Bismillah

632

۶ تا۱۲جمادی الثانی ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۳تا۲۹فروری۲۰۱۸ء

۵فروری … یوم یکجہتی کشمیر (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 629 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - 5 Feb Youm e Kashmir

۵فروری … یوم یکجہتی کشمیر

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 629)

اہل پاکستان ہر سال ۵؍ فروری کو انتظامی اعتبار سے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ تجدید ِ تعلق اور تجدید عہد کا دن مناتے ہیں ۔ کشمیر کے کوہساروں کے مکین ہوں یا سرزمین افغانستان کے غیور بیٹے ، فلسطین میں ایک صدی سے جبرو ستم کا سامنا کرتے ہوئے جوان ہوں یا شام و عراق کے مظلوم اہل ایمان ، ان سب سے ہمارا ایک ہی رشتہ ہے ، جو کلمۂ طیبہ

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

پر استوار ہے ۔ رنگ ، نسل ، قوم ، زبان اور وطن کے تصورات سے بہت بلند و بالا اور بہت مضبوط رشتہ ، زمان و مکان کی حدود و قیود سے آزاد رشتہ ۔ وہ رشتہ جو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو زبان رسالت سے ’’ اہلِ بیت ‘‘ میں شمولیت کی نوید سناتا ہے ۔ وہ رشتہ جو حبشہ سے آئے ہوئے بلال کو سیدنا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اعزاز بخشتا ہے ۔ وہ رشتہ جس کے بارے میں مولانا ظفر علی خان مرحوم نے کہا تھا :

اخوت اس کو کہتے ہیں‘ چبھے کانٹا جو کابل میں

تو ہندوستان کا ہر پیرو جواں بے تاب ہو جائے

نئی نسل کے اکثر دوست مسئلہ کشمیر کے پس منظر سے چونکہ ناواقف ہوتے ہیں اس لیے کشمیر کی تاریخ پر ایک نظر ڈالتے ہیں تاکہ ہمیں اس مسئلہ کی اہمیت کا احساس ہو سکے ۔

ریاست جمو ں و کشمیر میں اسلامی عہد کی تاریخ‘ چودہویں صدی کے ابتدائی دور سے لے کر انیسویں صدی کے ابتدائی دور تک پانچ صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے اور یہ بلاشبہ ریاست کی تاریخ کا سب سے زیادہ روشن اور تابناک باب ہے ۔ اس کے بعد اسلام اور مسلمانوں کی یہ ریاست کبھی کسی ایک طاغوتی اور سامراجی قوت کے پنجہ غلامی میں گرفتار ہوتی رہی اور کبھی کسی دوسری قوت کے ۔ یوں مسلمانانِ کشمیر کی غلامی کی جس طویل شب کا آغاز ۱۸۱۹ء میں ریاست میں اسلامی عہد کے خاتمے سے ہوا تھا ‘ اس کی صبح روشن اب تک طلوع نہیں ہو سکی ۔

ریاست جموں و کشمیر کی مسلسل غلامی کے اس طویل عمل میں عالمی سامراجی کفریہ قوتوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی کہانی عالم اسلام کے دوسرے حصوں میں ‘ ان طاقتوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی داستان سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے چنانچہ یہ برطانوی سامراج ہی تھا جس نے ۱۸۴۶ء میں بیعنامہ امر تسر کے ذریعے اس اسلامی ریاست کو اس کے باشندوں سمیت پچھتر لاکھ روپے نانک شاہی کے بدلے میں ڈوگرہ مہاراجہ گلاب سنگھ کے ہاتھوں فروخت کر دیاتھا ۔ یعنی تقریباً سات روپے فی انسان کے حساب سے ایک پوری ریاست کے انسانوں کی خرید و فروخت کا یہ معاہدہ تاریخ انسانی میں اپنی نوعیت کا واحد انتہائی شرمناک معاہدہ ہے ‘جس کی نظیر پوری تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی

ریاست کی تاریخ میں برطانوی سامراج کا شرمناک کردار ۱۹۴۷ء میں اس وقت ایک بار پھر کھل کر سامنے آگیا‘ جب مسلمانانِ کشمیر کی آزادی کی وہ طویل جدو جہد کامیابی کے آخری مراحل میں داخل ہوئی ‘ جس کا آغاز ۱۹۳۱ء میں مسلم کانفرنس کے پرچم تلے اسلام کے نام پر اور مسلم قومیت کے تصور کی بنیاد پر ہوا تھا ۔ چونکہ اس تحریک کا جذبہ محرک اسلام اور صرف اسلام تھا اس لئے اس کی منزل واضح طور پر برصغیر میں اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مملکت پاکستان تھی اور اس وقت کی مسلمانانِ کشمیر کی ملی تنظیم آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے جسے اس وقت ان کی ملی پارلیمان کی حیثیت حاصل تھی ‘ ۱۹؍جولائی ۱۹۴۷ء کو کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور کر کے اس تحریک کی منزل کا رسمی طور پر بھی اعلان کر دیا تھا ۔

 پاکستان کے لبر اور سیکولر ذہن رکھنے والے دانشور اور نام نہاد سول سوسائٹی کے لادین عناصر جتنا بھی زور لگا لیں ‘وہ اس حقیقت کو نہیں بدل سکتے کہ پاکستان ‘ صرف اور صرف اسلام کے نام پر ہی وجود میں آیا تھا ۔ تحریک ِ آزادی کی تاریخ کا ایک ایک ورق اور جدوجہدِ آزادی پر قربان ہونے والے سولہ لاکھ شہداء کے لاشے اس بات کی گواہی دیں گے کہ یہ ملک نفاذ اسلام کیلئے حاصل کیا گیا تھا اور اس وقت مسلم لیگ کی قیادت نے یہی نصب العین مسلمانانِ ہند کے سامنے رکھا تھا۔ بہرحال کشمیر کی اسی اسلامی نظریے کو سامنے رکھتے ہوئے اہلِ کشمیر کی اس قومی قرارداد میں کہا گیا تھا : 

’’ برصغیر کی ریاستوں کے عوام کو امید تھی کہ وہ برطانوی ہندوستان کے دوسرے باشندوں کے دوش بدوش قومی آزادی کے مقاصد کو حاصل کریں گے اور تقسیم ہندوستان کے ساتھ جہاں برطانوی ہندوستان کے تمام باشندے آزادی سے ہمکنار ہوئے، وہاں ۳ جون ۱۹۴۷ء کے اس اعلان نے برصغیر کی نیم مختار ریاستوں کے حکمرانوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں اور جب تک یہ مطلق العنان حکمران وقت کے جدید تقاضوں کے ساتھ سر تسلیم خم نہ کریں گے‘ ہندوستانی ریاستوں کے عوام کا مستقبل بھی بالکل تاریک رہے گا ان حالات میں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے سامنے صرف تین راستے ہیں …

(۱)…ریاست کا بھارت سے الحاق

(۲)… ریاست کا پاکستان سے الحاق

(۳)… کشمیر میں ایک آزاد خود مختار ریاست کا قیام

مسلم کانفرنس کا یہ کنونشن بڑے غور و خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ جغرافیائی ‘ اقتصادی ‘ لسانی و ثقافتی اور مذہبی اعتبار سے ریاست کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہایت ضروری ہے کیونکہ ریاست کی آبادی کا ۸۰ فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے اور پاکستان کے تمام بڑے دریا جن کی گزر گاہ پنجاب ہے ‘ ان کا منبع وادی کشمیر میں ہے اور ریاست کے عوام بھی پاکستان کے عوام کے ساتھ مذہبی ‘ ثقافتی اور اقتصادی رشتوں میں مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ریاست کا الحاق پاکستان سے کیا جائے ۔ یہ کنونشن مہاراجہ کشمیر سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیری عوام کو داخلی طور پر مکمل خود مختاری دی جائے اور مہاراجہ ریاست کے آئینی سربراہ کی حیثیت اختیار کرتے ہوئے ریاست میں ایک نمائندہ قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کریں اور دفاع ‘ مواصلات اور امور خارجہ کے محکمے پاکستان دستور ساز اسمبلی کے سپرد کئے جائیں ۔کنونشن یہ قرار دیتا ہے کہ اگر حکومت کشمیر نے ہمارے یہ مطالبات تسلیم نہ کئے اور مسلم کانفرنس کے اس مشورے پر کسی داخلی یا خارجی دبائو کے تحت عمل نہ کیا گیا اور ریاست کا الحاق ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے ساتھ کر دیا گیا تو کشمیری عوام اس فیصلے کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنی تحریک آزادی پورے جوش و خروش سے جاری رکھیں گے ‘‘۔

یہ تاریخی قرار داد آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے اجلاس خاص (کنونشن) نے ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ء کو سری نگرمیں پاس کی تھی ۔ مگر عین اس مرحلے پر جب یہ تحریک اپنی منزل سے ہمکنار ہونے کو تھی ‘ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے خوفناک جال پھیلا کر اس تحریک کو اپنی منزل سے بیگانہ کر دیا گیا ۔

اگست ۱۹۴۷ء میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر برصغیر جنوبی ایشیاکی تقسیم عمل میں آئی ۔ اصول تقسیم کے مطابق تمام مسلم اکثریتی علاقوں اور ریاستوں کو پاکستان کا حصہ بننا تھا لیکن اس مملکت کو کمزور رکھنے کے لئے ہندو اور انگریزوں نے باہم گٹھ جوڑ کے ذریعے غالب مسلم اکثریت کی ریاست جموں و کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کی ناپاک سازش تیار کی ۔ اس سازش کی تکمیل کے لئے بھارت کو کشمیر تک پہنچنے کا راستہ دینے کی غرض سے عین آخری لمحوں میں ’’ریڈ کلف ایوارڈ‘‘ کے ذریعے پنجاب کے مسلم اکثریتی ضلع گوردا سپور کو بھارت میں شامل کرنے کا غیر منصفانہ فیصلہ کیا گیا اور کشمیر کے بھگوڑے ہندو مہاراجہ سے ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط لے کر بھارتی فوجوں کے سری نگر میں اتارے جانے کا جواز مہیا کیا ۔ یوں سامراجی قوتوں کا یہ گھنائو نا کھیل ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کی غلامی میں دھکیل دینے پر منتج ہوا ۔ اس موقع پر جہاں برطانوی استعمار کی مسلم دشمنی کھل کر سامنے آئی وہاں بھارتی سامراج کی ہوس ملک گیری اور منافقت پر مبنی دوہرے معیار کا بھی پوری طرح اظہار ہوا ۔ بھارتی سامراج نے کشمیر پر اپنا ’’حق ‘‘ ثابت کرنے کے لئے ہندو راجہ کی بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز کو ذریعہ بنایا حالانکہ یہاں کے ۸۵ فیصد باشندے مسلمان تھے لیکن حیدر آباد اور جوناگڑھ کے مسلمان نوابوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو یہ دلیل دے کر مسترد کر دیا کہ ان ریاستوں کے باشندوں کی غالب اکثریت غیر مسلم ہے ۔

کشمیری مسلمان بھارت کی اس مکارانہ پالیسی کو اول روز سے ہی بھانپ گئے تھے۔ لہٰذا انہوں نے ۱۹۴۷ء میں ریاست کو کفر اور کفار کی غلامی سے نجات دلانے کے لئے دیسی ساخت کی بندوقوں ، برچھیوں اور بھالوں کو ہاتھ میں لے کر علم جہاد بلند کیا اور مختصر سے عرصے میں ریاست کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ آزاد کروانے میں کامیاب ہو گئے ۔ پوری ریاست کی بھارتی غلامی سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی منزل چند قدم کے فاصلے پر تھی جب بھارت جنگ بندی کی فریاد لے کر اقوام متحدہ کے پاس پہنچا ۔ جنگ بند ہوئی ‘ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندو پاک کی قراردادوں پر دستخط بھی ثبت ہوئے ،اقوام متحدہ کی زیر نگرانی رائے شماری قبضہ کشمیر کا حل قرار پایا ۔ بھارت رائے شماری کے متوقع نتائج سے واقف تھا اس لئے وہ بین الاقوامی سطح پر کئے ہوئے وعدوں سے مکر گیا اور ۷۰سال سے زائد کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اہل کشمیر کو یہ حق دینے سے برابر انکار کر رہا ہے اور یہ حق مانگنے والوں پر عرصہ حیات تنگ کر رہا ہے ۔ انہیں مسلسل ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ‘چنانچہ اس دوران جس نے بھی حق خودار ادیت کا مطالبہ کیا اسے پابند سلاسل کر دیا گیا ۔ جس نے بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کی بات کی اسے تعذیب و تشدد کی چکی میں پیسا گیا اور اپنے تسلیم شدہ بنیادی انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کے ساتھ یہ سب کچھ وہ ملک کرتا رہا ‘ جسے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کازعم ہے ۔ اس نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں اس نے کشمیر میں ’’رائے شماری ‘‘ کا مطالبہ کرنے والی ہر آواز کو ’’خاموش ‘‘ کرنے کا کھیل گزشتہ ۶۰ سال سے جاری رکھا ہوا ہے ۔ جمہوریت کی قبا پہنے یہ دیو استبداد اپنے درندہ صفت فوجی اور نیم فوجی دستوں کے ذریعے اب تک ہزاروں گھرخاکستر کر چکا ہے ۔ اسلام کی ہزاروں بیٹیوں کے دامن عصمت کو تار تار کر چکا ہے ۔ ہزاروں مسلمان مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی زندگی کے چراغ گل کر چکا ہے ۔ لیکن کیونکہ اس نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھونگ رچا رکھا ہے ‘ اس لئے عالمی برادری کو نہ مسلمانانِ کشمیر کی چیخیں ہی سنائی دے رہی ہیں اور نہ اس سر زمین پر گرنے والا مسلمانوں کا لہو ہی دکھائی دے رہا ہے ۔ انصاف دلانے والے عالمی ادارے خاموش ہیں اس لئے کہ ان کے انصاف کے پیمانے زمان و مکان کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ لیکن ہمیں یقین ہے کہ مقبوضہ ریاست میں کمزور سمجھ کر دبائے گئے بزرگوں ‘ عورتوں اور بچوں کی صدائیں عرش الٰہی کو ہلاکے رہیں گی اور مسلمانانِ کشمیر کا وہ مقدس لہو جو دریائے جہلم کے بہتے پانی کو سرخ کر کے پاک سرزمین کو سیراب کر رہا ہے نہ صرف اہل پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کو جھنجوڑ کر جگانے میں کامیاب ہو جائے گا ۔

افغانستان کے جہاد نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک نئے اعتماد سے سرشار کر دیا تھا‘ کہ اگر نہتے افغان مجاہدین دنیا کی سب سے بڑی جنگی طاقت کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں تو کشمیری مسلمان جہاد کے جذبے سے سرشار ہو کر بھارت سے کیوں آزادی حاصل نہیں کرسکتے ۔

کشمیری مسلمانوں نے کبھی بھی بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول نہیں کیا طویل ڈوگرہ راج ہی کے دور سے ہندوئوں کی بالادستی اور ان کے جبرو تشدد کی وجہ سے مسلمانوں کو ان سے نفرت تھی ۔ برصغیر ہندو پاک کی آزادی سے قبل ہی کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرہ راج کے خلاف آزادی اور حقوق کی جدوجہد شروع کر رکھی تھی ۔ بھارت اور پاکستان کی آزادی کے موقع پر کشمیری مسلمانوں نے ڈوگرہ راج کا طوق اتار پھینکنے اور بحیثیت مسلمان اپنا تشخص بحال کرنے کے لئے بھرپور کوشش کی ۔

۱۴؍ اگست ۱۹۸۹ء کشمیر کی تاریخ میں اہم حیثیت رکھتا ہے ۔ یوم آزادی پاکستان کے دن مقبوضہ کشمیر کے ہر مسلمان نے اپنے مکان پر پاکستان کا جھنڈا لہرایا ۔ بازاروں ‘ گلیوں ‘ میدانوں اور تعلیمی اداروں میں مارچ ہوئے اور پاکستانی پرچم کو سلامی دی ۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی محبت ‘ عقیدت اور یکجہتی کا اظہار کیا اور بھارتی استعمار پر یہ ثابت کر دیا کہ چالیس سال کا طویل عرصہ اور بھارتی فوج کے مظالم ‘ کشمیریوں کے دل سے اسلام اور پاکستان کی محبت ختم نہیں کر سکے ۔

دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں نے بھی مسئلہ کشمیر کو عالم اسلام کا اہم مسئلہ گردانا اور اپنے اپنے ملک میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوششیں تیز کر دیں اور الحمدللہ یہ جہاد کامیابی کی منازل تیزی سے طے کر رہا ہے ۔ اب وہ دن دور نہیں جب بھارتی استعمار سرنگوں ہو گا اور کشمیری مسلمانوں کی قربانیاں رنگ لائیں گی ‘ کشمیر کو آزادی نصیب ہو گی اور یہاں اسلامی نظام نافذ ہو گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

(’’ انسدادِ فواحش کے قرآنی پروگرام ‘‘ کے بارے میں گزارشات اگلی مجلس میں پیش کی جائیں گی ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online