Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نفاق سے حفاظت

 

نفاق سے حفاظت

Madinah Madinah

حضرت آقامدنیﷺ جب ’’مدینہ ، مدینہ‘‘پہنچے تو وہاں مشرکین کے بجائے ایک اور قسم کے طبقے نے سراٹھایااور وہ طبقہ تھا: منافقین کا طبقہ

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام کی قوت و شوکت کے سامنے خود کو بے بس پایا ، اور جب محسوس کیا کہ وہ اسلامی شان و شوکت کا مقابلہ نہیں کرسکتے اور مسلمانوں سے الگ تھلک رِہ کر بھی وہ اپنے مفادات کو محفوظ نہیں بنا سکتے تو انہوں نے ظاہری طور پر اسلام کا کلمہ پڑھ لیا، مگر ان کے دل اس دین پر راضی نہ تھا، ان کا دل حضرت آقامدنیﷺ سے مخلص نہیں تھا، وہ موقع کی تلاش میں رہتے اور جب بھی انہیں موقع ملتا وہ مسلمانوں کے بجائے کافروں اور مشرکوں کے پاس جاپہنچتے اور انہیں کہتے:

’’ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں، ہم تو (ایمان والوں کے ساتھ ایک)مذاق کررہے ہیں‘‘۔ (سورۃ البقرۃ)

یہ لوگ مسلمانوں میں ہوتے تو ان کے دلوں میں وسوسے ڈالتے، نبی کریمﷺ اور دین اسلام کے بارے میں شک پیدا کرتے، کمزور مسلمانوں کو ورغلانے کی ٹوہ میں رہتے اور جب بھی موقع ملتا تو مسلمانوں کی کمزوریاں کافروں کو جاکر بتاتے تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنا چاہیں تو آسانی سے کرسکیں۔

پھر جب انہیں ان کے اس فساد پر تنبیہ کی جاتی تو کہتے کہ ہم تو ’’صلح صفائی‘‘ چاہتے ہیں۔ لیکن قرآن کریم میں صاف صاف کہا گیا:

’’غورسے سن لو! یہی لوگ ہی حقیقت میں فساد پھیلانے والے ہیں‘‘۔ (سورۃ البقرۃ)

الغرض کہ یہ بہت ہی خطرناک فتنہ تھا اور خطرناک طبقہ تھا۔ مشرکین کھلے دشمن تھے مگر یہ آستین کے سانپ تھے۔ ایک طرف ان کے ظاہری اسلام اور کلمہ طیبہ کی لاج رکھنے کا معاملہ تھا اور دوسری جانب ان کی باطن میں چھپے کفر اور فسادی طبیعت سے تحفظ کا بھی پورا اہتمام کرنا تھا۔ اس لیے اس طبقے کی بُری خصلتوں کو کھول کھول کر بیان کیاگیا، اس قدر کہ مخلص ایمان والے بھی اپنے اخلاص کی بناء پر اس فکر میں رہتے تھے کہ کہیں ہم بھی اس ’’فتنے‘‘ میں مبتلا نہ ہوجائیں۔

اس بارے میں ’’مدینہ، مدینہ‘‘ کے تربیت یافتہ مخلصین کی کیا کیفیت تھی؟ ایک جھلک دیکھیے:

ایک شخص نے دیکھا کہ حضرت ابو دَرداء رضی اﷲ عنہ نماز سے فارغ ہوکر ’’نفاق‘‘ سے پناہ کی دُعا مانگ رہے ہیں۔اس نے پوچھا بھلا آپ کو نفاق کا کیا خطرہ ہے ؟ انہوں نے قسم کھا کر فرمایا کہ : آدمی اچھا خاصا مومن ہوتا ہے ، پھر کسی فتنہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور آن کی آن میں اس کا دِل پلٹ جاتا ہے اور وہ نفاق میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

عربی زبان میں ’’نفق‘‘ کہتے ہیں اس سرنگ کو جس کے دو دہانے ہوتے ہیں اور’’ نافقائ‘‘ جنگلی چوہے کو کہتے ہیں جو اس میں ایک طرف سے داخل ہوتا ہے اور دوسری طرف نکل جاتا ہے ، اسی سے نفاق ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں دین میں ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جانا ۔

’’مدینہ، مدینہ‘‘ میں اس بات کو واضح کیا گیا کہ ’’نفاق‘‘ ایک مہلک اور خطرناک باطنی و روحانی بیماری ہے ، اکثر و بیشتر اس بیماری اور مرض میں مبتلا رہنے والے آدمی کو خود بھی احساس نہیں ہوتا کہ میرے اندر یہ روگ اور بیماری ہے ۔ کیوں کہ وہ اپنی منافقت کو اپنا کمال سمجھ رہا ہوتا ہے یہی وجہ ہے اکثر اوقات آدمی اس بیماری کا شکار ہوکر اپنے آپ کو صلح جو سمجھنے لگتا ہے ۔ نفاق ایسی بیماری ہے جو انسان کو پستی اور گراوٹ کی آخری حد تک پہنچا دیتی ہے ،ایسی براء ہے جو سو برائیوں کی جڑ ہے ،اس بیماری اور براء کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ منافقین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل تھی اس کے باوجود ان کی تربیت و اصلاح نہیں ہو سکی ،کیونکہ نفاق انسان کی حق بینی اور راست بازی کی صلاحیت کو فنا و برباد کر دیتا ہے ،چنانچہ عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دور مسعود اور ساعت ہمایوں میں بھی منافق بے امیز حقیقتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے ان کے روح، ایمان اور نور ایمان سے لبریز نہیں ہو سکے اور کفر و شرک اور عناد و ہٹ دھرمی اور ضلالت کے اندھیروں میں پڑے رہے ۔

 آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی مثال اس بکری سے دی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھر رہی ہو ۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

مثل المنافق کمثل الشاۃ العائرۃ بین الغنمین ،تعیر الی ھذہ مرۃ ،و الی ھذہ مرۃ۔(صحیح مسلم)

’’ منافق کی مثال اُس بکری جیسی ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھر رہی ہو ،ایک مرتبہ اس ریوڑ کی طرف آتی ہے اور دوسری بار اُس ریوڑ کی طرف جاتی ہے ۔

 منافقین کا کوئی دھرم اور مذھب نہیں ہوتا ،یہ آستین کے سانپ ہوتے ہیں ۔ کھلے دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے لیکن منافقین پیٹھ پیچھے سے حملہ کرتے ہیں اور چھرا گھونپتے ہیں یہ منھ سے اللہ اللہ کرتے ہیں، لیکن بغل میں چھری رکھتے ہیں، یہ ہر فریق سے اپنے فائدے کے لئے جڑے رہتے ہیں ۔

 نفاق یہ وہ روگ اور بیماری ہے جس سے انسان کا نور بصیرت سلب ہو جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نفاق سے حد درجہ پناہ مانگتے تھے ۔ حضرت ابو ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے تیس صحابہ کرام سے ملاقات کی ،ان میں سے ہر ایک کو اپنے متعلق اندیشئہ نفاق سے خوف زدہ پایا ۔ ( بخاری شریف کتاب الایمان حدیث نمبر ۳۶)

 حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ نفاق کی طرف سے صرف منافقین مطمئن ہو سکتا ہے اور اس سے ڈرنا اور چوکنا رہنا مومن کی صفت ہے ۔ صحابۂ کرام اکثر اوقات اپنے ایمان و اعمال کا جائزہ لیتے رہتے تھے تاکہ نفاق سے محفوظ رہ سکیں ۔

مولانا محمد منظور نعمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نفاق کی حقیقت پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

 حقیقی اور اصلی نفاق ،انسان کی جس بدترین حالت کا نام ہے ،وہ تو یہ ہے کہ آدمی نے دل سے تو اسلام قبول نہ کیا ہو ( بلکہ دل سے اس کا منکر اور مخالف ہو) لیکن کسی وجہ سے وہ اپنے کو مومن و مسلم ظاہر کرتا ہو جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عبد اللہ بن ابی وغیرہ مشہور منافقین کا حال تھا ،یہ نفاق در اصل بدترین اور ذلیل ترین قسم کا کفر ہے ،اور ان ہی منافقین کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ : ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار ۔ضرور بالضرور یہ منافقین دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ڈالے جائیں گے۔

لیکن بعض بری عادتیں اور بد خصلتیں بھی ایسی ہیں، جن کو منافقین سے خاص نسبت اور مناسبت ہے اور در اصل ان ہی کی عادتیں اور خصلتیں ہیں، اور کسی صاحب ایمان میں ان کی پرچھائیں بھی نہیں ہونی چاہئے ۔ پس اگر بد قسمتی سے کسی مسلمان میں ان میں سے کوء عادت ہو تو یہ سمجھا جائے گا کہ اس میں یہ منافقانہ عادت ہے اور اگر کسی میں بد بختی سے منافقوں والی وہ ساری عادتیں جمع ہو جائیں تو سمجھا جائے گا کہ وہ شخص اپنی سیرت میں پورا منافق ہے ۔

الغرض ایک نفاق تو ایمان و عقیدے کا نفاق ہے ،جو کفر کی بدترین قسم ہے ۔ لیکن اس کے علاوہ کسی شخص کی سیرت کا منافقوں والی سیرت ہونا بھی ایک قسم کا نفاق ہے ،مگر وہ عقیدے کا نفاق نہیں بلکہ سیرت اور کردار کا نفاق ہے اور ایک مسلمان کے لئے جس طرح یہ ضروری ہے کہ وہ کفر و شرک اور اعتقادی نفاق کی نجاست سے بچے ،اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ منافقانہ سیرت اور منافقانہ اعمال و اخلاق کی گندگی سے بھی اپنے کو محفوظ رکھے ۔ (معارف الحدیث ۱/ ۱۰۴/ ۱۰۵)

نفاق سے بچاؤ کیسے؟

اس بُری خصلت اور قبیح بیماری سے بچنے کے لیے درج ذیل امور بہت مفید اور ضروری ہیں:

کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ کی کثرت کی جائے۔ چنانچہ حدیث پاک میں آیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کی کثرت کرکے اپنے ایمان کی تجدید کرتے رہا کرو۔

اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیاجائے۔ چنانچہ قرآن کریم میں منافقین کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بہت تھوڑا کرتے ہیں۔ اس لیے مومن کو منافقین کے برعکس اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرنا چاہیے۔

نماز میں سستی نہ کی جائے۔ چنانچہ قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ منافقین نماز کے لیے سستی سے آمادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے مومن کو منافقین کے برعکس پورے شوق اور رغبت سے نماز کا اہتمام کرنا چاہیے۔

جہاد سے قلبی وابستگی اختیار کی جائے۔ چنانچہ قرآن کریم میں کئی مقامات پر بتایا گیا ہے کہ جہاد کے ذریعے مخلص مومن اور کھوٹے منافق کے درمیان امتیاز اور پہچان ہوتی ہے۔ بلکہ قرآن کریم میں تو اس سے بھی بڑھ کر کفار کی طرح خود ان کاسختی سے رد کیاجائے اور ان کی بُری حالتوں سے پردہ اٹھایا جائے تاکہ عام مومن ان کی چکنی چپڑی باتوں یا ظاہری خوبصورت جسمانی ڈیل ڈول سے متاثر ہو کردین اسلام اور دینی فرائض سے متنفر نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ چنانچہ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر خصوصاً غزوۂ احزاب کے بیان میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ جب بھی کفار کی طرف سے مسلمانوں پر لشکر حملہ آور ہوتے ہیں، اور مسلمانوں پر خوف طاری ہوتا ہے، یا کفار کی طرف سے مسلمانوں کا محاصرہ کر لیاجاتا ہے تومنافقین کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہوجاتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کے کیے ہوئے وعدوں کو جھوٹ اور دھوکہ سمجھنے لگتے ہیں۔ اس لیے ایک مومن کو منافقین کے برعکس مشکل ترین حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ مسلمان کے لیے مایوسی کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ ایک حدیث پاک کا مفہوم اور مضمون کچھ اس طرح ہے:

’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اگر اسے نعمت پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا شکر اداء کرتا ہے اور یوں اللہ تعالیٰ کی رضامستحق ہوجاتا ہے اور اگر مصیبت میں گھر جاتا ہے تو اناللہ و انا الیہ راجعون پڑھتا ہے(اور اس مصیبت کو اللہ تعالیٰ کی ہی تقدیر کا ایک حصہ سمجھ کر اللہ تعالیٰ سے راضی رہتا ہے) اور یوں وہ اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کا مستحق ہوجاتا ہے۔ ‘‘

اسی لیے مومن کے لیے کہا گیا ہے:تحفۃ المومن الموت’’مومن کا تحفہ موت ہے‘‘

اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو نفاق سے حفاظت فرمائے اور ہمیں ایمان اور قربانی والی ان راہوں پر چلنے کی ہمت اور توفیق دے جو نفاق سے بچاتی ہیں اور ایمان کو دل میں جماتی ہیں۔

 

حفاظت کے وظائف(فجر کے بعد)

۱)آیۃ الکرسی (تین بار)

۲) اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ

۳) اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّکُلِّ شَیْطَانٍ وَّ ھَامَّۃٍ وَ مِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ

۴)بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْئٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَائِ وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (تین بار)

۵) اَعُوْذُ بِعَزَّۃِ اللّٰہِ وَ قُدْرَتِہِ وَ سُلْطَانِہِ مِنْ شَرِّ مَا اَجِدُ وَ اُحَاذِرُ (تین بار)

۶)سورۃ الفلق (تین بار) ہر مرتبہ آیت نمبر ۴ (وَ مِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ) کو سات بار پڑھیں۔

۷) سورۃ الناس (تین بار)

۸)لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ (۱۰ بار)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor