Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مدینہ منورہ کے ماننے والے

 

 مدینہ منورہ کے ماننے والے 

Madinah Madinah

جب حضرت عمروبن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر کے قلعہ کا محاصرہ کیا تو قبطی بادشاہ مقوقس نے قلعہ سے نکل کر ایک جزیرے کے قلعے میں پناہ لی تھی اور اُس تک پہنچنے کے لیے دریائے نیل پر جو پُل بنا ہوا تھا ، وہ توڑدیا تھا  تاکہ مسلمان دریا عبور کر کے جزیرہ تک نہ پہنچ سکیں ،دوسری طرف اُس نے قیصر ِروم سے مدد طلب کی تھی کہ وہ مسلمانوں کے عقب سے اُن پر حملہ کر دے ۔

ان حالات میں مقوقس نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے سفیروں کے ذریعے خط بھیجا کہ تم ایک طرف دریائے نیل اور دوسری طرف رومی فوجوں کے درمیان گِھر چکے ہو ,تمہاری تعداد بھی کم ہے اور اب تمہاری حیثیت ہمارے ہاتھوں میں قیدیوں کی سی ہے ، لہٰذا اگر خیریت چاہتے ہو تو صلح کی بات چیت کے لیے اپنے کچھ آدمی میرے پاس بھیج دو۔جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس یہ سفیر پہنچے تو انہوں نے فوراً کوئی جواب دینے کے بجائے انہیں دو دن دو رات اپنے پاس مہمان رکھا ، جب سفیروں کو دیر ہوئی تو مقوقس کو خطرہ ہوا کہ کہیں یہ لوگ سفیروں کو قتل کرنا جائز نہ سمجھتے ہوں ،لیکن دو روز کے بعد سفیر حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا یہ پیغام لے کر پہنچ گئے کہ ہماری طرف اُنہی تین باتوں کے علاوہ کوئی چوتھی بات قابلِ قبول نہ ہو گی ( یعنی اسلام ، جزیہ یا جنگ ) جو ہم پہلے بھی آپ کو بتا چکے ہیں ۔پیغام وصول کرنے کے بعد مقوقس نے سفیروں سے پوچھا کہ تم نے ان مسلمانوں کو کیسے پایا ؟ اس کے جواب میں سفیروں نے کہا :

’’ ہم نے ایک ایسی قوم دیکھی ہے جس کے ہر فرد کو موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے ،وہ لوگ تو اضع اور انکسار کو ٹھاٹ باٹھ سے زیادہ پسند کرتے ہیں ،ان میں سے کسی کے دل میں … دنیا کی طرف رغبت یا اس کی حرص نہیں ہے ،وہ زمین پر بیٹھتے ہیں اور گھٹنوں کے بَل بیٹھ کر کھاتے ہیں ، اُن کا امیر اُن کے ایک عام آدمی کی طرح ہے ، ان کے درمیان اونچے اور نچلے درجے کے آدمی پہچانے نہیں جاتے ، نہ یہ پتہ چلتا ہے کہ ان میں آقا کون ہے اور غلام کون؟ جب نماز کا وقت آتا ہے تو ان میں سے کوئی پیچھے نہیں رہتا ، وہ اپنے اعضاء کو پانی سے دھوتے ہیں اور نماز بڑے خشوع سے پڑھتے ہیں ۔‘‘

کہتے ہیں کہ مقوقس نے یہ سن کر کہہ دیا تھا کہ ’’ان لوگوں کے سامنے پہاڑ بھی آجائیں گے تو یہ انہیں ٹلا کر رہیں گے ، ان سے کوئی نہیں لڑ سکتا‘‘ بالآخر باہمی پیغامات کے تبادلے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی قیادت میں دس افراد کی ایک سفارت مقوقس کے پاس بھیجی ، مقوقس نے ان کو بھی روپے پیسے کا لالچ دینے کی کوشش کی اور ان کی معاشی تنگ حالی کے حوالے سے یہ یقین دلانا چاہا کہ اس کی پیشکش کو قبول کر کے مسلمان خوشحال ہو جائیں گے ،لیکن اس کے جواب میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے جو عجیب و غریب تقریر فرمائی وہ صحابہ کرام کے ایمان و یقین ، ان کے آہنی عزم و ثبات ،دنیا سے بے رغبتی ، آخرت کی فکر اور شوقِ شہادت کی بڑی اثر انگیز تصویر ہے ۔

اس تقریر کے کچھ حصے یہ ہیں :

’’اللہ کے دشمنوں سے ہماری لڑائی اس بنا پر نہیں کہ ہمیں دنیا کی رغبت ہے یا ہم زیادہ دنیا سمیٹنا چاہتے ہیں… ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ اس کے پاس سونے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں یا اس کی ملکیت میں ایک درہم کے سوا کچھ نہیں ، اس لیے ہم میں سے ہر شخص کو دنیا کی زیادہ سے زیادہ جو مقداردرکار ہے وہ بس اتنا کھانا ہے جس سے وہ صبح و شام اپنی بھوک مٹا سکے اور ایک چادر ہے جسے لپیٹ سکے ، اگر ہم میں سے کسی کو اس سے زائد دنیا نہ ملے تو بھی اس کے لیے کافی ہے اور اگر اسے سونے کا کوئی ڈھیر مل بھی جائے تو وہ اسے اللہ کی طاعت ہی میں خرچ کرے گا… کیونکہ دنیا کی نعمتیں حقیقی نعمتیں نہیں اور نہ دنیا کی خوشحالی حقیقی خوشحالی ہے ، نعمتیں اور خوشحالی تو آخرت میں ہوں گی ، اسی بات کا ہمیں اللہ نے حکم دیا ہے ، یہی بات ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے اور ہمیں یہ نصیحت کی ہے کہ ہم دنیا کی اس سے زیادہ فکر میں نہ پڑیں کہ ہماری بھوک مٹ جائے اور ستر پوشی ہو جائے ، باقی ہماری اصل فکر اور دُھن اپنے رب کو راضی کرنے اور اس کے دشمنوں سے جہاد کرنے کی ہونی چاہیے … 

ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص صبح و شام یہ دعاء کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُسے شہادت نصیب فرمائے اور اسے اپنے شہر ، اپنی زمین اور اپنے اہل و عیال کے پاس واپس نہ جانا پڑے ،ہم لوگ اپنے وطن میں جو کچھ چھوڑ کر آئے ہیں ،ہمیں اس کی فکر نہیں کیونکہ ہم میں سے ہر شخص اپنے اہل و عیال کو اپنے پروردگار کی امان میں دے کر آیا ہے، ہماری فکر تو اپنے آگے پیش آنے والے حالات کے متعلق ہے ۔رہا آپ کا یہ کہنا کہ ہم اپنے معاشی حالات کے لحاظ سے تنگی اور شدت کی زندگی گزار رہے ہیں ،تو آپ یقین رکھیں کہ ہم اتنی وسعت اور فراخی میں ہی جس کے برابر کوئی وسعت نہیں ہو سکتی ، اگر ساری دنیا ہماری ملکیت میں آجائے تب بھی ہم اپنے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں لکھنا چاہتے جتنا اس وقت ہمارے پاس ہے ۔

لہٰذا اب آپ اپنے معاملے پر غور کر کے ہمیں بتادیجئے کہ ہماری پیش کی ہوئی تین باتوں میں سے کون سی بات آپ پسند کرتے ہیں ،جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تین باتوں کے علاوہ کسی اور بات پر نہ کبھی راضی ہوں گے، نہ اس کے سوا آپ کی کوئی بات قبول کریں گے ، بس آپ ان تین چیزوں میں سے کسی چیز کو اختیار کر لیجئے  اور نا حق باتوں کی طمع چھوڑ دیجئے ، یہی میرے امیر کا حکم ہے ،اسی بات کا حکم اُنہیں ہمارے امیر المومنین (حضرت عمررضی اللہ عنہ) نے دیا ہے اور یہی وہ عہد ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطاء فرمایا تھا ۔‘‘

اس کے بعد حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے ان تین باتوں کی تشریح فرمائی، دین اسلام کا مفصل تعارف کرایا اور مسلمان ہونے کے نتائج واضح فرمائے ۔ مقوقس حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی باتیں سننے کے بعد جزیہ کی طرف مائل ہونے لگا تھا ، لیکن اس کے ساتھیوں نے بات نہ مانی ۔ بالآخر جنگ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی ۔ ( النجوم الزاہرۃ  ۱؍۱۱تا ۱۵)

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مدینہ منورہ کے سچے عاشقوں میں شامل فرمائے ۔۔۔ آمین ثم آمین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor