Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

عالمی تہذیبی جنگ اور مسلمان گھرانے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 636 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Almi Tehzib

عالمی تہذیبی جنگ اور مسلمان گھرانے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 636)

شاید کوئی بھولا بھالا انسان اس کو محض اتفاق سمجھتا ہو لیکن درحقیقت یہ ایک بہت بڑی عالمی تہذیبی جنگ کا اہم ترین حصہ ہے ۔ وطن عزیز پاکستان اور مملکت سعودی عرب میں اچانک بے پردہ خواتین کا سرِبازار نکل آنا اور زندگی کے ہر شعبے میں بے حیائی کی لہر کا نمودار ہو جانا ‘ اُس ’’عالمگیریت  ‘‘ کے پروگرام کی تکمیل کی طرف اہم قدم ہے ‘ جس کو پانے کیلئے عالمی طاقتیں برسوں سے جتن کر رہی ہیں ۔

عالمگیریت جسے عربی میں ’’العولمۃ ‘‘ اور انگریزی میں ’’ گلوبلائزیشن ‘‘ کہتے ہیں ‘ دراصل ساری دنیا پر زبردستی مسلط کیا جانے والا ایسا پروگرام ہے ، جس کا اصل ہدف صرف اسلام اور مسلمان ہیں ۔ اس پروگرام کو ترتیب دینے والوں نے اس بات کا خاص خیال رکھا ہے کہ میڈیا کے پروپیگنڈے کے ذریعے اس کے اہداف کو اتنا خوبصورت ، مزین اور دلربا بنا کر پیش کیا جائے کہ کسی مرحلے پر بھی اس میں شامل کسی فرد کو یہ اندازہ نہ ہو سکے کہ اصل کھیل کیا ہے ‘ پسِ پردہ کھلاڑی کون ہیں اور ان کا طریقۂ واردات کیا ہے ؟

آپ خود اندازہ لگائیں کہ کیا مسلمانوں کی دینی ‘ اخلاقی اور سماجی تعلیمات کی رو سے کبھی یہ ممکن تھا کہ شام اور برما میں تو مسلمانوں کے خون کی نہریں بہہ رہی ہوں‘ دنیا بھر کی طاقتیں مسلمانوں کو زندہ کچل دینے کیلئے میدان میں ہوں اور مسلم ممالک میں حکومتی چھری تلے کرکٹ میچ ، میوزیکل نائٹس اور رنگا رنگ اخلاق باختہ تفریحی پروگرام منعقد ہو رہے ہوں ۔

عالمگیریت یا گلوبلائزیشن کے بنیادی طور پر تین میدان ہیں:

(۱)… سیاسی عالمگیریت : دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف برپا کی گئی جنگیں اسی کا حصہ ہیں ۔

(۲)…اقتصادی عالمگیریت :عالمی تجارتی ادارے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کا فروغ اسی ہدف کو حاصل کرنے کے اہم ذرائع ہیں ۔

(۳)… تہذیبی و معاشرتی عالمگیریت :اس کا مقصد دنیا بھر سے اسلامی تہذیب سمیت تمام تہذیبیں ختم کر کے صرف مادر پدر آزاد ، عریاں اور اخلاق و کردار سے محروم ، بے حیائی اور مقدس رشتوں کی پامالی پر مبنی یورپین اور امریکی تہذیب سب پر مسلط کرنا ہے ۔

معاشرے کی تبدیلی کیلئے ’’ خاندانی نظام‘‘ کی تباہی ضروری ہے اور اس کا آسان راستہ یہ ہے کہ عورت کو یہ باور کروایا جائے کہ وہ آج سے پہلے مجبوری ‘ محکومی اور مظلومیت کی زندگی گزار رہی تھی اور اب اُسے ’’آزادی‘‘ کی ضرورت ہے ۔ یہی وہ آزادی کا دلفریب خواب اور خوشنما نعرہ ہے ‘ جس کے ذریعے مسلم ممالک میں پیسے سے خریدی گئیں ، کئی خواتین مسلسل اسلامی احکام مثلاً نکاح ‘ پردہ وغیرہ کے خلاف صف آرا ء ہیں ۔ ان میں سے اکثریت ایسی ہے کہ جنہیں معلوم نہیں کہ یورپین عورت اس وقت کس ظلم اور بربادی کا سامنا کر رہی ہے اور اس کی زندگی کے شب و روز کتنے تلخ ہو چکے ہیں ۔ یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر ان مسلمان زادیوں کو صرف اس قیمت کا احساس ہو جائے جو یورپ میں خواتین نے اپنی مصنوعی اور نام نہاد آزادی کی ادا کی ہے تو یہ کبھی ایسی احمقانہ باتیں نہ کرتیں جو روزانہ ان سے منسوب میڈیا کا حصہ بن رہی ہیں۔

لندن کے مشہور اخبار ٹائمز نے اپنی ۹؍نومبر ۱۹۹۳ء کی اشاعت میں ایک رپورٹ شائع کی تھی جس کا عنوان یہ ہے’’مغربی میڈیا کی معاندانہ روش کے باوجود اسلام مغربی دلوں کو فتح کررہا ہے‘‘ اس رپورٹ میں کئی نو مسلم یورپین خواتین کے تاثرات شامل ہیں جن میں قدر مشترک یہ ہے کہ وہ اپنے خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ سے دل برداشتہ ہو کر اسلام کی طرف متوجہ ہوئیں جو مرد و عورت کیلئے الگ الگ دائرہ کار تجویز کرتا ہے، یورپ عورت کی تذلیل کرتا ہے۔ یہاں صرف اس خاتون کی قدر ہے جو زیادہ سے زیادہ مردوںکی نقالی کر سکے۔ مغرب کی عورتیں اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کیلئے غیر اخلاقی پیشے اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ مسئلہ ان لوگوں کیلئے ہرگز اہم نہیں جو دنیا کے چند حقیر ٹکوں کی خاطر اپنا مذہب‘اپنی تہذیب‘ اپنی شناخت ‘ اپنے رشتے ‘ اپنا سکون اور اپنا خاندان سب کچھ بیچ دینا چاہتے ہیں ‘بلکہ یہ پریشانی صرف ان گھرانوں کی ہے جو آج بھی ہر قیمت پر اپنا رخ لندن اور واشنگٹن کے بجائے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرف رکھنا چاہتے ہیں ۔ جو جانتے ہیں کہ دنیا جو ہمارے مقدر میں لکھی ہے‘ وہ بہر حال مل کر رہے گی لیکن اگر ایمان اور دین ہاتھ سے نکل گیا تو کچھ بھی باقی نہیں بچے گا ۔

ایسے گھرانوں کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنے سامنے امہات المومنین رضی اللہ عنہن ، بناتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم او رتاریخ اسلام کی عظیم خواتین کا نمونۂ عمل رکھیں ۔ انہی کے کردار سے اپنے لیے روشنی حاصل کریں اور انہی کے نقش قدم میں اپنے لیے کامیابی کا راستہ تلاش کریں ۔

امام الانبیائﷺکی صاحبزادی ،کاشانۂ علی المرتضیٰؓ کی رونق ، حسنین کریمین ؓ کی والدہ ماجدہ اور جنتی عورتوں کی سردار حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کون ہو گا ‘جس کی پیروی کر کے دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا دنیا کی کامیاب ترین خاتون تھیں، ان کی پاکیزہ سیرت کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں :

دنیا والے یہ سمجھتے ہیں کہ بہترین عورت وہ ہے جو حسن و جمال والی ہو ، زیب و زینت اور میک اپ کی دلدادہ ہو ، محفلوں اور بازاروں اور تفریح گاہوں میں آنے جانے میں اسے کوئی عارنہ ہو ، ایسی عورتوں کو آج پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس معاملہ میں خواتین ایک دوسرے پر سبقت کرتی نظر آتی ہیں لیکن خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا کردار اس بارے میں کیا ہے اس کا انداز ہ درج ذیل واقعہ سے ہو سکتا ہے:

’’حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی مجلس میں یہ ذکر چل رہا تھا کہ عورت کے لیے کون سی بات سب سے اچھی ہے ؟ اہل مجلس خاموش رہے ، بعد میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ گھر تشریف لے گئے اور جا کر سیدہ فاطمہؓ سے پوچھا کہ آج مجلسِ نبوت میں یہ ذکر چل رہاتھا کہ کون سی عورت سب سے اچھی ہے؟ اس کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ اس پر حضرت فاطمہؓ نے فرمایا :

’’ عورت کی سب سے اچھی صفت یہ ہے کہ وہ نہ خود غیر مرد کو دیکھے اور نہ اس پر کسی غیر مرد کی نظرپڑے‘‘۔ (معارف القرآن ج ۷ ،ص ۲۱۶)

یہ بات حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر نقل کر دی تو آپﷺ نے اس کی تصدیق کی اور فرمایا: فاطمۃ بضعۃ منی

یعنی فاطمہ تو میرے بدن کا ٹکڑا ہے(یعنی انہوں نے جو کہا وہ گویا میری ہی بات ہے)

نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے رخصتی کے وقت گھریلو ضروریات کی چند اشیاء ( چمڑے کا بستر ، مشکیزہ ، مٹکے اور چکی) کا انتظام فرمادیا تھا ،چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے ہاتھ سے چکی سے آٹا پیستی تھیں ، آٹا گوندھتی تھیں اور روٹی پکاتی تھیں اور گھر کا دیگر کام کاج بھی خود ہی انجام دیتی تھیں جس سے ہاتھ میں گٹے پڑ گئے تھے ، ایک موقع پر آپ کی طرف سے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں خادم عطاء فرمانے کی درخواست کی گئی تو نبی اکرمﷺنے خادم دینے کی بجائے اپنی چہیتی بیٹی کو تسبیح و تحمید کی تلقین کی جس کو ’’ تسبیحِ فاطمی ‘‘ کہا جاتا ہے ۔

سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جو اہل بیت میں نبی اکرمﷺ کی سب سے زیادہ چہیتی تھیں میرے نکاح میں تھیں ، چکی سے آٹا پیسنے سے ان کے ہاتھوں میں نشان پڑ گئے تھے اور مشکیزہ سے پانی نکالنے سے ان کے سینے پر گٹے پڑ گئے تھے اور گھر صفائی ستھرائی کی وجہ سے کپڑے گرد آلود اور مٹیالے ہو گئے تھے اور چولہے پر کھانا پکانے کی وجہ سے کپڑے عیب دار ہوگئے تھے ، الغرض آپ پر گھریلو کاموں کا بڑا بوجھ تھا ۔

 ایک مرتبہ ہمیں پتہ چلا کہ نبی اکرمﷺ کے پاس کچھ غلام باندیاں آئی ہیں تو میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آمادہ کیا کہ وہ پیغمبرﷺ کے پاس جا کر اپنے لیے کسی خادم کی درخواست کریں جو ان کے کام کاج میں معاون بن سکے ، چنانچہ حضرت فاطمہؓ اسی غرض سے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں مگر وہاں کچھ حضرات اور بیٹھے تھے اس لیے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا شرما کر واپس آگئیں ۔

پیغمبراسلامﷺ کو معلوم ہوا کہ آپ آئی تھیں اور واپس چلی گئیں تو خود شام کو حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے، پھر پیغمبراسلامﷺ نے فرمایا کہ: ’’ تم ہمارے گھر کس ضرورت سے آئی تھیں؟‘‘ دو مرتبہ پوچھنے کے بعد بھی حضرت فاطمہؓ نے جواب نہ دیا تو میں نے ( یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بتاتا ہوں ، بات یہ ہے کہ چکی پیسنے سے ، مشکیزہ سے پانی لینے سے ان کے بدن پر نشان پڑ گئے ہیں اور گھر کی صفائی ستھرائی اور چولہا جلانے سے کپڑے خراب ہو گئے ہیں ، ہمیں پتہ چلا تھا کہ آپ ﷺ کے پاس کچھ خادم آئے ہوئے ہیں تو میں نے ہی انہیں آمادہ کیا تھا کہ وہ آپ کے پاس جا کر خادم کی درخواست کریں اس لیے یہ آپ کے پاس گئی تھیں تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

کیا میں تمہاری درخواست سے بہتر بات کی طرف رہنمائی نہ کروں؟ وہ یہ ہے کہ جب تم سونے کے لیے بستر پر لیٹو تو ۳۳مرتبہ سبحان اللّٰہ ، ۳۳مرتبہ الحمدللّٰہ اور ۳۴ مرتبہ اللّٰہ اکبر پڑھ لیا کرو ، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہو گا ۔  (ابو دائود شریف )

اسی لیے ان تسبیحات کو عام طور پر ’’تسبیحاتِ فاطمی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ دنیا میں زندگی کا پہیہ گھمانے کے لیے سب ہی تھکتے ہیں اور تکلیف اٹھاتے ہیں خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ،لیکن اگر خواتین یہی گھریلو کام نیک نیتی سے کریں تو یہ اُن کے لیے عبادت بن جائے اور ان تسبیحات کے ذریعے وہ ایسا دلی سکون پا سکتی ہیں جو دنیا بھر کی کسی کرنسی سے بھی نہیں خریدا جا سکتا ۔

بہرحال!یہ کردار اور عمل ہے اس ذات ِ عالی کا جو سید الاولین و الآخرین حضرت محمدﷺ کی سب سے چہیتی بیٹی ہیں اور جن کو دنیا ہی میں ’’ خاتونِ جنت ‘‘ ہونے کی بشارت ملی ہے ۔

خاتونِ جنت، جگر گوشہ رسول حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عفت مآبی اور پاکبازی کا کچھ اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب آپ مرض الوفات میں تھیں اور زندگی سے بالکل مایوس ہو چکی تھیں تو آپ نے اپنی تیماردار حضرت اسماء بنت عمیسؓ سے نہایت حسرت بھرے انداز میں فرمایا کہ:

 ’’ جب میرا انتقال ہو جائے گا تو میری لاش کھلے طور پر چار پائی پر رکھ کر لے جائی جائے گی (اور اجنبی مردوں کی نظریں میرے کفن پر پڑیں گی) اسے سوچ کر مجھے شرم آرہی ہے‘‘ ۔

 یہ سن کر حضرت اسماء ؓ نے فرمایا کہ میں آپ کو ایسا جنازہ بنا کر دکھاتی ہوں جو حبشہ کی عورتوں کے لیے بنایا جاتا ہے تو حضرت فاطمہؓ نے فرمایا کہ دکھلائو چنانچہ حضرت اسمائؓ نے چند تازہ ٹہنیاں منگوائیں اور ان سے ڈنڈیاں نکال کر انہیں چارپائی کے اوپر اس طرح فٹ کر دیا کہ اوپر سے چادر ڈالنے پر اندر کے جسم کا پتہ نہ چل سکے ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس طرح کے جنازے کے انداز کو دیکھ کر اطمینان کا سانس لیا اور مسکرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا حالانکہ آپ کو پیغمبر علیہ السلام کی وفات کے بعد کبھی مسکراتے نہیں دیکھا گیا تھا،چنانچہ حضرت فاطمہؓ کی وفات پر اسی انداز کا جنازہ بنایا گیا اوررات ہی میں آپ کی تدفین کر دی گئی ۔ رضی اللّٰہ عنہا وارضاھا(نساء فی ظل رسول اللہ ﷺ: ص ۳۴۸۔۳۴۹)

آج مسلمان گھرانوں اور تعلیمی اداروں کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ وہ ایک مسلمان بچی کو یہ سمجھائیں کہ عزت و عافیت یورپ کی جھوٹی آزادی سے ہرگز حاصل نہ ہو گی بلکہ مسلمان عورت کو عزت ان ہی اخلاق و کردار پاکیزگی اور پاکدامنی سے ملے گی جنہیں اپنا کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو عزت ملی ، ازواجِ مطہرات کو عظمت کا مقام ملا اور حضرات صحابیاتؓ  کا نام دنیا اور آخرت میں روشن ہوا صرف یہی پاکیزہ کردار عورت کی عزت کا سبب ہے اس کے علاوہ کسی راستے میں عورت کو نہ عزت ملی ہے اور نہ مل سکتی ہے ۔ عالمی تہذیبی جنگ کے اس معرکے میں ہم صرف اسی طرح کامیاب ہو سکتے ہیں ورنہ یورپ سے آیا ہوا بے حیائی کا سیلاب صرف ہمارے دروازوں پر دستک نہیں دے رہا بلکہ گھر کے اندر داخل ہو چکا ہے ۔

اللہ کریم ہر قسم کے شرور و فتن سے ہماری اور پوری امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online