Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

اپنا احتساب خود کر لیں! (کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد)

Kalma-e-Haq 643 - Maulana Muhammad Mansoor Ahamd - Apna Ehtsab  Khud Kerlein

اپنا احتساب خود کر لیں!

کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد (شمارہ 643)

کسی شدید بیماری کا سب سے سنگین درجہ وہ ہوتا ہے جب بیمار اس کو بیماری تسلیم کرنے سے انکار کر دے یا اس کے مرض ہونے کا احساس اس کے دل سے مٹ جائے ۔ یہ کلیہ جسمانی بیماریوں کے بارے میں جتنا درست ہے ، روحانی امراض یا گناہوں کے بارے میں بھی اتنا ہی سچا ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں ایسی رواج پا گئی ہیں کہ گھر گھر اُن کا چلن دیکھ کر اب دلوں سے اُن کے برائی ہونے کا احساس بھی مٹ رہا ہے ، اور افسوس تو یہ ہے کہ معاشرے کے دینی رہنما بھی تھک ہار کر اُن کے بارے میں کہنا سننا چھوڑتے جا رہے ہیں ۔

 ایک بالکل واضح اور ظاہر سی بات ہے کہ انسان جوکچھ دیکھتا ہے ، سنتا ہے اور پڑھتا ہے اس کا اثر ضرور قبول کرتا ہے ۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو بچے بہت دلچسپی سے ڈرامے اور فلمیں دیکھتے ہیں ، وہ انجانے میں پھر انہی کے کرداروں کی نقالی شروع کردیتے ہیں ۔ وہ بچے نہ بھی چاہیں تو ان کی زبانوں پر وہ ہی باتیں آجاتی ہیں جو انہوں نے دیکھی ہوتی ہیں ۔ پھر کبھی تویہ بھی ہوتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے بچے کا لباس ، شکل وصورت اور زبان خود بخود اسی سانچے میں ڈھلنے لگتی ہے جو وہ دیکھتا ، سنتا اور پڑھتا ہے۔

پھر یہ بھی دیکھیں کہ ہم لوگ کتنے عجیب ہیں ۔ کوئی چیز کھانے سے پہلے تو اچھی طرح دیکھتے ہیں کہ کہیں خراب نہ ہو ، بدبودار نہ ہو ۔ پھل ہیں تو گلے سڑے نہ ہوں ۔ ہم میں سے کوئی بھی شخص ایسی چیز شوق سے کھانا پسند نہیں کرے گا جو اس کے جسم اور صحت کے لئے نقصان دہ اور تباہ کن ہو ۔ اگر کبھی ہم گلاس میں پانی پینے لگیں اور پانی میں کوئی تنکا اور کچرا نظر آجائے تو ہم فوراًوہ پانی گرادیتے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبان بھی ہمیشہ اپنے مریضوں کو یہ تاکید کرتے رہتے ہیں کہ خراب اور مضر صحت چیزیں استعمال نہ کریں ۔ ہر ایسی چیز سے پرہیز کریں جو آپ کو بیمار کرسکتی ہو۔

کھانے پینے کے بارے میں تو ہم اتنی احتیاط کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہم خود دیکھنے، سننے اور پڑھنے کے بارے میں کوئی احتیاط نہیں کرتے ۔ جیسا ناول یا رسالہ ہمارے ہاتھ آجائے ہم پڑھ ڈالتے ہیں ، جو خرافات اور لغویات دیکھنے اور سننے کو مل جائیں ، بڑے شوق سے انہیں دیکھتے اور سنتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ بس یہ چند منٹوں کی تفریح ہی تو ہے اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ان چیزوں کے اثرات کتنے گہرے اور تباہ کن ہیں ۔ یہ ایمان لیواجراثیم ہماری روح اور ہمارے ایمانی جذبات کے لئے کتنے نقصان دہ ہیں ۔

آج انسانیت کے دشمنوں نے ایسی چیزیں گھر گھر پہنچادی ہیں ،جن کو دیکھنے ، سننے اور پڑھنے کے بعد انسان کے دل سے تقویٰ ، خوف خدا اور فکر آخرت سب کچھ رخصت ہوجاتا ہے ۔بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ وہ انسان رہتا ہی نہیں بلکہ شیطان بن جاتا ہے ۔ آخر آپ بھی تو اخبارات میں آئے روز چوری، ڈکیتی اور قتل وغارت گری کی خبریں پڑھتے ہیں ۔ بھلایہ کام کسی انسان کے ہوسکتے ہیں ؟ہر گز نہیں ۔ یہ انسان غلط چیزیں دیکھنے، بری باتیں سننے اور نقصان دہ رسالے پڑھنے سے ہی شیطان بنتے ہیں ۔

عام طور پر موجودہ دور کو ترقی اور تہذیب کا بہترین نمونہ خیال کیا جا تا ہے اور ہر شخص اس کا حصہ بننے کیلئے ہاتھ پائوں مارتا ہے حالانکہ ایک وقت تھا کہ صرف سترہ سال کا جوان محمد بن قاسمvعرب سے مسلمان بہنوں کو راجا داہر کی قید سے آزاد کروانے اپنے پورے لشکر کے ساتھ سندھ ملتان پر حملہ آور ہوا تھا ۔ اور آج کا مسلمان کہلانے والا جوان ایسا ہے کہ خود اس کی گلی اور محلے کی مسلمان بہنیں اس سے محفوظ نہیں ۔ اتنی ترقی سے اتنا تنزّل ، اتنی بلندی سے اتنی پستی ، اتنے عروج سے اتنا زوال کیسے ہوا ؟ خدارا!کبھی غور کریں اور تنہائی میں بیٹھ کر سوچیں کہ یہ ہمارے غلط دیکھنے ، غلط سننے اور غلط پڑھنے کے ہی خوفناک نتائج تو نہیں ہیں؟۔

ُُپھر یہ بھی دیکھیں کہ ہم جو کچھ دیکھتے ‘ پڑھتے اور سنتے ہیں ‘ ہم سمجھتے ہیں کہ بس معاملہ یہیں ختم ۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہ تو ہم ایک ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں ۔ ہمارا ہر عمل محفوظ ہو رہا ہے ۔ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں ‘ سن رہے ہیں یا پڑھ رہے ہیں ‘ ان سب کا جواب بھی دنیا ہے ۔ قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے :

’’ یقین رکھو کہ کان ‘ آنکھ اور دل سب کے بارے میں ( تم سے) سوال ہو گا ‘‘ ( بنی اسرائیل ۳۶)

دنیا کے کسی کمپیوٹر کے ریکارڈ میں تو غلطی ممکن ہے لیکن ہمارے ان کا موں کا جوریکارڈ مرتب ہو رہا ہے اُس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ۔ یہ ریکارڈ بھی ایک جگہ نہیں کئی جگہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ ہماری آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے اور ہمارے کان جو کچھ سنتے ہیں یہ سب کچھ سب سے پہلے تو فرشتے لکھ لیتے ہیں ۔ قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ:

’’ حالانکہ تم پر کچھ نگراں (فرشتے ) مقرر ہیں ‘ وہ معزز لکھنے والے ‘ جو تمہارے سارے کاموں کو جانتے ہیں ‘‘ ( الانفطار ۔۱۲)

پھر یہ زمین جسے ہم بے حس سمجھتے ہیں ‘ یہ بھی ہماری ایک ایک خبر اپنے سینے میں محفوظ کر رہی ہے ۔ قرآن مجید انسانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے :

’’ اس دن زمین اپنی ساری خبریں بتا دے گی کیونکہ تمہارے پروردگار نے اُسے یہی حکم دیا ہو گا ‘‘ ۔ ( الزلزال ۔۴،۵)

پھر یہ گواہیاں تو انسان کے اپنے وجود سے الگ ہیں ۔ شاید انسان ان کو جھٹلانے کی ناکام کوشش کرے لیکن ذرا سوچیں ! اُس وقت کیا ہو گا ‘ جب خود ہماری آنکھ بول پڑے گی کہ اس بندے نے مجھ سے کیا کیا دیکھا ہے ، جب ہمارے کان بول پڑیں گے کہ یہ ہمارے ذریعے کیا کیا سنتا رہا ۔ بھلا اُس وقت ہماری شرمندگی کا کیا ٹھکانہ ہو گا ۔ منہ چھپانے کیلئے کوئی جگہ بھی نہیں ہو گی ۔ ذرا پڑھیں توسہی ‘ قرآن مجید ہمیں یہی باتیں سمجھا رہا ہے : ۔

’’ یہاں تک کہ جب وہ اُس (آگ ) کے پاس پہنچ جائیں گے تو اُن کے کان‘ اُن کی آنکھیں اور اُن کی کھالیں اُن کے خلاف گواہی دیں گی کہ وہ کیا کچھ کرتے رہے ہیں ۔ وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی ؟ وہ کہیں گی کہ ہمیں اُسی ذات نے بولنے کی طاقت دے دی ہے ، جس نے ہر چیز کو گویائی عطا فرمائی ۔ ‘‘ ( حم سجدہ ۔ ۲۰،۲۱)

ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ تم خود اپنا حساب کر لو ‘ اس سے پہلے کہ تم سے حساب لیا جائے ۔ ذرا چند لمحے کیلئے سوچیں کہ اگر ابھی میری آنکھ وہ سب کچھ بتانا شروع کر دے جو میں نے اس سے دیکھا ‘ پڑھا یا میرا کان وہ سب کچھ سنا ڈالے ، جو اس کے ذریعے میں نے سنا تو میرے پاس اللہ تعالیٰ کے ہاں پیش کرنے کیلئے کیا عذر ہو گا اور جب ہم خود کو کوئی قابل تسلی جواب نہیں دے سکتے تو بارگاہِ الٰہی میں کیسے جواب دیں گے ؟ پھر کیا اب ابھی ہم اپنے طرزِ عمل کو بدلنے کیلئے تیار ہیں یا نہیں ؟

ایک بات یہ بھی سوچیں کہ یہ آنکھ ، کان اور دل و دماغ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہیں ۔ نعمت پر شکر ادا کرنا ‘ ہر شریف اور سلیم الفطرت آدمی اس کو اپنا فرض سمجھتا ہے ۔ اتنی عظیم نعمتیں کہ دنیا کی ساری سائنس اور سائنسدان مل کر بھی ان میں سے کسی ایک کا متبادل نہیں بنا سکتے ۔ ہم جب ان نعمتوں کو غلط استعمال کرتے ہیں تو کتنے ناشکرے پن کا ثبوت دیتے ہیں ۔

دینی اور اخلاقی انحطاط کے اس دور میں ایک گروہ مسلسل اس شکست خوردہ ذہنیّت کے پر چار میں مصروف ہے کہ معاشرے میں جو برائی بھی کثرت سے رواج پاتی جائے اُسے حلال کرتے جائو ، گویا جو بیماری پھیل کر و بائے عام کی شکل اختیار کر لے ، اُسے بیماری ماننے ہی سے انکار کر دو ، اور ضمیر کی جو آواز کبھی کبھی ابھر کر عیش و نشاط میں خلل ڈال سکتی تھی ، اُسے جھوٹی تسلیوں سے تھپک تھپک کر سلادو ۔

زمانے کے الٹے بہائو پر بہنے اور مصنوعی تاویلات کے ذریعے اُسے برحق قرار دینے کا یہ طرز عمل کئی سنگین گناہوں اور غلطیوں کے بارے میں بھی اختیار کیا جا رہا ہے ، اور علماء کو بڑے زور و شور کے ساتھ یہ مشورے دئیے جا رہے ہیں کہ چونکہ ان کی وباء گھر گھر پھیل چکی ہے ، اس لئے اب اُنہیں ناجائز قرار دینے کے فتوے واپس لے لینے چاہئیں ، اور انہیں حلال طیب قرار دے دینا چاہیے ۔ بلکہ بعض حضرات تو علماء کی اس ’’تنگ نظری‘‘ پر ملامت کرتے نہیں تھکتے کہ اکیسو یں صدی کے اس دور میںوہ ان گناہوں کو جائز کہنے پر کیوں آمادہ نہیں؟۔ شاید اسی کو کہتے ہیں :

عذر گناہ بدتر از گناہ

ان ’’ وسیع النظر ‘‘ دانشوروں نے غالباً کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں فرمائی کہ اگر کسی چیز کے رواجِ عام سے مرعوب ہو کر اُسے درست تسلیم کرنے

کا یہ سلسلہ شروع سے جاری ہوتا تو آج دنیا انبیاء علیہم السلام کی پاکیزہ تعلیمات سے یکسر محروم ہوتی ۔ انبیاء علیہم السلام تو مبعوث ہی ایسے مواقع پر ہوتے ہیں جب برائیوں کا رواج بڑھ کر بظاہر ناقابلِ علاج نظر آنے لگتا ہے ۔ لیکن وہ اس رواجِ عام کے آگے ہتھیار ڈالنے کے بجائے اپنے عزم محکم اور جہدِ پیہم سے وقت کے دھارے کو موڑتے ہیں اور زندگی کے آخری سانس تک باطل سے سمجھوتہ نہیں کرتے ۔

ان ’’ روشن خیال ‘‘ حضرات نے کبھی اس پہلو پر بھی شاید غور نہیں فرمایا کہ برائیوں کے رواجِ عام کو ان کی سندِ جواز دینے کا طریقۂ کار معاشرے کو کہاں سے کہاں پہنچا سکتی ہے ؟ اور مغرب کی جن اقوام نے اس طرزِ عمل کو اپنایا ہے وہ رفتہ رفتہ کس طرح انسانیت اور شرافت کی ایک ایک قدر کو نوچ کر پھینک چکی ہیں اور ’’رواجِ عام ‘‘ کی دلیل کی بدولت اُن کے جسم پر اخلاق و مروت کا کوئی جامہ سلامت نہیں رہا ۔

پھر انسان کسی گناہ کو گناہ سمجھ کر اس میں مبتلا ہو جائے ، اور دل میں اپنے کئے پر نادم ہو ، تو یہ اس بات سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ گناہ کرنے کے بعد اُس پر سینہ زوری بھی کرے اور اُسے اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہ ہو ۔ پہلی صورت میں گناہ صرف ایک ہے ، اور عجب نہیں کہ ندامت کی بنا پر کبھی اُس سے تائب ہونے یا اُسے چھوڑنے کی توفیق بھی ہو جائے ، لیکن دوسری صورت میں جتنا سنگین معاملہ گناہ کے ارتکاب کا ہے ، اس سے کہیں زیادہ سنگین گناہ کو برحق ثابت کرنے کا ہے ، ایسے شخص کو عموماً توبہ کی توفیق بھی نہیں ہوتی ، اور بعض صورتوں میں تو یہ سینہ زوری گناہ سے بڑھ کر کفر کی سرحد میں داخل ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اُس سے محفوظ رکھے ۔(آمین)

آخری بات یہ عرض کرنی ہے کہ ہمارا یہ میڈیا جو ہمارے دل و دماغ میں زہر انڈیل رہا ہے ‘ اس کے وار کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں ۔ اس نے ارتداد اور فسق و فجور کی جو لہر معاشرے میں پیدا کر دی ہے ‘ اُس سے غافل نہ ہوں ۔ یہ فحاشی اور عریانی کی جس آگ کو ہوا دے رہا ہے اُس سے اپنے کردار ‘ اپنے گھر اور اپنے دل و دماغ کو بچائیں ۔ آپ کا دل و دماغ تب ہی صحیح فیصلہ اور تجزیہ کرے گا جب آپ اُسی آنکھ اور کان کے ذریعے درست معلومات دیں گے ۔ اگر آپ نے یہ معلومات اُسے یہودیوں کے پروردہ میڈیا کے ذریعے پہنچائیں تو اس کے نتیجے میں فاسد اور خراب سوچ ہی جنم لے گی ۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہر قسم کی گمراہیوں سے ہم سب کو محفوظ فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭٭٭٭٭٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online