تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنا ہاتھ چراغ کی جلتی ہوئی لَو پر رکھتے ہیں اور جب تپش محسوس ہوتی ہے تو ہٹا لیتے ہیں ۔ رات اسی طرح بیت گئی اور صبح ہوتے ہی لڑکی کے ورثاء اُسے تلاش کرتے ہوئے مسجد آپہنچے ۔

لڑکی نے اُن سے کہا کہ آپ مؤذن صاحب سے پہلے یہ تو پوچھیں کہ وہ رات بھر اپنا ہاتھ چراغ پر کیوں جلاتے رہے ؟ مؤذن صاحب نے جو جواب دیا ‘ وہ ہم سب کیلئے بڑا چشم کشا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ بات میرے اور میرے اللہ کے درمیان راز تھی لیکن جب اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کو کھول دیا تو میں حقیقت حال بتا دیتا ہوں۔ رات کے وقت تنہائی میں نفس اور شیطان نے مجھ پر بڑا زور دار حملہ کیا کہ گناہ ایسا بہترین موقع پھر کب ملے گا ؟تب میں نے اپنے آپ کو یوں سمجھایا کہ دیکھ ! یہ چراغ جو جل رہا ہے ‘ اس کی معمولی سی آگ ہے ۔ میں اس پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوں‘ اگر یہ آگ برداشت ہو گئی تو پھر جہنم کی آگ کے بارے میں سوچیں گے جو اس سے ستر گنا زیادہ گرم اور جلانے والی ہو گی ۔ لیکن اے نفس! اگر یہ معمولی سی آگ تو برداشت نہیں کر سکتا تو پھر جہنم کی آگ کیسے برداشت کرے گا ۔ پوری رات نفس و شیطان اور میرے درمیان یہی کش مکش جاری رہی اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے ہر گناہ سے میری حفاظت فرمائی ۔

قرآن مجید میں ’’ اتقوااللّٰہ ‘‘ کی تمام آیات دراصل اصلاح معاشرہ کے سب سے پہلے قدم اور انسداد ِ فواحش کے قرآنی پروگرام کے سب سے پہلے مرحلے کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ اب آپ ایک طرف تو میڈیا کو کھلی چھوٹ دے دیں کہ وہ لوگوں کے دلوں سے خوفِ خدا کو کھرچ کھرچ کر نکال دے، اپنے نظامِ تعلیم کو آپ ایسا بنا دیں کہ جو انسان پید اکرنے کے بجائے صرف پیسہ کمانے والی مشینیں تیار کرے اور دوسری طرف فکر آخرت کی تلقین کرنے والوں کو دقیانوسی اور زمانۂ حال کے تقاضوں سے بے خبر باور کروائیں اور پھر کہیں کہ ہمارامعاشرہ جرائم سے پاک ہو جائے اور ہماری نسلوں کی جان‘ مال اور عزتیں محفوظ رہیں ‘ تو یاد رکھیں:

’’ ایں خیال است و محال است وجنوں‘‘

سب سے پہلے گھروں میں تلاوت ‘ ذکر ِ الٰہی ، دینی تعلیم ‘ درود شریف اور و عظ و نصیحت کے ذریعہ اپنی اولادوں کے دل میں خوفِ خدا کا شعور پید اکریں ‘ پھر ان کیلئے دینی تربیت اور اسلامی ماحول سے آراستہ درسگاہ تلاش کریں خواہ وہ کوئی مدرسہ ہو یا سکول اور پھر انہیں وقتاً فوقتاً سچے اور متبع شریعت و سنت، اللہ والوں کی مجالس میں پابندی کے ساتھ لے جاتے رہیں‘ تب آپ اس محنت کے مثبت اثرات خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ کیسے ان میں نیکی کے جذبات پروان چڑھتے ہیں اور برائی کی نفرت ان کے دل ودماغ میں بیٹھتی ہے ۔ میں خود ایسے کئی گھرانوں کو جانتا ہوں‘ جن کے بچوں میں صحیح تربیت کی وجہ سے ہی ان کی کایا پلٹ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے گھرانے میں ایک خوشگوار دینی انقلاب برپا ہو گیا ۔ 

قرآن مجید نے تقویٰ کی نصیحت کے ساتھ انسداد فواحش کیلئے مزید کیا اقدامات اور احکامات بیان فرمائے ‘ اس پر اگلی مجلس میں بات کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online