Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

محمد، محرم اور مدینہ

 

محمد، محرم اور مدینہ

Madinah Madinah

کی محمد سے وَفا تو نے تو ہم تیرے ہیں

یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لو ح و قلم تیرے ہیں

محمدآقامدنیﷺ وہ عظیم البرکت اور شریف النسبت کریم ذات ہیں کہ جو بھی چیز اُن کے ساتھ جڑی، اس میں عظمت اور شرافت سما گئی۔

محرم میں اسلامی نئے سال کی شان اسی محمدی نسبت کا فیضان ہے اور ’’یثرب‘‘ جو ’’مدینہ‘‘ بنا تو وہ بھی اسی محمدی فیضان کا کمال ہے۔

یہ فیضِ محمد کی جلوہ گری ہے

بنا ہے وہ یثرب ، مدینہ مدینہ

رہے تاابد اب وہ، بالا ہی بالا

بَسا جس بھی دل میں ، مدینہ مدینہ

ان دِنوں محرم کا مہینہ شروع ہوچکا ہے، اگرچہ یہ محرم شریعت محمدیہ سے پہلے بھی قابل احترام تھا،مگر شریعت محمدیہ نے اس میں مزید تاکید پیداکی، اور شریعت محمدیہ کے ہی ایک عظیم پیروکار حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی مشاورت اور رائے سے اسلامی تاریخ و تقویم کا آغاز اسی مہینے سے کیاگیا اور یہ حضرت عمر وہ جلیل القدر صحابی ہیں کہ ان کی متعدد آرائے گرامی ایسی تھیں کہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے انہی کے موافق وحی فرما کر انہی کی رائے پر شریعت کی تصدیقی و توثیقی مہر لگا دی۔

غور کیا جائے تو محرم الحرام سے اسلامی سال کے آغاز میں کئی پیغام موجود ہیں:

محرم : حرمت بمعنیٰ احترام سے ہے، اس میں اشارہ تھا کہ ایک مسلمان کی زندگی کے ہر اہم کام کا آغاز قابل احترام طریقے سے ہونا چاہیے۔

محرم: حرمت بمعنیٰ حرام سے ہے، یعنی اس ماہ میں کبیرہ گناہوں کی حرمت عام مہینوں کی بہ نسبت بڑھ جاتی ہے۔ اس میں اشارہ تھا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا ہر اہم کام کا آغاز نیکی پر مشتمل مجالس کے ذریعے ہونا چاہیے، گناہوں والی مجالس سے نہیں ہونا چاہیے۔

کسی بھی اہم کام یا وقت کا آغاز عموماً بہت ہی زیادہ خوشی کا وقت ہوتا ہے اور انسان پر خوشی کے وقت ہی شیطان بھرپور حملے کرتا ہے، انسان کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں اور ان کا شکر بھلادیتا ہے تاکہ انسان ناشکری میں ڈوب جائے اور جب تک یہ نعمت موجود رہے تو اس کے لیے وَبال بنتی جائے اور جب چھن جائے تو بھی وَبال کااضافہ ہی کر کے جائے۔ لیکن یہ محرم کا مہینہ یاد دلاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں حرمت والا ہے، اس میں گناہ پر جری ہونا اس کی بے حرمتی کرنا ہے جو کہ ایک مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔

محرم: ہجرت نبویہ کامہینہ ہے، اس میں اشارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان کو ہمیشہ ہجرت نبوی یاد رکھنی چاہیے۔

محرم: ہجرت نبویہ کا مہینہ ہے، اس میں اشارہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو دین کے لیے جو بھی قربانی دینا پڑے تو وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو، اس موقع پر وہ اپنے نبیﷺ کی اس قربانی کو سامنے رکھ لے، تو اس کے لیے خود پر آئی ہوئی مشکلات آسان ہوجائیں گی۔

محرم: ہجرت نبویہ کا مہینہ ہے، اور ہجرت نبویہ سے اسلام کے غلبے کا دور شروع ہوا، اس میں اشارہ یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اپنی زندگی میں دین کے غلبے کے لیے فکر مندرہنا چاہیے، غلبۂ دین کے لیے کوشاں رہنا چاہیے، اور غلبۂ دین کو اپنی زندگی کا اہم ترین نصب العین رکھنا چاہیے۔

محرم: ہجرت نبویہ کا مہینہ ہے، اس میں اشارہ یہ بھی ہے کہ غلبۂ دین کے لیے ہجرت ایک ناگزیر عمل ہے، اگرچہ وہ مکہ مکرمہ سے پاکیزہ شہر سے ہی کیوں نہ ہو!

محرم: ’’شہر اللہ‘‘ہے یعنی اللہ کا مہینہ ہے۔ اللہ نے اسے خاص فضیلت اور اہمیت دی ہے،اور محمد’’عبد اللہ‘‘ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔ اللہ تعالی نے انہیں بندوں میں اور اپنی مخلوق میں خاص فضیلت اور مقام عطاء کیا ہے۔

امت محمدیہ کے لیے کس قدر شکر کا مقام ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ خاص نعمتیں عطاء فرمادیں۔

اس وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہم محمدی بھی ہیں اور محرم میں بھی ہیں۔ ضرورت تو بس محرم والے محمدی کردار کو اپنانے کی، جس کردار کی بدولت ’’یثرب‘‘ شہر، ’’یثرب‘‘ نہ رہا، بلکہ ’’مدینہ‘‘ بن گیا۔

٭…٭…٭

محمدآقا مدنیﷺ نے مکہ سے ہجرت کی، اور مدینہ آباد فرمایا، اور وہاں سے اسلام کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔یہ دور غلبے کا دور کہلاتا ہے، اس دور میں اسلام نے دکھایا کہ وہ لاوارث اور بے کس اور بے سہارا لوگوں کا دین نہیں ہے، مجبور اور لاچار اور ظالم کے سامنے پِسنے والوں کا دین نہیں ہے، بلکہ یہ دین اپنے ماننے والوں کو ایسی روحانی قوت عطاء کرچکا ہے کہ وہ کسی بھی باطل سے ٹکرا سکتے ہیں، وہ کسی بھی باطل کے کبر ونخوت اور فخر و غرور سے بھرے سر کو کاٹ کر ’’بدر‘‘ کے کنویں میں پھینک سکتے ہیں۔

مدینہ نے بتلایا بلکہ صاف صاف دکھایا کہ یہ دین بھیک مانگ کر زندہ رہنے کا درس نہیں دیتا بلکہ خدا کے باغیوں کو زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ دین ’’ادھر ہم، ادھر تم‘‘ یا ’’ہم اور تم ساتھ ساتھ‘‘ کے اصول پر نہیں چلتا بلکہ واضح اعلان کرتا ہے:

’’جس نے بَرباد ہونا ہے وہ واضح دلیل (کے سامنے آنے اور اسے ٹھکرانے کی وجہ سے) بَرباد ہواور جس نے زندہ رہنا ہے تو وہ بھی واضح دلیل کے ساتھ زندہ رہے‘‘(سورۃ الکہف)

یہ دین بالکل سیدھا اور صاف صاف ہے، جو اس ٹھکراتاہے، اور شرک میں مبتلا رہتا ہے تو بھلا شرک کا بھی کوئی جواز ہے کہ مشرکین کی کسی دلیل کو وُقعت دی جائے؟ ہرگز نہیں! ان کے لیے کسی دلیل کی کوئی وقعت نہیں، اس لیے صاف صاف کہہ دیا گیا:

’’یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کو معاف نہیں کریں گے‘‘

اور پھر انہی محترم مہینوں کے بیان میں جس میں سب سے اول درجہ محرم کا ہے، اور انہیں خاص احترام حاصل ہے مگر جب مشرکین سے قتال کی باری آئی تو کہہ دیا گیا:

’’تم سب مل کر مشرکوں سے قتال کروجس طرح کہ وہ مل کر تم سے قتال کرتے ہیں اور یہ بھی جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی معیت انہی کو حاصل ہوتی ہے جو (صرف اللہ سے)ڈرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ التوبہ)

کاش کہ ہم مسلمان اس سے سبق لیں!

محرم کی ہجرت کی منزل مدینہ

جہادی صداؤں کا مرکز مدینہ

مٹا نہ سکو گے ، ارے دشمنو تم

یہ فیضِ مدینہ ، ’’مدینہ مدینہ‘‘

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor