Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ام معبد رضی اللہ عنہا کے خیمے میں…

 

ام معبد رضی اللہ عنہا کے خیمے میں…

Madinah Madinah

غارِ ثور میں تین دن قیام کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کا مختصر سا قافلہ یثرب کی طرف روانہ ہوا۔ ایک سانڈنی پر حضور صلی پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار تھے اور دوسری سانڈنی پر حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن اریقط لیثی، عبداللہ بن اریقط غیر مسلم ہونے کے باوجود ایک قابل اعتماد شخص تھا۔ وہ مکہ سے مدینہ جانے والے تمام راستوں سے بخوبی واقف تھا، اس لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے راستہ بتانے کیلئے اجرت پر ساتھ لے لیا تھا۔ جب یہ مختصر قافلہ قدید کے مقام پر پہنچا تو حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے غار سے روانگی کے وقت جو کھانا دیا تھا وہ ختم ہو چکا تھا۔ سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کے ساتھیوں کو بھوک اور پیاس محسوس ہو رہی تھی۔ اس لئے یہ مقدس قافلہ امّ معبد کے خیمے کے سامنے جا کر رکا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے امّ معبد کی شہرت سن رکھی تھی۔ یہ خوش قسمت عورت اپنی غربت و افلاس کے باوجود اپنی عالی حوصلگی اور مہمان نوازی کی وجہ سے اس صحرائی علاقے میں مشہور و معروف تھی۔ اس طرف سے گزرنے والے مسافروں کی گوشت، کھجور اور دودھ سے تواضع کرنا اُس کا خاص شیوہ تھا۔ وہ میزبانی کے یہ فرائض نہایت خوشدلی سے انجام دیتی تھی۔ جو بھی اس کا مہمان بنتا اُس کی زبان پر اُس کی تعریف کے کلمات ہوتے، بے ساختہ دل سے اُس کیلئے دعائیں نکلتیں۔

اس وقت امّ معبد اپنے خیمے کے باہر صحن میں بیٹھی ہوئی تھی۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے کہا: ’’کھانے کی کوئی چیز یعنی دودھ، گوشت اور کھجور میں سے جو کچھ بھی تمہارے پاس ہو ہمیں دے دو، ہم اس کی قیمت ادا کریں گے۔‘‘

اُن دنوں خشک سالی نے اس پورے علاقے پر قیامت ڈھا رکھی تھی۔ اس وجہ سے امّ معبد کے گھر پر بھی تنگی اور سختی کا وقت آن پڑا تھا۔

مسافر کی یہ بات سن کر امّ معبد کا دل بھر آیا۔ اس نے بڑی حسرت بھرے لہجے میں کہا:

’’خدا کی قسم! اس وقت میرے گھر میں آپ کو پیش کرنے کیلئے کوئی چیز موجود نہیں۔ اگر ہوتی تو فوراً حاضر کردیتی۔‘‘

اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک مریل سی بکری پر پڑی جو خیمے میں ایک طرف کھڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’معبد کی ماں! اگر اجازت ہو تو اس بکری کا دودھ دوہ لیں۔‘‘

امّ معبد نے کہا: ’’بڑے شوق سے مگر مجھے امید نہیں کہ وہ دودھ کا ایک قطرہ بھی دے گی۔‘‘

رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دستِ شفقت بکری کی پیٹھ پر پھیرتے ہوئے دعا کی:

’’یا اللہ، اس عورت کی بکریوں میں برکت دے۔‘‘

اس کے بعدآسمان نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے۔ بکری ٹانگیں پھیلا کر آرام سے کھڑی ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا سا برتن لے کر اُسے دوہنا شروع کیا۔ جلد ہی وہ لبالب بھر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے یہ دودھ امّ معبد کوپلایا۔ اُس نے خوب سیر ہو کر پیا۔ پھر اپنے ساتھیوں کوپلایا اور آخر میں خود پیا اور فرمایا: ’’لوگوں کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔‘‘

اس کے بعد ساقیٔ کوثر صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بکری کو دوہنا شروع کیا یہاں تک کہ برتن پھر بھر گیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دودھ امّ معبد کیلئے چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے۔

امّ معبد کا بیان ہے کہ یہ بکری ہمارے پاس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت تک رہی اور صبح و شام اس کے دودھ سے ہم اپنی ضرورتیں پوری کرتے رہے۔

اس بابرکت قافلے کے تشریف لے جانے کے بعد امّ معبد کا شوہر اپنے ریوڑ لے کر جنگل سے واپس آیا۔ خیمے میں دودھ سے بھرا ہوا برتن دیکھ کر حیران رہ گیا۔ گھر والی سے پوچھا یہ دودھ کہاں سے آیا ہے؟ امّ معبد نے کہا:

’’خدا کی قسم! ایک بابرکت مہمان یہاں آیا تھا۔ اس نے اس مریل بکری کو دوہا۔ خود بھی اپنے ساتھیوں سمیت سیر ہو کر پیا اور یہ دودھ ہمارے لئے چھوڑ دیا۔‘‘

پھر اس واقعے کی پوری تفصیل بیان کی۔ خاوند یعنی ابومعبد نے کہا ذرا اس کا حلیہ تو بیان کرو۔ امّ معبد نے فی البدیہہ اور بے ساختہ رحمتِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حلیہ مبارک بیان کیا، اُسے تاریخ نے اپنے اوراق میںمحفوظ کرلیا ہے۔ امّ معبد اس وقت مسلمان نہیں تھی اور نہ ہی وہ ابھی اسلام و ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوئی تھی لیکن اُس کی زبان سے نکلے ہوئے جملے اور فقرے عربی ادب کا ایک مایۂ ناز شاہکار ہیں۔

عربی مبین کی فصاحت و بلاغت اور صباحت و ملاحت اپنے پورے جوبن پر ہے۔ الفاظ کی خوبصورتی فقرات کی برجستگی اور دلنشینی اور خیالات کی سادگی و سلاست نے امّ معبد کی اس برجستہ تقریر کو شمائل نبوی کی کتابوں میں ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کردیا ہے۔ اس کی تازگی، دلکشی اور عطر بینی پہلے بھی مشامِ روح کو معطر کرتی رہی ہے اور قیامت تک کرتی رہے گی۔ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کا یہ فیض خاص ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل بیان کرنے کا یہ تاریخی اعزاز بھی ایک عورت کے حصے میں آیا۔

اردو ادب میں اس تقریر کا ترجمہ کرنے اور اس کا مفہوم اردو میںڈھالنے کی بے شمار کوششیں ہوئی ہیں، مگر کہاں عربی مبین اور کہاں اس کے مقابلے میں بیچاری اردو، تاہم ذیل میں ہم پہلے اصل عربی عبارت اور پھر اس تقریر کا اُردو ترجمہ نقل کرتے ہیں جو  مقابلۃً اصل سے زیادہ قریب ہے:

قالت : رأیت رجلاًظاہر الوضائۃ ، متبلج الوجہ ، حسن الخَلق، لم تعبہ ثجلۃ ولم تزربہ صعلۃ ، وسیم قسیم ، فی عینیہ دعج ، و فی أشفارہ وطف ، و فی صوتہ صحل ، احور ا کحل أزج أقرن ، شدید سواد الشعر ، فی عنقہ سطع ، و فی لحیتہ کثافۃ، اذا صمت فعلیہ الوقار ، واذا تکلم سما و علاہ البھا ء و کان منطقہ خرزات نظم یتحدرن ، حلوالمنطق ، فصل ، لا نزروھذر ، اجھرالناس واجملہ من بعید ، واحلاہ و احسنہ من قریب ، ربعۃ لا تشنؤہ من طول ولا تقتحمہ عین من قصر ، غصن بین عصنین فھو انصر الثلا ثۃ منظرًا ، و احسنھم قدراً، لہ رفقاء یحفون بہ ، اذا قال استمعوا لقولہ ، واذا أمر تبا دروا الی أمرہ ، محفود محشود ، لا عابث ولا مفند(الطبقات الکبری لا بن سعد،ذکر خروج رسول اللّٰہ ﷺ،۱؍۲۴۰)

’’میںنے ایک شخص کو دیکھا جس کی نظافت نمایاں، جس کا چہرہ تاباں اور جس کی ساخت میں تناسب تھا۔ پاکیزہ اور پسندیدہ خو، نہ فربہی کا عیب نہ لاغری کا نقص، نہ پیٹ نکلا ہوا نہ سر کے بال گرے ہوئے، چہرہ وجیہہ، جسم تنومند اور قد موزوں تھا۔ آنکھیں سرمگیں، فراخ اور سیاہ تھیں، پتلیاں کالی اور ڈھیلے بہت سفید تھے۔ پلکیں گھنی اور لمبی تھیں۔ ابُرو ہلالی، باریک اور پیوستہ، گردن لمبی اور صراحی دار، ڈاڑھی گھنی اور گنجان، سرکے بال سیاہ اور گھنگھریالے، آواز میںکھنک کے ساتھ لطافت۔ بات کریں تو رُخ اور ہاتھ بلند فرمائیں۔ کلام شیریں اور واضح، نہ کم سخن اور نہ بسیار گو، گفتگو اس انداز کی جیسے پروئے ہوئے موتی۔ دور سے سنو تو بلند آہنگ، قریب سے سنو تو دلفریب، کلام نہ طویل نہ بے مقصد بلکہ شیریں ، جامع اور مختصر، خاموشی اختیار کرے تو پروقار اور پرتمکین نظر آئے۔ قد نہ درازی سے بد نما اور نہ اتنا پستہ کہ نگاہ بلند تر پر اُٹھے۔ لوگوں میں بیٹھے تو سب سے جاذب ، دور سے نظر ڈالیں تو بہت بارعب ، دو نرم و نازک شاخوں کے درمیان ایک شاخِ تازہ جو دیکھنے میں خوش منظر، چاند کے گرد ہالے کی طرح رفیق گردوپیش۔ جب کچھ کہے تو وہ سراپا گوش۔ حکم دے تو تعمیل میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں۔ سب کا مخدوم، سب کا مطاع، مزاج میں اعتدال، تندی اور سختی سے دور۔‘‘

شوہر یہ صفات سن کر پکار اُٹھا کہ خدا کی قسم یہ تووہی قریشی شخص تھا جس کاذکر ہم سنتے رہتے تھے۔ میں اس سے ضرور جا کر ملوں گا۔

کچھ عرصے کے بعد دونوں میاں بیوی مدینہ منورہ جا کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور سعادت ایمانی سے بہرہ مند ہوئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor