Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

آپ کا مال … ذریعہ نجات یا باعث ِ وبال (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 642 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Aap ka maal

آپ کا مال … ذریعہ نجات یا باعث ِ وبال

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 642)

اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے مال بھی ایک عظیم نعمت ہے ۔ انسان اس مال کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ۔ اپنے اوپر عائد ہونے والے حقوق ادا کرتا ہے اور اپنے فرائض سے سبکدوش ہوتا ہے ۔ اس مال کے ذریعے عقلمند انسان اپنے لیے آخرت کماتا ہے اور اپنے اس فانی مال کو ہمیشہ کیلئے محفوظ کر لیتا ہے ۔ اس سے پتہ چلا کہ وہ ہی مال اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے جس کے ساتھ نیکی کی توفیق بھی ہو ورنہ کبھی یہ مال عذاب اور وبال بھی بن جاتا ہے ۔ آپ نے بہت سے ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو اس مال کی فکر میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ اس مال کی وجہ سے اُن کے پاس دین کی محنت کیلئے وقت ہوتا ہے نہ اولاد کی تربیت کیلئے ۔ راتوں کی نیندیں اڑی ہوئیں اور دل کا چین و سکون غائب ‘ پھر مال کی تھوڑی سی آزمائش آجائے تو کلیجہ تھام کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ہر وقت مال ہی کے جوڑ توڑ میں لگے رہتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جیسے اس دنیا میں خالی ہاتھ آئے تھے ویسے ہی خالی ہاتھ واپس جائیں گے ۔ بھلا اُن سے پہلے آج تک کوئی مالدار اپنا مال اپنے ساتھ قبر میں لے کر گیا ہے ؟ ہر گز نہیں ۔لیکن وہ مال کی ہوس میں یہ کھلی ہوئی حقیقت بھی بھلا دیتے ہیں ۔

دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ قارون کا مال اللہ تعالیٰ کی نعمت نہیں کہ اُس کی ہوس کی جائے ۔ جو مال اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے ‘ وہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا مال ہے ‘ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا مال ہے اور سیدنا حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا مال ہے ۔ یہ وہ مال ہے جس کو مانگنا اور اُس کی آرزو کرنا درست ہے ۔ ان دونوں قسم کے مالوں میں مزید فرق سمجھانے کیلئے اس بات کو ذرا تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔

بنی اسرائیل میں ایک بہت بڑا مالدار شخص تھا۔ قرآن عزیز نے اس کا نام قارون بتایا ہے‘ اسکے خزانے زرو جواہر سے پر تھے اور قوی ہیکل مزدوروں کی پوری جماعت بمشکل اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھا سکتی تھی۔ اس مالداری اور سرمایہ داری نے اس کو بے حد مغرور بنا دیا تھا اور وہ دولت کے نشہ میں اس قدر چور تھا کہ اپنے عزیزوں ، قرابت داروں اور قوم کے افراد کو حقیر اور ذلیل سمجھتا اور ان سے حقارت کے ساتھ پیش آتا تھا ۔

مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا زاد بھائی تھا اور اس کا نسب اس طرح نقل فرماتے ہیں ۔

قارون بن یَصہُر بن قاہت اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نسب یہ ہے : موسیٰ بن عمران بن قاہت ۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی یہی منقول ہے ۔

مؤرخین کہتے ہیں کہ قارون قیام مصر کے زمانہ میں فرعون کا درباری ملازم رہا تھا اور دولت کا یہ بے انتہا انبار اس نے وہیں جمع کیا تھا اور سامری منافق تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دین پر اعتقاد نہیں رکھتا تھا ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم نے ایک مرتبہ اس کو نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ کو بے شمار دولت و ثروت بخشی ہے اور عزت و حشمت عطا فرمائی ہے لہٰذا اس کا شکر ادا کر اور مالی حقوق ’’ زکوٰۃ و صدقات‘‘ دے کر غرباء فقراء اور مساکین کی مدد کر ، خدا کو بھول جانا اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنا اخلاق و شرافت دونوں لحاظ سے سخت نا شکری اور سرکشی ہے ۔اس کی دی ہوئی عزت کا صلہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ تو کمزوروں اور ضعیفوں کو حقیر و ذلیل سمجھنے لگے اور نخوت و تکبر میں غریبوں اور عزیزوں کے ساتھ نفرت سے پیش آئے ۔

قارون کے جذبۂ انانیت کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی یہ نصیحت پسند نہ آئی اور اس نے مغرورانہ انداز میں کہا : موسیٰ علیہ السلام ! میری یہ دولت و ثروت تیرے اللہ کی عطا کر دہ نہیں ہے ، یہ تو میرے عقلی تجربوں‘ علمی کا وشوں اور کاروباری سمجھ بوجھ کا نتیجہ ہے ۔میں تیری نصیحت مان کر اپنی دولت کو اس طرح برباد نہیں کر سکتا ۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام برا براپنے فرض تبلیغ کو انجام دیتے اور قارون کو راہ ہدایت دکھاتے رہے ، قارون نے جب یہ دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کسی طرح پیچھا نہیں چھوڑتے تو ان کو زچ کرنے اور اپنی دولت و حشمت کے مظاہرہ سے مرعوب کرنے کے لئے ایک دن بڑے کرو فر کے ساتھ نکلا ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں پیغام الٰہی سنا رہے تھے کہ قارون ایک بڑی جماعت اور خاص شان و شوکت اور خزانوں کی نمائش کے ساتھ سامنے گذرا ، اشاریہ یہ تھا کہ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تبلیغ کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو میں بھی ایک کثیر جتھا اور مضبوط گروپ رکھتا ہوں اور زرد جواہر کا بھی مالک ہوں لہٰذا ان دونوں ہتھیاروں کے ذریعہ موسیٰ علیہ السلام کو شکست دے کر رہوں گا ۔

بنی اسرائیل نے جب قارون کی اس دنیوی ثروت و عظمت کو دیکھا تو ان میں سے کچھ آدمیوں کے دلوں میں انسانی کمزوری نے یہ جذبہ پیدا کیا کہ وہ بے چین ہو کر یہ دعا کرنے لگے :’’ اے کاش یہ دولت و ثروت اور عظمت و شوکت ہم کو بھی نصیب ہوتی ‘‘ مگر بنی اسرائیل کے ارباب بصیرت اور سمجھ دار لوگوں نے فوراً مداخلت کی اور ان سے کہنے لگے ۔ ’’ خبر دار ! اس دنیوی زیب و زینت پر نہ جانا اور اس کے لالچ میں گرفتار نہ ہو بیٹھنا تم عنقریب دیکھو گے کہ اس دولت و ثروت کا انجام بد کیا ہونے والا ہے ؟‘‘

آخر کار جب قارون نے کبرو نخوت کے خوب خوب مظاہرے کر لئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی تحقیر و تذلیل میں کافی سے زیادہ زور صرف کر لیا تو اب غیرت حق حرکت میں آئی اور عذابِ الٰہی نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور قارون اور اس کی دولت پر خدا کا یہ اٹل فیصلہ نافذکر دیا کہ  فخسفنا بہ و بدارہ الارض ہم نے قارون اور اس کے سرمایہ کدہ کو زمین کے اندر دھنسا دیا اور بنی اسرائیل کی آنکھوں دیکھتے نہ غرور باقی رہا اور نہ سامان غرور سب کو زمین نے نگل کر قیامت تک کے انسانوں کیلئے عبرت کا سامان مہیا کر دیا ۔

اب ذرا اُن حضرات کے حالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں ‘ جن کے مال اُن کیلئے باعث ِ رحمت و مغفرت تھے

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ  ﷺنے ارشاد فرمایا : جس نے ( کسی بھی چیز کا ) جوڑا اللہ ( تعالیٰ ) کے راستے میں خرچ کیا تو اسے جنت میں پکارا جاے گا کہ اے اللہ کے بندے ! یہ خیر و بھلائی ہے ، تم آجاو اور جو شخص نماز والوں میں سے ہوگا ، اسے نماز کے دروازے سے پکارا جاے گا اور جو جہاد والوں میں سے ہوگا ، اسے باب الجہاد سے بلایا جائے گا اور جو صدقے والا ہو گا ، اسے صدقے کے دروازے سے پکارا جاے گا اور جو روزے والوں میںسے ہوگا ، اسے باب الریان سے بلایا جاے گا ۔ حضرت ابو بکر ؓنے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، ان سب دروازوں سے پکارے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ پس کوئی ایسا بھی ہوگا جس کو ان سب دروازوں سے بلایا جائے ۔ آپ ﷺنے فرمایا : ہاں ! مجھے امید ہے کہ آپ اُن میں سے ہوں گے ۔ (بخاری ، مسلم ، مسند احمد )

مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حضور اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ (تعالیٰ) کے راستے میں ( کسی بھی چیز کا ) جوڑا خرچ کرے گا ، اسے جنت کا نگران فرشتہ پکارے گا : اے اللہ کے فرمانبردار ! یہ خیر و بھلائی ہے آئو اس کی طرف ۔ حضرت ابو بکر ؓنے یہ سن فرمایا : یہ شخص تو خسارے سے بچ گیا ۔ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : مجھے جتنا فائدہ ابو بکر کے مال نے پہنچایا ہے کسی مال نے کبھی نہیں پہنچایا ۔ یہ سن کر حضرت ابو بکر ؓرونے لگے اور کہنے لگے : مجھے تو اللہ ( تعالیٰ) نے آپ ہی کے ذریعے فائدہ پہنچایا ہے ۔ (مسند احمد )

حضرت عبداللہ بن عباس ؓسے روایت ہے کہ نجاشی ؒکے ساتھیوں میں سے چالیس افراد رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺکے ساتھ غزوئہ اُحد میں شریک رہے ، انہیں کچھ زخم بھی لگے ، مگر ان میں سے کوئی شہید نہیں ہوا ۔ جب انہوں نے مسلمانوں کے زخم اور ضروریات دیکھیں ، تو کہنے لگے : یا رسول اللہ ! ہم مالدار لوگ ہیں ، آپ ہمیں اجازت دیجئے تاکہ ہم اپنا مال لے آئیں اور (زخمی اور ضرورت مند ) مسلمانوں کی مدد کریں ۔ رسول اللہ ﷺنے انہیں اجازت دے دی ۔ وہ اپنا مال لے آئے اور انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی ، اس پر یہ آیات نازل ہوئیں :

الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون

’ ’ جن لوگوں کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ‘‘۔(آگے فرمایا ) اولیک یوتون اجرھم مرتین بما صبروا۔( یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکے صبر کی وجہ سے دو گنا بدلہ ملے گا ) ارشاد فرمایا : اللہ (تعالیٰ) نے ان کے لیے دہرا اجر مقرر فرمایا ۔ و ید ر ء ون بالحسنۃ السیئۃ و مما رزقنھم ینفقون ۔ ( اور بھلائی سے برائی کو دور کرتے ہیں اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ) ارشاد فرمایا : یہ وہ مال ہے جو انہوں نے مسلمانوں کی مدد کے لیے خرچ کیا ۔

مال خرچ کرنے سے وہی مال مراد ہے جس کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کی مدد کی تھی ۔ ( ابن عساکر)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓنے غزوئہ تبوک کے موقع پر تنگی کے وقت میں ایک ہزار دینار کے ذریعے لشکر ِ اسلام کی مدد کی ، انہوں نے یہ دینار نبی کریم ﷺکی گود مبارک میں ڈال دئیے ، نبی کریم ﷺانہیں اپنے ہاتھوں سے الٹتے پَلٹتے تھے اور ارشاد فرماتے تھے : آج کے بعد عثمان کو کوئی عمل نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ آپ ﷺبار بار ان الفاط کو دہر اتے تھے۔ ( مسند احمد ، ترمذی )

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا : اے میرے پروردگار! آپ عثمان سے راضی ہو جائیے ، بے شک میں اُن سے راضی ہوں ۔ ( سیرۃ ابن ہشام )

غزوئہ تبوک کے موقعہ پر حضرت عثمان غنی ؓنے اسلامی لشکر کے لیے جو تعاون فرمایا ، اس کے بارے میں مختلف روایات ہیں ، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے پہلے تین سو اونٹ مع سازو سامان کے عطاء فرمائے ، پھر ایک ہزار دینار دئیے ، پھر آپ نے اونٹ ایک ہزار کر دئیے اور دینار دس ہزار اور بیس یا پچاس گھوڑے بھی عطاء فرمائے ۔ ( الریاض النضرہ)

عروہ بن زبیر ؓسے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓنے جہاد کے لیے پچاس ہزار دینار کی وصیت فرمائی ، چنانچہ ایک شخص کو ایک ہزار دینار دئیے جاتے تھے ۔ (ابن عساکر )

زہری ؒفرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓنے ہر ایک بدری صحابی کے لئے سات سو دینار کی وصیت فرمائی ، اُس وقت اُن حضرات میں سے ایک سو حضرات زندہ تھے ۔ مال لینے والوں میں سے حضرت عثمان غنی ؓ  بھی تھے جو اُس وقت خلیفہ تھے اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓنے جہاد میں ایک ہزار گھوڑے دینے کی وصیت بھی فرمائی ۔ (ابن عساکر )

مال کو اپنے لیے رحمت ‘ برکت اور مغفرت کا ذریعہ بنانے والوں کو مثالیں بھی ہم نے پڑھ لیں اور قارون جیسے اپنے وقت کے بہت بڑے سیٹھ کا عبرتناک انجام بھی۔ اب یہ فیصلہ ہم نے خود کرنا ہے کہ ہمیں ان میں سے کس کے نقشِ قدم کی پیروی کرنی چاہیے اور ہم اپنے مال کو اپنے لیے وبال بناناچاہتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی بے انتہاء رحمتوں کو حاصل کرنے کا ذریعہ ۔

’’ الرحمت ‘‘ کے زیر اہتمام پورے ملک میں ’’ انفاق فی سبیل اللہ مہم‘‘ شروع ہو چکی ہے ۔ یہ بہترین موقع ہے کہ ہم اپنے فانی مال کے ذریعے ابدی سعادتیں اور راحتیں حاصل کر لیں ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق عطاء فرمائے (آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online