Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سرکارِ مدینہ ﷺ کے پیارے

 

سرکارِ مدینہ ﷺ کے پیارے

Madinah Madinah

آپ نے یہ مقولہ تو سن رکھا ہو گا :

’’ ایں خانہ ہمہ آفتاب است ‘‘

یہ اس وقت بولتے ہیں جب کسی خاندان میں سب بڑے چھوٹے قابل تعریف ہوں اور سب ہی دادو تحسین کے لائق ہوں ۔ یہ جملہ ہزاروں نہیں لاکھوں مرتبہ بولا اور لکھا گیا ہو گا لیکن سچی بات یہ ہے کہ خاندانِ نبوت سے بڑھ کر اس جملہ کا مصداق اور کوئی ممکن ہی نہیں ۔

یہ چار احادیث مبارکہ ایک دوسرے سے ملا کر پڑھیں:

(۱)…عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ:انا سید ولد آدم یوم القیامۃ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں قیامت کے دن تمام انسانوں کا سردار ہوں گا ۔ (صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، باب تفضیل نبیناﷺ علی جمیع الخلائق ، رقم الحدیث : 2278، طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

(۲)…عن الحسن بن علی رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللّٰہﷺ:انا سید ولد آدم و علی سید العرب(المعجم الکبیر ، الطبرانی ، عن الحسن بن علی رضی اللہ عنہ ، رقم الحدیث :2749)

حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمام انسانوں کا سردار ہوں اور علی سارے عرب کے سردار ہیں ۔

(۳)… عن مسروق قال اخبرتنی عائشۃ قالت …ثم قال لی یا فاطمۃ الا ترضین انک سیدۃ نساء ھذہ الامۃ او سیدۃ نساء العالمین فضحکت

 حضرت مسروق رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا (آگے طویل حدیث ہے ، جس کے آخری جملے یہ ہیں) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پھر مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے فاطمہ ! تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی یا یوں فرمایا کہ تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہو گی ۔ یہ سن کر میں ہنس پڑی۔( سنن النسائی الکبری ، رقم الحدیث :7041)

(۴)… عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال:قال رسول اللّٰہﷺ:الحسن و الحسین سیدا شباب اھل الجنۃ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں ۔(سنن الترمذی ، ابواب المناقب عن رسول اللہﷺ، باب مناقب الحسن والحسین علیہما السلام ، رقم الحدیث :3775طبع دارالکتب العلمیہ بیروت)

ان فرامین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ لینے کے بعد کون ہو گا جس کو اہل بیت عظام کی عظمت اور فضیلت میں ذرا بھی شک و شبہ باقی رہ جائے۔بے شک خاندانِ نبوت کے وہ افراد جو آسمانِ ہدایت کے آفتاب و مہتاب بن کر چمکے ، ان کی محبت اور عقیدت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔

امام اہل سنت حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے ایمان افروز اشعار میں حضرات خلفاء ثلاثہ ابو بکر و عمراور عثمان رضی اللہ عنہم کی ثناء خوانی اور مدح اہل بیت کرنے کے بعد فرماتے ہیں:

ان کان رفضا حب آل محمد

فلیشھد الثقلان انی رافضی

(اگر آل محمد ﷺسے محبت کرنا رفض ہے تو جن و انس گواہ رہیں کہ میں رافضی ہوں) 

مزید فرماتے ہیں :

اذا فی مجلس نذکرعلیا

وبسطیہ وفاطمۃ الزکیہ

(جب ہم کسی مجلس میں حضرت علیؓ کا ذکر کرتے ہیں اور حسنین ؓ اور فاطمہ زکیہ کی یاد تازہ کرتے ہیں )

یقال تجاوز وایا قوم ھذا 

فھذا من حدیث الرفضیہ

(تو کہا جاتا ہے کہ اے لوگو اس کو چھوڑدو ،کیونکہ یہ روافض والی باتیں کر رہا ہے )

برئت الیٰ المھین من اناس

یرون الرفض حب الفاطمیۃ

(میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ایسے لوگوں سے برأت کرتا ہوں جو اولاد فاطمہ سے محبت کو رفض سمجھتے ہیں ) (دیوان امام شافعی  ؒ )

اللہ تعالیٰ ہمیں صحابہ کرام ؓاور اہل بیت عظام کی محبت والی زندگی عطا فرمائے اور اسی پر ہمارا خاتمہ فرمائے۔(آمین ثم آمین)

 

ہجری تقویم کی اہمیت

ہجری تقویم اسلامی تقویم ہے ۔ اس کا تعلق اسلامی تاریخ اور تہذیب اسلامی سے ہے ۔ اس کا سلسلہ صحابہؓ، خلفائے راشدینؓ اور نبیﷺ تک پہنچتا ہے ۔ کتب تاریخ وسیرت اور کتب تفاسیر واحادیث میں اسی سنہ کا استعمال ہے ۔ نبیﷺ اور اپنے اسلاف صحابہؓ وتابعین سے حقیقی واقفیت کے لیے اور اسلامی تاریخ جاننے کے لیے اس سنہ کا استعمال اور اس کی واقفیت ضروری ہے ۔ ہجری تقویم قمری بنیادی پر قائم ہے ۔ قرآن مجید میں چاند کا ایک فائدہ‘‘ لتعلموا عدد السنین والحساب’’ بتایا گیا ہے ۔ (یونس:5، توبہ: 37) یہ تقویم اس آیت سے مناسبت رکھتی ہے ۔خلفائے راشدین سے لے کر عہد بنو امیہ، بنوعباس، عہد عثمانی تک تمام مسلمانوں کا تعامل اسی پر سرکاری وعوامی سطح پر رہا ہے اور اسی سنہ کا زور رہا ہے ۔ بلکہ مسلمانوں کے دور عروج میں سنہ ہجری کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوچکی ہے ۔ دسویں صدی عیسوی سے پہلے تک دیگر قوموں نے بھی اس کا استعمال کیا ہے ۔ اس وجہ سے یہ تقویم اسلامی تہذیب کا حصہ اور مسلمانوں کی علامت بن گئی ہے ۔ سنہ ہجری کے بغیر اسلامی تہذیب، اسلامی ریاست اور مسلمان معاشرہ کا تصور نہیں رہتا بلکہ یہ لازم وملزوم کی حیثیت اختیار کرگئی ہے ۔ہجری تقویم کی اہمیت

ہجری تقویم اسلامی تقویم ہے ۔ اس کا تعلق اسلامی تاریخ اور تہذیب اسلامی سے ہے ۔ اس کا سلسلہ صحابہؓ، خلفائے راشدینؓ اور نبیﷺ تک پہنچتا ہے ۔ کتب تاریخ وسیرت اور کتب تفاسیر واحادیث میں اسی سنہ کا استعمال ہے ۔ نبیﷺ اور اپنے اسلاف صحابہؓ وتابعین سے حقیقی واقفیت کے لیے اور اسلامی تاریخ جاننے کے لیے اس سنہ کا استعمال اور اس کی واقفیت ضروری ہے ۔ ہجری تقویم قمری بنیادی پر قائم ہے ۔ قرآن مجید میں چاند کا ایک فائدہ‘‘ لتعلموا عدد السنین والحساب’’ بتایا گیا ہے ۔ (یونس:5، توبہ: 37) یہ تقویم اس آیت سے مناسبت رکھتی ہے ۔خلفائے راشدین سے لے کر عہد بنو امیہ، بنوعباس، عہد عثمانی تک تمام مسلمانوں کا تعامل اسی پر سرکاری وعوامی سطح پر رہا ہے اور اسی سنہ کا زور رہا ہے ۔ بلکہ مسلمانوں کے دور عروج میں سنہ ہجری کو بین الاقوامی حیثیت حاصل ہوچکی ہے ۔ دسویں صدی عیسوی سے پہلے تک دیگر قوموں نے بھی اس کا استعمال کیا ہے ۔ اس وجہ سے یہ تقویم اسلامی تہذیب کا حصہ اور مسلمانوں کی علامت بن گئی ہے ۔ سنہ ہجری کے بغیر اسلامی تہذیب، اسلامی ریاست اور مسلمان معاشرہ کا تصور نہیں رہتا بلکہ یہ لازم وملزوم کی حیثیت اختیار کرگئی ہے ۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor