Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

حسینیت

 

حسینیت

Madinah Madinah

یومِ عاشور گذرا… وہ دن جو ’’اَیام اللہ ‘‘ میں سے ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت سیدنا موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام اور ان کی قوم کو فرعون کے ظلم سے نجات عطاء فرمائی۔ اور بھی کئی واقعات اس دن سے منسوب بیان کئے جاتے ہیں، البتہ یہ واقعہ حتمی طور پر اسی دن پیش آیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس دن کا روزہ رکھا اس لئے اب یہ دن قیامت تک اس امت کے لئے بھی متبرک اور مبارک دِن قرار پایااور اس کا روزہ مسنون ٹھہرا۔ ہمارے ہاں یہ دن کسی دوسرے حوالے سے زیادہ معروف ہے۔ اس دن آقا ﷺ کے عالی قدر خاندان کے جلیل القدر شہزادے اور آقا مدنی ﷺ کے محبوب نواسے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے خاندان کے کئی اَفراد اور مخلص رُفقاء سمیت مقامِ شہادت سے سرفراز ہوئے۔تاریخِ اسلام کا ایک دردناک ترین واقعہ جس کی تفصیلات میں دُکھ ہی دُکھ ہے، اَلم ہی اَلم ہے اور شرمندگی ہی شرمندگی ہے۔ محسنِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا خاندان خاک و خون میں تڑپایا گیا۔ بھوک، پیاس اور طرح طرح کے مظالم کا شکار ہوا۔ لیکن شہادت جس قدر مظلومانہ ہو اُسی قدر محبوبانہ ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان مقبول بندوں کی شہادت کو بھی محبوبیت کا مقام عطاء ہوا اور ’’حسینیت‘‘ قیامت تک حق پر اِستقامت ، عزیمت اور شہادت کا اِستعارہ بن گئی۔ عاشورہ کے بڑے دن پیش آنے والا یہ سارا واقعہ ایک ایک جزو کے ساتھ ایک مثال بن گیا اور اس نے ہر زمانے کے اہلِ حق اور باطل پرستوں کے درمیان ایک حدِّ فاصل قائم کردی ۔ اب حق اور حق والے اسی کے تناظر میں پہچانے جاتے ہیں اور ایمان کے دعویٰ کے باوجود اس کے تقاضوں سے منحرف طبقہ بھی اسی کے معیار اور کسوٹی پر جانا جاتا ہے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ حق پر تھے تو انہوں نے نہ یہ دیکھا کہ وہ عددی اِعتبار سے بہت کم ہیں۔ نہ وہ اس بات کو خاطر میں لائے کہ اکثریت ان کے ساتھ متفق نہیں۔ نہ انہیں اس بات نے حق سے انحراف پر مجبور کیا کہ ان کا دشمن بہت طاقتور ہے۔ نہ یہ خدشہ ان کے پائے اِستقامت میں لغزش برپا کر سکا کہ جن لوگوں کے بھروسے وہ گھر سے نکل رہے ہیں ان کی سرشت میں دھوکہ اور دغا ہے۔ پھر جب انہوں نے یہ دیکھ لیا کہ وہ اپنے نظرئیے پر تنہا رہ گئے ہیں تب بھی موت کا خوف انہیں نظرئیے سے اِنحراف پر مجبور نہ کر سکا۔انہوں نے جس بات کو حق جانا اس پر اپنے خون کے آخری قطرے اور آخری رمق تک تن کر کھڑے رہے اور جب وہ زمین پر بے جان ہو کر گرے تب بھی ان کے قدم اپنے عزم پر جمے ہوئے تھے۔ ان پر سخت خوف کا اِمتحان آیا۔ وہ اپنے اہل و اولاد کے ساتھ تھے، شیر خوار بچے اور خواتین کا ساتھ تھا اور وہ سب ان کے ساتھ شدید آزمائش میں تھے۔ بڑے بڑے اہلِ عزیمت اور اپنے جسم پر پہاڑوں جیسے بوجھ برداشت کر لینے والے جبالِ استقامت بھی اس پس منظر میں لرز جاتے ہیں کہ اپنے معصوم بچوں اور خواتین کو روتے بلکتے دیکھنا کارے دارد۔ لیکن ’’ حسینیت‘‘ کا سبق یہ ہے کہ تم خود جس اللہ کے ہو تمہارے آل و اولاد بھی اسی اللہ کے ہیں۔ اس لئے ہر چہ بادہ باد قدم نہیں لڑکھڑانا چاہیے۔ ان پر سخت پیاس آئی۔ان پر بے وفائی اور اپنوں کی غداری جیسا کمر توڑ امتحان آیا لیکن جو اللہ کا ہو اور اللہ کو ساتھ لئے ہوئے ہو وہ کسی کے آنے جانے کی کیوں کر پرواہ کرے گا؟ ’’ حسینیت‘‘ یہ سکھاتی ہے کہ تم بالکل تنہا ہو جاؤ اور ساتھ دینے والا کوئی نظر نہ آتا ہو تب بھی اللہ کے لئے تن کر کھڑے رہو۔

’’حسینیت ‘‘ نے اس دن اس میدان میں سمجھایا کہ تمہیں شیر خوار بچوں کی لاشیں اٹھانا پڑیں گی۔ معصوم اور ننھے منے بچے اپنے والدین کی بانہوں میں دم توڑ جائیں گے اس حال میں کہ ان کے لب پانی کی ایک بوند کو ترستے ہوں گے اور ظلم کے تیر ان کے حلق میں پیوست ہوں گے لیکن خبردار! یہ منظر بھی تمہیں اِدبار پر مجبور نہ کر دے اور تمہارے حوصلے پست نہ ہو جائیں ۔ تمہارا دشمن تمہیں اس امتحان سے گذار کر بھی تمہیں شکست خوردہ دیکھنے کی خوشی نہ پا سکے اور تمہارے میدان چھوڑنے کا منظر اسے دیکھنا نصیب نہ ہو۔

آئیے حسینیت کے ایک ایک معیار کو لے کر آج کی کربلا کشمیر چلئے۔ حسینیت ایک واقعہ نہیں تھا جو گذر گیا اور اس پر ماتم فرض ہو گیا ۔ حسینیت ایک مثال ہے جو قیامت تک باقی اور جاری ہے۔ ایک ایک منظر کو ذہن میں لائیے اور پرکھئیے۔ گھیرے میں سخت کرفیو میں ساری دنیا سے کٹ کر اپنے عقیدے اور نظرئیے پر قائم کون کھڑا ہے؟

آج کی اس کربلا میں شیر خوار بچوں کے لاشے کون اٹھا رہا ہے؟

کون ہے جن کے جوان خون میں تڑپ رہے ہیں او ران کی ترسی زبانیں تر کرنے کو پانی کی ایک بوند دستیاب نہیں؟

کون ہیں جن کے لئے یہ انتظام بھی کر لیا گیا ہے کہ ان کی لاشوں کی گنتی اور قبر یں بھی کسی کومعلوم نہ ہو سکیں؟

کون ہیں جو ان شدید آلام و مصائب کے بیچ تن کر کھڑے ہیں، نہ ان کا عزم ٹوٹ رہا ہے اور نہ ان کے قدم پیچھے کو ہٹ رہے ہیں؟

کون ہیں جن کی مدد کو آنے والوں کے راستے بند کر دئیے گئے ہیں اور ان کے مخلص دوستوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ ان کی مدد کو نہ پہنچ سکیں؟

کون ہیں وہ جو برستی آگ اور بارود میں بھی ’’ حسینیت‘‘ والی عزیمت کو زندہ کئے ہوئے ہیں؟

کون ہیں وہ جن سے ان کے وطن کے کروڑوں ہم مذہبوں نے براء ت کر کے دشمن کے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے؟

کون ہیں وہ جنہیں ان بدترین کوفیوں کی طرف سے عہد شکنی اور بے وفائی کی زِک پہنچی ہے، جنہوں نے پون صدی انہیں یقین دلایا کہ ہم تمہارے ساتھ کھڑے ہیں اور پھر وقت آنے پر وہ صرف ایک جمعہ آدھا گھنٹہ کھڑے رہ سکے؟ مگر تاریخ کی یہ بدترین غلیظ اور مکروہ ترین قابل صد نفرین بے وفائی بھی انہیں متزلزل نہیںکر سکی ؟

کربلا کی تاریخ صرف دہرائی نہیں جا رہی ایک نئی تاریخ لکھی بھی جا رہی ہے۔ اگلی نسلیں آئیں گی اور اس تاریخ کو پڑھ کر محبوب و ملعون کا فیصلہ کریں گی۔ کچھ لوگوں کے لئے محبت، عقیدت اور عظمت کے احسانات اگلی نسلوں کو منتقل ہو رہے ہیں۔ان میں کوئی حسین کا کردار ہے تو کوئی علی اصغر کا۔ کوئی عباس اور علی اکبر کی مثال ہے تو کوئی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی مثال ماں اور بہن۔ یہ داستان پڑھی جائے گی اور ان کے لئے محبت و عقیدت کے آنسو بہائے جائیں گے۔ ان سے روشنی لی جائے گی اور انہیں مثال بنایا جائے گا۔ ان کے والہانہ تذکرے زندہ رہیں گے اور یہ ہمیشہ کھلتے مہکتے رہیں گے۔ اور کوئی ہے جو اپنا نام دغا باز مکار جھوٹے اور بے وفا کوفیوں کی صف میں لکھوا رہا ہے۔ چودہ صدیاں گذر گئیں۔ تاریخ میں کئی کربلائیں برپا ہوئیں اور ہر کربلا میں کسی حرمان نصیب نے اپنا نام اس خانے میں ضرور درج کرایا۔ ایک اور کربلا برپا ہے اور ایک اور قوم اپنا نام اس حیثیت سے رقم کروا رہی ہے۔ تاریخ میں اس کے حصے میں بھی وہی آئے گا جو حسینی عہد کے کوفیوں کے مقدر میں آج تک آیا ہے۔ جب بھی کربلا کے اہل عزیمت کا ذکر عقیدت کے ساتھ کیا جائے گا چار حرف ان پر بھیجنا کوئی نہیں بھولے گا۔

اپنی اپنی کربلا ہے اور اپنا اپنا نصیب ہے

اپنا اپنا کردار ہے اور اپنا اپنا انجام ہے

ماضی زندہ رہتا ہے اور خود کو دُہراتا ہے۔ حال فیصلہ نہیں کرتا فیصلے کے دلائل بُنتا ہے اور مستقبل میں یہ فیصلہ ذات کاتعارف بن کر ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جاتا ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor