Bismillah

651

۲۷شوال المکرم تا۳ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۳تا۱۹جولائی۲۰۱۸ء

ہمارے آئیڈیل … ہمارے راہنما (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 635 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Hamare Ideal Rahnuma

ہمارے آئیڈیل … ہمارے راہنما

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 635)

اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کے حال پر رحم فرمائے ۔ آج ہمیں جن بحرانوں کا سامنا ہے ، ان میں سے ایک بہت بڑا بحران اس سوال کی شکل میں ہے کہ آخر ہمارے سامنے ، ہمارے مسائل کے حل کیلئے آئیڈیل اور راہنما کون ہے ؟ عالم کفر نے میڈیا کے واسطے سے امت کے جوانوں ، بوڑھوں اور مرد و خواتین سب کے ہی سامنے ایسے لوگوں کو ایک مثالی شخصیت بنا کر پیش کیا ہے ‘ جن کا اگر کوئی کارنامہ ہے تو صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی اسلام سے بغاوت میں گزاری ، اپنی صلاحیتوں سے عالم کفر کو فائدہ پہنچایا ، دنیا کی چند روزہ زندگی کیلئے کچھ عیاشی کا سامان جمع کر لیا اور بس ! اس کے سوا ان کے دامن میں کوئی ایسی چیز نہیں جس پر واقعۃً کوئی مسلمان فخر کر سکے ۔ اکبر الہ آبادی نے اسی سے ملتی جلتی صورت ِ حال پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا :

ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے

بی اے ہوئے ، نوکر ہوئے ، پنشن ملی پھر مر گئے

اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں سورئہ فاتحہ میں ہی ‘ جسے ہر مسلمان روزانہ کئی مرتبہ تلاوت کرتا ہے ‘ یہ دعا سکھائی ہے: اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیہم

ترجمہ : ’’ اے اللہ ! ہمیں سیدھا راستہ دکھا ‘ جو ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر آپ نے انعام فرمایا ہے‘‘۔

یہ دعا خود ہر مسلمان کو یہ بات سمجھا رہی ہے کہ اُسے صرف ایسے ہی لوگوں کو اپنا ’’راہنما‘‘ اور’’ نمونۂ عمل ‘‘ یا آج کی زبان میں ’’ آئیڈیل ‘‘ اور ’’ رول ماڈل‘‘ بنانا چاہیے جو اپنی زندگیوں میں احکاماتِ الٰہی کی پیروی کرتے رہے ہوں اور اس کے نتیجے میں انعامات الٰہی سے سرفراز رہے ہوں ۔ وہ لوگ جو فسق و فجور کی زندگی گزارتے ہیں ‘ خود مسلمانوں کو ہی دکھ پہنچاتے ہیں اور اپنے نظریات کے اعتبار سے گمراہ ہوتے ہیں‘ وہ کبھی بھی اہل ایمان کے راہنما یا آئیڈیل نہیں ہو سکتے ۔

ماہنامہ ’’ المرابطون‘‘ جب اپنے قارئین کی خدمت میں اس سال کی خصوصی اشاعت ’’ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نمبر‘‘  پیش کر رہا ہے تو درحقیقت یہ اسی سوال کا جواب ہے کہ آج کے بھولے بھٹکے مسلمان نوجوان کے سامنے کامیاب راہنما اور آئیڈیل شخصیت کونسی ہو سکتی ہے ‘ اُسے اپنی زندگی کی ترجیحات طے کرتے وقت کن چراغوں سے روشنی حاصل کرنی چاہیے اور وہ کون سے روشن مینار ہیں‘ جو آج اُس کے لیے نشانِ منزل ثابت ہو سکتے ہیں ۔

اس دنیا میں جب بھی شجاعت و بہادری کی داستان لکھی جائے گی ، نا ممکن ہے کہ اُس میں اللہ تعالیٰ کی تلوار ‘ حضرت محمد عربیﷺکے سچے فدائی اور اسلام کے عظیم سپہ سالار سیدنا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا نام نامی اسم گرامی نہ آئے ۔

اللہ تعالیٰ نے جب بھی توفیق دی اور میں نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام سے پہلے کے حالات اور حلقہ ٔ بگوش ِ اسلام ہونے کے بعد کے حالات کا مطالعہ کیا تو ذہن بلا اختیار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کی طرف منتقل ہو گیا ‘ جو صحیح مسلم میں سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے منقول ہے ‘ حدیث ِ پاک کے الفاظ یہ ہیں :

’’الناس معادن کمعادن الذھب والفضۃ

خیا ر ھم فی الجاھیلۃ خیار ھم فی الاسلام اذا فقھوا ‘‘

(لوگ ( معدنیات کی) کانوں کی طرح ہیں‘ جس طرح سونے اور چاندی کی کانیں ہوتی ہیں جو لوگ زمانۂ جاہلیت میں بہترین تھے ، وہ اسلام لانے کے بعد بھی بہترین ثابت ہوئے ‘ جب انہوں نے دین کی سمجھ حاصل کر لی)

بلا شبہ خالدرضی اللہ عنہ فطری طور پر ایک جواں ہمت ، بلند حوصلہ ، عالی ظرف ، پیکر شجاعت اور خطرات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے وصف سے متصف تھے ۔ جب تک اسلام نہیں لائے تھے ، تب بھی جنگوں میں پیش پیش تھے اور اپنے قبیلے کی آنکھوں کا تارا تھے ۔ سخت مشکل حالات میں نظریں آپ کی طرف ہی اٹھتی تھیں اور جب بھی میدان کی قیادت آپ کو سونپی گئی آپ نے کبھی اپنی قوم اور خاندان کو مایوس نہیں کیا ۔ البتہ بزدلوں کی طرح کمزوروں پر ظلم ڈھانے اور نہتے لوگوں پر رعب جمانے میں آپ کی شرکت کا کوئی واقعہ عام طور پر نہیں ملتا ۔

آپ ؓ کے انہی قابل تحسین اوصاف کے پیش نظر ایک مرتبہ پیارے آقاﷺ نے آپ ؓ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے ، آپ کے بھائی ولیدؓ بن الولید کو فرمایا تھا :

’’ مثلہ جھل الاسلام ؟ ولو جعل نکایتہ و جد ہ مع المسلمین علی المشرکین کان خیرا لہ ، ولقد مناہ علی غیرہ ‘‘ (البدایۃ والنہایۃ ، سنۃ ثمان من الہجرۃ النبویۃ ، طریق اسلام خالد بن الولید )

(خالدجیسا شخص بھلا اسلام سے کیسے نا واقف رہ گیا ، اگرانہوں نے اپنی بہادری اور تیزی سے مشرکین کے خلاف مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا ہوتا تو یہ اُن کیلئے بہتر ہوتا اور ہم ان کو دوسرے لوگوں پر ترجیح دیتے )

یہ بلاشبہ رحمت ِ دو عالمﷺ کی نگاہِ انتخاب تھی ، جس نے حضرت خالد رضی اللہ عنہ میں چھپے ہوئے جوہر قابل کو پہچان لیا تھا اور یقینا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بھی آئندہ دور میں ہر طرح اس حسنِ انتخاب کی لاج رکھی اور ہمیشہ اس معیار پر پورے اترے ۔

اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت خالدؓ کی مثال ایک ہیرے کی سی تھی جو نا تراشیدہ ہو اور کسی کو اس کی صحیح قدر و قیمت کا علم نہ ہو ‘ پھراسلام قبول کرنے کے بعد ان کی حالت اُسی ہیرے کی طرح تھی جب اُس کو تراش خراش کے بعد پیش کیا جائے تو اس کی چکا چوند ساری دنیا کی نگاہوں کو خیرہ کر دے ۔ بلاشبہ حضرت خالدؓ کے کارنامے بھی ایسے ہی تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گے ۔

اسلام کے سائے تلے آنے کے بعد حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی صلاحیتوں کو چار چاند لگ گئے ، وہ جو ایک چھوٹے سے قومی دائرے میں بند تھے ‘ اب اسلام کے عالمی برادری کا حصہ بن گئے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ بہت عظیم تھے ، یہ ان کی عظمت کی ایک جھلک ہے کہ دنیا کی دوسپرپاورز اُن کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچیں ‘ وہ اپنے عہدے سے معزول بھی کیے گئے تو اسلام کے ساتھ ان کی غیر مشروط وابستگی میں کوئی فرق نہیں آیا اور آج صدیاں بیت جانے کے باوجود ان کی عسکری حکمت عملی ، عسکری درسگاہوں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔

تاریخ کی کتابوں میں آپ کی جنگی تدابیر اور عسکری مہارت کے جو واقعات لکھے ہیں ان میں سے چند سطریں پڑھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ آپ کس پائے کے جرنیل تھے۔ عین التمر پر مہران بن بہرام کی حکومت تھی ، ارد گرد آباد عرب قبائل تغلب وایاد اس کا ساتھ دے رہے تھے ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی آمد کی خبر ملی تو عرب لیڈر عقہ نے مہران سے کہا ، میں عربوں کے جنگ کرنے کے طریقوں سے واقف ہوں ، مجھے خالد سے نمٹنے دیں ۔ اس نے کچھ پس و پیش کے بعد اجازت دے دی ۔ فوجوں کا آمنا سامنا ہوا ، حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے عقہ کو دیکھا تو اپنے میمنہ و میسرہ کو پیش قدمی سے روک دیا اور خود آگے بڑھے ۔ عقہ فوج کی صفیں درست کرا رہا تھا ، انہوں نے اسے بازئووں میں جکڑ لیا اور قید کر لائے ۔ اس کے بیشتر فوجی بھی حضرت خالد رضی اللہ عنہ کی قید میں آگئے ۔ یوں جنگ عین التمر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گئی ۔ مہران نے فوج کی ہزیمت کی خبر سنی تو قلعہ چھوڑ کر فرار ہوگیا ۔

اسی طرح عراقی مہم میں حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو امیر المومنین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا خط ملتا ہے جس میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کی امدادکے لیے فوراً روانہ ہونے کا فرمان تھا ۔ وہ شام کی طرف کوچ کرنے کا قصد فرماتے ہیں اور عین التمر کی راہ سے جو سب سے قریب راستہ ہے ،حدود شام میں داخل ہونے کی تجویز پیش کرتے ہیں ۔ اس دشوار گزار صحرا کی مشکلات سے واقفیت رکھنے والے حضرت رافع رضی اللہ عنہ حضرت خالد رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیتے ہیں کہ عین التمر کی راہ سے تشریف لے جانے کا قصد ترک کر دیجئے کیونکہ اس خوفناک صحرا میں قدم رکھنا جان بوجھ کر موت کو دعوت دیتا ہے ۔ یہ ایسا راستہ ہے کہ پانچ دن کی منزل میں پانی کا ایک قطرہ بھی کہیں سے دستیاب نہ ہو گا ۔ سواری اور بار برداری کے جانوروں کا ہلاک ہو جانا یقینی ہے ۔ کوئی اور ہوتا تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے اس مشورے کو قبول کر کے قریبی راہ سے جانے کا ارادہ ترک کر دیتا ۔ لیکن حضرت خالد رضی اللہ عنہ کسی مشکل سے گھبرانے کے بجائے اس پر قابو پانے کی تجاویز سوچتے ہیں ۔ آ پ فرماتے ہیں کہ چالیس اونٹوں کو اچھی طرح پانی پلا کر ان کے منہ باندھ دئیے جائیں اور ہر مسلمان اپنی ضرورت کے مطابق پانی ساتھ لے لے ۔ آپ ہر منزل پر دس اونٹ ذبح کراتے ہیں اور ان کے پیٹ سے نکلا ہوا پانی ٹھنڈا کر کے جانوروں کو پلاتے ہوئے موت کی اس وادی کو نہایت کامیابی کے ساتھ عبور کر لیتے ہیں ۔ یہ عزم اور تدبیر کا کتنا بڑا مظاہرہ ہے اس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جنہوں نے عرب کے وسیع ریگستانوں میں پیاس کے سبب ہلاک ہونے والے قافلوں کی ہڈیاں بکھری ہوئی دیکھی ہیںاور جو اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ بڑے سے بڑے بہادر بھی کسی ایسے راستے پر قدم بڑھانے کی جرأت نہیں کر سکتا جس میں پانچ دن تک پانی ملنے کا امکان نہ ہو ۔

