Bismillah

660

۱۰تا۱۶محرم الحرام۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۲۱تا۲۷ستمبر۲۰۱۸ء

قرآن مجید کا ایک اہم حکم (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 632 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Quran Majeed  ka Eham  Hukum

قرآن مجید کا ایک اہم حکم

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 632)

گزشتہ کئی مجالس سے ان نکات پر بات ہو رہی ہے ، جو قرآن مجید نے مسلمانوں کے ماحول اور معاشرے کو اخلاقی برائیوں سے پاک رکھنے کیلئے بیان فرمائے ہیں ۔ انہی احکامات اور نواہی کو میں نے آسانی کیلئے ’’ انسدادِ فواحش کا قرآنی پروگرام‘‘ کے نام سے بار بار دہرایا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ان باتوں پر جتنا غور کرتا جائے ، قرآن مجید کی لا زوال صداقتوں پر اس کا ایمان اتنا ہی پختہ ہوتا چلا جاتا ہے اور کیوں نہ ہو کہ قرآن مجید اُس خالق کائنات کا کلام ہے ، جس نے ہمیں پیدا کیا اور اُس خالق و مالک سے بڑھ کر ہمارے فائدے اور نقصان سے کون واقف ہو سکتا ہے ۔ قرآن مجید نے ایک جملہ میں ہی ساری بات کتنی خوبی سے کہہ دی ہے :

الا یعلم من خلق و ھواللطیف الخبیر

( بھلا وہ ہی نہ جانے جس نے پیدا کیا ، حالانکہ وہ باریک بین اور پوری طرح باخبر ہے ) ( الملک :۱۴)

اس لیے ہم قرآنی احکامات کو جتنے اہتمام سے سمجھ کر اُن پر عمل کریں گے ، اس میں خود ہمارا ، ہماری نسلوں ، ہمارے معاشرے اور ہمارے ممالک کی بھلائی ہے اور ہم جتنا ان سے دور ہوتے جائیں گے ، اپنا ہی نقصان کریں گے ۔ آج بھی ایک ایسے ہی اہم ترین مسئلہ کو بیان کیاجا رہا ہے ‘ جو معاشرے کی پاکیزگی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔

افسوس ہے کہ شریعت ِ اسلام نے جس قدر اس معاملے کا اہتمام فرمایا کہ قرآن حکیم میں اس کے مفصل احکام نازل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و عمل سے اُس کی بڑی تاکید فرمائی ، اتنا ہی آج کل مسلمان اس سے غافل ہو گئے ۔ لکھے پڑھے نیک لوگ بھی نہ اس کو کوئی گناہ سمجھتے ہیں نہ اس پر عمل کرنے کی فکر کرتے ہیں ۔ اسلامی احکام میں سب سے پہلے سستی اسی حکم میں شروع ہوئی ، بہرحال گھروں میں داخلے کے وقت اجازت لینا قرآن کریم کا وہ واجب التعمیل حکم ہے کہ اس میں ذرا سی سستی اور تبدیلی کو بھی حضرت ابن عباسؓ  ’’انکار آیت قرآن‘‘ کے شدید الفاظ سے تعبیر فرما رہے ہیں اور اب تو لوگوں نے واقعی ان احکام کو ایسا نظر انداز کر دیا ہے کہ گویا اُن کے نزدیک یہ قرآن مجید کے احکام ہی نہیں ۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

حق تعالیٰ جلّ شانہٗ نے ہر انسان کو جو اس کے رہنے کی جگہ عطا فرمائی خواہ مالکانہ ہو یا کرایہ وغیرہ پر بہر حال اُس کا گھر اُس کا مسکن ہے اور مسکن کی اصل غرض سکون و راحت ہے قرآن عزیز نے جہاں اپنی اس نعمت گرانمایہ کا ذکر فرمایا ہے اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے فرمایا جعل لکم من بیوتکم سکنا یعنی اللہ نے تمہارے گھروں سے تمہارے لیے سکون و راحت کا سامان دیا ۔ اور یہ سکون و راحت جبھی باقی رہ سکتا ہے کہ انسان دوسرے کسی شخص کی مداخلت کے بغیر اپنے گھر میں اپنی ضرورت کے مطابق آزادی سے کام اور آرام کر سکے ۔

 اس کی آزادی میں خلل ڈالنا گھر کی اصل مصلحت کو فوت کرنا ہے جو بڑی ایذاء و تکلیف ہے ۔ اسلام نے کسی کو بھی نا حق تکلیف پہنچانا حرام قرار دیا ہے ۔ اجازت لینے کے احکام میں ایک بڑی مصلحت لوگوں کی آزادی میں خلل ڈالنے اور اُن کی ایذاء رسانی سے بچنا ہے جو ہر شریف انسان کا عقلی فریضہ بھی ہے ۔

 دوسری مصلحت خود اس شخص کی ہے جو کسی کی ملاقات کے لیے اُس کے پاس گیا ہے کہ جب وہ اجازت لے کر شائستہ انسان کی طرح ملے گا تو مخاطب بھی اس کی بات قدر و منزلت سے سنے گا اور اگر اس کی کوئی حاجت ہے تو اس کے پورا کرنے کا شوق اور جذبہ اُس کے دل میں پیدا ہو گا ۔ بخلاف اس کے کہ وحشیانہ طرز سے کسی شخص پر بغیر اس کی اجازت کے مسلط ہو گیا تو مخاطب اس کو ایک بلائے نا گہانی سمجھ کر حیلے بہانے سے کام لے گا، خیر خواہی کا جذبہ اگر ہوا بھی تو کمزور ہو جائے گا اور اس کو ایذاء مسلم کا گناہ الگ ہو گا ۔

تیسری مصلحت فواحش اور بے حیائی کا انسداد ہے کہ بلا اجازت کسی کے مکان میں داخل ہو جانے سے یہ بھی احتمال ہے کہ غیر محرم عورتوں پر نظر پڑے اور شیطان دل میں کوئی مرض پیدا کر دے اور اسی مصلحت سے اجازت لینے کے احکام کو قرآن کریم میں حدِّ زنا ، حدِّ قذف وغیرہ احکام کے ساتھ لایا گیا ہے ۔

چوتھی مصلحت یہ ہے کہ انسان بعض اوقات اپنے گھر کی تنہائی میں کوئی ایسا کام کر رہا ہوتا ہے جس پر دوسروں کو اطلاع کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اگر کوئی شخص بغیر اجازت کے گھر میں آجائے تو وہ جس چیز کو دوسروں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا تھا اُس پر مطلع ہو جائے گا ۔ کسی کے پوشیدہ راز کو زبردستی معلوم کرنے کی فکر بھی گناہ اور دوسروں کے لیے تکلیف کا ذریعہ ہے ۔ اجازت لینے کے چند احکام مختصر طور پر یہاں لکھے جاتے ہیں۔

سورئہ نور کی آیت نمبر ۲۷ میں’’ یا ایھا الذین امنوا‘‘ سے خطاب کیا گیا جو مردوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ، مگر عورتیں بھی اس حکم میں داخل ہیں جیسا کہ عام احکام قرآنیہ اسی طرح مردوں کو مخاطب کر کے آتے ہیں عورتیں بھی اُس میں شامل ہوتی ہیں ، علاوہ مخصوص مسائل کے جن کی خصوصیت مردوں کے ساتھ بیان کر دی جاتی ہے ۔ چنانچہ صحابیاتؓ  کا بھی یہی معمول تھا کہ کسی کے گھر جائیں تو پہلے اُن سے اجازت لیتیں۔

حضرت ام ایاسؓ فرماتی ہیں کہ ہم چار عورتیں اکثر حضرت صدیقہ عائشہؓ کے پاس جایا کرتی تھیں اور گھر میں جانے سے پہلے اُن سے اجازت لیتی تھیں جب وہ اجازت دیتی تو اندر جاتی تھیں ( ابن کثیر بحوالہ ابن ابی حاتم)

اسی آیت کے عموم سے معلوم ہوا کہ کسی دوسرے شخص کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت کا حکم عام ہے ،مرد، عورت، محرم، غیر محرم سب کو شامل ہے ۔ عورت کسی عورت کے پاس جائے یا مرد، مرد کے پاس ، سب کو اجازت لینا واجب ہے ، اسی طرح ایک شخص اگر اپنی ماں اور بہن یا دوسری محرم عورتوں کے پاس جائے تو بھی اجازت لینی چاہیے ۔

 عطاء بن یسار ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اپنی والدہ کے پاس جاتے وقت بھی اجازت لوں۔آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اجازت لیا کرو ۔ اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میں تو اپنی والدہ ہی کے ساتھ گھر میں رہتا ہوں ۔ آپ  ﷺ نے فرمایا پھر بھی اجازت لیے بغیر گھر میں نہ جائو ۔ اُس نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تو ہر وقت ان کی خدمت میں رہتا ہوں ۔

آپ ﷺ نے فرمایا: پھر بھی اجازت لیے بغیر گھر میں نہ جائو کیا تمہیں یہ بات پسند ہے کہ اپنی والدہ کو غیر مناسب حالت میں دیکھو؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ فرمایا: اسی لیے اجازت لیا کرو ، کیونکہ یہ احتمال ہے کہ وہ گھر میں کسی ضرورت کی حالت میںہوں (مظہری)

جس گھر میں صرف اپنی بیوی رہتی ہو اُس میں داخل ہونے کے لیے اگرچہ اجازت واجب نہیں مگر مستحب اور طریق سنت یہ ہے کہ وہاں بھی اچانک بغیر کسی اطلاع کے اندر نہ جائے بلکہ داخل ہونے سے پہلے اپنے پائوں کی آہٹ سے یا کھنکار سے کسی طرح پہلے باخبر کر دے پھر داخل ہو ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی زوجہ محترمہ فرماتی ہیں کہ عبداللہ جب کبھی باہر سے گھر میں آتے تھے تو دروازہ میں کھنکار کر پہلے اپنے آنے سے باخبر کر دیتے تھے تاکہ وہ ہمیں کسی ایسی حالت میں نہ دیکھیں جو ان کو پسند نہ ہو (ابن کثیر بحوالہ ابن جریر و قال اسنادہ صحیح)

امام بخاری ؒ نے ’’الادب المفرد ‘‘میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جو شخص سلام سے پہلے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہے اس کو اجازت نہ دو ( کیونکہ اُس نے مسنون طریقہ کو چھوڑ دیا ) ( روح المعانی)

 ابو دائود کی حدیث میں ہے کہ بنی عامر کے ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح اجازت طلب کی کہ باہر سے کہا’’ أألج ‘‘کیا میں گھس جائوں؟آپﷺ نے اپنے خادم سے فرمایا: یہ شخص اجازت لینے کا طریقہ نہیں جانتا باہر جا کر اس کو طریقہ سکھلائو کہ یوں کہے السلام علیکم اادخل یعنی کیا میں داخل ہو سکتاہوں۔ ابھی یہ خادم باہر نہیں گیا تھا کہ اُس نے خود حضور ﷺ کے کلمات سن لیے اور اس طرح کہا: السلام علیکم أأدخل؟  تو آپﷺ نے اندر آنے کی اجازت دے دی ۔(ابن کثیر)

بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :لا تأذ نوا لمن لم یبدأ بالسلام یعنی جو شخص پہلے سلام نہ کرے اس کو اندر آنے کی اجازت نہ دو۔ (مظہری)

اس واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو اصلاحیں فرمائیں ۔ ایک یہ کہ پہلے سلام کرنا چاہیے ۔ دوسرے یہ کہ اُس نے أدخل کے بجائے ألج کا لفظ استعمال کیا تھا ، یہ نا مناسب تھا کیونکہ ألج  و لوج سے مشتق ہے جس کے معنی کسی تنگ جگہ میں گھسنے کے ہیں یہ تہذیب الفاظ کے خلاف تھا ۔ بہرحال ان روایات سے یہ معلوم ہوا کہ آیت ِ قرآن ،میں جو سلام کرنے کا ارشاد ہے یہ سلام اجازت کا ہے جو اجازت حاصل کرنے کے لیے باہر سے کیا جاتا ہے ، تاکہ اندر جو شخص ہے وہ متوجہ ہو جائے اور جو الفاظ اجازت طلب کرنے کے لیے کہے گا وہ سن لے ۔ گھر میں داخل ہونے کے وقت حسب ِ معمول دوبارہ سلام کرے ۔

پہلے سلام اور پھر داخل ہونے کی اجازت لینے کا جو بیان اوپر احادیث سے ثابت ہوا اس میں بہتر یہ ہے کہ اجازت لینے والا خود اپنا نام لے کر اجازت طلب کرے جیسا کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا عمل تھا کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر آکر یہ الفاظ کہے :

السلام علی رسول اللّٰہ السلام علیکم اید خل عمر یعنی سلام کے بعد کہا کہ کیا عمرداخل ہو سکتا ہے ۔ (ابن کثیر)

اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ  حضرت عمر ؓ کے پاس گئے تو اجازت کے لیے یہ الفاظ فرمائے:

السلام علیکم ھذا ابو موسیٰ السلام علیکم ھذا الاشعری (قرطبی)

اس میں بھی پہلے اپنا نام ابو موسیٰ بتلایا پھر مزید وضاحت کے لیے اشعری کا ذکر کیا اور یہ اس لیے کہ جب تک آدمی اجازت لینے والے کو پہچانے نہیں تو جواب دینے میں تشویش ہو گی ۔ اس تشویش سے بھی مخاطب کو بچانا چاہیے ۔ ( ملخص مع ترمیم از تفسیر معارف القرآن۶؍۳۸۶)

اللہ کریم ہم سب کو دل و جان سے تمام احکاماتِ قرآنی پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آج تک جتنی کمی کوتاہی ہو گئی ہے، اُسے معاف فرمادے۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online