Bismillah

663

۱تا۷صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۲تا۱۸اکتوبر۲۰۱۸ء

وہ زخم جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 641 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Wo Zakhm Jo Aage Barhne ka

وہ زخم جو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے ہیں

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 641)

صحیح بخاری میں حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ کے واسطے سے یہ حدیث مبارکہ موجود ہے کہ :

’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی کے محاذ پر موجود تھے اور آپﷺ کی ایک انگلی زخمی ہو گئی تھی ۔ آپ ﷺنے انگلی کو مخاطب کرکے کہا :

ھل انت الّا اصبع دمیت

و فی سبیل اللّٰہ مالقیت

(تو صرف ایک انگلی ہی تو ہے جو زخمی اور خون آلود ہو گئی اور اللہ کے راستے میں یہ کوئی بہت بڑی تکلیف نہیں جو تمہیں پہنچی ہو )

٭…٭…٭

چشم ِ فلک نے آنحضرت ﷺسے بڑھ کر کوئی محبوب اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بڑھ کر کوئی محب اور عاشق نہیں دیکھا ۔ غزوئہ احد میں جب یہ خبر مشہور ہو گئی کہ ’’ نصیب دشمنا ں ‘ ‘اللہ کے رسولﷺ شہید ہو گئے ہیں تو حضرت انس بن مالک ؓ کے چچا حضرت انس بن نضر ؓ بجائے تھک ہار کے بیٹھنے اور پست حوصلہ ہونے کے پہلے سے زیادہ قوت کے ساتھ لڑتے رہے ۔

صحیح بخاری میں حضرت انس ؓ کی ہی روایت ہے کہ میرے چچا انس بن نضرؓ کو غزوئہ بدر میں شریک نہ ہونے کا بہت رنج تھا ، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺسے کہنے لگے:یا رسول اللہ ! افسوس کہ میں مشرکین کے ساتھ اسلام کے پہلے ہی جہاد و قتال میں شریک نہ ہوا ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھ کو آئندہ کسی جہاد میں شریک ہونے کی توفیق دی تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں اس کی راہ میں کیسی جدوجہد اور کیسی جاں بازی اور سرفروشی دکھاتا ہوں، جب معرکۂ احد میں کچھ لوگ شکست کھا کر بھاگے تو انس بن نضر ؓ نے کہا :

’’ اے اللہ !میں تیری بارگاہ میں اس فعل سے معافی چاہتا ہوں جو اِن مسلمانوں نے کیا ( جو میدان سے ذرا پیچھے ہٹے ) اور اس سے بھی بری اور بیزار ہوں جو کچھ مشرکین نے کہا ‘‘

خود تلوار لے کر آگے بڑھے ‘ سامنے سے سعد بن معاذ  ؓ آگئے ‘ ان کو دیکھ کر انس بن نضر ؓ نے کہا :

’’ اے سعد کہاں جا رہے ہو؟ میں تو اُحد پہاڑ کے نیچے جنت کی خوشبو سونگھ رہا ہوں ‘‘ ۔

یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے اور دشمنوں کا مقابلہ کیا ‘ یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش فرمایا ۔ جسم پر تیر اور تلوار کے اسّی سے زیادہ زخم شمار کیے گئے ۔ سورۃ الا ٔ حزاب کی یہ آیت ِ مبارکہ اُنہی کے بارے میں نازل ہوئی :

(ترجمہ ) ’’ مسلمانوں میں سے بعض مرد ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا ‘ اس کو سچ کر دکھایا ‘‘

زرقانی شرح مواہب کے حوالے سے سیرت المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں انہی کے عجیب الفاظ نقل کیے گئے ہیں ۔ میدانِ اُحد میں سخت پریشانی کے وقت انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا :

’’ اے لوگو ! اگر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) قتل ہو گئے تو آپ کا رب تو قتل نہیں ہو گیا ۔ جس چیز پر آپ نے جہاد و قتال کیا ‘ اسی پر تم بھی جہاد و قتال کرو اور اسی پر مر جائو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے ‘‘ ۔

دیکھیں ‘ وہ ہی افواہ جسے دشمن صحابہ کرام ؓ  کو کمزور کرنے کیلئے پھیلا رہے تھے ‘ اُلٹا ان کی مزید مضبوطی اور عزم کی مزید پختگی کا ذریعہ بن گئی ۔

٭…٭…٭

غزوئہ اُحد میں مسلمانوں کو شدید نقصانات اٹھانے پڑے تھے ۔ ستّر جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مرتبۂ شہادت پایا تھا ۔ زخمیوں کی تو کوئی گنتی ہی نہیں تھی ۔ خود سرکار ِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی شدید زخم آئے تھے ۔ قریش جب جنگ احد سے واپس ہوئے اور مدینہ سے چل کر ’’ روحاء ‘‘ نامی جگہ ٹھہرے تو خیال آیا کہ کام تو نا تمام رہا ۔ جب ہم بہت سے مسلمانوں کو قتل کر چکے تھے اور بہت سوں کو زخمی تو اب بہتر یہی ہے کہ دوبارہ اچانک مدینہ پر حملہ کر دیں ۔ مسلمان اس وقت زخموں سے چور چور ہیں ‘ مقابلے کی تاب نہ لا سکیں گے ۔

۱۵ ؍ شوال کی تاریخ تھی اور اتوار کی شب ‘ جب مشرکین نے دوبارہ حملے کا عزم کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخبر نے عین صبح صادق کے وقت اس خطرے کی اطلاع دی ۔ آپ نے اسی وقت حضرت بلال ؓ کو بھیج کر پورے مدینہ میں منادی کرادی کہ خروج کیلئے تیار ہو جائیں ۔ ابھی دو دن پہلے ہی مسلمان ناقابل بیان اذیت اور شدید صدمات اٹھا چکے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پکار پر لبیک کہا ۔ بعض حضرات کی تو حالت یہ تھی زخموں کی وجہ سے ایک دوسرے کو سہارا دیتے تھے کہ کہیں گرنہ پڑیں ‘ لیکن پھر بھی لشکر میں پورے عزم کے ساتھ رواں دواں رہے ۔

نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۶؍ شوال ‘ بروز اتوار کو مدینہ سے چل کر آپ نے حمراء الا ٔ سد نامی جگہ میں قیام فرمایا ۔ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً آٹھ دس میل کے فاصلے پر ہے ۔ قبیلہ خزاعہ کا سردار معبد خزاعی شہدائِ اُحد کی تعزیت کیلئے حاضر ہوا ۔ واپسی پر وہ ابو سفیان سے جا کر ملا ۔ ابو سفیان نے اپناخیال ظاہر کیا کہ میرا ارادہ یہ ہے کہ دوبارہ مدینہ پر حملہ کیا جائے ۔ معبد نے اُنہیں کہا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) تو بڑی عظیم الشان فوج کے ساتھ تمہارے مقابلے اور تعاقب کیلئے نکلے ہیں ۔ ابو سفیان یہ سنتے ہی مکہ واپس ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین دن وہیں قیام فرما کر بروز جمعہ واپس تشریف لائے ۔

اُحد کے زخموں نے صحابہ کرام ؓ کے نظریات اور جذبات کو ختم نہیں کیا بلکہ وہ پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ راہِ خدا میں نکلے ۔ اللہ تعالیٰ کو اُن کی یہ ادا ایسی پسند آئی کہ قرآن مجید میں ان حضرات کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

(ترجمہ ) ’’ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا حکم مانا‘ اس کے بعد کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے ‘ جو اِ ن میں سے نیک ہیں اور پرہیز گار ہوئے ان کیلئے بڑا اجر ہے ۔ جنہیں لوگوں نے کہا کہ مکہ والوں نے تمہارے مقابلے کیلئے سامان جمع کیا ہے ‘ سو تم ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کار ساز ہے ۔(آلِ عمران )

٭…٭…٭

ایمان والے کبھی حالات کی شدت سے گھبرایا نہیں کرتے کیونکہ ان کی نظر اپنے اسباب و وسائل پر نہیں اپنے رب کی طاقت اور قدرت پر ہوتی ہے ۔ ممکن ہے کہ کبھی طبعی خوف اُنہیں بھی آ گھیر کہ وہ بھی بالآخر انسان ہوتے ہیں مگر جوں ہی پھر اُن کی نظر اوپر اٹھتی ہے تو اُن کا دل ’’ لا حوفٌ علیہم ولا ھم یحزنون‘‘ کی تفسیر بن جاتا ہے اور غم و خوف اور مایوسی کے سب بادل جھٹ جاتے ہیں ، ایمان والے جب قرآن مجید پڑھتے ہیں تو کہیں دیکھتے ہیں کہ اللہ کے خلیل ‘ ابو الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دہکتی آگ میں پھینکا جا رہا ہے ‘ اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔ حکومت ِ وقت ‘ قوم برادری‘ کنبہ اور خاندان سب مخالف اور درپے آزار ۔ کہیں وہ قرآن مجید میں سیدنا حضرت نوح علیہ اسلام کی دعوتِ حق کا احوال اور ان کی قوم کی سرکشی کے حالات پڑھتے ہیں ۔ کہیں وہ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون کے دربار میں صدائے حق سنتے ہیں اور کہیں وہ اپنی قوم بنی اسرائیل کے ساتھ بحرِ قلزم کو پار کرتا ہوا دیکھتے ہیں ۔ کہیں ایمان والے سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جاں گسل آزمائشوں اور تکالیف کی تفصیل پڑھتے ہیں اور کہیں ان کا صحیح سالم آسمانوں پر اٹھایا جانا اُن کی نظروں کے سامنے گھومنے لگتا ہے ۔

ایمان والے جب سیرتِ نبوی کا مطالعہ کرتے ہیں تو کہیں اُن کی نظر شعب ِ ابی طالب نامی گھاٹی پر پڑتی ہے ، جہاں رحمتِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم اور اُن کے خاندان بنو ہاشم کو دعوتِ اسلام کے جرم میں اقتصادی ناکہ بندی کر کے محصور کر دیا گیا تھا ۔ کبھی وہ نظرِ تصور سے دیکھتے ہیں تو انہیں وہ طائف کی گلیاں اور بازار یاد آتے ہیں جہاں دعوتِ حق کی پاداش وہ مقدس لہو بہا تھا جس کا ایک قطرہ بھی پوری کائنات سے افضل و محترم ہے ۔ کبھی وہ حیرت سے ہجرت کے سفر کا احوال پڑھتے ہیں اور کبھی بیت اللہ کے سائے میں نماز ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے محبوب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرنے والے مصائب و آلام کا تذکرہ سنتے ہیں ۔

پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ سیرت کا مطالعہ ہو اور اُس میں بدر کے ولولے ، اُحد کی قربانیاں ، خندق کے جذبے ، حدیبیہ کی استقامت ، فتحِ مکہ کی تدابیر ، بنو قریظہ کی سزا، بنو نضیر کی جلاوطنی ، حنین کی ثابت قدمی اور تبوک کے نشانات ِ قدم کا تذکرہ نہ ہو ۔

ایمان والے قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کے سامنے کبھی یہ آیات مبارکہ آجاتی ہیں :

ترجمہ :اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ‘( کبھی ) خوف سے ، اور (کبھی ) بھوک سے ‘ اور (کبھی) مال و جان اور پھلوں میں کمی کر کے ۔ اور جو لوگ (ایسے حالاتم میں) صبر سے کام لیں انکو خوشخبری سنا دو ۔ (سورۃ البقرۃ)

وہ آگے بڑھتے ہیں تو اُن کی سماعتوں میں حضرت طالوت کے ادلعزم سپاہیوں کی یہ آواز گونجنے لگتی ہے :

ترجمہ :’’ (مگر) جن لوگوں کا ایمان تھا کہ وہ اللہ سے جا ملنے والے ہیں انہوں نے کہا کہ :’’ نہ جانیں کتنی چھوٹی جماعتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آئی ہیں ۔ اور اللہ ان لوگوں کا ساتھی ہے جو صبر سے کام لیتے ہیں ‘‘ ۔ ( سورۃ البقرۃ ۲۴۹)

وہ مزید تلاوت کرتے ہیں تو یہ آیاتِ مبارکہ اُن کی استقامت اور بصیرت میں اضافہ کر دیتی ہیں :

ترجمہ : اور کتنے سارے پیغمبر ہیں جن کے ساتھ ملکر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ! نتیجتاً انہیں اللہ کے راستے میں جو تکلیفیں پہنچی ان کی وجہ سے نہ انہوں نے ہمت ہاری ، نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انہوں نے اپنے آپکو جھکایا، اللہ ایسے ثابت قدم لوگوں سے محبت کرتا ہے ۔ان کے منہ سے جو بات نکلی وہ اس کے سوا نہیں تھی کہ وہ کہہ رہے تھے :’’ ہمارے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بھی اور ہم سے اپنے کاموں میں جو زیادتی ہوئی ہو اسکو بھی معاف فرمادے ‘ ہمیں ثابت قدمی بخش دے اور کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں فتح عطا فرما دے ‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کا انعام بھی دیا اور آخرت کا بہترین ثواب بھی ، اور اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔( سورۃ البقرۃ ۱۴۶تا ۱۴۵)

وہ قرآن پڑھتے جاتے ہیں اور امریکہ ‘ یورپ بلکہ ساری دنیا کی کفریہ طاقتیں انہیں مکڑی کے جالے سے زیادہ کمزور نظر آنے لگتی ہیں ۔ وہ جان لیتے ہیں کہ کامیابی اور نجات کفر کے سامنے جھکنے اور اُسے اپنے سر پر سوار کرنے میں نہیں ، اُس کے سامنے ڈٹ جانے اور اپنے رب جلّ شانہ پر بھروسہ کرنے میں ہے ۔

مولانا جلال الدین رومیؒ ( المتوفٰی ۶۷۲ھ ) کی مثنوی صدیوں سے انسانوں میں معرفت ِ الٰہی کی دولت تقسیم کر رہی ہے ۔ اس کے حصہ حکایات کے آغاز میں وہ اپنے مخصوص انداز میں ارشاد فرماتے ہیں:

’’ لومڑی کی بزدلی ضرب المثل ہے لیکن جس لومڑی کی کمر پر شیر کا ہاتھ ہو کہ گھبرانا مت ‘ میں تیرے ساتھ ہوں تو باوجود ضعیف الہمت ہونے کے اس پشت پناہی کے فیض سے اس قدر با ہمت ہو جائے گی کہ چیتوں کا کلہ ایک گھونسے سے توڑ ڈالے گی اور شیر پر نظر ہونے کے سبب چیتوں سے ہر گز خائف نہ ہو گی ۔ یہی حال حق تاعلیٰ کے خاص بندوں کا ہوتا ہے کہ وہ باوجود خستہ حال ، شکستہ تن فاقہ زدہ زرد چہروں کے باطل کی اکثریت سے خائف نہیں ہوتے۔ ‘‘

حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن ؒ  کو جب انگریز نے گرفتار کرکے مالٹا میں قید کر دیا تو آپ اکثر فرمایا کرتے ’’ الحمد للہ کہ مصیبتے گرفتارم ‘ نہ کہ بمعصیتے ‘‘ ( اللہ کا شکر ہے کہ آزمائش اور مصیبت کی وجہ سے گرفتار ہوا ہوں ‘ کسی جرم اور گناہ کی بناء پر نہیں )

بے شک بہت مبارک ہیں اللہ کے راستے کے وہ زخم جو آگے بڑھنے کا حوصلہ مزید بڑھا دیں ‘ کہ راہِ خدا میں قربان ہونے کا نشہ ‘ یہ وہ نشہ نہیں جسے حالات کی تلخی اتار دے ۔ یہاں تو حالت یہ ہوتی ہے کہ ’’ بڑھتا ہے ذوق جرم یہاں ‘ ہر سزا کے بعد ‘‘ ۔

یہی ہے وہ استقامت جس پر بارگائہ الٰہی سے خوش خبری کے پروانے ملتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ عظیم وصف نصیب فرمائے ۔(آمین ثم آمین)

٭٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online