Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نعت (اُن کا روئے زیبا چھوڑ کر)

 

اُن کا روئے زیبا چھوڑ کر

کون ہو مسند نشیں خاکِ مدینہ چھوڑ کر

خلد دیکھے کون ، کوئے شاہِ بطحیٰ چھوڑ کر

دل کی بستی اور ارمانوں کی دنیا چھوڑ کر

ہائے کیوں لوٹے تھے ہم شہرِ مدینہ چھوڑ کر

گھر سے پہنچے اُن کے روضے پر تو ہم کو یوں لگا

جیسے آ نکلے کوئی گُلشن میں ، صحرا چھوڑ کر

کون نظروں پر چڑھے حُسنِ حقیقت کے سوا

کس کا منہ دیکھیں ہم اُن کا روئے زیبا چھوڑ کر

اللہ اللہ آمدِ سلطانِ انس و جاں کی شان

اک طرف قُدسی بھی ہو جاتے تھے ، رستہ چھوڑ کر

مصطفی جنت میں جائیں گے نہ اُمت کے بغیر

جا نہیں سکتا کبھی تنکوں کو دریا چھوڑ کر

وہ ازل سے میرے آقا ، میں غلام ابنِ غلام

کیوں کسی کے در پہ جاؤں ان کا صدقہ چھوڑ کر

خوانِ شاہی کی ہوس رکھتے نہیں ان کے گدا

کیوں اُدھر لپکیں ، وہ ان ٹکڑوں کا چسکا چھوڑ کر

وہ سلامت اور اُن کا در سلامت تا ابد

کیوں پھریں در در ، ہم اس کوچے کا پھیرا چھوڑ کر

میں کہاں گھوموں ، کہاں ٹھہروں ، کسے دیکھا کروں

اُن کی گلیاں ، اُن کی جالی ، اُن کا روضہ چھوڑ کر

ذہن میں رکھئے وہ ارشادِ نبی وقتِ وصال

جا رہا ہوں سنت و قرآں کو یکجا چھوڑ کر

اے مسلماں! ہے یہی حکمِ خدا و مصطفی

فکرِ عقبیٰ کر ہمیشہ ، فکرِ دنیا چھوڑ کر

پوچھنے پھر کون آئے گا نصیرؔ ان کے سوا

جس لحد میں تجھ کو سب لوٹیں گے تنہا چھوڑ کر

 

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor