Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ڈرائیور

 

ڈرائیور

Madinah Madinah

ہندوستان سے کچھ عرصہ قبل ایک ویڈیو دُنیا بھر میں بہت دلچسپی سے دیکھی گئی۔ وَائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک بس ڈرائیور نے دورانِ ڈرائیونگ اپنی گود میں ایک لنگور کو بٹھا رکھا ہے ۔ لنگور بڑے ماہرانہ اَنداز میں گاڑی کا سٹیئرنگ گھما رہا ہے اور بڑی تندہی اور دلچسپی سے ڈرائیونگ کرتا دِکھائی دے رہا ہے ۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد بس کمپنی نے اُس ڈرائیور کو فوری طور پر نوکری سے ہٹا دیا کیونکہ اُس نے اپنی اِس حرکت سے تمام مسافروں کی جانوں کو خطرے سے دوچار کیا۔

دنیا میں کہیں اور یہ واقعہ ہوا ہوتا تویہ سزا سمجھ میں آتی لیکن ہندوستان میں ایسا کرنے پر سزا دیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے ۔

انڈین قوم نے سرکار کا سٹیئرنگ ایک ایسی شخصیت کو پکڑا رَکھا ہے جو عقل و فہم میں اس لنگور سے کم تَر اور چھچورے پن اور بے وقوفی میں اس سے فزوں تر ہے ۔ قوم نہ اُسے ڈرائیونگ سونپنے والوں کو کوئی سزا دے رہی ہے اور نہ اُسے ڈرائیونگ سیٹ سے اُتار رہی ہے ۔ اس نے اپنے جنگی جنون ، متعصبانہ نظرئیے ، اِسلام دشمنی اور ہندو بالادستی کے خمار میں پوری قوم اور ملک کو خطرات سے دو چار کر رکھا ہے ۔ وہ ہندوستان کو ایسی سمت لے جا رہا ہے ، جدھر سوائے بربادی اور تباہی کے کچھ نہیں لیکن اس پر قوم سو رہی ہے اور چند مسافروں کی بات آئی تو بے چارے ڈرائیور کو سزا سنا دی۔رہی سہی کسر اس کی سائنسی اُمور پر ماہرانہ آراء نے پوری کر رکھی ہے ۔ کلائمیٹ چینج پر درفنطنی ہو یا گٹر گیس کے براہِ راست اِستعمال کافارمولہ، بادلوں والے موسم میں ایئر فورس کی کارکردگی کا معاملہ ہو یا اِقتصادی اُمور پر لنگورانہ تجزیات۔ جس عنوان سے بھی غور کریں گے راج سنگھاسن پر بیٹھا شخص مانس کم بَن مانس زیادہ نظر آئے گا۔

ویڈیو میں ایک اشارہ اور بھی ہے ۔

ڈرائیور خاکی وَردی میں ہے جو کہ آر ایس ایس کا نشان ہے اور لنگور متحرک ہے جو کہ مودی جی کی پہچان ہے ۔ ڈرائیور گیئر بھی بدل رہا ہے اور اس نے ہینڈل پر بھی ہاتھ جما رکھا ہے جسے وہ گھما رہا ہے لیکن بندر کو اس طرح بٹھایا ہے کہ گویا گاڑی وہ ڈرائیو کر رہا ہے ۔ انڈیا اس وقت آر ایس ایس کے ہاتھوں میں ہے ۔ نظام کا پہیہ وہ گھما رہی ہے ۔ پالیسیاں اسی کے نظرئیے کے تحت بن رہی ہیں۔ وزارتیں ، پارٹی عہدے ، پولیس ، بیوروکریسی اور فوج و انٹیلی جنس میں اعلیٰ عہدوں پر تعیناتیاں سب آر ایس ایس سے وَفاداری اور اس کے نظرئیے سے اِتفاق پر ہی ہو رہے ہیں۔ مسلمانوں پر خصوصاً اور دیگر اقلیتوں پر عموماً شکنجہ بھی اسی دہشت گرد جماعت کے ایجنڈے کے مطابق کسا جا رہا ہے لیکن بظاہر حکومت کی باگ ڈور ایک ‘‘مودی’’ کے ہاتھ میں دے کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انڈیا سیکولر ملک ہے اور وہاں جمہوری نظرئیے کے مطابق برابری کا نظام رائج ہے ۔ وہاں ووٹ کے ذریعے برسراقتدار آنے والی پارٹی رول کر رہی ہے اور ملک کا نظام سیکولر جمہوری آئین کے مطابق چلایا جا رہا ہے ۔ یہ سب سوچنے والے اور اس پر یقین رکھنے والے صرف بندر کے ہاتھ اور اس کی پھرتیوں کو دیکھ رہے ہیں، ڈرائیور کے کردار کو فراموش کر رہے ہیں۔

تیسرا اہم نکتہ اس ویڈیو میں یہ ہے کہ ہمارے ہاں بھی حکومت کا نظریہ اکثر و بیشتر اسی بنیاد پر چل رہا ہے ۔ عوام اپنے ووٹ سے ڈرائیور منتخب کرتی ہے ، اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھاتی ہے تاکہ وہ گاڑی کو بہتر اور محفوظ اَنداز میں چلا کر انہیں منزل تک پہنچائے لیکن وہ سیٹ پر بیٹھ کر سٹیرنگ بندروں کے ہاتھ پکڑا دیتا ہے ۔ نا اہل وزیر، کرپٹ بیوروکریسی، خوشامدی مشیر، اپنی اپنی ترجیحات اور اَہداف رکھنے والے اِدارے ، دین دشمنی سے بھری ہوئی اِنتظامیہ اور مال حرام کے عادی ملازمین ۔حکمرانوں کے یہی بندر ہیں جنہیں وہ اپنے آرام یا تفریح کی غرض سے گاڑی کا اِنتظام تھما کر خود سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ان کا اپنا ہدف محض یہ ہوتا ہے کہ وہ جس طرح بھی ممکن ہو اپنے پانچ سال پورے کریں، ان کی سیٹ کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور کوئی دوسرا ان کی جگہ لینے نہ آئے بس۔ اس دوران یہ مخلوق گاڑی کس طرح چلاتی ہے، کن کن گڑھوں میں گراتی ہے ، کہاں کہاں غلط راستہ اختیار کرتی ہے ، کیسے کیسے خطرات سے ملک و قوم کو دوچار کرتی ہے ، اصل ڈرائیور کو اس کی پرواہ کم ہی ہوتی ہے ، اسے بس یہ رپورٹ ملتی رہنی چاہیے کہ سب ٹھیک چل رہا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے قومی مفاد میں ہو رہا ہے۔ ملک و قوم کی بقاء اسی میں ہے اور ترقی کا راز انہی اِقدامات میں پنہاں ہے ۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور انہیں توفیق عطاء فرمائے کہ بندروں پر اِنحصار کی بجائے اپنا کام خود کریں اور اچھے طریقے سے کریں۔خصوصاً اس وقت ہمارے خارجہ امور کا سٹیرنگ جن نابغوں کے ہاتھ پکڑا دیا گیا ہے اور قومی امور میں عالمی سطح پر جو پے درپے رُسوائیوں اور شکستوں کی کہانیاں منظر عام پر آرہی ہیں ان کے پیش نظر کم از کم اس بس کا کنٹرول تو اس مخلوق سے چھڑا کر کسی انسان کے ہاتھ پکڑانا ازحد ضروری ہوچکا ہے ۔ رہی بات سائنس وٹیکنالوجی والی بس کی تو اس پر بات کرنے کی بجائے’’بس‘‘کہہ دینا ہی کافی ہے ۔اس کا کنٹرول تواگر ان موجودہ ہاتھوں سے لے کر کسی اصلی لنگور کے ہاتھ میں ہی دیدیا جائے تو شاید اس محکمے کا کچھ بھلا ہوجائے ۔حکمران کو یہ بات ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ جب اقتدار کا دورانیہ گذر جائے گا، ناکامی کا ہر اِلزام اور ہر دُشنام ڈرائیور کے نام ہوںگے۔ ان بندروں کا کیا ہے ؟ ان سے کس نے پوچھنا ہے ۔ یہ تو اس ڈرائیور کی معطلی کا تماشہ دیکھ کر کل دوسرے ڈرائیور کی گود میں جا بیٹھیں گے اور اسے اپنی مہارت کا یقین دِلا کر اسٹیرنگ گھمانے کا شوق پورا کرلیں گے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor