Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ماہ محرم الحرام اور یوم عاشوراء

 

ماہ محرم الحرام اور یوم عاشوراء

Madinah Madinah

وم عاشوراء زمانہ جاہلیت میں قریشِ مکہ کے نزدیک بڑا محترم دن تھا، اسی دن خانہ کعبہ پر نیا غلاف ڈالا جاتا تھا اور قریش اس دن روزہ رکھتے تھے ، قیاس یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کچھ روایات اس کے بارے میں ان تک پہنچی ہوں گی، رسول اللہﷺ کا دستور تھا کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے ، ان کاموں میں آپ ان سے اتفاق واشتراک فرماتے تھے ، اسی بنا پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے ، اپنے اس اصول کی بنا پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے ؛ لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے ، پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں یہود کو بھی آپ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان کی یہ روایت پہنچی کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے ، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے نجات عطاء فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا تھا تو آپ ﷺنے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا اور مسلمانوں کو بھی عمومی حکم دیا کہ وہ بھی اس دن روزہ رکھا کریں(بخاری۱/۴۸۱)

بعض حدیثوں میں ہے کہ آپﷺ نے اس کا ایسا تاکیدی حکم دیا جیسا حکم فرائض اور واجبات کے لیے دیا جاتا ہے ، چنانچہ بخاری ومسلم میں سلمہ بن الاکوع اور ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ منورہ کے آس پاس کی ان بستیوں میں جن میں انصار رہتے تھے ، یہ اطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی تک کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ آج کے دن روزہ رکھیں اور جنہوں نے کچھ کھاپی لیا ہو وہ بھی دن کے باقی حصے میں کچھ نہ کھائیں بلکہ روزہ داروں کی طرح رہیں، بعد میں جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کے روزہ کی فرضیت منسوخ ہوگئی اور اس کی حیثیت ایک نفل روزہ کی رہ گئی (بخاری شریف۱/۲۶۸، مسلم شریف ۱/۳۶۰)

لیکن اس کے بعد بھی رسول اللہﷺکا معمول یہی رہا کہ آپ رمضان المبارک کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں میں سب سے زیادہ اسی روزہ کا اہتمام فرماتے تھے ، جیساکہ حدیث آگے آرہی ہے (معارف الحدیث۴/۱۶۸)

 یومِ عاشورہ کی فضیلت:

مذکورہ بالا واقعات سے تو یوم عاشورہ کی خصوصی اہمیت کا پتہ چلتا ہی ہے ، علاوہ ازیں نبی کریمﷺ سے بھی اس دن کی متعدد فضیلتیں وارد ہیں،چنانچہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :میں نے نبی کریم ﷺ کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشوراء کے اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے ۔مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے طرزِ عمل سے یہی سمجھا کہ نفل روزوں میں جس قدر اہتمام آپ یومِ عاشورہ کے روزہ کا کرتے تھے ، اتنا کسی دوسرے نفلی روزہ کا نہیں کرتے تھے ۔

ماہِ محرم کی فضیلت اوراس کی وجوہات:

یوم عاشوراء کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے ؛ چنانچہ چار وجوہ سے اس ماہ کو تقدس حاصل ہے :

(۱) پہلی وجہ تو یہ ہے کہ احادیث شریفہ میں اس ماہ کی فضیلت وارد ہوئی ہے ؛ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ ماہ رمضان المبارک کے بعد کون سے مہینہ کے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، تو آپﷺ نے جواب دیا تھا کہ ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے 

تو ماہِ محرم میں رکھو، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے ، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا۔ (ترمذی ۱/۱۵۷) نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم الحرام کا ہے ۔(ترمذی ۱/۱۵۷)

 اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺنے ارشاد فرمایا:جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔ (الترغیب والترہیب ۲/۱۱۴) مندرجہ بالا احادیث شریفہ سے دوسری وجہ یہ معلوم ہوئی کہ یہ "شہرُاللہ" ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا مہینہ ہے تو اس ماہ کی اضافت اللہ کی طرف کرنے سے اس کی خصوصی عظمت وفضیلت ثابت ہوئی۔تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ "اشہر حرم" یعنی ان چار مہینوں میں سے ہے کہ جن کو دوسرے مہینوں پر ایک خاص مقام حاصل ہے ، وہ چار مہینے یہ ہیں:(۱) ذی قعدہ (۲) ذی الحجہ (۳) محرم الحرام (۴) رجب (بخاری شریف ۱/۲۳۴، مسلم ۲/۶۰)چوتھی وجہ یہ کہ اسلامی سال کی ابتداء اسی مہینے سے ہے ؛ چنانچہ امام غزالیؒ لکھتے ہیں کہ "ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے سے سال کا آغاز ہوتا ہے، اس لیے اسے نیکیوں سے معمور کرنا چاہیے اور خداوند قدوس سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ ان روزوں کی برکت پورے سال رکھے گا۔ (احیاء العلوم اردو ۱/۶۰۱)

 

ہمہ قسم شرور سے حفاظت کی دعاء

 اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتِیْ لَا یُجَاوِزُ ھُنَّ بَرٌّ وَ لَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَ ذَرَأَ وَ بَرَأَ وَ مِنْ شَرِّ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَائِ وَ مِنْ شَرِّمَا یَعْرُجُ فِیْھَا وَ مِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِی الْاَرْضِ وَ مِنْ شَرِّمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَ مِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ وَ مِنْ شَرِّکُلِّ طَارِقٍ اِلَّا طَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ یَارَحْمٰنُ۔ (۱ بار)

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor