Bismillah

672

۶تا۱۲ربیع الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۴تا۲۰دسمبر۲۰۱۸ء

امتحان سچے لوگوں کا ہی ہوتا ہے (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 637 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Imtehan Sache logon ka

امتحان سچے لوگوں کا ہی ہوتا ہے

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 637)

ماہِ رجب شروع ہوچکا ہے ، یہ اُن مہینوں میں سے ہے جن کو اسلام سے پہلے بھی عزت و احترام کا درجہ حاصل تھا اور اسلام نے بھی اسے ’’ اشھرحرم‘‘ میں سے قرار دیا۔ اس مہینے کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا مانگا کرتے تھے:

اللھم بارک لنا فی رجب و شعبان و بلغنا رمضان ( مسند احمد ،روایت انس بن مالکؓ)

( اے اللہ ! ہمارے لیے رجب اور شعبان کے مہینوں کو بابرکت بنا دیجئے اور ہمیں خیریت کے ساتھ رمضان تک پہنچا دیجئے)

ماہِ رجب میں لوگوں نے اپنی طرف سے مختلف نمازیں‘ روزے اور دیگر اعمال و فضائل مقرر کر لیے ہیں‘ جن کے بارے میں آئمہ محققین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اعمال ‘احادیث مبارکہ سے ثابت نہیں ہیں ۔

اسلامی تاریخ اور سیرت ِ طیبہ کا ایک اہم واقعہ غزوئہ تبوک ہے ، جو طائف کے محاصرہ کے چھ ماہ بعد رجب کے مہینے‘ ۹سنہ ہجری میں پیش آیا ۔ قرآن مجید کی سورئہ توبہ کا بہت بڑا حصہ اسی پُرمشقت غزوہ کے متعلق ہے ۔ اس غزوہ کی تفصیلات تو بہت زیادہ ہیں لیکن خاص طور پر حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اور ان کے دو ساتھیوں کا واقعہ بہت ہی بصیرت افروز ‘ سبق آموز اور دلچسپ ہے ۔

یہ واقعہ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں بھی موجود ہے ۔ ہم اس کا خلاصہ اور مفہوم آسان الفاظ میں یہاں پیش کر رہے ہیں تاکہ اس میں ہمارے لیے جو اسباق پوشیدہ ہیں‘ ہم ان کو صحیح طرح سمجھ کر اُن سے فائدہ اٹھا سکیں۔

 حضرت کعب بن مالک ؓ جو بہت بوڑھے ہو چکے ہیں ، ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں اور نظر جاتی رہی ہے ، جوانی کی یادیں تازہ کر رہے ہیں اور غزوئہ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ سامعین کے گوش گزار کر رہے ہیں ۔ آئیے ان کی زبانی یہ دلچسپ حکایت سنتے ہیں :

’’ یہ رسول اللہ ﷺ کا آخری غزوہ تھا ، آپﷺ نے لوگوں میں کوچ کا اعلان کر دیا ۔ ارادہ یہ تھا کہ لوگ جنگ کی تیاری کریں ۔ آپﷺ نے ان سے لشکر کے سامان کی فراہمی کے لیے قابلِ فروخت اشیاء بھی جمع کر لیں ۔ لشکر کی تعداد تیس ہزار تھی ۔ سخت گرمی کا موسم تھا ۔ فصلیںپک گئی تھیں اور کٹائی کے لیے تیار تھیں ۔ سفر بھی دور کا تھا اور دشمن بھی زبردست اور قوی ۔ مسلمانوں کی تعداد خاصی تھی لیکن ان کے ناموں کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا میں ان دنوں بہت آسودہ حال تھا ۔ میرے پاس دو سواریاں تھیں اور میں اپنے زعم میں جہاد کے لیے مکمل تیاری کی حالت میں تھا ۔ دل میں فصل پکنے کی خوشی ، جوش اور ولولہ تھا ۔ کھڑی فصل اور پختہ پھل چھوڑ کر جانا قیامت معلوم ہوتا تھا۔ امنگوں کی ولولہ انگیز ی کا یہی عالم تھا کہ ایک صبح رسول اللہ ﷺ روانہ ہو گئے ۔ میں نے دل میں کہا کہ کل بازار جائوں گا اور اپنا سامان خرید کر ان سے جاملوں گا ۔ اگلے دن بازار گیا ۔ وہاں ایک مسئلہ بن گیا اور میں سامان خریدے بغیر واپس آگیا ۔ میں نے سوچا کل ان شاء اللہ پھر بازار جائوں گا اور بعد میں لشکر سے جاملوں گا ۔ لیکن پھر کوئی رکاوٹ پیش آگئی اور میں اپنے ارادے پر عمل نہ کرسکا ۔ میں نے کہا ان شاء اللہ کل جائوں گا ۔ اسی کوشش و پنج میں کئی دن گزر گئے اور میں اسلامی لشکر سے پیچھے رہ گیا۔ اب میں بازاروں میں چلتا پھرتا اور مدینے میں گھومتا تو مجھے ( پیچھے رہ جانے والوں میں )دوہی قسم کے آدمی نظر آتے ، وہ جنہیں نفاق نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے یا وہ جنہیں اللہ نے معذور قرار دیا ہے ۔ اُدھر رسول اللہ ﷺ اپنے تیس ہزار اصحابؓ کے ہمراہ تبوک پہنچے تو لشکر کے سر کردہ افراد پر نظر ڈالی ۔ بیعتِ عقبہ میں حاضر ہونے والا ایک مردِ صالح آپ کو دکھائی نہیں دیا ۔ آپﷺ نے دریافت کیا : ’’ کعب ؓبن مالک کیا ہوئے ؟‘‘

ایک آدمی نے جواب دیا : ’’ اے اللہ کے رسول ! انہیں ان کی دونوں چادروں (کی خوبصورتی) اور اپنے پہلوئوں پر فاخرانہ نگاہ نے روک لیا ہے ۔ ‘‘

اس پر حضرت معاذ بن جبل ؓ نے کہا :’’ آپ نے غلط کہا۔ اے اللہ کے نبی ! واللہ ! ہم تو یہی جانتے ہیں کہ وہ بھلے آدمی ہیں ۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ معاذ بن جبل ؓ کا جواب سن کر خاموش رہے ۔

غزوئہ تبوک اختتام کو پہنچا اور مسلمانوں کی واپسی کا نقارہ بجا تو میں سوچنے لگا کہ ایسا کیا طریقہ ہو کہ میں رسول اللہ ﷺ کی ناراضی سے بچ جائوں ۔ اس سلسلے میں  میں نے خاندان کے سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد سے مشورہ بھی کیا ۔

مسلمان مدینہ پہنچ گئے ۔ اب میں نے سمجھ لیا کہ سچ کے سوا کسی چیز سے نجات ملنے والی نہیں۔ رسول اللہﷺ مدینہ میں داخل ہوئے ۔ سب سے پہلے مسجد گئے۔ دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر لوگوں کی خاطر مسجد ہی میں بیٹھ گئے ۔ پیچھے رہ جانے والے آتے ، عذر بیان کرتے ، قسم کھاتے ، رسول اللہ ﷺ ان کا ظاہر قبول کرتے اور باطن اللہ کے سپرد کر کے ان کے لیے مغفرت کی دعاء کر دیتے تھے ۔

میں بھی آپﷺ کے پاس مسجد میں آیا اور سلام کیا۔ رسول اللہ ﷺ مجھے دیکھ کر اس آدمی کی طرح مسکرائے جو سخت غصے میں ہو ۔ آپ ﷺ نے پوچھا :

’’ آپ کیوں پیچھے رہ گئے ؟ آپ نے تو سواری بھی خرید رکھی تھی ؟‘‘

میں نے جواب دیا :’’ جی ہاں۔‘‘ 

’’ پھر پیچھے کیوں رہ گئے ؟‘‘

رسول اللہ ﷺ کے سوال میں رنج و غم اور خفگی کے آثار نمایاں تھے ۔ میں کہنے لگا :’’ اے اللہ کے رسول ! میں آپﷺ کے علاوہ اہلِ دنیا میں سے کسی اور کے پاس بیٹھتا تو واللہ آپ دیکھتے کہ میں کوئی نہ کوئی بہانہ کر کے اس کی ناراضی سے بچ جاتا ۔ اللہ نے مجھے بحث و تکرار کی خصوصی صلاحیت سے نوازا ہے لیکن واللہ !میں جانتا ہوں کہ آج میں نے آپﷺ کو جھوٹ بول کر راضی کر لیا تو جلد ہی میرا پول کھل جائے گا اور اللہ آپﷺ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر میں سچ کہہ دوں تو وقتی طور پر آپﷺ ضرور ناراض ہو ں گے لیکن امید ہے کہ یوں اللہ میرا گناہ معاف کر دے گا۔ اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا کوئی عذر نہیں ۔ واللہ ! میں کبھی اتنا قوی اور آسودہ حال نہیں رہا جتنا اب ہوں ۔ ‘‘

یہ کہہ کر میں خاموش ہو گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف دیکھا اور فرمایا : ’’ اِنہوں نے سچ کہا ہے ۔ ‘‘

پھر مجھ سے مخاطب ہوئے اور فرمایا : ’’ آپ چلے جائیں ، یہاں تک کہ اللہ آپ کے متعلق کوئی فیصلہ کر دے ۔ ‘‘

میں بہت غمگین ہوا اور بوجھل قدموں سے مسجد سے باہر آگیا ۔ میری قوم نے یہ صورتِ حال دیکھی تو بعض افراد مجھے ملامت کرنے اور کہنے لگے : ’’ واللہ ! آج سے پہلے آپ نے کبھی ایسی غلطی نہیں کی ۔ آپ شاعر آدمی ہیں۔ لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے بڑے بڑے عذر تراشے ۔ آپ بھی کوئی بہانہ کر دیتے ۔ اللہ کے رسول ﷺ آپ کے لیے بھی مغفرت کی دعاء کرتے اور اللہ آپ کو معاف کر دیتا ۔ ‘‘

حضرت کعبؓ کہتے ہیں :’’ وہ مجھے سر زنش کرتے رہے حتیٰ کہ میں نے ارادہ کر لیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس جائوں اور اپنا بیان بدل دوں ۔ ‘‘

پھر میں نے پوچھا : ’’ کسی اور سے بھی یہی کہا گیا ہے ؟‘‘ انہوں نے بتایا :’’ ہاں ! دو اور آدمیوں نے بھی آپ کی طرح سچ بولا اور ان سے بھی وہی کہا گیا جو آپ سے کہا گیا ہے ۔ میں نے پوچھا :’’ کون ہیں وہ ؟‘‘ 

’’ مرارہ بن ربیعؓ اور ہلال بن امیہؓ ۔ ‘‘ انہوں نے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو بدر میں شامل تھے اور جن کی ذات میرے لیے نمونہ تھی۔میں نے کہا :’’ واللہ ! میں اس سلسلے میں دوبارہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بالکل نہیں جائوں گا اور نہ اپنا بیان بدلوں گا۔ ‘‘ اس کے بعد کعب ہمت ہار کر گھر بیٹھ گئے۔ چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو کعب اور اُن کے دونوں ساتھیوں سے بات کرنے کی ممانعت کر دی ۔

حضرت کعبؓ کہتے ہیں :’’ اس پر لوگ ہم سے اجتناب کرنے لگے ۔ وہ ہمارے لیے اجنبی ہو گئے ۔ اب میںکبھی کبھی بازار جانے لگا لیکن مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا ۔ لوگوں کے چہرے بدل گئے ۔ یہ وہ چہرے نہیں تھے جن سے ہم واقف تھے ۔ درو دیوار کاٹ کھانے کو دوڑتے ۔ یہ وہ درودیوار نہیں تھے جنہیں ہم پہچانتے تھے، زمین ہمارے لیے بیگانہ ہو گئی ۔ یہ وہ زمین نہیں تھی جس سے ہم شناسا تھے ۔

میرے دونوں ساتھی تو گھروں میں پڑے دن رات روتے رہتے تھے ۔ اپنے سر باہر نہ نکالتے اور راہبوں کی طرح پُر مشقت عبادت کرتے ۔ میں جوان اور مضبوط آدمی تھا ۔ گھر سے نکلتا ، مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھتا اور بازاروں میں گھومتا پھرتا تھا ۔ مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا ۔ مسجد جاتا تو نبی کریم ﷺ کے قریب آکر آپ کو سلام کرتا ۔ دل میں سوچتا کہ اللہ کے رسول نے میرے سلام کے جواب میں لب ہلائے یا نہیں ۔ پھر میں آپ کے قریب نماز پڑھتا اور کن اکھیوں سے دیکھتا رہتا ۔ میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو رسول اللہﷺ مجھے دیکھتے اور جب میں دیکھتا تو آپﷺ منہ پھیرلیتے۔

یونہی گردشِ شام و سحر جاری رہی کہ ایک اور آزمائش نے سر اٹھایا ۔حضرت کعبؓ اپنی قوم کے معزز آدمی اور فصیح و بلیغ شاعر تھے ۔ آس پاس کے بادشاہوں کو اُن کے اشعار پہنچتے اور وہ اس شاعر سے ملنے کی تمنا کرتے ۔ ایک دن کعب بازار میںگھوم رہے تھے کہ ایک نصرانی جوشام سے آیاتھا،پوچھتا پھرتاتھا:’’ مجھے حضرت  کعبؓ بن مالک کا پتا کون بتائے گا ؟‘‘ لوگوں نے کعب ؓکی طرف اشارہ کر کے اسے بتایا ۔ وہ حضرت  کعب ؓکے پاس آیا اور شاہِ غسان کا خط انہیں دیا ۔ کعب نے خط کھولا ۔ اس میں لکھا ہوا تھا :

’’ اما بعد! کعب ؓبن مالک! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے صاحب نے بے وفائی کی ہے اور تمہیں اپنے سے دور کر دیا ہے ۔ اللہ نے تمہیں ذلت کے گھر میں رہنے اور ضائع ہونے کے لیے نہیں بنایا ۔ ہمارے پاس آجائو ، ہم تمہاری غم خواری کریںگے ۔ ‘‘ حضرت کعب ؓنے خط پڑھا اور کہا :’’ انا للّٰہ وانا الیہ راجعوناہل ِ کفر میری طمع کرنے لگے ہیں ، یہ ایک اور آزمائش ہے ۔ ‘‘ پھر فوراً خط تنور میں جا پھینکا اور بادشاہ کی پیش کش پر بالکل دھیان نہیں دیا ۔

حضرت کعب ؓکے لیے دربارِ شاہی کا دروازہ کھلا ۔ رئوسائے عالم انہیں اپنا مصاحب بنا کر اعزاز بخشنا چاہتے ہیں ۔ مدینہ میں بسنے والے چہروں کے تیور بدل چکے ہیں۔ کعبؓ سلام کرتے ہیں تو جواب نہیں دیا جاتا ۔ سوال کرتے ہیں تو سنا نہیں جاتا ۔ اس کے باوجود انہوں نے کافروں کی طرف التفات نہیں کیا ۔ شیطان انہیں ڈگمگا دینے اور خواہش کا بندہ بنانے میں ناکام رہا ۔ انہوں نے شاہِ غسان کا خط آگ میں ڈال دیا ۔ دن پر دن گزرتے رہے ۔ پورا ایک مہینہ بیت گیا ۔ کعب ؓاسی حال میں رہے۔ گھیرا تنگ سے تنگ ہوتا جا رہا تھا ۔ نہ تو رسول اللہ ﷺ انہیں معاف کر رہے تھے اور نہ وحی ہی کوئی فیصلہ دے رہی تھی ۔ چالیس دن پورے ہوئے تو نبی ﷺ کا قاصد کعب کے ہاں آتا اور دروازہ کھٹکھٹا تا ہے ۔ کعب جلدی باہر آتے ہیں کہ شاید آسانی کی خبر ہو ۔ قاصد کہتا ہے: ’’ رسول اللہ ﷺ آپ کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہو جائیں ۔ ‘‘

کعب ؓنے پوچھا :’’ طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟‘‘ اس نے کہا : ’’ نہیں ، لیکن علیحدہ رہیں اور اس کے قریب نہ جائیں ۔ ‘‘ حضرت کعب  ؓفوراً بیوی کے پاس گئے اور کہا :’’ اپنے گھر چلی جائو اور اُن کے ہاں رہو یہاں تک کہ اللہ اس معاملے کا فیصلہ کر دے ۔ ‘‘

رسول اللہﷺ نے دیگردونوںساتھیوںکی طرف بھی یہی پیغام بھیجا ۔ حضرت ہلال بن امیہؓ کی اہلیہ نبی کریم ﷺ کے ہاں آئیں اور عرض کی :’’ اے اللہ کے رسول! ہلال بن امیہ بوڑھے اور کمزور ہو چکے ہیں ۔ آپ ﷺمجھے اجازت دیتے ہیں کہ اُن کی خدمت کرتی رہوں ؟‘‘

فرمایا : ’’ ہاں ! لیکن وہ آپ کے قریب نہ آئیں ۔ ‘‘ وہ کہنے لگیں :’’ اے اللہ کے نبی ! واللہ ! وہ تو حرکت کرنے سے عاجز اور نہایت افسردہ ہیں۔جب سے یہ معاملہ پیش آیا ہے ، دن رات روتے رہتے ہیں ۔ ‘‘

حضر ت کعب ؓکے لیے ایک ایک دن قیامت کا تھا  نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ اپنے ایمان کے متعلق فکر مند ہو گئے۔ وہ مسلمانوں سے بات کرتے لیکن مسلمان ان سے کتراتے ۔ رسول اللہ ﷺ کو سلام کرتے تو جواب نہ ملتا ۔ آخر وہ کہاں جاتے اور کس سے مشورہ کرتے ؟

حضرت کعب ؓکہتے ہیںـ’’ آزمائش نے طوالت اختیار کی تو میں اپنے چچا زاد ابو قتادہؓ کے ہاں گیا جن سے مجھے بے پناہ محبت تھی ۔ وہ اپنے باغ میں تھے ۔ میں باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر گیا اور انہیں سلام کیا ۔ اللہ کی قسم! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا ۔

میں نے پوچھا :’’ ابو قتادہؓ ! تمہیں اللہ کا واسطہ ! تم جانتے ہونا کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے؟‘‘

وہ خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیا ۔ میں نے دوبارہ پوچھا : ’’ ابو قتادہؓ ! جانتے ہو نا کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے ؟‘‘

وہ اس بار بھی چپ رہے ۔ میں نے تیسری بار پوچھا : ’’ ابو قتادہؓ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں ! جانتے ہو نا کہ مجھے اللہ اور اس کے رسول ﷺسے محبت ہے؟‘‘

انہوں نے جواب دیا :’’ اللہ اور اس کے رسولﷺکو زیادہ معلوم ہے ۔ ‘‘

حضرت کعب ؓنے اپنے محبوب ترین بھائی اور چچا زاد کا یہ جواب سنا تو برداشت نہ کر پائے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیے ، پھر وہاں سے لوٹے اور گھر چلے گئے ۔ خالی گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا ۔ تسلی دینے کے لیے نہ بیوی اور نہ محبت بگھارنے کو کوئی قریبی ۔ آج پچاسویں رات تھی۔ رات کے تیسرے پہر نبی ﷺپر تینوں اصحاب کی قبولیت ِ توبہ کے متعلق وحی نازل ہوئی ۔ آپﷺ اس رات حضرت ام سلمہ ؓ کے گھر پر تھے ۔ آپﷺ نے آیات تلاوت کیں ۔ حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا : ’’ اے اللہ کے نبی ! ہم کعب ؓبن مالک کو خوش خبری نہ سنائیں ؟‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تب لوگ ٹوٹ پڑیں گے اور بقیہ رات آپ کو سونے نہیں دیں گے ۔ ‘‘

نبی کریم ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو لوگوں میں اعلان کر دیا کہ اللہ نے تینوں اصحابؓ کی توبہ قول کر لی ہے۔اعلان سنتے ہی لوگ خوش خبری سنانے دوڑ پڑے۔

حضرت کعبؓ کہتے ہیں :’’ میں نے اپنے گھر کی چھت پر فجر کی نماز ادا کی تھی ۔ میں اسی حالت میں بیٹھا تھا جس کا ذکر اللہ نے کیا ہے کہ مجھے اپنے آپ سے نفرت ہو چکی تھی اور زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ پڑ گئی تھی ۔ اب یہی جی چاہتا تھا کہ مرجائوں اور رسول اللہ ﷺ میری نمازِ جنازہ نہ پڑھیں ۔ انہی سوچوں میں غرق تھا کہ کسی آدمی کی آواز سنائی دی جو سلع پہاڑ پر کھڑا پکار رہا تھا:’’ اے کعبؓ بن مالک ! خوش ہو جائو ۔‘‘

میں وہیں سجدے میں پڑ گیا ۔ مجھے اندازہ ہو گیا کہ اللہ کی طرف سے راحت آپہنچی ہے ۔ اس کے بعد ایک گھوڑا سوار بھی خوش خبری لے کر آیا لیکن آواز گھوڑے سے زیادہ تیز رفتار نکلی ۔ جس آدمی نے جبلِ سلع پر خوش خبری سنائی تھی وہ میرے پاس آیا تو میں نے انعام میں اپنے کپڑے اتار کر اسے پہنا دیے ۔ اللہ کی قسم! اس کے سوا میرے پاس کوئی لباس نہیں تھا ، پھر میں نے دو کپڑے عاریتاً لے کر پہنے اور رسول اللہ  ﷺ کی طرف روانہ ہوا ۔ راستے میں لوگ فوج در فوج مجھ سے ملاقات کرنے آرہے تھے ۔ وہ مجھے قبولیت توبہ کی مبارک باد دیتے اور کہتے :’’ اللہ کی طرف سے توبہ کی قبولیت مبارک ہو ۔ ‘‘

میں چلتا ہوا مسجد میں داخل ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے۔ صحابۂ کرام ؓ نے مجھے دیکھا تو طلحہ بن عبیداللہؓ اٹھ کر میرے طرف آئے۔ وہ مجھ سے گلے ملے ، مبارکباد دی اور اپنی جگہ لوٹ گئے ۔ طلحہ ؓ کی یہ بات میں کبھی نہیں بھول سکا ،پھر میں رسول اللہ ﷺ کے قریب گیا ، آپ کو سلام کیا ، خوشی سے آپ کا چہرہ دمک رہا تھا ۔ جب آپ خوش ہوتے تو چہرہ یوں جگمگاتا گویا چاند کا ٹکڑا ہے ۔ آپ نے میری طرف دیکھ کر فرمایا :

’’ یہ دن مبارک ہو جو آپ کی زندگی کا ، جب سے آپ کو آپ کی والدہ نے جنا ہے ، سب سے اچھا دن ہے۔ ‘‘

میں نے پوچھا :’’ اے اللہ کے رسول! آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ۔ ‘‘ فرمایا :’’ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ۔ ‘‘

اس پر آپ ﷺ نے قرآنی آیات تلاوت کیں۔ میں آپ کے رو برو بیٹھا اور کہا :’’ میری توبہ ہی کا حصہ یہ بات بھی ہے کہ میں اپنا سارا مال صدقہ کرتا ہوں ۔ ‘‘

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بہتر ہے کہ کچھ مال اپنے پاس بھی رکھیں ۔‘‘ (بخاری ‘ مسلم)

اللہ تعالیٰ اپنے حبیب ﷺکے سچے عاشقوں کے درجات بلند فرمائے اور ہم سب کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online