Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

عالمی برادری۔۔

 

عالمی برادری۔۔

Madinah Madinah

کتنا عجیب لگتا ہے جب ہم کفار کو، ان کے حاشیہ نشین منافقین کو،عالمی طاقتوں کو، بڑے ناموں والے اداروں کو اور حکمرانوں کو آئینہ دِکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم حقائق اور ان کے طرزِ عمل کا موازنہ کرتے ہیں اور انہیں اس پر شرمندہ کرنے کے درپے ہوتے ہیں۔صرف عجیب نہیں بلکہ فضول سا کام لگتا ہے ۔ہاں البتہ یہ باتیں اگر نا پختہ ذہنوں کی صفائی اور حق پر کھڑے اہل ایمان کی نظریاتی پختگی کے لئے کی جائیں تو اَچھا عمل ہے ۔

عالمی طاقتیں ظلم پر ہیں، ظلم کی حامی ہیں،باطل پر ہیں اور باطل کی محافظ ہیں۔جھوٹ پر قائم ہیں اور جھوٹ کے فروغ میںہی ان کی زندگی ہے ۔انصاف،جمہوریت،حقوق ،آزادی یہ سب ان کے ڈھونگ ہیں جن کی حقیقت کچھ بھی نہیں اور ان نقابوں کے پیچھے چھپا ان کا اصل چہرہ از حد بھیانک ہے ۔ یہ انصاف کا نام لیتے ہیں لیکن ہر جگہ ظلم کے ساتھ ہیں۔ یہ برابری کی، مساوات کی بات کرتے ہیں لیکن ان کی حمایت ہمیشہ انہی قوتوں کو حاصل رہی ہے جو تقسیم کی علمبردار ہیں۔ یہ حقوق کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ہرغاصب کا ہاتھ ہمیشہ انہی نے تھاما ہے ۔یہ جمہوریت کو اپنا فخر قرار دیتے ہیں لیکن ہر آمر انہی کے دستِ شفقت کے زیر سایہ پرورش پاتا ہے اور یہ کام کسی ایک آدھ جگہ نہیں، اِن طاقتوں کی تمام تر تاریخ ایسے سیاہ کارناموں سے لبریز ہے اورآئندہ کے لئے ان کی اعلان کردہ پالیسیاں بھی یہی ہیں، تو ایسے میں انہیں شرم دلانے یا آئینہ دکھانے سے کیا حاصل؟ …لیکن ہمارے حکمران اور عوام الناس ‘‘میر’’ کے بیان فرمودہ فارمولا کے مطابق ہر مرض، ہر پریشانی کی دوا لینے اُسی عطار کے لونڈے کی خدمت میں عرضیاں پیش کرتے رہتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس اجلاس میں مصر کا بھی ذکر آیا۔ آپ مصر کی مثال لے لیجئے !

تقریباً پون صدی سے آمریت کی زنجیروں میں جکڑا ہوا یہ ملک چند سال  قبل اَنگڑائی لے کر بیدار ہوا اور لوگ جمہوریت اور حقوق کی بحالی کا نعرہ لے کر سڑکوں پر نکل آئے ۔ اور نکلے بھی ہمارے  خان صاحب  کے دھرنے کی طرح نہیں کہ چند دن ناچ گانا اور آخر میں ایک عدد شادی کر کے رخصت ہو جائیں، بلکہ یوں نکلے کہ ٹینک روند کر گذر گئے مگر لوگ اپنی جگہ سے نہیں ہلے ۔گولیوں کی بارش ہوتی رہی مگر دھرنا ٹس سے مس نہ ہوا۔اس طرح یہ تحریک آمریت کو بہا لے جانے میں کامیاب رہی اور ملک میں جمہوری عمل یعنی انتخاب کے ذریعے ایک منتخب جمہوری قوت برسراقتدار آ گئی لیکن جمہوریت کے علمبرداروں نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ جمہوریت پر شب خون مارا گیا، جمہور قتل کر دیے گئے ، لاشوں کے ڈھیر لگا کر فوجی بوٹ پھر ایوان اقتدار پر قابض ہو گئے اور آج صورتحال یہ ہوئی کہ ہزاروں بے گناہوں کا قاتل حسنی مبارک آزاد،اس کے بیٹے تمام الزامات سے بری اور سیسی نامی فرعون ہر کارروائی کے لئے مختار و آزاد ہے ۔ جبکہ مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی رحمہ اللہ جیل کی سختیوں تنگیوں کو جھیلتے جام شہادت نوش فرماگئے ۔

مغرب کی جمہوریت نوازی کان لپیٹے سوتی رہی اور جن مسلمانوں کی طرف سے مذمت کی گئی انہوں نے پھر وہی انداز اختیار کیا کہ کفار کے حضور عرضیاں،اقوام متحدہ کو یادداشتیں، عالمی طاقتوں سے مداخلت کی اپیل، عالمی عدالت انصاف سے عدل کا تقاضا، دہرے معیار کا رونا اور شرم دھونے کی ناکام کوشش وغیرہ۔ کیا ان باتوں سے پہلے کچھ حاصل ہوا کہ اب ہو گا؟…ویسے بھی اس حقیقی معنوں میں لاچار اور بے بس عالمی برادری کی مرضی سے دنیا میں پہلے کچھ ہورہا ہے کہ ہمارے انکے سامنے رونے پیٹنے سے ہمارے حق میں کوئی نتیجہ نکل آئے گا؟۔یہ دنیا میں جن مقاصد کے حصول پر اپنے وسائل جھونک جھونک کر دیوالیہ پن کی سرحد تک آگئے ہیں انکے ان اقدامات کانتیجہ کیا نکل رہا ہے ؟…

یہی کہ جب سے اِسلامی شدت پسندی کا خاتمہ اولین ترجیح قرار پایا ہے ، الحمد للہ اس خیر عظیم نے دنیا میں خود کو ایک بڑی اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر منوا لیا ہے ۔ جب سے اسلام پسند جمہوری قوتوں کو زور سے دبانے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے ، تقریباً ہر ملک میں ایسی قوتوں کی طاقت اور پذیرائی میں اضافہ ہوا ہے ۔اس لئے دنیا میں مسلمانوں کو جہاں بھی کوئی مسئلہ درپیش ہے وہ ان قوتوں کے سہارے رہنے اور ان کے اِستغاثہ کی بجائے اپنا زورِ بازو آزمائیں۔عالمی طاقتوں کا ہاتھ، آپ کو تھامنے کی بجائے ہمیشہ مودی،بشار،مالکی ،سیسی اور ان جیسی کے سروں پر رہے گا۔مودی اور ٹرمپ کی بے تکلّفانہ مسکراہٹوں اور معانقوں میں پاکستان کی لیڈر شپ کے لئے کشمیر اور دیگر مسائل کے حوالے سے ایک بہت واضح پیغام ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں اور انکی منشا کیاہے ۔ ہندوستان کی چانکیائی سرکار نے آج سے باسٹھ سال پہلے حیدرآباد دکن میں عوامی مزاحمت پر قابو پانے کے بعد وہاں کی مسلمان عوام کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا؟عشروں سے لال فیتے میں قید پڑی سندر لال کمیشن رپورٹ کے کچھ مندرجات منظر عام پر آ چکے ہیں جس سے پورے ہندوستان میں ہلچل مچی ہے ۔کس طرح بھارت  سرکار نے اپنی فوج کو مسلمانوں کے قتل عام کی اجازت دی۔کس طرح ہندو بلوائیوں کو مسلح کر کے مسلمانوں کی جانوں، اموال اور عصمتوں پر دست درازی کی کھلی چھوٹ دی گئی اور پھر یہ رپورٹ ایسے وقت پر منظر عام پر آئی جب مظفر نگر میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کا قتل عام چل رہا تھا اور لاکھوں مسلمانوں کو گھروں سے نکال کر کیمپوں میں ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ایسے میں کشمیری عوام یہ سوچ بھی کس طرح سکتے ہیں کہ وہ مزاحمت سے دستبردار ہو کر خود کو ایسی ظالم اور بد عہد قوم کے حوالے کر دیں جس کی پوری تاریخ انہی سیاہ کارناموں سے رنگین ہے ۔ہندوستان پر بھروسہ کرنا اپنی ذلت ناک اجتماعی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہو گا۔ہندو کی فطرت سے واقف کشمیری عوام کبھی بھی اس صورتحال پر راضی نہ ہونگے اس لئے نہ کسی بیک ڈور ڈپلومیسی اور نہ کسی امن کی آشا نامی جال میں پھنسیں گے ۔تحریک جہاد نے کشمیریوں کو ایک تعارف دیا ہے ۔ایک شناخت دی ہے ۔ایک باعزت مقام دیا ہے ۔کیا وہ ضمیر فروش سیاستدانوں کی خواہشات میں بہہ کر یہ سب کچھ چھوڑ دیں گے ؟اس کا امکان بہت کم ہے ۔کشمیر کی عزت و سرفرازی جہاد میں ہے اس لئے یہ جہاد جب تک اپنے مقاصد کو نہیں پہنچ جاتا جاری رہے گا۔۔ایسے میں کشمیریوں کا جوابی اعلان بھی واضح ہے ۔ کشمیریوں کے ہاتھوں میں جھنڈے کن کے ہیں؟۔ وہ ان سخت نامساعد حالات میں بھی جہاد کے علم اٹھا کر اعلان کررہے ہیں کہ انکے خیال کے مطابق اگر دنیا میں انکے مسئلے کا کوئی حل ہے تو وہ یہی ہے

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor