Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

مایوس نہ ہوں!

 

مایوس نہ ہوں!

Madinah Madinah

مدینہ مدینہ میں ایمان نے ٹھکانہ بنانے سے قبل وہ مکہ مکرمہ میں بھی سخت ترین آزمائشوں اور مصائب سے گزرتا رہا، خود مدینہ مدینہ میں بھی کئی سالوں تک اہل ایمان بار بار مختلف جارح قوتوں اور لشکروں کے حملوں سے نبردآزما ہونے کے لیے آزمائے جاتے رہے۔

وجہ صاف تھی کہ ایمان لاتے وقت ہی کہہ دیا گیاتھا:

’’کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ (یوں ہی) بہشت میں داخل ہوجاؤ گے اور ابھی تم کو پہلے لوگوں کی سی (مشکلیں) تو پیش آئی ہی نہیں۔ ان کو (بڑی بڑی) سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ (صعوبتوں میں) ہلا ہلا دیئے گئے ۔ یہاں تک کہ پیغمبر اور مومن لوگ جو ان کے ساتھ تھے سب پکار اٹھے کہ کب اللہ کی مدد آئے گی ۔ دیکھو اللہ کی مدد (عن) قریب (آیا چاہتی) ہے۔‘‘ (سورۃ البقرۃ:۲۱۴)

مدینہ کے ماننے والے اور مدینہ سے جڑے لوگوں پر ہمیشہ ایسے حالات آتے رہتے ہیں مگر ان کی ثابت قدمی ہی ان کے لیے اس بات کا ثبوت بنتی ہے کہ وہ مدینہ مدینہ کے سچے بیٹے ہیں۔

اہل کشمیر کی قربانیوں اور استقامت نے کس طرح اس حقیقت کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا ہے اور اپنے اور پرائے سب ہی اس پر حیران اور ششدر ہیں مگر حقیقت یہی ہے کہ جب ایمان دل میں اُترتا ہے تو وہ باقی ہر قوت پر اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کردیتا ہے ۔

دشمنوں کی سازشیں اُلٹ پڑ رہی ہیں، ان کے منصوبے ناکام ہورہے ہیں اور ان کا ہر تشدد قوم کا عزم و ہمت گھٹانے کے بجائے ان کے حوصلے بلند ہورہے ہیں۔ بی بی سی پر جاری ہونے والی ایک رپورٹ سے جو صورت حال سامنے آتی اس کا کچھ خلاصہ یہ ہے کہ:

’’کئی دیہاتیوں نے بتایا کہ انھیں (بھارتی فوج کی طرف سے)لاٹھیوں اور بھاری تاروں سے مارا گیا اور بجلی کے جھٹکے دیے گئے ۔ کئی دیہاتیوں نے اپنے زخم بھی دکھائے ہیں۔ 5 اگست کو جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد سے (اب تک)اندرونی حالات سے متعلق معلومات بمشکل باہر آ رہی ہیں۔

(اس)خطے میں ہزاروں (نئے)اضافی فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق سیاسی رہنماؤں، کاروباری شخصیات اور کارکنان سمیت تقریباً 3000 افراد کو زیرِ حراست رکھا گیا ہے۔ کئی افراد کو ریاست کے باہر موجود جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔‘‘

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ بھارت کے اس نئے اقدام کے ذریعے جموں و کشمیر جو کہ مسلمان اکثریت رکھنے والی ریاست تھی ،اب اسے دو الگ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جوبھارتی وفاق کے زیر انتظام ہوں گی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ:

نمائندہ نے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی اضلاع کے کوئی آدھ درجن دیہاتوں کا دورہ کیا۔ یہ وہ علاقے ہیں جو گذشتہ کچھ برسوں سے انڈیا مخالف عسکریت پسندی کا گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ ڈاکٹرز اور محکمہ صحت کے حکام صحافیوں سے کسی بھی مریض کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتے ، چاہے انھیں کوئی بھی بیماری ہو۔ لیکن دیہی علاقوں میں رہنے والوں نے اپنے زخم دکھائے اور ان کا الزام سکیورٹی فورسز پر لگایا ۔ایک گاؤں میں دیہاتیوں کا کہنا تھا کہ انڈیا کی جانب سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر اور دہلی کے درمیان خصوصی انتظام کو ختم کرنے کے متنازع فیصلے کے چند گھنٹوں بعد ہی فوج گھر گھر گئی۔دو بھائیوں کا کہنا تھا کہ انھیں جگایا گیا اور باہر ایک علاقے میں لے جایا گیا جہاں ان کے گاؤں کے تقریباً ایک درجن دیگر مرد بھی جمع تھے ۔ ہم جس سے بھی ملے ، ان کی طرح یہ لوگ بھی اپنی شناخت ظاہر ہونے پر سنگین نتائج کے خوف کا شکار تھے ۔ ان میں سے ایک نے بتایا ‘انھوں نے ہمیں مارا۔ ہم ان سے پوچھتے رہے ‘ہم نے کیا کیا ہے ؟ آپ گاؤں والوں سے پوچھ لیں اگر ہم نے کچھ غلط کیا ہے ؟’ مگر وہ کچھ بھی سننا نہیں چاہتے تھے اور انھوں نے کچھ بھی نہیں کہا، وہ بس ہمیں مارتے رہے ۔انھوں نے میرے جسم کے ہر حصے پر مارا پیٹا۔ انھوں نے ہمیں لاتیں ماریں، ڈنڈوں سے مارا، بجلی کے جھٹکے دیے ، تاروں سے پیٹا۔ انھوں نے ہمیں ٹانگوں کی پچھلی جانب مارا۔ جب ہم بے ہوش ہو گئے تو انھوں نے ہمیں ہوش میں لانے کے لیے بجلی کے جھٹکے دیے ۔ جب انھوں نے ہمیں ڈنڈوں سے مارا اور ہم چیخے تو انھوں نے ہمارے منہ مٹی سے بھر دیے ۔

یہ حالیہ تشدد کے وہ نمونے ہیں جو بمشکل باہر آسکے ہیں جب کہ نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ تو اس سے بھی گھمبیر اور افسوس ناک ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق رواں ماہِ ستمبر میں ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے والی خواتین کی تنظیموں کی رہنماؤں نے انکشاف کیا ہے کہ کشمیر میں حالیہ لاک ڈان کے دوران 13000نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔  مختلف تنظیموں کی خواتین رہنماؤں نے ایک رپورٹ جاری کی ، جس میں مسلم اکثریتی وادی میں زمینی حالات کی وضاحت کی گئی۔ انہوں نے کہا ، "متعدد تصدیق شدہ ذرائع سے ہمیں گذشتہ 52 دنوں میں تقریبا13000نوجوانوں کے گرفتار ہونے کے بارے میں علم ہواہے ۔" انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سری نگر اور شوپیاں ، پلوامہ اور بانڈی پورہ اضلاع کے متعدد دیہات کا دورہ کیا۔اس رپورٹ میں ان بہت سارے لوگوں کی کہانیوں کو بیان کیا گیا ہے جن سے خواتین نے بات کی تھی ۔کشمیری نوجوانوں سے ان کی نفرت اتنی واضح ہے کہ جب کسی گھر کے دروازے پر خوفناک دستک ہوتی ہے تو جوانوں کی بجائے بزرگوں کو دروازہ کھولنے کے لئے بھیجا جاتا ہے ۔ 'انہوں نے ایک مقامی کے حوالے سے بتایاکہ لوگوں کوبھارتی فوج کی طرف سے اتنے تشدد کا سامنا ہے کہ مقامی لوگوں میں سے ایک شخص نے ان خواتین کو بتایا کہ "ہم روشنی کے لئے بھی فون آن نہیں کر سکتے تاکہ چھوٹی بچی کو بیت الخلا میں لے جایا جاسکے ۔یہ محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی حکومت ہمارا گلا گھونٹ رہی ہے ۔ایک مقامی لڑکی نے ان خواتین کو بتایا ، جنھوں نے لکھا ہے کہ لڑکیوں نے شکایت کی کہ انہیں فوج نے اپنا نقاب ہٹانے سمیت متعدد طریقوں سے ہراساں کیا ہے ۔

ان خواتین نے کہا :وہ تمام لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صورتحال آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے ، مسخ شدہ حقائق کی بنیاد پر جھوٹے دعوے کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں مقبوضہ کشمیر کی ہی ایک کارکن نوجوان خاتون نے کشمیری عوام کے جن جذبات کاترجمانی کی ہے وہ بھی اس بات کے شاہد ہیں کہ کشمیری عوام نے طئے کر رکھا ہے کہ کسی بھی صورت انڈیا کے ظلم و جبر کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکیں گے اور یہی چیز بھارت اور اس کے ہم نوا عالمی اداروں کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔

کارکن خاتون کا کہنا ہے کہ : کشمیری لوگوں کے لیے یہ ایک جذباتی معاملہ بن چکا ہے ۔لوگ اب یہی کہتے ہیں، ابھی یا کبھی نہیں۔ لوگوں کے اب یہی جذبات ہیں یا تو ہم کچھ کریں کہ ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔ اگر ہم اب کچھ نہ کر پائے تو کبھی نہیں کر پائیں گے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ یہ آخری وقت ہے کچھ کرنے کا۔

وہ کہتی ہیں کہ: لوگوں کی بے چینی، اضطراب اور غصہ بڑھ رہا ہے ۔ کشمیریوں کی نئی نسل میں موت کا خوف نہیں ہے ۔ وہ ہر پل مر رہے ہیں۔ جب لوگ قید میں ہوں تو ان کے احساسات کیسے ہوں گے ۔ ان کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کسی پنجرے میں بلبل کو قید کر دیا گیا ہو۔محترمہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر کے لاک ڈاؤن میں عورتیں، مرد، بوڑھے سبھی اپنے اپنے طور پر مشکلوں سے گزر رہے ہیں۔عورتوں اور نو عمر بچوں پر ان حالات کا سب سے گہرا اثر پڑتا ہے ۔ اظہار کے سارے ذرائع چھین لیے گئے ہیں۔ جو جذبات ہیں وہ اندر ہی اندر ابل رہے ہیں۔ وہ کب پھٹیں گے یہ کسی کو نہیں معلوم ۔

محترمہ کا یہ تجزیہ بھی قابل غور ہے کہ:’’ کشمیریوں میں مزاحمت کی قوت بہت زیادہ ہے اور یہ پہلی بار نہیں جب انھوں نے اس طرح کے حالات دیکھے ہوں۔ وہ ایک عرصے سے ایسے حالات دیکھتے چلے آئے ہیں… لوگوں کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے ۔ لوگوں کے جو جذبات ہیں وہ کم نہیں ہو رہے ہیں۔‘‘

اس وقت عالمی دنیا کے سامنے کشمیر کا مسئلہ پوری قوت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آچکا ہے مگر ابھی تک عالمی بے حسی اپنی جگہ برقرار ہے۔ ایمان اور اہل ایمان ’’غربائ‘‘ اور تنہاو بے یار و مددگار نظر آرہے ہیں، کوئی ان کا پرسان حال دکھائی نہیں دے رہا، سب اہل ایمان سے خوف زدہ اور کنارہ کش دکھائی دے رہے ہیں۔ شیطانی قوتیں خوب فساد پھیلا رہی ہیں۔

ان حالات میں ایمان کا تقاضا ہے کہ دل کو یقین سے بھرا جائے، دل کو ایمان سے بھرا جائے، دل میں جذبہ جہاد اور شوق شہادت تیز کیا جائے۔

حالات اُس رخ پر نہیں جایا کرتے جس رُخ پر دنیا کی طاقتیں لے جانا چاہتی ہیںبلکہ رب کائنات جدھر حالات لے جانا چاہتے ہیں حالات اسی طرح جاتے ہیں، اور رب کائنات کی خفیہ تدبیروں کوکون جان سکتا ہے؟ وہ اندھیرے سے صبح کو نکال لاتا ہے، وہ مردے سے زندہ کو باہر لے آتا ہے، وہ بنجر اور خشک زمین کو ہریالی سے بھر دیتا ہے ، بالکل اسی طرح وہ مایوس کن حالات میں بھی ایمان والوں کے لیے امید کا سورج طلوع کردیتا ہے۔

پس اے اہل ایمان! مایوس نہ ہوں، اللہ کی رحمت کو محسوس کریں اور اس رحمت کو پانے کی فکر کریں اور مدینہ مدینہ سے اس رحمت کوپانے کے نسخے پائیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor