Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

مسلمانوں کی حفاظت کیلئے دو اہم حکم (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 634 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Do Ahm Hukum

مسلمانوں کی حفاظت کیلئے دو اہم حکم

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 634)

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ماننے والوں کو ایسا بے سہارا نہیں چھوڑا تھا کہ وہ ہر جگہ دشمنوں کیلئے لقمۂ تر ثابت ہوں اور جو چاہے ، جب چاہے ، انہیں اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بناتا پھرے ۔ اس وقت پوری دنیا کے مسلمانوں کی جو حالت زار ہے ، وہ سب مسلمانوں کو یہ دعوت دے رہی ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنا جائزہ لیں اور ان اسباب کا تعین کریں ، جن کی بناء پر یہ نوبت آچکی ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہوتا ہے تو اہل ایمان پر ، کہیں لاشیں گرتی ہیں تو فرزندانِ توحید کی اور کہیں شہر اجڑتے ہیں تو حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوائوں کے۔

 آخر وہ کیا کوتاہی ہے ، جس کے بحیثیت مسلمان ہم مجموعی طور پر شکار ہو کر ایسے بے بس ہو چکے ہیں کہ سوائے نوحہ اور آہ و زاری کے ہم کچھ نہیں کر پا رہے ۔ آج تو نوبت یہ آگئی ہے کہ مظلوم مسلمانوں کے ساتھ تعاون جو ہر صاحب ِ ایمان کا فریضہ ہے ، وہ بھی اکثر لوگ چاہنے کے باوجود نہیں کر سکتے ۔

یہ مختصر کالم جزئیات اور تفصیلات کا احاطہ تو نہیں کر سکتا لیکن مختصراً دو اہم باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے ۔

(۱)… اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع‘ اپنے گناہوں پر ندامت و پشیمانی کے ساتھ توبہ اور اللہ تعالیٰ سے خصوصی دعائیں مانگنا ۔ قرآن مجید اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ان کاموں کی جتنی تاکید آئی ہے ، وہ کسی مسلمان سے پوشیدہ نہیں ہو سکتی ۔ اس لیے جب بھی ، جیسے بھی اور جتنا بھی ہو سکے ایسے پریشان کن حالات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر ، استغفار ، درود شریف اور دیگر مسنون دعائوں کا انفرادی و اجتماعی اہتمام کرنا چاہیے ۔

عام دعائوں کے علاوہ خصوصی دعا کی ایک صورت یہ بھی ہے جو صحیح احادیث میں آئی ہے کہ جب مسلمانوں پر کوئی شدید حادثہ پیش آتا تھا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں مسلمانوں کی حفاظت اور دشمنوں پر فتح کے لیے قنوتِ نازلہ والی دعا پڑھا کرتے تھے ، یہ قنوتِ نازلہ اب بھی مسنون ہے ۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ عمومی مصائب اور پریشانیوں کے وقت میں یہ دعا اس طرح پڑھا کریں کہ صبح کی نماز کی دوسری رکعت میں رکوع کے بعد امام بلند آواز سے یہ دعا پڑھے اور مقتدی آمین کہتے رہیں۔ دعا کے بعد تکبیر کہہ کر امام کے ساتھ سجدے میں چلے جائیں۔

یہ دعا ایسے مختصر لیکن جامع ترین الفاظ پر مشتمل ہے کہ اسے یاد کر کے عام اوقات میں بھی پڑھتے رہنا چاہیے ۔ اس خاص دعا کے الفاظ ترجمہ کے ساتھ یہ ہیں:

اَللّٰھُمَّ اھْدِنَا فِیْمَنْ ھَدَیْتَ  وَعَافِنَا فِیْمَنْ عَافَیْتَ

یا اللہ راہ دکھا ہم کو ان لوگوں میں جن کو تونے راہ دکھائی اور عافیت دے ہم کو اُن لوگوں میں جن کو تونے عافیت بخشی ۔

وَتَوَلَّنَا فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ  وَبَارِکْ لَنَا فِیْمَا اَعْطَیْتَ

اور کار سازی کر ہماری اُن لوگوں میں جن کے آپ کارساز ہیںاور برکت دے اُس چیز میںجو آپ نے ہم کو عطا فرمائی ۔

