Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

پہنچے ہوئے لوگ کون ہوتے ہیں؟ (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 640 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Pohanche Hue Log

پہنچے ہوئے لوگ کون ہوتے ہیں؟

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 640)

تعجب ہے کیسے کیسے عقل مند لوگ بے وقوف بن جاتے ہیں اور وہ بھی دین کے نام پر کہ جس کی تعلیمات روزِ روشن کی طرح واضح اور جس کی ہدایات دو جمع دو برابر چار کی طرح قطعی ‘ اٹل اور دو ٹوک ہیں ۔ سچ ہے کہ ’’رب رُسے تے مَت کھسے‘‘ یعنی جب رب ناراض ہو جاتا ہے تو انسان کی عقل کا م چھوڑ دیتی ہے اور وہ ایسی ایسی غلطیاں کرتا ہے کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔

جو شخص نماز نہ پڑھتا ہو‘ چرس اور افیون کا رسیا ہو ‘ غیر محرم عورتوں سے پردہ نہ کرتا ہو ‘ اتباع سنت کا حریص نہ ہو اور ہر شرعی عیب اُس میں پایاجاتا ہو‘ اُسے دینی پیشوا ‘ روحانی راہنما اور پہنچا ہوا ولی مان لینا کتنی بڑی حماقت ہے ۔ دنیاوی اعتبار سے اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے ‘ جیسے آپ کسی اَن پڑھ اور جاہل شخص کو ڈاکٹر ، پروفیسر یا سائنسدان مان لیں ۔ ایسے لوگ جو دین کے نام بے دینی ‘ روحانیت کے نام پر شیطانیت اور اولیاء کرام ؒکے نام پر الحاد و زندقہ پھیلاتے ہیں وہ تو ’’ اگر ابلیس بر روئے زمیں است ‘ ہمیں است وہمیں است وہمیں ‘‘ کا مصداق ہیں اور یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا  ذرا علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ کی یہ عبارت پڑھیں :

’’ ابوالقاسم جنید ؒسے ایسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا جو شریعت کی پابند یاں اپنے سے ختم ہونے کا کہتے تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ شرعی پابندیاں (فرائض و واجبات ) تو صرف ’’ پہنچنے ‘‘ کا ذریعہ ہیں اور ہم تو پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے جواب دیا :یہ لوگ سچ کہتے ہیں کہ پہنچ چکے ہیں مگر جہنم تک ۔ دیکھو چوری کرنے والا اور زنا کرنے والا بھی ایسے خیالات رکھنے والے سے بہتر ہے اگر میری عمر (بالغرض ) ہزار سال بھی ہوتی تو میں اپنے اذکار و اوراد میں شرعی عذر کے بغیر کوئی کمی نہیں کروں گا‘‘  ( الیواقیت والجواہر :ص ۱۳۹)

جانتے ہیں یہ ابو القاسم جنید ؒ کون ہیں ‘جو ایسے عقائد رکھنے والے کو چوراور زانی سے بھی بد تر قرار دے رہے ہیں ۔ یہ وہ ہی عظیم بزرگ ہیں جنہیں اکابر اولیاء اللہ ‘ سید الطائفہ حضرت جنید بغدادیؒ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ یہ حضرت سرّ ی سقطیؒ کے بھانجے اور خلیفہ تھے ۔ آپ صوفیاء کرام کے سرخیل ہونے کے ساتھ ساتھ علومِ دینیہ کے بھی زبردست عالم تھے ۔ آپ کے ہاں علم دین کی کیا قدرو قیمت تھی ‘ خود فرماتے ہیں :

’’ جو شخص حافظِ قرآن نہ ہو ‘ اس نے حدیث لکھنے لکھا نے کا مشغلہ اختیار نہ کیا ہو اور علمِ فقہ حاصل نہ کیا ہو ‘ وہ اقتداء کے لائق نہیں ۔‘‘ ( حلیۃ الاولیاء ۱۰؍ ۲۵۵)

نماز کے ساتھ ان کا اتنا تعلق تھا کہ ابو بکر عطار ؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت جنید بغدادیؒ کی وفات کے وقت ان کے پاس حاضر تھا ۔ وہ اس وقت بیٹھے نماز پڑھ رہے تھے اور سجدے کے وقت اپنے پائوں کو دہرا کر لیتے تھے ۔ یہاں تک اسی حالت میں ان کے پائوں سے روح نکل گئی اور اسے حرکت دینا ممکن نہ رہا لیکن آپ پھر بھی عبادت میں مشغول رہے ۔ کسی نے کہا ’’ آپ لیٹ جاتے تو اچھا ہوتا۔‘‘ اس پر فرمایا :’’ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان کا وقت کا ہے ‘ اللہ اکبر ‘‘ اور پھر اسی حالت میں آپ کی وفات ہو گئی ۔ سنِ وفات ۲۹۷ھ ہے ۔

اندازہ لگائیں کہ اپنے وقت کے عارفِ کامل ‘ امام الاولیاء اور سید الطائفہ تو انتقال کے وقت بھی نماز ادا کر رہے ہوں اور ان کے نام لیوا فرض نماز ہی کے ادا کرنے میں سستی اور غفلت سے کام نہ لیں بلکہ ایسے ایسے حیلے اور بہانے تراشیں کہ شیطان بھی شرما جائے ۔ مثلاً کئی جگہ سنا کہ پیر صاحب اس لیے ہمارے سامنے نماز نہیں پڑھتے کہ وہ مکہ و مدینہ نماز ادا کر آتے ہیں ۔ کھانا پینا ‘ رہنا سہنا اور تمام معاملات اپنے گھر میں اور نماز سے بچنے کیلئے اتنا بڑا جھوٹ ( العیاذ باللہ العظیم) اور جو نماز پڑھنے کیلئے تیار نہیں وہ بھلا جہاد اور شہادت کے بارے میں سوچنا کیسے گوارا کریں گے ۔

عوام کو سمجھانے کیلئے آسان سی بات ہے کہ روحانیت اور طریقت میں ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ، احمد مجتبیٰ ﷺ بڑھ کر کون ہو سکتا ہے ۔ اگر کسی کو شرعی احکام معاف ہو سکتے تو یقینا وہ آپ ﷺکی عظیم شخصیت ہوتی ۔ جبکہ قرآن مجید میں تو کئی مقامات پر خاص طور پر آپ ﷺکو ہی مخاطب کرکے شرعی احکام نازل فرمائے گئے تاکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کو پتہ چل جائے کہ جب خود صاحبِ قرآنﷺان احکامات کے پابند ہیں تو دوسرا کون ہوتا ہے ‘ جو اس پابندی سے آزادی کا دعوی کر سکے ۔

آپ ﷺکو حکم ربانی ہے:

اتل ما اوحی الیک من الکتٰب و اقم الصلوٰۃ ان الصلوٰۃ تنھیٰ عن الفحشاء والمنکر ولذ کر اللّٰہ اکبر واللّٰہ یعلم ما تصنعون (العنکبوت :۴۵)

(اے پیغمبر) جو کتاب آپ کے پاس وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے ، اس کی تلاوت کرو اور نماز قائم کرو ۔ بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے ، اور اللہ کا ذکر سب سے بڑی چیز ہے ۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس کو جانتا ہے ۔

اقم الصلوٰۃ لدلوک الشمس الیٰ غسق اللیل و قرآن الفجر ان قراٰن الفجر کان مشھودا (بنی اسرائیل :۷۸)

(اے پیغمبر !) سورج ڈھلنے کے وقت سے لے کر رات کے اندھیرے تک نماز قائم کرو ، اور فجر کے وقت قرآن پڑھنے کا اہتمام کرو۔ یاد رکھو کہ فجر کی تلاوت میں مجمع حاضر ہوتا ہے ۔

واتبع ما یو حی الیک و اصبر حتیٰ یحکم اللّٰہ ھو خیر الحاکمین( یونس)

اور جو وحی آپ کے پاس بھیجی جا رہی ہے ‘ تم اس کی اتباع کرو اور صبر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ کوئی فیصلہ کر دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔

قل لا اجد فیما اوحی الی محر ما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ او دما مسفو حا او لحم خنزیر فانہ رجس او فسقا اھل لغیر اللہ بہ فمن اضطر غیر باغ ولا عاد فان ربک غفور رحیم ( الانعام : ۱۴۵)

(اے پیغمبر! ) ان سے کہو کہ ’’ جو وحی مجھ پر نازل کی گئی ہے اُس میں تو میں کوئی ایسی چیز نہیں پاتا جس کا کھانا کسی کھانے والے کے لئے حرام ہو ، الا یہ کہ وہ مردار ہو ، یا بہتا ہوا خون ہو ، یا سور کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے ، یا جو ایسا گناہ کا جانور ہو جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو ۔ ہاں جو شخص( ان چیزوں میں سے کسی کے کھانے پر) انتہائی مجبور ہو جائے ، جبکہ وہ نہ لذت حاصل کرنے کی غرض سے ایسا کر رہا ہو ، اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھے ، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا ، بڑا مہربان ہے ۔

ان اتبع الا ما یوحی الی وما انا الا نذیر مبین ( الا حقاف :۹)

میں کسی اور چیز کی نہیں ، صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے ۔ اور میں تو صرف ایک واضح انداز سے خبردار کرنے والا ہوں ۔

فاصدع بما تؤمروا عرض عن المشرکین (الحجر :۹۴)

لہٰذا جس بات کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اسے علی الاعلان لوگوں کو سنا دو اور جو لوگ (پھر بھی ) شرک کریں ، ان کی پروا مت کرو ۔

یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللّٰہ لک تبتغی مر ضات ازواجک واللّٰہ غفور رحیم

اے نبی جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے تم اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اُسے کیوں حرام کرتے ہو ؟ اور اللہ بہت بخشنے والا بہت مہربان ہے ۔ ( التحریم :۱)

پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے لے کر آج تک ہر زمانے اور ہر علاقے میں جتنے اولیاء اللہ رہے ہیں ‘ وہ سب نمازیں پڑھتے تھے ، داڑھی رکھتے تھے ، قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے اور شرک و بدعت سمیت ہر صغیرہ اور کبیرہ گناہ سے بچتے تھے ۔ جائز و ناجائز اور حلال و حرام کا خیال رکھنے میں کوئی ان سے بڑھ کر نہیں ہوتا تھا ۔ امیر المومنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ،سیدنا حضرت اویس قرنی  ؒ، سیدنا حضرت با یزید بسطامی ؒ اور سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جیسے عظیم لوگوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں ‘ جس نے اپنے آپ کو شرعی احکامات سے بری الذمہ سمجھا ہو۔

آج کل فتنوں کا دور ہے ‘ اس لیے آئے روز ایسے سوالات اور واقعات سامنے آتے رہتے ہیں کہ نماز ‘ روزہ ، زکوٰۃ ، حج اور جہاد جیسے سب فرائض اسلام سے غافل اور جان بوجھ کر انہیں چھوڑنے والے ‘ عوام کے کمزور عقیدے کا فائدہ اٹھا کر دینی اور روحانی پیشوا بنے بیٹھے ہیں ۔ یاد رکھیں ! کوئی شخص پرندوں کی طرح آسمان پر اڑنے لگے یا مچھلی کی طرح سمندر کی تہہ میں تیرنے لگے ‘ جب تک وہ پیارے آقا ﷺکی سنتوں کا پیرو کار نہ ہو ‘ وہ ولی نہیں ہو سکتا ۔ ولایت تو ملتی ہے اتباع سنت اور غلامیٔ رسول کی برکت سے ہے ۔ اگر اسی میں خامی ہو تو ایسا شخص کچھ بھی ہو سکتا ہے ‘ ولی یا پیرو مرشد نہیں ہو سکتا ۔

الحمد للہ ! ہمارے اکابر رحمہم اللہ تعالیٰ خود بھی اتباع سنت کے شوقین تھے اور ان کی زندگیاں اسی رنگ میں رنگی ہوئیں تھیں ‘ ساتھ ہی انہوں نے اپنے مرید ین و متعلقین کو بھی ہمیشہ اسی کی تلقین فرمائی۔ گمراہ لوگ عام طور پر اپنی غیر شرعی باتوں کو مسند جواز بخشنے کیلئے تصوف کا نام استعمال کرتے ہیں حالانکہ تصوف شعبدہ بازیوں‘ رسوم و رواج ‘ مزارات اور عرس و قوالویوں کا نام نہیں ۔ یہ توتزکیہ اور احسان کا ہم معنی اور اخلاقی و باطنی تربیت کا مترادف ہے ۔ رذائل کو دور کر کے حصولِ فضائل اور اوصاف ذمیمہ کا ازالہ کر کے اوصافِ حمیدہ اپنے باطن میں پیدا کرنا ‘ یہی اس کی غرض و غایت اور منتہی و مقصود ہے ۔ یہاں مناسب ہو گا ‘ اگر ہم اپنی بات کو ثابت کرنے کیلئے امام العارفین ‘ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی ؒکی آپ بیتی کا ایک دلچسپ اقتباس پیش کردیں ۔

’’ایک مرتبہ دس بجے صبح کو میں اوپر اپنے کمرہ میں نہایت مشغول تھا ، مولوی نصیر نے اوپر جاکر کہا کہ ’’رئیس الاحرارؒ آئے ہیں رائپور جارہے ہیں ، صرف مصافحہ کرنا ہے‘‘میں نے کہا ’’جلدی بلاؤ‘‘مرحوم اوپر چڑھے اور زینے پر چڑھتے ہی سلام کے بعد مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھا کر کہا ’’رائپور جارہا ہوں اور ایک سوال آپ سے کرکے جارہا ہوں اور پرسوں صبح واپسی ہے ، اس کا جواب آپ سوچ رکھیں واپسی میں جواب لوں گا ’’ یہ تصوف کیا بلا ہے؟ اس کی کیا حقیقت ہے؟ ‘‘میں نے مصافحہ کرتے کرتے یہ جواب دیا کہ ’’صرف تصحیح نیت ، اس کے سوا کچھ نہیں، جس کی ابتداء انما الاعمال بالنیات سے ہوتی ہے اور انتہاء ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ ہے ‘‘میرے اس جواب پر سکتہ میں کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے ’’دلی سے یہ سوچتا آرہا ہوں کہ تو یہ جواب دے گا تو یہ اعتراض کروںگا اوریہ جواب دے گا تو یہ اعتراض ، اس کو تو میں نے سوچا ہی نہیں ۔‘‘ میں نے کہا ’’جاؤ تانگے والے کو بھی تقاضا ہوگا ، میرا بھی حرج ہورہا ہے ، پرسوں تک اس پر اعتراض سوچتے رہیو ، اس کا خیال رہے کہ دن میں مجھے لمبی بات کا وقت نہیں ملنے کا ، دو چار منٹ کو تو دن میں بھی کر لوںگا۔ بات لمبی چاہوگے تو مغر ب کے بعد ہوسکے گی ‘‘

مرحوم دوسرے ہی دن شام کو مغرب کے قریب آگئے اور کہا کہ:

’’کل رات کو تو ٹھہرنا مشکل تھا اس لئے کہ مجھے تو فلاںجلسہ میں جانا ہے اور رات کو تمہارے پاس ٹھہرنا ضروری ہوگیا ، اس لئے ایک دن پہلے ہی چلاآیا۔‘‘

اور یہ بھی کہا کہ :’’تمہیں معلوم ہے مجھے کبھی تم سے عقیدت ہوئی نہ محبت ‘‘میں نے کہا :’’علی ھذا القیاس ‘‘

مرحوم نے کہا :’’مگر تمہارے کل کے جوا ب نے مجھ پرتو بہت اثر کیاا ور میں کل سے اب تک سوچتا رہا ، تمہارے جواب پر کوئی اعتراض سمجھ میں نہیں آیا ۔‘‘میں نے کہا :’’ان شاء اللہ مولانا اعتراض ملنے کا بھی نہیں ‘‘

’’انما الاعمال بالنیات ‘‘سارے تصوف کی ابتداء ہے اور ’’ان تعبد اللّٰہ کانک تراہ ‘‘ سارے تصوف کا منتہا ہے ، اسی کو نسبت کہتے ہیں، اسی کو یادداشت کہتے ہیں ، اسی کو حضوری کہتے ہیں   ؎

حضوری گر ہمی خواہی ، ازو غافل مشو حافظؔ

متیٰ ماتلق من تہوی دع الدنیا وامہلہا

میں نے کہا ’’مولوی صاحب سارے پاپڑ اسی کے لئے بیلے جاتے ہیں ذکر بالجہر بھی اسی واسطے ہیں ، مجاہدہ ، مراقبہ بھی اسی واسطے ہے اور جس کو اللہ جل شانہ اپنے لطف وکرم سے کسی بھی طرح سے یہ دولت عطاء کردے اس کو کہیں کی بھی ضرورت نہیں ۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تو نبی کریم ﷺکی نظر کیمیا اثر سے ایک ہی نظر میں سب کچھ ہوجاتے تھے اور ان کو کسی چیز کی بھی ضرورت نہ تھی ، اس کے بعد اکابر اور حکماء امت نے قلبی امراض کی کثرت کی بناء پر مختلف علاج جیسا کہ اطباء بدنی امراض کے لئے تجویز کرتے ہیں ، روحانی اطباء نے روحانی امراض کے لئے ہر زمانے کے مناسب اپنے تجربات جو اسلاف کے تجربات سے مستنبط تھے نسخے تجویز فرمائے ہیں جو بعضوں کو بہت جلد نفع پہنچاتے ہیں ، بعضوں کو بہت دیر لگتی ہے ۔‘‘

اللہ کریم ہم سب کو ہر طرح کی گمراہی سے بچائے اور ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ (آمین)

٭٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online