Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

پردہ سے خوفزدہ کیوں؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 631 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Parda se Khaufzada kion

پردہ سے خوفزدہ کیوں؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 631)

اصل بات کا آغاز کرنے سے پہلے تاریخ اسلام کا ایک سبق آموز اور ایمان افروز واقعہ پڑھ لیتے ہیں ۔

مدینہ منورہ میں ایک خاتون تھیں جنہیں ’’ اُمِّ خلاد رضی اللہ عنہا‘‘ کہا جاتا تھا ۔ غزوئہ خندق کے فوراً بعد جب غزوئہ بنی قریظہ پیش آیا تو ان کے صاحبزادے حضرت خلاد ؓ نے اس غزوہ میں جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ ان کو جب اپنے بیٹے کی شہادت کا پتہ چلا تو یہ اپنے گھر سے ان کی میت دیکھنے کے لیے روانہ ہوئیں ۔ ظاہر ہے کہ بیٹے کی جدائی کا صدمہ دل میں ہو گا لیکن ایسے موقع پر بھی یہ اپنا نقاب کرنا ، جو پردے کا سب سے اہم حصہ ہوتا ہے ، نہ بھولیں ۔ جب یہ اُس جگہ پہنچیں جہاں ان کے صاحبزادے کی میت رکھی ہوئی تھی تو کئی لوگوں کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ ’’ اپنے بیٹے کی میت پر آئی ہیں اور اس حال میں بھی نقاب کر رکھا ہے ‘‘ یعنی ایسے غم کے وقت پردے کے اہتمام کی بھلا کیا ضرورت ہے ۔

حضرت ام خلاد رضی اللہ عنہا نے اس بات کے جواب میں جو جملہ ارشاد فرمایا وہ ایک طرف تو اُن کے عزم و حوصلہ اور جرأت و استقامت کا ثبوت ہے تو دوسری طرف ایک مسلمان خاتون کے لیے اپنے دل پر نقش کرلینے کے قابل ہے ۔ انہوں نے لوگوں کے جواب میں یوں کہا :

’’ ان قتل ابنی فلن ارزا حیائی ‘‘

( اگر میرا بیٹا شہید ہوا تو میری حیاء تو نہیں رخصت ہو گئی )

جب ان کی یہ بات رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا کہ ان کے بیٹے کے لیے دو شہیدوں کا اجر ہے ۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! یہ کس وجہ سے ؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : 

کیونکہ خلاد ؓ کو اہل کتاب ( یہودیوں ) نے قتل کیا ہے ۔ ( سنن ابی دائود ۔ روایت شماس بن قیس ؓ )

حضرت ام خلاد رضی اللہ عنہا کے اس عظیم اور یاد گار کردار میں ویسے تو ہمارے لیے کئی سبق پوشیدہ ہیں لیکن جس سلسلے میں ہم آج گفتگو کر رہے ہیں اُس حوالے سے دیکھیں تو ’’ پردہ ‘‘ ایک ایسا اسلامی حکم ہے ‘ جس پر اب کئی غیر مسلم ممالک میں تو پابندی ہے ہی لیکن مسلم ممالک میں بھی حالت بدتر سے بد ترین ہوتی جا رہی ہے ۔

گزشتہ دنوں ایک مسلمان بیٹی کا مضمون منظر عام پر آیا ‘ جس میں اس نے تفصیل سے بتایا تھا کہ کس طرح ’’ اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی ایک یونیورسٹی میں اُسے صرف پردہ کرنے کے نتیجہ میں سخت ذہنی اذیت اور بد ترین امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا ۔ پڑھ کر سخت تعجب بھی ہوا اور افسوس بھی کہ جو ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا ‘ جس کی بنیادوں میں سولہ لاکھ اہل ایمان کا خون ہے اور جسے حاصل کرتے وقت ہر شخص کی زبان پر یہ نعرہ تھا :

پاکستان کا مطلب کیا؟

لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ

اس وطن میں آج ہمیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے کہ ایک مسلمان خاتون کو صرف ایک اسلامی حکم کی تعمیل میں پردہ کرنے کے ’’جرم‘‘ میں یوں ستایا جا رہا ہے… انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

پھر یہ ایک واقعہ نہیں ، گزشتہ چند سالوں میں جب سے روشن خیالی کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا ہے‘ ایسے واقعات تو اتر سے پیش آرہے ہیں ‘ جن میں کسی مسلمان مرد یا عورت کو اسلامی نشانیوں داڑھی ، پگڑی ، ٹوپی اور برقعہ کی وجہ سے آزمائش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اتنی بات تو ہر پاکستانی جانتا ہے کہ وطن عزیز کے وجود میں آتے ہی یہاں ایک طبقہ ایسا سامنے آیا ، جو بد قسمتی سے غیروں کے رنگ میں ایسا رنگ چکا تھا کہ اُسے صحیح لفظوں میں اسلامی احکامات سے ’’چِڑ‘‘ تھی ۔ ایسے ’’ کالے انگریزوں‘‘ نے ہمیشہ یہ کوشش کی کہ ایک ایسا ملک جس میں مسلمان واضح طور پر اکثریت میں ہیں اور اسلام پر عمل بھی کرنا چاہتے ہیں ‘ اسلامی شعائر کو کھرچ کھرچ کر ختم کر دیا جائے ۔ اس کیلئے انہوں نے جبرو تشدد سے لے کر میڈیا تک ہر ذریعہ استعمال کیا لیکن یہ علمائِ حق کی مسلسل قربانیاں اور عوام کی اسلام کے ساتھ غیر مشروط وابستگی ہے‘ جس کی وجہ سے اس طبقے کی ہر سازش ناکام ہوئی ۔

پردہ ایک خالص شرعی حکم ہے اور ہمارے ملک کے آئین میں بھی دو ٹوک الفاظ میںہر مسلمان مرد و عورت کو اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ وہ اپنی زندگی اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے میں مکمل طور پر آزاد ہے اور اس سلسلے میں اُسے کسی پابندی یا رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

پھر اسلامی حکم ہونے کے علاوہ پردہ کا تعلق ہر مسلمان خاتون کے انسانی حقوق سے بھی ہے ۔ قرآن مجید نے ’’ انسدادِ فواحش ‘‘ کا جو پروگرام انسانیت کو عطا فرمایا ہے اس کا بنیادی نکتہ پردہ ہے ۔ انسانی معاشرے کو جرائم سے اگر کوئی چیز بچاسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف پردے کے حکم پر دل و جان سے عمل پیرا ہونا ہے ۔ آج بھی جن ممالک میں پردے کا رواج کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے ‘ وہاں جرائم کا گراف ‘ ترقی یافتہ ممالک کی نسبت بہت نیچے ہے ۔

پردہ ‘ عورت کیلئے کوئی قید ہے نہ غلامی ۔ یہ عورت کیلئے کوئی تحقیر کی علامت ہے اور نہ ہی کسی تذلیل کی ۔ یہ تو عورت کیلئے اعزازو اکرام کا نشان ہے اور اُس کے بے پناہ احترام کا خوبصورت اظہار ہے ۔ دنیا میں ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی نظر میں جو چیز قیمتی اور اہم ہوتی ہے ‘اُسے دوسروں کی نگاہوں سے چھپا کر رکھتے ہیں اور جس چیز کی کوئی وقعت اور حیثیت نہیں ہوتی ‘اُسے بغیر کسی اہتمام کے سب کے سامنے رکھتے ہیں ۔ اتنی واضح بات کے باوجود بھی اگر کسی کو پردہ میں عورت کی ذلت محسوس ہوتی ہے تو اُسے اپنے دماغ کا علاج کروانا چاہیے ۔ ایک مسلمان کی تویہ شان نہیں کہ وہ واضح حکمِ الٰہی کے بعدپردے کے بارے میں کوئی منفی تبصرہ کر سکے ۔

آج کے ملحدین مسلمانوں کے سامنے پردے کو ترقی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ سوچنے کی بات ہے کہ کیا تہذیب و تمدن بے پردگی کا نام ہے؟ اگر واقعی بے پردگی ہی کا نام تہذیب ہے تو یہ کن لوگوں کی تہذیب ہے ؟ یہاں ضروری ہے کہ تہذیب کی تعریف پر غور کیا جائے ۔

تہذیب درحقیقت ایک پہچان اور شناخت کا نام ہے ۔ کسی قوم کے عقائد ، ان عقائد پر ان کے عمل ، جغرافیائی حالات اور اس کے طور طریقوں ، رہن سہن ، لباس ، صنعات ، روایات ، معاملات ، تہوار ، مقدس ایام منانے اور خوشی و غمی کی تقریبات کے طریقوں کے پیش نظر جو تصویر اور تصور ذہن میں ابھرتا ہے وہی اس قوم کی تہذیب کہلاتا ہے اور اسی کے حوالے سے وہ قوم پہچانی جاتی ہے ۔

جب مسلمان کا لفظ کسی قوم یا شخص کے لیے بولا جاتا ہے تو اسلامی تہذیب کی روشنی میں ذہن میں ایک مخصوص تصویر اجاگر ہوتی ہے جس کے لباس ،بولنے کے انداز اورحلیہ سے ہم اس کی شناخت کر لیتے ہیں کہ حقیقتاً یہ شخص مسلمان ہے ۔

اب ہم اپنے عقائد و نظریات کی روشنی میں اپنی تہذیب سے متصف اسلامی خاتون کا تصور کریں اور اس کا حلیہ دیکھیں تو کیا وہ ایسی خاتون ہے جس کے سر پر دوپٹہ نہیں ہے ، جس کا گریبان ، گردن اور بازو کھلے ہوئے ہیں اور جس کا کھلا چہرہ اجنبی نگاہوں کو دعوت ِ نظارہ دے رہا ہے ؟ یا اسلامی تہذیب اپنانے والی خاتون وہ ہے جو سر سے پائوں تک کسی بڑی چادر یا برقع میں چھپی ہوئی ہے اور بازاری مردوں سے بچتے ہوئے نہایت احتیاط اور وقار سے قدم اٹھاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے؟

کیا علم سے مستفید ہونا تہذیب و تمدن نہیں ہے َ اگر علم تہذیب و تمدن کا نشان ہے تو اس کے حصول کے لیے بے پردہ رہنا ہر گز ضروری نہیں ۔ کسی کا پردہ اسے تحصیل علم سے قطعاً نہیں روکتا ۔

پردہ تو فرائض وواجبات کی تکمیل میں مدد دیتا ہے اور فضول مشغولیات ترک کرنے کی سعادت بخشتا ہے ۔

کیا پردہ لیڈی ڈاکٹر کو بیماری کی تشخیص کرنے میں کوئی رکاوٹ ڈالتا ہے ؟ یا مریض کو دوا بتانے سے منع کرتا ہے؟

تہذیب و تمدن اور رجعت پسندی کا فرق اب بالکل صاف اور بے غبار ہو گیا ہے ۔ پردہ اعلیٰ اقدار و روایات پرمبنی تہذیب کی نشانی ہے ۔ پردہ عورت کے وقار اور اعتبار میں اضافے کا ضامن ہے ۔ پردہ عورت کی آبرو کا نگہبان ہے ۔ پردہ عورت کی عظمت ، ہیبت اور سطوت میں اضافہ کرتا ہے ۔

اسی طرح ’’ ترقی‘‘ بہت وسیع لفظ ہے اس کا کوئی ایک ہی مقررہ مفہوم نہیں ہے ۔ مسلمان ایک زمانہ میں خلیج بنگال سے بحرا ٹلا نٹک تک حکمراں رہے ہیں ۔ سائنس اور فلسفہ میں وہ دنیا کے استاد تھے ۔ تہذیب و تمدن میں کوئی دوسری قوم ان کے برابر نہ تھی ۔ معلوم نہیں اس چیز کا نام کسی لغت میں ترقی ہے یا نہیں ۔ اگر یہ ترقی تھی تو میں عرض کروں گا کہ یہ ترقی اس معاشرے نے کی تھی جس میں پردے کا رواج تھا ۔ اسلامی تاریخ بڑے بڑے اولیاء مد برین ، علماء حکماء ، مصنفین اور فاتحین کے ناموں سے بھری پڑی ہے یہ عظیم الشان لوگ جاہل مائوں کی گود میں پل کر تو نہیں نکلے تھے ۔ خود عورتوں میں بھی بڑی بڑی عالم و فاضل خواتین کے نام ہمیں اسلامی تاریخ میں ملتے ہیں ۔ وہ علوم و فنون اور ادب میں مہارت رکھتی تھیں ۔

پردے نے اس ترقی سے مسلمانوں کو نہیں روکا تھا ۔ آج بھی اسی طرز کی ’’ ترقی ‘‘ ہم کرنا چاہیں تو پردہ ہمیں اس سے نہیں روکتا ۔ البتہ اگر کسی کے نزدیک ’’ ترقی ‘‘ بس وہی ہو جواہل مغرب نے کی ہے تو بلاشبہ اس میں پردہ بری طرح حائل ہے ‘ مغرب نے وہ ترقی اخلاقی اور خاندانی نظام کو خطرہ میں ڈال کر کی ہے ۔ وہ عورت کو اس کے دائرہ عمل سے نکال کر مرد کے دائرہ کار میں لے آیا ہے اس طرح اس نے اپنے دفتر اور خارخانے چلانے کے لیے دو گنے ہاتھ تو حاصل کر لیے اور بظاہر بڑی ترقی حاصل کر لی مگر بحیثیت مجموعی وہاںلوگوں نے گھر اور خاندان کا سکون ، رشتوں کا تقدس ، نسب کا احترام اور بنیادی معاشرتی ڈھانچہ کھو دیا ہے ۔

اللہ تعالیٰ پردے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں :

(ترجمہ ) ’’ اے نبی (ﷺ) کہہ دیں اپنی عورتوں کو اور اپنی بیٹیوں کو اور ایمان والوں کی عورتوں کو نیچے لٹکالیں اپنے اوپر تھوڑی سی اپنی چادریں ۔اس میں بہت قریب ہے کہ پہچانی جائیں تو ان کو کوئی نہ ستائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ‘‘ ۔( الاحزاب ۵۹)

شیخ التفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی قدس سرہ اس کی تفسیر میں اس طرح فرماتے ہیں :

’’روایات میں ہے کہ مسلمان مستورات جب ضروریات کے لیے باہر نکلتیں تو بد معاش منافق تاک میں رہتے اور چھیڑ چھاڑ کرتے ۔ پھر پکڑے جاتے تو کہتے ہم نے سمجھا نہیں تھا کہ کوئی شریف عورت ہے ، لونڈی باندی سمجھ کر چھیڑ دیا ( اس لیے اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیات نازل فرمائیں۔اس آیت میں یہ حکم ہے کہ) بدن ڈھانپنے کے ساتھ چادر کا کچھ حصہ سر سے نیچے چہرہ پر بھی لٹکا لیں ۔ روایات میں ہے کہ اس حکم کے بعد مسلمان عورتیں بدن اور چہرہ چھپا کر اس طرح نکلتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ دیکھنے کے لیے کھلی رہتی تھی ۔ اس سے ثابت ہوا کہ فتنہ کے وقت آزاد عورت کو چہرہ بھی چھپا لینا چاہیے ‘‘۔

حضرت شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :

 ’’پہچان لی جائیں کہ لونڈی نہیں، بی بی ہے بد ذات نہیں نیک بخت ہے ۔ تاکہ بد نیت لوگ اس سے نہ الجھیں ۔ گھونگھٹ اس کا نشان رکھ دیا ، یہ حکم بہتری کا ہے آگے فرما دیا ! اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ یعنی باوجود اہتمام کے کچھ تقصیر( کوتاہی) رہ جائے تو اللہ کی مہربانی سے بخشش کی توقع ہے ۔ یہ تو آزاد عورتوں کے متعلق انتظام تھا کہ انہیں پہچان کر کسی کو چھیڑنے کا حوصلہ نہ ہو اور جھوٹے عذر کرنے کا موقع نہ رہے ۔ آگے ( اللہ تعالیٰ نے) عام چھیڑ چھاڑ کے متعلق دھمکی دی (خواہ بی بی ہو یا لونڈی کسی کے ساتھ چھیڑ خانی نہیں کرنی)‘‘۔ 

ہر مسلمان مرد و عورت کو چاہیے کہ وہ پردے جیسے عظیم حکمِ الٰہی کیلئے کم از کم تین اقدامات ضرور کرے:

۱… اپنے ہاں شرعی پردے کو رواج دیا جائے اور سب سے پہلے خود اس پر اہتمام سے عمل کیا جائے ۔

۲… تعلیم ، بیماری اور دیگر تمام ضروری کاموں میں بھی جہاں تک ہو سکے ، پردہ کا حکم نہ ٹوٹنے پائے ۔

۳… پردے کے حکم اور اس کے فائدوں کو اپنے اپنے حلقۂ اثر میں کھل کر بیان کرے اور اس حکم کی نافرمانی کی وجہ سے جو آفتیں آرہی ہیں ‘ ان کو بھی سمجھائے ۔

اگر شیطان کے پجاری ،مسلمانوں کے ماحول سے پردہ ختم کرنے کیلئے یکسو ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ رحمان جل شانہ کے بندے اس کو رواج دینے اور عام کرنے کیلئے محنت نہ کریں ۔ یادرکھیں! یہ ویلنٹائن ڈے‘ اعلیٰ تعلیم ‘ ترقی اور دیگر خوشنما نعرے صرف بہانے ہیں‘ اصل مقصد ان سب باتوں کا مسلمانوں کو پردے جیسی نعمت سے محروم کرنا ہے ۔ اس لیے ہمیں تعلیم ‘ تفریح اور ترقی کے بھی صرف ایسے راستے ہی منتخب کرنے ہیں‘ جن پر چلتے ہوئے ہمیں’’پردے‘‘ پر سمجھوتہ نہ کرنا پڑے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام احکامات پر سچے دل سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

انسداد فواحش کے قرآنی پروگرام کے بارے میں مزید گزارشات اگلی مجلس میں عرض کی جائیں گی۔(ان شاء اللہ تعالیٰ)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online