وَقِنَا شَرَّمَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ

اور بچا ہم کو اُس چیز کے شر سے جو کو آپ نے مقدر فرمایا،کیونکہ فیصلہ کرنے والے آپ ہی ہیں آپ کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔

اِنَّہٗ لَا یَعِزُّمَنْ عَادَیْتَ  وَلَا یَذِلُّ مَنْ وَالَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ

بے شک آپ کا دشمن عزت نہیں پا سکتا  اور آپ کا دوست ذلیل نہیں ہو سکتا ،برکت والے ہیں آپ اے ہمارے پروردگار اور بلند و بالا ہیں ۔

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِلْمُوْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ  وَالْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمَاتِ

یا اللہ مغفرت فرما مومن مردوں اور عورتوں کی اور مسلمان مرد اور مسلمان عورتوں کے گناہ معاف فرما ۔

وَاَصْلِحْھُمْ وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَیْنِھِمْ  وَاَلِّفْ َبیْنَ قُلُوْبِھِمْ

اور ان کے حالات کی اصلاح فرما اور ان کے باہمی تعلقات کو درست فرمادے اور ان کے دلوں میں الفت باہمی اور محبت پیدا کر دے ۔

وَاجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الْاِیْمَانَ وَالْحِکْمَۃَ   وَثَبِّتْھُمْ عَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِکَ

اور ان کے دلوں میں ایمان و حکمت کو قائم فرما دے۔ اور ان کو اپنے رسول کے دین پر ثابت قدم فرما ۔

وَاَوْزِعْھُمْ اَنْ یَّشْکُرُوْ انِعْمَتِکَ الَّتِیْ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ  وَاَنْ یُّوْفُوْا بِعَھْدِکَ الَّذِیْ عَاھَدْ تَّھُمْ عَلَیْہِ

اور توفیق دے انہیں کہ شکر کریں تیری اس نعمت کا جو تونے انہیں دی ہے ۔ اور یہ کہ وہ پورا کریں تیرا وہ عہد جو تونے اُن سے لیا ہے ۔

وَانْصُرْ ھُمْ عَلٰی عَدُوِّکَ وَعَدُ وِّھِمْ  اِلٰہَ الْحَقِّ سُبْحَانَکَ لَا اِلٰہَ غَیْرُکَ

اور غلبہ عطا کر ان کو اپنے دشمن پر اور اُن کے دشمن پر اے معبودِ برحق تیری ذات پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔

اَللّٰھُمَّ انْصُرْ عَسَاکِرَ الْمُسْلِمِیْنَ  وَ الْعَنِ الْکَفَرَۃَ وَالْمُشْرِکِیْنَ  اَلَّذِیْنَ یُکَذِّبُوْنَ رُسُلَکَ وَیُقَاتِلُوْنَ اَوْلِیَائَکَ

یا اللہ مسلم افواج کی مدد فرما اور کفار و مشرکین پر اپنی لعنت فرما ،جو آپ کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے دوستوں سے مقابلہ کرتے ہیں۔

اَللّٰھُمَّ خَالِفْ بَیْنَ کَلِمْتِھِمْ  وَفَرِّقْ جَمْعَھُمْ  وَشَتِّتْ شَمْلَھُمْ  وَزَلْزِلْ اَقْدَامَھُمْ

یا اللہ ان کے آپس میں اختلاف ڈال دے ۔ اور ان کی جماعت کو متفرق کر دے اور ان کی طاقت کو پارہ پارہ کر دے اور ان کے قدم اکھاڑ دے

وَاَلْقِ فِیْ قُلُوْبِھِمُ الرُّعْبَ  وَخُذْ ھُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ

اور ان کے دلوں میں مسلما نوں کا رعب ڈال دے اور ان کو ایسے عذاب میں پکڑ لے جس میں قوت و قدرت والا پکڑا کرتا ہے ۔

وَاَنْزِلْ بِھِمْ بَاْسَکَ الَّذِیْ لَا تَرُدُّہٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ

اور ان پر وہ عذاب نازل فرما جس کو آپ مجرم قوموں سے اٹھایا نہیں کرتے ۔

(۲)…اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

 وَ اَعِدُّوْا   لَھُمْ  مَّا اسْتَطَعْتُمْ  مِّنْ  قُوَّۃٍ  وَّمِنْ  رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ  بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِھِمْ  لَاتَعْلَمُوْنَھُمْ  اَللّٰہُ یَعْلَمُھُمْ وَمَا تُنْفِقُوْا  مِنْ  شَیْئٍ   فِیْ  سَبِیْلِ  اللّٰہِ   یُوَفَّ  اِلَیْکُمْ   وَاَنْتُمْ  لَا  تُظْلَمُوْن (الانفال ۔۶۰)

ترجمہ :  ’’اور ان سے لڑنے کیلئے جو کچھ قوت سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے جمع کر سکو تو تیار رکھو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے سوا دوسروں پر ہیبت پڑے جنہیں تم نہیں جانتے اللہ تعالیٰ انہیں جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے تمہیں (اس کا ثواب) پورا ملے گا اور تم سے بے انصافی نہیں ہو گی ‘‘۔

حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں :

’’یعنی خدا پر بھروسہ کرنے کے معنی یہ نہیں کہ اسبابِ ضرور یہ مشروعہ کو ترک کر دیا جائے ’ ’ نہیں ‘‘ ۔ مسلمانوں پر فرض ہے کہ جہاں تک قدرت ہو سامان جہاد فراہم کریں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں گھوڑے کی سواری ، شمشیر زنی اور تیر اندازی وغیرہ کی مشق کرنا سامان جہاد تھا ۔ آج بندوق ، توپ ، ہوائی جہاز ، آبدوز کشتیاں ، آہن پوش کروزر وغیرہ کا تیار کرنا اور استعمال میں لانا اور قنون حربیہ کا سیکھنا بلکہ ورزش وغیرہ کرنا سب سامانِ جہاد ہے ۔ اسی طرح آئندہ جو اسلحہ و آلات حرب و ضرب تیار ہوں ، ان شاء اللہ وہ سب آیت کے منشاء میں داخل ہیں‘‘۔(تفسیر عثمانی)

اب آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ساری دنیا کے مسلمان مجموعی اعتبار سے اس حکم الٰہی کو کتنا پورا کر رہے ہیں اور کس قدر اپنی جان و مال بے کار مشغلوں اور فالتو کاموں میں لگا رہے ہیں اور ان کے مقابلے میں دشمن کس قدر تیاری اور مستعدی کی حالت میں ہے ۔ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم خداوندی کو کیسے پورا فرمایا تھا ‘ وہ سیرت ِ طیبہ کا ایک روشن باب ہے ‘جو آج ہمیں بہت کچھ سمجھا رہا ہے ۔ کاش ! کہ ہم اُسے سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہو جائیں ۔

آج ہمارا ایک بہت بڑا نفسیاتی مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب بھی ہم کوئی ایسا حکم سنتے ہیں تو سب سے پہلے خود عمل کرنے کے بجائے اور اپنی کوتاہیوں کا احتساب کرنے کے بجائے اُس حکم کو دوسروں پر طنزو تشنیع کے تیر چلانے کا بہانہ بنا لیتے ہیں ۔ جس سے اصلاح کی کوئی صورت پیدا ہونے کے بجائے الٹا مزید فساد ہی جنم لیتا ہے ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں صحیح طریقۂ کار یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے خود عمل کرے اور جہاں تک ممکن ہو اپنی کوتاہی کو دور کرے، پھر دوسرے مسلمانوں کی خیر خواہی کے لیے ان کے سامنے احکامِ الٰہی کو ایسے بیان کرے کہ جس سے اُن کے دلوں میں جذبۂ عمل پیدا ہو اور کسی طرح بھی ان کی تذلیل اور تحقیر نہ ہو ۔

اللہ کریم امت مسلمہ ، بالخصوص شام کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرمائے اور اہل ایمان کو ہر ظالم کے ظلم ، ہر شریر کے شر اور ہر فتنہ باز کے فتنہ سے محفوظ فرمائے۔(آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online