Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سعادت کا عنواں…مدینہ، مدینہ

 

سعادت کا عنواں…مدینہ، مدینہ

Madinah Madinah

 

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’تم میں سے جو اس کی استطاعت رکھے کہ اسے مدینہ میں موت آئے تو وہ ضرور ایسا کر لے، کیوں کہ جو مدینہ میں وفات پائے گامیں اس کا شفیع بنوں گا‘‘(الحدیث)

مدینہ میں وفات پانے والوں کے لیے یہ کتنی بڑی سعادت اور کتنی بڑی خوشی کی بات ہے!

البتہ ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ:

موت کا آنا اور کسی کا مرنا اس کے اپنے اختیار میں تو ہے نہیں ، پھر یہ کس طرح فرمایاگیا کہ جو مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ ضرور ایسا کر لے؟

جواب اس کا یہ ہے کہ اے لوگو! مدینہ سے ایسا تعلق بناؤ اور مدینہ کے اتنے قریب رہو کہ اگر موت آئے تو اس وقت تم مدینہ سے دور نہیں بلکہ پوری طرح مدنی نسبت تم پر غالب ہونی چاہیے۔

اس لیے ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ خود کوزیادہ سے زیادہ مدینہ کے قریب رکھے، مدینہ کا شوق ہر وقت اس کے دل میں موجود رہے، کیوں کہ معلوم نہیں کہ کب موت آ جائے اور جب ہر وقت مدینہ دل میں ہوگا، مدینہ کی یاد دل میں ہوگی، مدینہ کی فکر ذہن میں ہوگی، مدینہ کی محبت سے دل آباد ہوگا، تو پھر کوئی فکر نہ ہوگی کہ موت کب آئے، کیوں کہ جب بھی آئے گی تو مدینہ کی یاد پہلے سے موجود ہوگی۔

مدینہ اپنی قسمت پر جتنا بھی ناز کرے وہ کم ہے کیوں کہ اسے یہ سب اعزاز حضرت آقا مدنی ﷺکے طفیل اور ان کی نسبت سے حاصل ہوا ہے، اور ایک مسلمان یہ یقین رکھتا ہے اور اسے رکھنا بھی چاہیے کہ:

حضورِانورﷺ پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے

حضورِانورﷺ کی اِطاعت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے

حضورِانورﷺ کی محبت ، اللہ تعالیٰ کی محبت ہے

حضورِانورﷺ کی خوشنودی، اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے

حضورِانورﷺ کی نافرمانی، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے

حضورِانورﷺ کی ناراضی، اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے

حضورِانورﷺ کا مخالف، اللہ تعالیٰ کا مخالف ہے

 حضورِانورﷺ کا دشمن، اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے

اور حضورِانورﷺ کا دوست، اللہ تعالیٰ کا دوست ہے

جب یہ ہے تو یہ بھی ہے کہ جو مدینہ کو محبوب رکھتا ہے، اسے حضورِانورﷺ بھی محبوب رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی محبوب رکھتے ہیں۔

وہ اُحد جہاں نبی کریمﷺ نے جہاد فرمایا، اور جہاں آپ کے دندان مبارک شہید ہوئے، وہاں جبلِ احد کے متعلق نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں‘‘

تو وہ مدینہ جسے خود اللہ تعالیٰ نے حضرت آقا مدنیﷺ کی رہائش اور آرام گاہ کے طور پر منتخب فرمایا، کیا وہ شہر خود حضورِانورﷺ سے محبت نہیں رکھتا ہوگا؟ یقینا رکھتا ہوگا اور اس قدر رکھتا ہوگا کہ وہ بیان سے بھی باہر ہے۔

مدینہ کا یہی محبت بھرا سراپا ہے جو ہر سچے محب اور سچے عاشق کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔

من مثل احمد فی الکونین نھواہ

بدر جمیع الوریٰ فی حسنہ تاھوا

یا عرب وادی النقا یا اھل کاظمۃ

فی حیکم قمر فی القلب ماواہ

’’کونین میں  حضورِانورﷺ جیسا کون ہے کہ ہم اُن جیسا اُس کو چاہیں؟ وہی تو ایسے چاند ہیں کہ سب مخلوق ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر دشت بدنداں ہے۔

اے وادی نقا اور کاظمہ کے رہنے والویعنی اے اہل مدینہ! تمہاری بستی میں ایک ایسا چاند آیا ہے کہ جس کی محبت کا ٹھکانہ ہمارا دل ہے۔  ‘‘

مدینہ : سعادت سے لبریز ہے، یہی وجہ ہے کہ مدینہ سے جو بھی پیغام جاری ہوا، وہ سعادت کا ہی پیغام جاری ہوا، انسانیت آج بھی اگر سعادت پانا چاہتی ہے تو مدینہ کے پیغام کو سنے، اس پیغام کو تسلیم کرے، اس پیغام پر عمل کرے، اور اس پیغام کوسینے سے لگائے۔

دیکھئے کہ مدینہ منور سے اَطراف عالَم میں جو پیغامِ سعادت بھیجے جاتے تھے، اس میں کیا ہدایات دی جاتی تھیں:

حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا:

 مجھے رسول اللہ ﷺ نے (یمن کی طرف حاکم بناکر )بھیجا تو فرمایا: تم اہل کتاب(یہود و نصاریٰ) میں سے کچھ لوگوں سے ملوگے توانہیں اس بات کی طرف بلانا ، کہ اس چیز کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں (محمد ﷺ) اللہ کا رسول ہوں۔ اگر انہوں نے اس کو مان لیا ، تو انہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر انہوں نے اس کو مان لیا ، تو انہیں بتادیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے ۔جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی ، اور انہی کے فقیروں اور محتاجوں کو دی جائے گی ۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو ان کے عمدہ مال کو ہرگز نہیں لینا(یعنی زکوٰۃ میں درمیانی جانور لینا، عمدہ دودھ والا اور موٹا تازہ جانور نہیں لینا)۔اور مظلوم کی بد دعا سے بچنا کیونکہ مظلوم کی بد دعا اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔(صحیح مسلم)

آپ نے ملاحظہ کیا کہ اس پیغام میں پہلا سبق ہی یہ ہے کہ سعادت پانے کے لیے دامنِ محمدی میں آنا اور رسالتِ محمدیہ پر ایمان لانا ضروری ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان بھی وہی معتبر ہوگاجو رسالتِ محمدیہ کے اقرار اور گواہی کے ساتھ ہوگا۔ یہ پیغام سب کے لیے ہے، بلکہ جب یہ پیغام اہل کتاب کے لیے لازمی ہے، تو دیگر مذاہب والوں کے لیے بدرجہ اولیٰ لازمی اور ضروری ہوگا۔

دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ جب زکوٰۃ جیسی فرض چیز میں بھی لوگوں کے عمدہ مال لینے سے منع کیا گیا ہے اور اسے ایک درجہ کا ظلم قرار دیا جارہا ہے توفرض زکوٰۃ کے علاوہ لوگوں سے کسی بھی ناحق طریقے سے اگر ان کا مال لیا جائے تو یہ کتنا بڑا ظلم ہوگا؟ جب زکوۃ جیسی فرض چیز میں اگر ظلم ہوجائے تو بندے کی بددعاء اوراللہ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا تو خود سوچیے کہ دیگر مظالم کا وَبال کتنا سخت ہوگا؟ اور ان مظالم سے متاثرہ لوگوں کی بددعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے درمیان بھلا کوئی پردہ کیوں کر حائل ہوگا؟

آج مسلم معاشرے میں کس طرح کے مظالم جاری ہیں، کس طرح ناحق مال کھانے کے لیے درجنوں طریقے رواج پاچکے ہیں، جس کی وجہ سے ایک طرف امن و امان اور اطمینان کی کیفیت ناگفتہ بہ ہوچکی ہے تو دوسری جانب معیشت سنبھلنے کے بجائے، اس کا عدم استحکام بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔

 

مدینہ سے جڑنے کا اولین تقاضا یہی ہے کہ نبوت و رسالت محمدیہ کی ابدیت پر یقین کامل ہو، اور یہی زندگی کا اولین نصب العین ہو۔

حضرت سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکینِ مکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ہی ایمان افروز حقیقت بیان فرمائی تھی:

فان ابی و والدہ و عرضی

لعرض محمد منکم وقاء

’’(اے کافرو!) میرا باپ، میرا دادا، اور میری عزت سب کچھ تمہارے حملوں سے حضورِانورﷺ کو بچانے کے لیے قربان ہے‘‘

یہ شاعرِ مدینہ کے جذبات ہیں، اور پاکیزہ ترین جذبات ہیں، آئیے اپنے جذبات کو پاکیزہ بنائیں اور سعادت کے اس سرچشمے سے خود کو سیراب کرنے کے لیے ’’مدینہ، مدینہ‘‘ سے خود کو جوڑ لیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor