پورے ہوئے جو وعدے کئے تھے حضور ﷺنے

 

پورے ہوئے جو وعدے کئے تھے حضور ﷺنے

Madinah Madinah

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے سفر پر روانہ ہوئے تو قریش نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ جو شخص محمد (ﷺ) یا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قتل کر دے یا گرفتار کر کے لائے ، ہر ایک کے معاوضہ میں علیحدہ علیحدہ سو اونٹ انعام اس کو دیا جائے گا ۔ سراقہ بن مالک بن جعشم کہتے ہیں کہ میں اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے آکر یہ بیان کیا کہ میں نے چند افرادکو ساحل کے راستہ سے جاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ میرا گمان ہے کہ وہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی ہیں ۔

سراقہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دِل میں سمجھ لیا کہ بے شک وہی ہیں ، لیکن اس کو یہ کہہ کر ٹال دیا کہ محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھی نہیں بلکہ اور لوگ ہوں گے ۔ کہیں یہ نہ ہو کہ یہ شخص یا کوئی اور سن کر قریش کا انعام نہ حاصل کر لے ۔ اس کے تھوڑی دیر بعد میں مجلس سے اٹھا اور خادمہ سے کہا کہ گھوڑے کو فلاں ٹیلے کے نیچے لے جا کر کھڑا کر ے اور میں اپنا نیزہ لے کر گھر کی پشت کی طرف سے نکلا اور گھوڑے پر سوار ہو کر سر پٹ دوڑاتاہوا چلا ۔

جب سراقہ، آپ(ﷺ) کے قریب پہنچ گیا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا اور گھبرا کر عرض کیا یا رسول اللہ ! اب ہم پکڑ لئے گئے ۔ یہ شخص ہماری تلاش میں آرہا ہے ۔ آپ (ﷺ) نے فرمایا ہر گز نہیں :

لا تحزن ان اللّٰہ معنا

( تو غمگین نہ ہو ، یقینا اللہ ہمارے ساتھ ہے )

اور پھر سراقہ کے لئے بد دعاء فرمائی ۔ اسی وقت سراقہ کا گھوڑا گھٹنوں تک پتھریلی زمین میں دھنس گیا ۔ سراقہ نے عرض کیا مجھے یقین ہے کہ آپ دونوں کی بد دعاء سے ایسا ہوا ہے ۔ آپ دونوں حضرات اللہ سے میرے لئے دعاء کیجئے ۔ خدا کی قسم! میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو شخص آپ کو تلاش کرتا ہوا ملے گا اس کو واپس کر دوں گا ۔

آپ (ﷺ) نے دعاء فرمائی ، اسی وقت زمین نے گھوڑے کو چھوڑ دیا ، میں سمجھ گیا کہ اللہ تعالیٰ اب آپ (ﷺ) کو ضرور غلبہ عطاء فرمائے گا اور قریش نے جو آپ کے قتل یا گرفتاری کے لئے سو اونٹ کے انعام کا اشتہار دیا تھا اس کی میں نے آپ (ﷺ) اطلاع کی ۔ جو زادراہ میرے ساتھ تھا وہ آپ (ﷺ) کے سامنے پیش کیا ۔ آپ(ﷺ) نے اس کو قبول نہیں فرمایا البتہ یہ فرمایا کہ ہمارا حال کسی پر ظاہر نہ کرنا۔

مزید احتیاط کی غرض سے میں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ ایک تحریر امن اور معافی کی مجھ کو لکھوادیں۔ آپ کے حکم سے عامر بن فہیرہ نے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر معافی کی سند لکھ کر مجھ کو عطاء کی اور روانہ ہوئے ۔

اُس موقع پر آپ ﷺ نے سراقہ سے فرمایا :

کیف بک اذا لبست سوارکسری

(اے سراقہ اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جس وقت تو کسریٰ کے کنگن پہنے گا )

 یاد رہے کہ کسریٰ اُس زمانے میں شہنشاہ ِ ایران کو کہا جاتا تھا ،گویا یہ اُس وقت کی دنیا بھر کی دوسری بڑی طاقت کا صدر تھا ۔ اِ س کو بالکل یوں سمجھنا چاہیے جیسے آج کسی بوریہ نشین مجاہد کو یہ کہا جائے کہ تیرا اُس وقت کیا حال ہو گا جب تو نے صدر ٹرمپ کی گھڑی پہن رکھی ہو گی ۔ 

جب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب عجم فتح ہوا تو کسریٰ کا تاج اور اس کے کنگن اور دیگر زیورات مسجد نبوی میں فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سامنے لاکر ڈال دئیے گئے ،فرمایا: بلائو سراقہ کو ۔ سراقہ حاضر کئے گئے ۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سراقہ سے مخاطب ہو کر کہا: ہاتھ اُٹھائو اور پھریہ کہتے ہوئے :

اللّٰہ اکبرالحمد للّٰہ الذی سلبھماکسری بن ہرمزوالبسھما سراقہ الا عرابی۔اللّٰہ اکبر

( حمد ہے اس ذات پاک کی جس نے یہ کنگن کسریٰ سے چھینے اور ایک گنوار اور دہقانی سراقہ نامی کو پہنائے)

سراقہ کو وہ کنگن پہنادئیے ۔بعد میںحضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے وہ زیورات مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے ۔ (سیرت المصطفیٰﷺ۱؍۴۱۰ مع ترمیم )

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے چند سال میں ہی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کو سچا ہوتے ہوئے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ خوشی اور مسرت کی کیا کیفیت ہو گی جب انہوں نے اپنے خوابوں کو عملی تعبیر میں ڈھلتے دیکھا ہو گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم کمزور ہیں، اس لیے اللہ تعالیٰ ہمارا اتنا امتحان بھی نہیں لیتا ورنہ آئے دن دنیا کے مختلف خطوں میں نصرتِ الٰہی کے ایسے ایسے واقعات ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ آج بھی انسان بلا اختیار پکار اُٹھتا ہے :

ہم پر کرم کیا ہے ‘ خدائے غیور نے

پورے ہوئے جو وعدے کئے تھے حضورؐ نے

شرط یہ ہے کہ ہم عشق و وفا کی یہ داستانیں مغربی ذرائع ابلاغ کے بجائے صحیح ‘ سچے اور مستند واقفانِ حال کے ذریعے سنیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی مدد و نصرت کے وعدوں پر کامل یقین ، اُس یقین پر عمل اور اُس عمل پر دنیاوی و اخروی انعامات نصیب فرمائے(آمین ثم آمین)