Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

صحت مند زندگی کے راز (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 639 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Allah Tala ki naimton ki qadar kerin

صحت مند زندگی کے راز

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 639)

گزشتہ دنوں اپنے ایک محسن بزرگ کی عیادت کے سلسلے میں پاکستان کے ایک مشہور ہسپتال جانا ہوا ۔ ہسپتال کے صدر دروازے کے باہر لگے ہوئے ایک بڑے بورڈ پر نظر پڑی تو اٹھتے ہوئے قدم رک گئے اور میں خوشگوار حیرت سے ‘اُسے پڑھنے لگا ۔ وہ بورڈ ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے لگایا گیا تھا اور اس پر صحت مند زندگی کے راز لکھے ہوئے تھے ۔

پہلے نمبر پر انہوں نے ’’نمازوں کی پابندی ‘‘ کو رکھا ‘ جو اسلام قبول کر لینے کے بعد ہر مسلمان کے ذمے عائد ہونے والا سب سے پہلا فرض ہے ۔ ایک ایمان والا ‘ نماز اس لیے نہیں پڑھتا کہ اُس کی صحت اچھی رہے بلکہ وہ تو اپنے خالق و مالک کے سامنے اپنے عجز و نیاز کی پونجی پیش کرتا ہے اور رب العالمین کے سامنے سربسجود ہو کر ‘ اُس کی کبریائی اور اپنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے لیکن اللہ کی شان دیکھیں کہ آج ماہر ڈاکٹرز بھی یہ اقرار کرنے پر مجبور ہیں کہ انسان کے ظاہر و باطن اور قلب و قالب کی صحت کیلئے اس سے بڑھ کر کوئی اور عمل نہیں ہو سکتا ۔

دوسر ے نمبر پر انہوں نے ’’سادہ طرز ِ زندگی ‘‘ کو رکھا جو اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے ۔ سیرت طیبہ کی کتابیں اس کی مثالوں سے لبریز ہیں ۔ مستدرک ِ حاکم میں ہے کہ ایک مرتبہ رحمت ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا کے ہاں آئے ۔ آپ کو بھوک لگی تھی ۔ پوچھا :

’’ ہمارے کھانے کیلئے کچھ ہے ؟ ‘‘

حضرت ام ہانی ؓ نے عرض کیا :

’’ روٹی کے چند سوکھے ٹکڑے ہیں ‘ آپ کو پیش کرتے ہوئے حیا آتی ہے ‘‘

آپﷺنے پوری بشاشت سے فرمایا :

’’ وہ ہی لے آئیں !‘‘

حضرت ام ہانی ؓروٹی کے وہ سوکھے ٹکڑے لے آئیں ‘ اُنہیں پانی میں بھگویا اور اوپر نمک چھڑک کر آقائے دو جہاںﷺ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ آپ کھانے لگے اور پوچھا :

’’ کوئی سالن ہے ؟‘‘

انہوں نے عرض کیا :

’’ اے اللہ کے رسول ! تھوڑا سا سرکہ ہے ‘‘ ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے بھی لانے کا کہا اور پھر آپ نے اُسے بھی روٹی کے ٹکڑوں پر انڈیل لیا ۔ کھانا کھانے کے بعد ’’الحمد للہ ‘‘ پڑھا اور ارشاد فرمایا :

’’سرکہ تو اچھا سالن ہے ‘‘

آج کے دور میں جب مادی ترقی کی چکا چوند نے ہر آنکھ کو خیرہ کر رکھا ہے اور امیر تو کیا غریب بھی سادگی کو اپنے لیے باعث شرمساری سمجھتا ہے ‘ ایسے حالات میں بھلا ہم اُن مسلمان حکمرانوں کی سادہ طرزِ زندگی کا اندازہ کیسے کر سکتے ہیں ‘ جنہوں نے اپنے فضل و کمال اور عدل و انصاف کے انمٹ نقوش رہتی دنیا پر چھوڑے ۔

عمیر بن سعد ؓ انصاری رسول ﷺ کے صحابی تھے  قبیلہ اوس سے تعلق تھا ۔ ملک شام میں باز نطینی حکومت کے ساتھ قریباً سب لڑائیوں میں شریک رہے ۔سیدنا عمر ؓ نے اپنے زمانۂ خلافت میں انہیں حمص کا گورنر مقرر فرمایا ۔ آپ اس قدر عابد و زاہد تھے کہ ان کی عبادت و ریاضت اور ان کا زہد و تقویٰ حدِّ کرامت کو پہنچا ہوا تھا ۔

کنز العمال وغیرہ میں ہے کہ جن دنوں یہ حمص کے گورنر تھے ، ان کے پاس امیر المومنین سیدنا عمر ؓ کا ایک خط پہنچا جس میں لکھا تھا :

’’ اے عمیر ! ہم نے تم کو ایک اہم عہدہ سپرد کر کے حمص بھیجا تھا مگر کچھ پتہ نہیں کہ تم اپنا یہ عہدہ خوش اسلوبی سے چلا رہے ہو کہ نہیں ؟ لہٰذا جس وقت میرا یہ خط تمہارے پاس پہنچے ، فوراً جس قدر مال غنیمت تمہارے بیت المال میں جمع ہے ، سب کو اونٹوں پر لدوا کر اپنے ساتھ لے کر مدینہ طیبہ میرے سامنے حاضر ہو ‘‘

دربار خلافت کا یہ فرمان پڑھ کر اسی وقت کھڑے ہو گئے اور اپنی لاٹھی میں اپنی چھوٹی سی پانی کی مشک اور خوراک کی تھیلی اور ایک بڑا سا پیالہ لٹکا کر لاٹھی کندھے پر رکھی اور ملک شام سے پیدل مدینہ طیبہ کے لیے روانہ ہو گئے ۔ جب دربار خلافت میں پہنچے تو امیر المومنین ان کی خستہ حالی دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گئے ۔ فرمایا …

’’ کیوں اے عمیر ! تمہارا حال اتنا خراب کیوں ہے؟ کیا تم بیمار ہو گئے تھے ؟ یا تمہارا شہر بد ترین شہر ہے ؟ یا تم نے مجھے دھوکہ دینے کے لیے یہ ڈھونگ رچایا ہے ؟

امیر المومنین کے ان سوالوں کو سن کر سیدنا عمیرؓ نے نہایت متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا :

’’ امیر المومنین ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو مسلمانوں کے پوشیدہ حالات کی جاسوسی سے منع نہیں فرمایا ؟ آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ میرا حال خراب ہے ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں بالکل تندرست و توانا ہوں اور اپنی پوری دنیا کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے آپ کے سامنے حاضر ہوں ‘‘۔

امیر المومنین نے فرمایا :

’’عمیر ! تم دنیا کا کون سا سامان لے کر آئے ہو ؟ میں تو تمہارے ساتھ کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ۔ ‘‘

سیدنا عمیر ؓ نے عرض کی :

’’امیر المومنین ! دیکھئے ، یہ میری خوراک کی تھیلی ہے … یہ میری مشک ہے جس سے میں وضو کرتا ہوں اور اسی میں اپنے پینے کا پانی رکھتا ہوں ۔ اور یہ میرا پیالہ ہے اور یہ میری لاٹھی ہے جس سے میں اپنے دشمنوں سے بوقت ضرورت جنگ بھی کرتا ہوں اور سانپ وغیرہ زہریلے جانوروں کو بھی مارتا ہوں ۔ یہ سارا سامان میری دنیا نہیں تو اور کیا ہے ؟‘‘

یہ سن کر امیر المومنین نے فرمایا :’’ عمیر ! اللہ تعالیٰ تم پر اپنی رحمت نازل فرمائے ۔ تم تو عجیب آدمی ہو۔‘‘

پھر امیر المومنین نے ان سے رعایا کا حال دریافت کیا اور مسلمانوں کی دینی زندگی اور ذمیوں(وہ کافر جو اسلامی ملک کے باقاعدہ شہری ہوں) کے بارے میں پوچھا ۔ انہوں نے جواب دیا :

’’ الحمد للہ ! میری حکومت کا ہر مسلمان ارکان اسلام کا پورا پورا پابند اور اسلامی رنگ میں رنگا ہوا ہے اور میں ذمیوں سے جزیہ لے کر ان کی پوری پوری حفاظت کرتا ہوں اور میں اپنے عہدہ کی ذمہ داریوں کو نباہنے کی بھر پور کوشش کرتا رہا ہوں ۔

پھر امیر المومنین نے خزانہ کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیوں نہیں لائے ۔ میں نے تو تمہیں اس کے لانے کے لیے بھی کہا تھا ۔ اس صحابیٔ رسول نے جو جواب دیا وہ سننے کے قابل ہے عرض کی :

’’ امیر المومنین ! خزانہ کیسا ؟ میں ہمیشہ مالدار مسلمانوں سے زکوٰۃ و صدقات وصول کر کے فقراء اور مساکین میں تقسیم کر دیا کرتا ہوں اگر میرے پاس فاضل مال بچتا تو میں ضرور اس کو آپ کے پاس بھیج دیتا ‘‘

کیسا ذمہ دارانہ جواب دیا سیدنا عمیرؓ نے ۔ یہ نہیں کہا کہ میں زکوٰۃ و صدقات اور ملکی ٹیکسوں کو ہارس ٹریڈنگ یا غیر ملکی دوروں یا اپنی پارٹی اور جیالوں کی فلاح و بہبود کے لیے یا اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے یا پھر اپنے میک اپ یا عیاشی پر خرچ کرتا ہوں بلکہ یہ جواب دیا کہ فقراء اور مساکین کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتا ہوں ۔ ان کی محتاجی کو دور کرنے پر خرچ کرتا ہوں ۔

پھر امیر المومنین ؓ نے پوچھا :

’’ عمیر ! تم حمص ( شام) سے مدینہ طیبہ تک پیدل سفر کر کے آئے ہو کیا تمہارے پاس سواری نہیں تھی ؟ اور اگر سواری نہیں تھی تو کیا تمہاری سلطنت کی حدود میں مسلمانوں اور ذمیوں میں کوئی آدمی بھی ایسا نہیں تھا جو تمہیں سواری کا ایک جانور دے دیتا ؟‘‘

عرض کی :

’’ امیر المومنین ! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میری امت میں کچھ ایسے حاکم ہوں گے کہ اگر رعایا خاموش رہے گی تو یہ حکام انہیں برباد کر دیں گے اور اگر رعایا فریاد کرے گی تو یہ حکام ان کی گردنیں اڑادیں گے ۔ اور میں نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سنا ہے کہ تم لوگ اچھی باتوں کا حکم دیتے رہو اور بری باتوں سے منع کرتے رہو ، ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط فرما دے گا جو بد ترین انسان ہوں گے ۔ اس وقت نیکوں کی دعائیں بھی قبول نہ ہوں گی ۔ اے امیر المومنین ! میں ان برے حاکموں میں سے ہونا پسند نہیں کرتا۔ اس لیے مجھے پیدل چلنا گوارا ہے لیکن اپنی رعایا سے کچھ طلب کرنا یا ان کے عطیوں کو قبول کرنا ہر گز پسند نہیں ہے ‘‘ ۔

صحت مندانہ طرز ِ زندگی اپنانے کا ایک راز اپنی استطاعت کی حد تک صدقہ و خیرات کرنا بھی ہے۔ آج کل تو نت نئی قسم کی بیماریاں سامنے آرہی ہیں ۔ ان بیماریوں کے علاج میں لوگوں کے ہزاروں لاکھوں روپے صرف ہوتے ہیں بلکہ آج کل علاج سے زیادہ روپے تو ٹیسٹوں پر خرچ ہوتے ہیں لیکن پھر بھی پوری طرح شفاء نہیں ہوتی جس کی ایک وجہ برے اعمال کو نہ چھوڑنا بھی ہے ۔ بلکہ موجودہ زمانہ میں تو ہر طرف بد اعمالی کی زیادتی ہو رہی ہے ۔

 دوسری وجہ لوگ وہ اسباب اختیار نہیں کرتے جن سے شفا حاصل ہوتی ہے ۔ اگر لوگ اعمالِ بد کو ترک کر دیں اور ان اسباب کو اختیار کر لیں جن سے شفا حاصل ہوتی ہے تو اکثر بیماریاں ختم ہو جائیں ۔ جن معاشروں میں گناہ کم ہیں وہاں آج بھی بیماریاں کم ہیں ۔

احادیث نبویہ میں ہے کہ بیماریوں کے دفعیہ میں جہاں ترک معاصی اور علاج معالجہ اور دوا دارو کرنے کو دخل ہے وہیں صدقات کا بھی بڑا دخل ہے ۔ صدقہ کرنے سے بڑی بڑی تکالیف اور بیماریاں ختم ہوتی ہیں ۔ بلکہ بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قد س سرہ کے بارے میں کتابوں میں آتا ہے کہ آپ جب کبھی بیمار ہوتے تو طبیب کو بلا کر پوچھتے کہ میرے علاج پر کتنی رقم خرچ ہو گی ؟ تو وہ ایک تخمینہ بتاتا ۔ آپ اس اندازہ سے کچھ بڑھ کر صدقہ کر دیتے اور حق تعالیٰ شانہ انہیں شفا عطا فرما دیتے ۔ کیوں اصل شافی الامراض تو حق تعالیٰ شانہ کی ذات ہے ۔ دوائیں تو اس کا صرف ایک سبب ہیں ۔ اگر دوائیں سبب بن سکتی ہیں تو صدقات بھی سبب بن سکتے ہیں ، لہٰذا اس بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ پھر حدیث میں بھی تو آتا ہے کہ صدقہ بذات خود بیماریوں کے دفعیہ کا سبب ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

حصنوا اموالکم بالزکوٰۃ ، داوَوا مرضاکم بالصدقۃ واعدواللبلاء الدعاء (مجمع الزوائد : جلد ۳ ص ۶۳)

’’اپنے مالوں کی حفاظت زکوٰۃ سے کرو ، اور اپنے مریضوں کا علاج صدقات و خیرات کے ذریعہ کرو اور بلائوں کے دفعیہ کے لیے دعا کو استعمال کرو‘‘۔

 یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ آج کل یہ عام معمول ہو گیا ہے کہ صدقہ کے لیے ایک چھوٹا سا بکرا جس میں بمشکل پانچ چھ سیر گوشت ہوتا ہے اور چند ہزار میں آتا ہے ، اس کو ذبح کر کے کسی غریب کو دے دیتے ہیں اور وہ غریب اور نادار شخص اس کو تین چار سو میں فروخت کر کے اپنی ضروریات زندگی پوری کرتا ہے ۔ اگر بکرے کی رقم ہی اس غریب آدمی کو دے دی جائے یا اُس کی ضرورت معلوم کر کے اُس کے مطابق مدد کر دی جائے تو یہ زیادہ بہتر اور مفید طریقہ ہے ۔

اسلام کی تمام تعلیمات ‘ خواہ عقائد کے متعلق ہوں یا عبادات و معاشرت اور معاملات و اخلاق کے بارے میں ‘ سب ہی انسانیت کیلئے بہت بڑی نعمت ہیں ۔ اگر انسان کو آج یہ بات سمجھ میں نہ آئی تو کل سمجھ آہی جائے گی لیکن خوش قسمت شخص و ہ ہے جو ان احکامات کو اللہ تعالیٰ اور اُ س کے سچے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کہنے پر مان لے اور ان کی تصدیق کیلئے کم علم اور کم فہم انسانوں کی باتوں کا انتظار نہ کرے ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دین متین کے تمام احکامات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online