بعض لوگ جو مستشرقین کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں سے بہت زیادہ متاثر ہو تے ہیں ‘ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید حضرت خالد بن ولیدؓ کے یہ معرکے بھی آج کی سامراجی کفریہ طاقتوں کی یلغار کی طرح ہوتے تھے حالانکہ ’’ چہ نسبت خاک رابعالم پاک‘‘ کہاں قدسیوں کے لشکر اور کہاں شیطانی افواج ‘ کہاں انسانیت کا بول بالا کرنے والے اور کہاں انسانوں کو جانوروں کی طرح پنجروں بند کرنے والے ۔ دونوں میں بھلا کیا جوڑ اور کیا نسبت ہو سکتی ہے ۔

صحابہ کرامؓ نے اپنے مفتوحہ علاقوں میں جس طرح عدل و انصاف قائم کیا ، اس پر ہمیشہ تاریخ کو ناز رہے گا ، اسی لیے ان مفتوحہ ممالک کے لوگ جوق در جوق اپنی خوشی سے نہ صرف مسلمان ہوئے بلکہ اہل اسلام کے امام ، قائد اور راہنما بھی بنے ۔ آج بھی دنیا بھر کے مسلمان ان کے نام احترام اور فخر سے لینا اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں ۔ اپنی بات کو واضح کرنے کے لیے یہاں ہم صرف ایک مثال پیش کرتے ہیں ۔

جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عراق کے عین التمر نامی علاقے کو فتح کیا تو وہاں پر ایک چرچ تھا ، جس میں چالیس طلباء انجیل پڑھتے اور پڑھاتے تھے ، ان عیسائی طلباء میں سیرین ، یسار اور نصیر نامی تین طالب علم تھے ۔مسلمانوں کے جنگی قوانین کے مطابق انہیں قتل نہیں کیا گیا بلکہ زندہ رہنے دیا گیا ۔ یہ لوگ جب اسلامی معاشرے کا حصہ بنے تو ان کی اولادوں میں سے کیسی نامور شخصیتوں نے جنم لیا ۔

سیرین نے اسلام قبول کیا اور ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا ، جو بڑے تابعین میں سے تھے اور تفسیر ، حدیث ، فقہ اور خوابوں کی تعبیر کے امام بنے ۔ دنیا انہیں حضرت محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ( المتوفی ۱۱۰ھ ) کے نام سے جانتی ہے ۔

دوسرے شخص یسار نے بھی اسلام قبول کیا اور ان کے ہاں ایک لڑکا اسحاق پیدا ہوا ، انہی اسحاق کے صاحبزادے محمد ہیں جن کو دنیا نے سیرت اور مغازی کے ایک ماہر عالم ’’ محمد بن اسحق‘‘ کی صورت میں جانا ۔ سیرت ابن اسحاق ، انہی کی کتاب ہے ، جو سیرت پر مستند ترین مأخذ سمجھی جاتی ہے ۔

تیسرے شخص نصیر نے بھی اسلام قبول کیا ۔ ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، جن کو دنیا نے عظیم مسلمان جرنیل موسیٰ بن نصیر فاتح اندلس اور فاتح شمالی افریقہ کے نام سے پہچانا۔

ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسی عظیم شخصیات ہی ہیں جو آج کے مسلمان نوجوان کے لیے کامل اور مکمل راہنما بن سکتی ہیں ورنہ ہر طرف گمراہی کے اندھیرے ہیں اور گناہوں کی دلدل ہے ، جس میں ایک دفعہ بھٹکنے اور دھنسنے کے بعد نجات ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور ہے ۔ افسوس کہ آج کا مسلمان نوجوان کرکٹرز ، ایکٹرز اور نہ جانے کن کن کے نام جانتا ہے لیکن نہیں جانتا تو اُنہی عظیم لوگوں کے نام اور کام کو نہیں جانتا ، جن کے نقش قدم پر چلنا ہی اس کے لیے کامیابی کی ضمانت ہے ۔ کسی شاعر نے بالکل صحیح کہا تھا :

جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا دیا تھا تو نے

وہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی

اللہ کریم سے دعا ہے کہ ادارہ ’’المرابطون‘‘ کی سیدنا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی مناسبت سے یہ محنت قبولیت و مقبولیت کا شرف حاصل کرے اور امت مسلمہ کی بیداری کا ذریعہ بنے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online