Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جو چاہو رہو تم سدا زندہ زندہ

 

جو چاہو رہو تم سدا زندہ زندہ

Madinah Madinah

یہ مدینہ مدینہ کا ایک منظر ہے، حضرت آقا مدنیﷺ کی پُرنور، پُرہدایت مجلس سجی ہوئی ہے، فداکارانِ اسلام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں، زبانِ مبارک سے جو دُریکتا جیسے اَقوالِ زریں چمکتے ہوئے رونما ہوتے ہیں، تو حضرت آقا مدنیﷺ کے یہ پروانے ہمہ تن گوش ہوکر، نہایت ادب سے اسے سنتے ہیں اور اپنے دِل و دماغ میں محفوظ کررہے ہیں۔

ایسی ہی ایک پُرنور مجلس میں ارشاد ہوتا ہے:

’’تم پر ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ دنیا کی قومیں تمہیں کھانے(مٹانے) کے لیے اس طرح تم پر چڑھ دوڑیں گی جس طرح کھانے کے دسترخوان پر کھانے والے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔‘‘

جانثار صحابہ حیران ہوتے ہیں، کیوں کہ انہوں نے تو شدیدسے شدید تر حالات میں بھی وقت کے مشرکین کو ایسی جرأت نہیں کرنے دی تھی۔ اس لیے پوچھتے ہیں:

’’اے اللہ کے رسول! کیاہم تعداد میں بہت تھوڑے ہوں گے اس لیے ایسا ہوگا؟‘‘

حضرت آقامدنیﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’نہیں!(تمہاری تعداد تو بہت زیادہ ہوگی)لیکن تم ایک (بے وقعت اور بے اثر)جھاگ ہوگے جس طرح کہ سمندر کی جھاگ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا خوف نکال دیا ہوگا اور تمہارے دلوں میں ’’وہن‘‘ ڈال دیا ہوگا‘‘

یہ سن کر جانثاروں کی جماعت پوچھتی ہے:

’’اے اللہ کے رسول! یہ’’وہن‘‘ کیا چیزہے؟‘‘

حضرت آقا مدنیﷺ نے فرمایا:

’’دنیا کی محبت اور موت سے نفرت‘‘

(سنن ابی داؤد)

اب آپ بتائیے کہ کیا یہ حدیث مبارک محض ایک پیش گوئی ہے یا کوئی پیغام بھی ؟

اگر آپ غور کریں گے تو یقینا اس نتیجے پر آسانی سے پہنچ جائیں گے کہ یہ مبارک حدیث محض ایک پیش گوئی نہیں ہے بلکہ درحقیقت پیش گوئی کے ضمن میں ایک ’’پیغام‘‘ ہے، کامیابی کا پیغام، عزت کا پیغام، سربلندی کا پیغام، غلبے اور قوت کا پیغام،اور دُشمنانِ اسلام کے گھیرے سے نکلنے کے راستے کی نشاندھی۔

مدینہ مدینہ ’’پیغامِ رحمت‘‘ ہے اور اس درج بالا پیغام میں بھی ’’رحمت‘‘ صاف صاف جھلک رہی ہے۔

اَقوامِ عالَم کے نرغے میں گِھری امت کو نجات کا کوئی بھی ایسا راستہ نہیں بتایاجارہا جو بہت ہی مشکل ہو، جو بہت ہی زیادہ مال و دولت کا تقاضا کرتاہو، جو بہت زیادہ اَفرادی قوت کا محتاج ہو، جو بڑی بڑی سائنسی ترقیات اور سائنسی ایجادات کا محتاج ہو، جس کے لیے اربوں کھربوں کے بجٹ کی ضرورت ہو، اگر حق کے غلبے کے لیے بھی ان سب ہی چیزوں کی ضرورت ہو تو پھر حق اور باطل میں امتیاز اور فرق کیا بچے گا؟؟

اس لیے سمجھایا جارہا ہے کہ تمہیں بس دو کام کرنے ہوں گے:

دنیا کی محبت سے اپنے دل کو صاف کرنا ہوگا

اور موت کی نفرت سے بھی دل کو صاف کرنا ہوگا

جی ہاں! دنیا کے بجائے آخرت کا شوق جس قدر غالب ہوگا، تو یہ دنیا پاوں کی زنجیر نہیں بنے گی، دنیاکی عزت کے بجائے آخرت کی عزت کو ترجیح دو گے تو کافروں سے ملنے والے عزت محض ایک دھوکہ نظر آئے گی۔

اور جب موت کی نفرت دل سے نکلے گی، تو شہادت کا شوق دل میں پیدا ہوگا، اس راہ میں لگنے والے زخم تمغے محسوس ہوں گے، اس راہ میں لٹنے والا قیمتی بنتا ہوا دکھائی دے گا، اس راہ میں چھوٹنے والے گھر بار جنت کے محلات محسوس ہوں گے، اس راہ میں خوف سے کاٹے ہوئے شب و روز قبر و حشر کا سکون اور امن دکھائی دیں گے، اس راہ میں لٹائی جانے والی جان کھلی فضاؤں میںپرواز کرتی پُرسکون زندگی کا نقشہ دِکھائے گی۔

جو چاہو رہو تم سدا زندہ زندہ

کٹاؤ یہ گردن بنامِ مدینہ ، بہ عشقِ مدینہ

ملے گی تمہیں دو جہانوں کی دولت

جو دِل میں بساؤ مدینہ مدینہ ، مدینہ مدینہ

٭…٭…٭

 

درودِ تُنْجِیْنَا

اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ صَلاَۃً تُنْجِینَا بِہَا مِنْ جَمِیعِ الأَہْوَالِ وَالآفَاتِ ، وَ تَقْضِی لَنَا بِہَا جَمِیعَ الْحَاجَاتِ ، وَ تُطَہِّرُنَا بِہَا مِنْ جَمِیعِ السَّیِّئاتِ ، وَ تَرْفَعُنَا بِہَا عِنْدَکَ أَعْلَی الدَّرَجَاتِ ، وَ تُبَلِّغُنَا بِہَا أَقْصَی الْغَایَاتِ ، مِنْ جَمِیعِ الْخَیْرَاتِ فِی الْحَیَاۃِ وَ بَعْدَ الْمَمَاتِ وَ عَلٰی آلِہِ وَ صَحْبِہِ وَ سَلِّمْ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔

حلِ مشکلات اور دفعِ مصائب کے لیے عشاء کی نماز کے بعد اَسّی مرتبہ پڑھنا مفید اور مجرب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَ رَسُوْلِکَ وَ صَلِّ عَلٰی الْمُوْمِنِیْنَ وَ الْمُوْمِنَاتِ وَ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمَاتِ ۔

حل مشکلات اور دفعِ مصائب کے لیے ستر بار پڑھنا مفید اور مجرب ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ اَزْوَاجِہِ اُمَّہَاتِ الْمُوْمِنِیْنَ وَ ذُرِّیَّتِہِ وَ اَھْلِ بَیْتِہِ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی آلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ ۔

حل مشکلات اور دفعِ مصائب کے لیے اکتالیس بار پڑھنا مفید اور مجرب ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor