Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مدینہ سے کشمیرتک

 

مدینہ سے کشمیرتک

Madinah Madinah

مدینہ میں ایک اِعلان ہوا تھا:

‘‘ مارو ان مشرکوں کو جہاں بھی پاؤ اور انہیں پکڑ لو، انہیں گھیر لو اور ان کیلئے ہر تاک کی جگہ بیٹھ رہو۔ ( التوبہ)

اس پر عمل کا آغاز ہوا۔ پہلے ایک قافلے کو ناکہ لگا کر گھیرا گیا اور مارا گیا۔ دو مشرک مقتول ہوئے، دو قیدی بنائے گئے اور مالِ تجارت کو مالِ غنیمت بنا لیا گیا۔ پھر یہ سلسلہ آگے بڑھا۔ ایک بڑے قافلے کو تاک لگا کر گھیرنے کی کوشش کی گئی مگر وہ نکل گیا اور اس کی جگہ ایک بڑا لشکر ہاتھ آن لگا اور پھر اس لشکر کو یوں مارا گیا کہ وہ تاریخ کا ایک اَنمٹ باب بن گیا۔ مدینہ والوں کا وہ دن ، ریاستِ مدینہ کاوہ کارنامہ قیامت تک اہل ایمان کو ایمان سکھاتا ہے۔ نصرت کا فلسفہ سمجھاتا ہے، جرأت و بہادری کا سبق دیتا ہے اور فتح کا راستہ بتاتا ہے۔ اُس دِن کی یادگار زمین سے کبھی محو نہیں ہوتی اور اُس کا نام کبھی فراموش نہیں ہوتا۔ اسی طرح وہ دن مشرکین کو بھی کبھی نہیں بھولتا۔ ابوجہل جب زمین پر مودی کی اور اُمیہ امیت شا کی شکل میں موجود ہو اور قریشِ مکہ کی جماعت آر ایس ایس کہلاتی ہو تب بھی مشرکین کی زبانوں پر اس دن کا نام اور قلوب پر اس کی ہیبت چھائی رہتی ہے۔ کون جھٹلا سکتا ہے کہ مشرکین کے نظریاتی اسلام دشمن گروہ آر ایس ایس کے کارسیوکوں کے نصاب میں آج بھی ’’بدر‘‘ پڑھایا جاتا ہے اور اس کا انتقام لینے کا عزم دُہرایا جاتا ہے۔ مگر کیا اللہ تعالیٰ کے غضب کا اِنتقام بھی کوئی لے سکتا ہے؟ہاں مزید غضب کا شکار ہونے کے لئے کوشش تو مشرک ہر زمانے میں کرتا ہے۔ یاد نہیں کہ بدر کے شکست خوردگان اُحد میں انتقام لینے آئے تھے۔ کچھ لاشیں گرا دینے میں ضرور کامیاب ہوئے تھے مگر خود بھی اُسی قدر لاشیں چھوڑ کر خائب و خاسر لوٹے تھے۔ بدلہ لینے کا خواب، اِعلان فتح کا خواب بس خواب و سراب ہی رہا، کبھی اُن کے لئے حقیقت نہ بن سکا۔

مدینہ والے مگر نہ بدر پر رُکے، نہ اُحد پر، وہ تو آگے بڑھتے رہے حتی کہ

’’ جب آ پہنچی اللہ کی نصرت اور فتح ‘‘ ( النصر)

انہوں نے مکہ فتح کیا اور اللہ کی زمین کو ’’رجس من الاوثان‘‘ سے پاک کیا۔ انہوںنے شرک کی کمر ایسی توڑی کہ وہ چودہ پندرہ صدیاں محنت کر کے بھی واپس اس سرزمین پر نہ آ سکا اور نہ قیامت تک آ سکے گا۔ انہوں نے بیت اللہ پر نصب بت گرادئیے اور شرک کا عَلَم زمین بوس کر دیا۔

مشرک کو آج بھی یاد ہے اس لئے موہن بھاگوت آر ایس ایس کے سالانہ اِجتماع میں ہر سال اِعلان کرواتا ہے کہ مکہ ہمارا شہر تھا۔ہندو دھرم کا مرکز تھا۔ مسلمانوں نے ہم سے چھینا ، ہمارے دیوی دیوتاؤں کا اپمان کیا، ہم اسے واپس لیں گے۔

مدینہ والے پھر بھی رُکے نہیں۔ وہ ہندوستان آئے اور اسے مرکزِ اسلام بنایا ۔ کیونکہ ہندوستان پر جہاد کی فضیلت کا اِعلان مدینہ سے ہوا تھا اور کچھ اس انداز میں ہوا تھا کہ مدینہ والے اس میں جان ومال سے شرکت کی تمنا میں بے تاب ہوتے تھے۔ یہ بے تابی اگلی نسلوں کو منتقل ہوتی گئی اور سعید روحوں نے ہر زمانے میں اس فضیلت کو پایا۔

بہت فضول اور عجیب سی بحث چھیڑتے ہیں کئی لوگ کہ غزوۂ ہند کی اس فضیلت کا مصداق فلاں لڑائی ہے یا فلاں۔ حدیث مبارک میں خطۂ ہند پر ہونے والے جہاد کی فضیلت ذکر ہوئی اور اس میں حصہ لینے والوں کو جہنم سے آزادی کی بشارت سے نوازہ گیا۔ خطۂ ہند بھی قائم ہے اور جہاد بھی جاری ہے۔ اس میں نہ اول کا ذکر ہے نہ آخر کا۔ مجاہدین سے بغض کئی لوگوں کو ایسی فضول تاویلات پر مجبور کرتا ہے ۔یہ فضیلت اگر کسی مخصوص زمانے کے ساتھ ہوتی ( جیسا کہ بہت سے لوگوں کے خیال میں پہلا اور کئی لوگوں کے خیال میں آخر زمانہ کا جہاد مراد ہے) تو اس کی وضاحت ہوتی۔ مثال سے سمجھئے:

بحری جہاد کے ایک عمومی فضائل ہیں وہ قیامت تک کے لئے ہیں۔ ایک خاص فضیلت آئی کہ بحری جہاد کے ایک پورے لشکر کے لئے جنت کا پکا وعدہ ہے۔ اس حدیث میں جو خاصل فضیلت تھی اس کے ساتھ تعیین کر دی گئی کہ یہ بحری جہاد کے سب سے پہلے اسلامی لشکر کے لئے ہے۔ اب اس میں یہ بحث ہی نہ رہی کہ اس فضیلت کا مصداق فلاں لشکر ہے یا فلاں۔ غزوۂ ہند کی فضیلت عمومی آئی ۔ اس میں نہ پہلے کا ذکر ہے نہ آخری کا۔ اس لئے یہ فضیلت ہند پر جہاد کرنے والے ہر لشکر کو ملے گی۔ ہند کانام نبی کریم ﷺ کے زمانے سے بھی پہلے کا ایک مخصوص خطہ زمین کے لئے مخصوص ہے اور یہاں بت پرست مشرکوں کا ہی بسیرا رہا۔ بس اس خطۂ زمین میں ہونے والا ہر جہاد غزوۂ ہند ہے۔

بات دوسری طرف نکل رہی ہے لیکن ضروری تھی کیونکہ کافی پوچھی جا رہی ہے اس لئے عرض کر دی۔ اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔ مدینہ والوں کی مشرکین سے آویزش آج کی بات نہیں، ایک تاریخی تسلسل ہے۔ اس تسلسل کی ایک اٹل حقیقت یہ ہے کہ مشرک اِعلان فتح سے محروم چلا آ رہا ہے۔ اس غزوے کا ہر مرحلہ اس بات کا شاہدِ عدل ہے اورتاریخ کے اَوراق اس پر صاد کر چکے کہ مشرک نے ہمیشہ شکست کھائی اور رُسوائی اس کے حصے میں آئی اور احادیث مبارکہ کے مطابق غزوۂ ہند کا سب سے آخری معرکہ بھی اسی پر منتج ہو گا۔ ایک ایسی قوم جسے دنیا کی قدیم ترین اَقوام میں سے ایک ہونے، علم و تمدن کی مرکزیت اور نہ جانے کیا کیا دعوے ہوں، ایک ایسی قوم کے مقابل کھڑی ہو جو بہت کم عمر ہواور ہمیشہ شکست ہی اس کا مقدر بنی ہو۔ اس کی یہ تاریخ اس کے لئے کس قدر تکلیف دِہ ہو گی، ہم اور آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔ اس کی شدت کا اِحساس صرف انہیں ہی ہو سکتا ہے۔اس قوم پر کتنے لیڈر اور سالار ایسے آئے جنہوں نے یہ تاریخ بدلنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ زبان سے خواہ وہ اپنے سالاروں کے لئے کچھ بھی دعوے کرتے ہوں لیکن مسلمہ حقیقت بہرحال یہی ہے کہ اسلام و شرک کی اس پندرہ صدیوں پر محیط لڑائی میں فتح کا پلڑا ایک ہی جانب جھکا رہا ہے۔ ابوجہل اور شیوا جی کے حالیہ جانشین مودی کی ان تمام تر کاوشوں کا لب لباب یہی ہے کہ یہ مرحلہ بھی تاریخ میں بدلاؤ لانے کی کوششوں کا تسلسل ہے۔ یہ کس انجام کی طرف بڑھ رہا ہے؟ ان شاء اللہ تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دُہرائے گی۔

پلوامہ واقعے نے غزوۂ بدر کی یاد تازہ کی۔ ہمارے لئے بھی اور مشرک کے لئے بھی۔ بالکل وہی منظر تھا۔ ہماچل پردیش سے مینا کماری تک سوگ تھا اور کشمیر میں چراغاں اور آتش بازی۔

یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ تاریخ اپنے آپ کو نہ دُہراتی اور مشرک انتقام کے لئے پاگل ہو کر اُحد کی طرف نہ نکلتا؟ سو وہی ہوا۔ اب اُحد کا منظر ہے۔لاشیں ، زخم، بعض قلوب میں کچھ کچھ مایوسی اور اندیشے، منافقین کی بزدلانہ باتیں، عقل اور مادیت کی پروازیں اور دانشوری، مشرکین کی وَقتی خوشی اور عارضی شادیانے، اسلام اور مسلمانوں کا ساتھ چھوڑ کر کفر کی طرف جھکنے والوں کی چستیاں اور دوڑیں،ضعف اور وہن کا دوردورہ اور استکانت کی کھلی دعوت، ذرا سا تاریخ پڑھ کر غور تو کیجئے۔ سو فیصد وہی منظر ہے

 اب کان لگائیے!

مدینہ کی طرف رُخ کیجئے!

اور سنئے! آواز آ رہی ہے

وانتم الاعلون ، وانتم الاعلون ، وانتم الاعلون ان کنتم مومنین

تمہی غالب ہو، تمہی غالب ہو، تمہی غالب ہو بس ایمان پر رہو۔

بدر و اُحد کا سفر فتح مکہ پر جا کر ہی ختم ہو گا۔اس میں شک نہ کرو۔

کشمیر زمین کی نہیں، دو مذاہب کی، دو عقیدوں کی اور دو اَزلی دشمنوں کی لڑائی ہے۔ تمہاری زبانیں اگر یہ کہنے سے گنگ ہیں اور دنیا کی غلامی تمہیں یہ کہنے سے روکتی ہے تو مت کہو لیکن کفار سے پوچھو۔ واشنگٹن پوسٹ جیسے کفر کے ترجمان ہمارے موقف کی تائید کر رہے ہیں۔

کشمیر ایمان و شرک کی لڑائی ہے اور تاریخ اس میدان میں اسلام کی ایک فتح اور شرک کی ایک اور بدترین ہزیمت لکھنے والی ہے۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor