Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

تلوار اور بازو (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 633 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Talwar aur Bazu

تلوار اور بازو

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 633)

شام… حلب … ادلب … دمشق … غوطہ … لہو لہان امت کے جسم پر گہرے زخم اور المناک سانحے ، جو برسوں نہیں صدیوں یاد رہیں گے ۔

امیر المومنین سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرب کے مشہور بہادر حضرت عمرو بن معدی کر ب رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ اے عمرو! آپ کی جو تلوار ’’ صمصامہ ‘‘ کے نام سے معروف ہے اور اس کی کاٹ کی بڑی شہرت ہے ، وہ تلوار ہمارے پاس بھیج دیں تاکہ ہم بھی ذرا اُس کی صفائی دیکھیں ۔

یاد رہے کہ عرب میں تلوار بڑی قابل احترام چیز سمجھی جاتی تھی ۔ وہاں کے لوگ اپنی اپنی تلوار کو ویسے ہی سجاتے اور سنوارتے تھے ، جیسے آج کل ہم اپنے اپنے موبائل فونوں کو مختلف طریقوں سے جدّت اور حفاظت بخشتے ہیں ۔ قسما قسم اور رنگا رنگ تلواریں اُن کے ہاں صرف جنگوں میں استعمال نہیں ہوتی تھیں بلکہ یہ کسی کا معاشرتی مقام اور مرتبہ بھی متعین کرتی تھیں ۔ تلواروں کے بارے میں کہے گئے عربی اشعار کا ایک بہت بڑا ذخیرہ آج بھی کتابوں میں محفوظ ہے ۔

پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تو خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے یہ سن رکھا تھا :

’’ میں قیامت سے پہلے تلوار دے کر بھیجا گیا ہوں تاکہ صرف اکیلے اللہ کی عبادت کی جائے ‘ جس کا کوئی شریک نہیں ‘‘ ۔ ( مسند احمد ‘ روایت عبداللہ بن عمرؓ)

اسی طرح یقینا ان میں سے بہت سے حضرات نے خود زبانِ رسالت سے یہ بھی سنا ہو گا :

’’ اے لوگو! دشمن سے لڑائی کی تمنا نہ کرو بلکہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو اور جب دشمن سے لڑائی شروع ہو جائے تو خوب ڈٹ کر لڑو اور اچھی طرح جان لو کہ جنت ‘ تلواروں کے سائے کے نیچے ہے‘‘۔( صحیح بخاری ، روایت عبداللہ بن اوفی  ؓ )

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا چاہتے تھے کہ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اس آسمان و زمین نے اپنی پوری زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں دیکھا اور حضراتِ صحابہؓ سے بڑھ کر کوئی محب اور چاہنے والانہیں دیکھا ۔ ان جاں نثاروں نے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر مبارک میں دس تلواریں بھی دیکھیں اور امت کو بھی بتایا کہ ان تلواروں کے نام یہ تھے:

(۱) الما ٔ ثور (۲) العضب (۳)  ذو الفقار(۴)الصمصام (۵) القلعی(۶)البتار (۷) الحتف(۸) الرسوب (۹) المخذم  (۱۰) القضیب

پھر کیسے ممکن تھا کہ درسگاہِ رسالت کے یہ فیض یافتہ شاگرد، تلواروں سے غافل ہو جاتے اور اپنے آپ کو دشمنوں کیلئے لقمۂ تر بنا ڈالتے ۔ اسی لیے انہوں نے تلواروں سے محبت کی اور بے پناہ محبت کی ۔ سنن ِ ابن ماجہ کی ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ باقاعدہ اپنی تلواروں کی زیب و زینت کیا کرتے تھے ۔

عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ تو اسلام کے ان جرنیلوں میں سے ہیں‘ جنہوں نے رومیوں کے خلاف بھی میدان میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے ‘ جہاں اس وقت دنیا کی پہلی سپر پاور ’’ روم‘‘ ان جاں نثاروں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچی اور یہ ہاتھیوں والی مشہور تاریخی جنگ ’’ قادسیہ ‘‘ میں بھی شریک تھے ‘ جس میں دنیا کی دوسری سپرپاور ’’ ایران‘‘ پر کاری ضرب لگی اور بہت سے مؤرخین کے نزدیک تو آپ قادسیہ کے شہداء میں شامل ہیں ۔

بہر حال ! حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب ان کی تلوار کو آزمایا تو وہ ان کو کچھ زیادہ اچھی نہیں لگی کہ جیسی اُس تلوار کی شہرت تھی ‘ اُس سے بہت کم وہ محسوس ہوئی ۔ تب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں یہ ساری بات لکھ ڈالی ‘ جس پر حضرت عمر و بن معدی کرب رضی اللہ عنہ نے بہت ہی مختصر اور نپے تلے الفاظ میں جواب لکھا :

’’ انما بعثت الی امیر المومنین بالسیف ‘ ولم ابعث بالساعد الذی یضرب بہ ‘‘

( میں نے امیر المومنین کی خدمت میں ان کے حکم کے مطابق تلوار تو بھیج دی تھی لیکن وہ بازو تو نہیں بھیجا جس سے یہ تلوار چلائی جاتی ہے )

عربی زبان میں اس سے یہ ضرب المثل بن گئی :

’’ السیف بالساعد لا الساعد بالسیف ‘‘

( تلوار تو بازو سے چلتی ہے ‘ بازو تلوار کا محتاج نہیں ہوتا )

اور فارسی میں کہتے ہیں:

’’ دست نادر باید نہ شمشیر آب دار‘‘

( چلانے والے ہاتھ نایاب اور نادر ہیں ورنہ عمدہ تلواریں تو بہت ہیں)

آج جب ہم ایک طرف شام کے علاقے ’’غوطہ ‘‘ پر ہونے والی بمباری کے حالات دیکھتے ہیں‘ جنہوں نے ایسے المناک واقعات کو جنم دیا ہے ‘ جن کی تصویر کشی کیلئے بھی فولاد کا جگر چاہیے ، جب درجنوں کی تعداد میں معصوم بچوں کی لاشیں پڑی ہوں‘ با پردہ گوشہ نشین خواتین اپنے برقعوں سمیت لقمۂ اجل بن رہی ہوں ‘ نہتے شہری ، بوڑھے اور جوان براہ راست ہدف بنائے جا رہے ہوں‘ زندگی کی ساری نشانیاں ایک ایک کر کے مٹتی جا رہی ہوں‘ ہنستے بستے شہر کھنڈرات اور قبرستان کا منظر پیش کر رہے ہوں تو ایسے میں کون پتھر دل ہے ‘ جس کی آنکھ نہ بہہ پڑے گی ۔

دوسری طرف اسلامی ممالک کے بے پناہ وسائل نظر آتے ہیں ۔ بے شمار معدنیات ، لا تعدا د افرادی قوت ، انتہائی ذہین دماغ ، اعلیٰ عسکری تربیت ‘ پیشہ وارانہ مہارت اور وہ سب کچھ جو کسی قوم کی ترقی اور عروج کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن افسوس کہ یہاں بھی وہ ہی معاملہ ہے کہ ’’تلوار‘‘ ہے لیکن اس کو چلانے والے’’بازو‘‘ نہیں ہیں ۔

اللہ تعالیٰ نے ان ممالک کو بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے ، معدنیات ،زرخیز زمین ، تجارتی بندر گاہیں اور دور حاضر میں ترقی کے لیے جن اقسام کے خام مال کی ضرورت ہے ، وہ تمام اسلامی ممالک کو وافر مقدار میں فراہم کر دی گئی ہیں ، ایک جھلک ان انعامات الٰہی کی ملاحظہ فرمائیں ۔

افغانستان ، جس پر طویل عرصے سے سامراجی طاقتیں یلغار کر رہی ہیں ، معدنیات سے مالا مال ملک ہے ، اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے پہاڑوں میں صرف سونا ہی ایک لاکھ ٹن پایا جاتا ہے ، تانبے کے ذخائر بھی دنیا بھر سے زیادہ ہیں ، یہاں 17مقامات ایسے ہیں ، جہاں لوہے کے 10ارب ٹن سے بھی زائد مالیت کے ذخائر موجود ہیں ، جبکہ دارالحکومت کابل سے 130کلو میٹر کے فاصلے پر صوبہ بامیان کے علاقے حاجی گاگ کی کانوں میں تقریباً ایک ارب 80کروڑ ٹن اسٹیل کے ذخائر موجود ہیں ۔

عام معدنیات سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ نے اسلامی ممالک کو پٹرول جیسی معدنیات سے بھی مالا مال کیا ہے صنعتی ترقی کا سارا انحصار اس دور میں پٹرول پر ہے ، جس کے کنوئوں سے اللہ تعالیٰ نے عرب ممالک کو اس قدر نوازا ہے کہ کوئی بھی مغربی ملک ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا ، دنیا میں تیل پیدا کرنے والے 10بڑے ممالک میں سے 8اسلامی ممالک ہیں ۔ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، عراق ، کویت، الجزائر ، لیبیا، نائجیریا اور سوڈان ۔ قدرتی ذخائر سے مالا مال ایک اور ملک الجزائر بھی ہے ، جو لوہے ، تیل ، گیس اور زنک وغیرہ کی دولت سے مالا مال ہے ، سوڈان میں کیلثیم ، تانبے اور پٹرولیم کی مصنوعات کافی مقدار میں پائی جاتی ہیں ، لیکن بد قسمتی سے وسائل پر کنٹرول دوسری طاقتوں کا ہے ، جنہوں نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی شکل میں اپنا راج قائم کر رکھا ہے ۔

حیرت ہے کہ کسی اسلام ملک کی ملٹی نیشنل کمپنی نہیں ہے ، پاکستان بھی اللہ کا نوازا ہوا ملک ہے ، جہاں تانبہ ، کوئلہ اور قدرتی گیس وغیرہ بہت بڑی مقدار میں موجود ہیں ، اس کے دریا، صحرا ، بلند و بالا پہاڑ اور وسیع عریض سمندر دنیا کو ایک اور ہی کہانی سناتے ہیں ۔ کون سی نعمت ہے ، جو اس ملک کو عطا نہیں کی گئی ، قیمتی پتھروں کی کئی منفرد اقسام یہاں پائی جاتی ہیں ۔ نیلم ، یاقوت ، زمرد ، سنگِ مرمر ، چونا ، نمک اور تانبہ وغیرہ چاندی ، سونا ، کوئلہ اور قدرتی گیس وغیرہ بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں ، بلکہ کوئلے کو تو سیاہ سونا کہاں جاتا ہے ۔

نوجوان آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے ، تب بھی پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے ، جہاں 40فیصد محنتی نوجوان پائے جاتے ہیں ، بے شمار ملک سمندر سے محروم ہیں ، لیکن پاکستان کے پاس ٹھاٹھیں مارتا ہوا بحیرئہ عرب ہے ، جس سے قازقستان ، ترکمانستان اور آذربائیجان وغیرہ اور قریبی ملک افغانستان بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ معدنی وسائل کے اعتبار سے پاکستان کوئلے کے ذخائر رکھنے والا دوسرا بڑا ملک ہے ، دنیا میں نمک کا دوسرا بڑا ذخیرہ بھی پاکستان کے پاس ہے ، تانبے کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان ساتواں بڑا ملک ہے ، سونے کے ذخائر کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر پانچواں ہے اور قدرتی گیس کے ذخائر کے اعتبار سے پاکستان چھٹا بڑا ملک ہے ، ہمارے ملک کی زرعی زمین بھی دنیا کے دیگر ممالک کی زرعی زمین کے مقابلے میں زیادہ ذرخیز سمجھی جاتی ہے ۔

عالم اسلام کے معدنی ذخائر یا تو زمین ہی میں دفن ہیں یا پھر ا سے اسلام دشمن قوتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں جو اعلیٰ طبقہ مسلمانوں کے معاملات کا نگران ہے ، اسے اپنے عیش و عشرت سے ہی فرصت نہیں ۔ ملکی ترقی کا معیار اس طبقے کے نزدیک یہ ہے کہ قرضے لے کر شاندار سڑکیں بنادی جائیں ،شاپنگ کمپلیکس ، کھیل کود اور دیگر مواقع فراہم کر دئیے جائیں ۔ سڑکوں پر ہر وقت کاریں دوڑتی رہیں اور خواتین مغربی رنگ میں رنگ جائیں ، ہر طرف فیشن نظر آئے ، مگر ملک کی ترقی کے لیے یہ چیزیں کب معیار بنی ہیں؟ ترقی کا اصل معیار تو دنیا بھر کے مقابلے میں معاشی ، علمی اور دفاعی طاقت ہے ۔ جس پر نہ تو اسلامی ممالک توجہ دیتے ہیں اور نہ ہی مغربی طاقتیں ان کو ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہیں ۔

دنیاکے نقشے کو ایک نظر دیکھیں تو آپ کو ہر سمت تلواریں ہی تلواریں نظر آئیں گی لیکن افسوس کہ ان کو چلانے کیلئے اگر بازو ہیں تو وہ چند ‘ تعداد میں انتہائی کم اور وسائل کے اعتبار سے بہت ہی قلیل ۔ شام ‘افغانستان ‘ فلسطین اور کشمیر میں اپنا تن من دھن لٹا کر دشمن کے سامنے ڈٹ جانے والوں کے سوا آج کون ہے‘ جس کی طرف ایسے حالات میں عالم اسلام کی نگاہ اٹھتی ہو ۔ ہاں! ایک ترکی ہے ‘ جس کیلئے سب کے لبوں پر دعائیں ہیں ۔ ورنہ جس اسلامی عالمی فوجی اتحاد کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا تھا ، اُس کی بے بسی اور کم ظرفی سب نے کھلی آنکھوں دیکھ لی ہے ۔

اقوام ِ متحدہ کے بچوں کیلئے ادارے یونیسیف نے شامی بچوں کے قتلِ عام پر صدمے اور افسوس کے اظہار کیلئے اپنا اعلامیہ خالی صفحات کی شکل میں جاری کیا ہے کہ گویا رنج و غم کے تمام الفاظ ختم ہو چکے ہیں لیکن کون نہیں جانتا کہ یہ سب منافقت کے پر انے حیلے بہانے ہیں ۔ ان اداروں کے چلانے والے ہی تو اس ساری وحشت ناک تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں ۔ انسانی حقوق کی پاکستانی تنظیمیں ہوں یا غیر ملکی ‘ ان کا تو ذکر ہی یہاں فضول ہے کہ جب تک اُنہیں اُن کے آقا ادائیگی نہ کریں تب تک اُنہیں انسانی حقوق بھول کر بھی یاد نہیں آتے ۔ یہودیوں کے پروردہ میڈیا سے کسی حق بات کی توقع کرنا تو بلاشبہ بڑی حماقت ہے ۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں آخر عالم اسلام کی تلواروں کو چلانے والے ’’ بازو‘‘ کہاں سے آئیں گے ؟ ہمیں یقین ہے کہ یہ ’’بازو‘‘ خود اہل ایمان سے ہی اٹھیں گے ۔ یہ ’’بازو‘‘ ہم نے ہی تیار کرنے ہیں‘ علم و حکمت سے ‘ ایمان و ایقان سے ‘ ہمت اور حوصلے سے ‘ دعائوں اور فریادوں سے ۔

جب تک مسلمان خود ان ’’بازوئوں ‘‘ کو تیار نہیں کرتے ‘ عالم اسلام کے وسائل مسلمانوں کی کوئی حفاظت نہیں کر سکتے کہ وسائل وہ ہی کامیاب ہوتے ہیں ‘ جن کے پیچھے ان کو استعمال کرنے والے ہاتھ حضرت عمرو بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کی طرح مضبوط ہوں ۔

اللہ تعالیٰ پوری امت مسلمہ بالخصوص شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے اور جلد اُن کے لیے عافیت کے راستے پیدا فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online