Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

بُلندی کا سفر

 

بُلندی کا سفر

Madinah Madinah

 مدینہ والے جب تھکے ہوئے یا پراگندہ حال نظر آتے ہیں تو حقیقت میں مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ایک سیڑھی مزید اوپر چڑھ گئے ہیں لیکن ان کے حال سے ناواقف شخص انہیں ہارا ہوا سمجھ لیتا ہے۔ رائے کی یہ غلطی ایک بار نہیں، بار بار نظر آتی ہے۔ انجام کار بتاتا ہے کہ دیکھنے والوں کے اَندازے غلط تھے۔
مدینہ والوں نے افغانستان میں روس کو شکست دی۔ کہنے والوں نے کہا ان کا تو کوئی کمال نہیں۔ امریکہ جیسی سپرپاور کی سرپرستی میں ساری دنیا اُن کے ساتھ تھی۔ پاکستان جیسا بیس کیمپ انہیں میسر تھا۔ان کے لئے ہجرت کے راستے کھلے تھے۔ ہر طرف آمدورفت آسان تھی۔ ان کے موقف اور تحریک کو عالمی حمایت دستیاب تھی۔ اسلحہ فلاں کا تھا اور پیسہ فلاں بن فلاں کا۔ اہلِ حرم سے اہل کلیسا تک سب ان کے پُشت پَناہ تھے وغیرہ وغیرہ۔ یہ اندازے لگانے اور ان کا پرچار کرنے والوں نے نہ تو کبھی اس سوال کا جواب دیا کہ یہ سب لوگ روس کی مقاومت کی قوت رکھتے تھے تو باوجود اپنی طاقت کے اس کے سامنے کبھی خودکھڑے کیوں نہ ہو سکے؟۔ اور نہ یہ حقیقت ظاہر کرتے ہیں کہ روس کے خلاف مدینہ کے بیٹوں کا جہاد اس وقت زور شور سے شروع ہوا تھا جب ان میں سے کوئی اُن کے ساتھ نہ تھا۔ جہاد فتح کی راہ چل پڑا تو یہ سب اس کی طرف لپک کر آئے تھے۔ بہر حال اس تحریک پر جس نے اِحیائِ جہاد کی ایسی شمع روشن کی جس کی لَو آج تک عالَم کفر کو جَلا اور اہل ایمان کے جذبوں کو جِلا رہی ہے، یہ تہمت لگ گئی اور میڈیا کے زور پر یہ بات ہر ذہن میں بٹھا دی گئی۔
پھر یوں ہوا کہ امریکہ نے مدینہ کے ان بیٹوں پر چڑھائی کی۔ وہ روس کی طرح اکیلا نہیں آیا بلکہ پورے عالَم کفر کو ساتھ لے کر تاریخِ اِسلام کا سب سے بڑا فوجی اِتحاد بنا کر آیا۔ امریکہ کی عسکری قوت بھی روس سے کئی گنا زیادہ تباہ کن تھی اور دنیا بھی اس کے ساتھ تھی۔ ’’ بیس کیمپ‘‘ بھی اس بار جہاد کا نہیں، اس فساد کا فرنٹ لائن اتحادی تھا۔ یلغار اتنی خوفناک تھی کہ سب کچھ ملیامیٹ ہوتا نظر آیا۔ طعنہ زن زیرِ لب نہیں بلکہ قہقہے مار کر ہنستے اور ٹھٹھا اُڑاتے کہ دیکھ لی جہاد کی قوت؟ اور ساتھ چلنے والے روز راستہ بدلتے تھے۔ مدینہ والے سب کو مٹتے اور ختم ہوتے نظر آئے اور اندازہ لگا لیا گیا کہ:
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے ، صبح گیا یا شام گیا
لیکن مدینہ کا مزاج سمجھنے والوں نے کہا نہیں۔ لشکر سیڑھی اُترا نہیں بلکہ ایک بلند زینہ اوپر چڑھا ہے۔ یہ پھولی ہوئی سانس اور خراب ہوتا حال دراصل اس کا اثر ہے۔ سانس بحال ہونے دو دیکھ لینا کون اوپر گیا اور کون گِرا۔ آج دنیا کا ہر ذی ہوش فرد کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے کہ مدینہ کے بیٹے بلندیوں پر کھڑے فتح کے نعرے بلند کر رہے ہیں اور ان کے دشمن پستیوں میں گرتے ہوئے سہارے ڈھونڈ رہے ہیں۔ جہاد نے تہمت اُتار پھینکی۔ اپنی اَصل طاقت دِکھا دی۔ دنیا میں جب کوئی ظاہری سہارا اس کے ساتھ نہ رہا حتیٰ کہ جن پر ساتھ رہنا فرض کر دیا گیا تھا اُنہوں نے بھی راستے بدل لئے، تب اُس نے ایک فتح مبین حاصل کی۔ آج اَندازے لگانے والوں اور اَٹکل پچو باتیں بنانے والوں کی زبانیں گنگ ہیں کہ اس فتح کا تاج وہ کسی اور کے سر پر رکھنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ تو خالص مدینہ والوں کی فتح ہے جس میں کسی کا ذرہ برابر حصہ بھی شامل نہیں۔

اب تو ٹوٹے ہوئے بھی واپس لوٹ رہے ہیں اور ان کے قتل میں حصہ دار بننے والے بھی منہ چھپائے سر جھکائے ان کی صف میں جگہ پانے کی کوشش میں ہیں۔ آج پھر مساجد کے منبر و محراب ان کی باتوں سے گونج رہے ہیں اور دوریاں اِختیار کر لینے والے شرمندگی کے ساتھ قربتیں اِختیار کر رہے ہیں۔

’’ پس اگر تمہیں اللہ کی طرف سے فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ‘‘ (سورۃُ النساء )

٭…٭…٭

آج کشمیر میں بھی مدینہ کے بیٹوں کا یہی حال ہے۔ وہ تھکے ہوئے، پراگندہ حال، بظاہر مِٹتے ہوئے، ختم ہوتے ہوئے دِکھائی دے رہے ہیں اور ان کے حوالے سے بھی مایوسی پھیل رہی ہے لیکن حقیقت یہاں بھی وہی ہے کہ وہ ایک زینہ پار کر گئے ہیں۔ کون ہے جو نشیب سے بلندی کا سفر کرے اور اُس کا حال خراب نہ ہو ؟

گرد چھٹنے دو، سانس بحال ہونے دو ایک بدلا ہوا کشمیر اور ایک تہمتوں سے پاک تحریکِ کشمیر کا جلوہ ظاہر ہونے والا ہے۔ جہادِ کشمیر کشمیریوں کی تحریک نہیں ہے۔ کشمیری پُر اَمن جدوجہد کے قائل ہیں۔ مسلح تحریک تو باہر سے آنے والے مجاہدین نے اُٹھا رکھی ہے۔ جہاد کشمیر بس فلاں بن فلاں کے مفادات کا تابع ہے۔ وہ جب چاہیں اس کی سانسیں گرا دیں اور جب چاہیں اس کی نبض تیز کر دیں وغیرہ وغیرہ۔ ان باتوں نے اس بدری مقدس جہاد کی تصویر دھندلا رکھی ہے لیکن اب دنیا دیکھ لے گی ۔ افضل گورو شہید کے خواب کے مطابق وہ تحریک دنیا کے سامنے آئے گی جس میں کشمیر کے ہر گھر سے آفاق، فردین اور برہان وانی جیسے نوجوان ہاتھوں میں ہتھیار تھامے نکلتے نظر آئیں گے۔ اس جہاد کے نعرے ہندوستان کے گلی کوچوں میں گونجیں گے اور اس کی یلغار اب سرینگر اور پلوامہ تک محدود رہنے کی بجائے آگے بڑھ جائے گی کیونکہ درمیان میں سرحد کی کوئی لکیر نہیں ہے۔ کل تک علیحدگی پسند اور ہند نواز میں بٹا کشمیر، اب یکسو ہو کر ایک نعرے پر متحد نظر آئے گا۔ جن گھروں میں کل تک انڈیا کے مخبر بستے تھے اور مجاہدین ان کے قریب ٹھکانہ لیتے ہوئے بھی گھبراتے تھے مجاہدین کے مرکز ومسکن بن جائیں گے۔ ہند نواز، جہاد نواز ہو جائیں گے اور پتھربَردار گن بَرداروں کا روپ دھار لیں گے۔ دشمن کا تو صرف دن آیاہے اسے گذر جانے دیجئے کشمیر کی سرزمین پر جہاد کا دور آئے گا اور ایک نئی آب و تاب کے ساتھ شروع ہو گا۔ اس دور جدید کا پورا تعارف اور منہج آج سے سالوں پہلے تہاڑ جیل کے ایک تاریک سیل سے لکھ دیا گیا اور کشمیر کے ایک ایک فرد تک پہنچا دیا گیا، جسے اس تحریک کو دیکھنا ہو افضل گورو شہید کے ’’آئینہ‘‘ میں دیکھ لے۔

افغانستان میں مدینہ کے بیٹوں کی آج سے 18 سال پہلے کی حالت اور ان کا آج دنیا بھر کے اہل ایمان اہل جہاد کے لئے بھی مثال ہے اور اہل کفر ونفاق کے لئے بھی۔ جہاد پر یہ مشکل وقت آتا ہے صرف اس لئے کہ جہاد آگے بڑھے، ترقی کرے، نقصان دِہ اور غیر ضروری وابستگیوں سے آزاد ہو، بے جا تہمتوں سے پاکی حاصل کرے، جھوٹے سہاروں سے خلاصی پائے اور اپنی شان اور قوت کے ساتھ قدم بڑھائے۔ اس کے راستے میں مشکل چڑھائیاں آ جاتی ہیں تاکہ سہل پسند اپنا راستہ بدل لیں اور گریز پا راہِ فرار اختیار کر لیں ۔ صرف وہ رہیں جو بلندیوں کے لائق ہوں اور سرفرازیوں کے سزاوار ہوں۔ بس وہی وقت آیا ہے جس میں تاریخ کا ایک بے رحم باب تشکیل پاتا ہے۔ نام لکھے جاتے ہیں اور مقام متعین ہوتے ہیں۔ کون کہاں کھڑا تھا اور کس حال میں کھڑا تھا؟ اگلی نسلوں کے لئے محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ ٹیپو کہلانے والے میرقاسم طشت ازبام ہوتے ہیں اور سچے جھوٹے پر پکی مہر لگا دی جاتی ہے۔ بس یہ مرحلہ گذر جانے والا ہے۔ ہر ایک نے اپنا اپنا کردار ظاہر کر دیا اور تاریخ میں مقام کی تعیین کر لی ہے۔ اب منظر بدل جائے گا اور پھر تھوڑے ہی دن بعد سچے سرفراز ہو جائیں گے اور جھوٹوں کے حصے میں شرمندگی آئے گی۔ فرعون کا سر جھک جائے گا اور وہ ڈوبتے ہوئے مدد کے لئے پکارے گا اور مدینہ والے بدر کی شان پائیں گے۔

مدینہ کے بیٹوں کا افغانستان ایک واقعہ نہیں ایک مسلسل چلی آ رہی مثال ہے۔


ہے کوئی جو عبرت حاصل کرے، جو نمو نہ پکڑے!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor