Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِنتخابی ڈرامہ

 

اِنتخابی ڈرامہ

Madinah Madinah

انڈیا کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور مفادات کا گٹھ جوڑ اس خطے کے امن و امان کوبُری طرح متاثر کررہا ہے اور شاید یہی کچھ امریکہ اور بھارت کا مشترکہ پلان ہے کہ اس خطے کو آگ میں جھونک کر وہ اپنی چودھراہٹ قائم کرسکیں۔

مقبوضہ کشمیر کی صورت حال اور بھارتی اقدامات سے واضح ہورہا ہے کہ ان عالمی دہشت گردطاقتوں کی ملی بھگت سے ’’مقبوضہ کشمیر‘‘ کو ’’فلسطین‘‘ کی طرح مسلمانوں کے ہمسایہ ممالک سے پوری طرح کاٹ کر بے دست و پا کیا جارہا ہے جس کے بعد کشمیری اُسی طرح بھارتی افواج اور بھارتی سرکا رکے چنگل میں تڑپتے رہیں جس طرح کہ فلسطینیوں کو اسرائیلی افواج اور اسرائیلی ناجائز حکومت کے مظالم کا نشانہ بننے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں لگے کرفیو کو دوماہ مکمل ہوچکے ہیں اور ابھی تک کسی طرف سے بھی ان کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کیاگیا اور اب انڈیا اس صورت حال میںنام نہاد انتخابات کا ایک ’’جھوٹا سیاسی ڈرامہ‘‘ رَچا کر ایک جانب کشمیریوں کو مکمل دبانا چاہ رہی ہے اور دوسری جانب اپنے نام نہاد اور جھوٹے ’’سیکولرازم‘‘ کے دعوے کو مضبوط کرنا چاہ رہی ہے۔انڈیا یہ سب کچھ کس طرح کرنا چاہ رہا ہے ؟ اس کے لیے ایک رپورٹ کے درج ذیل اقتباسات دیکھیے:

انڈیا کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ایک ایسے وقت جب وہاں کے سیاستدان خاص کر حریت پسند رہنما، نظر بند اور زیرِحراست ہے اور پوری ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورتحال ہے ،عوام الناس کو بندوقوں کے زور پر گھروں میں پابند کردیا گیا ہے، تو اب مکارانہ طرقیسے مقامی انتخابات کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد سے یہ ریاست میں پہلی انتخابی سرگرمی ہو گی۔پہلے مرحلے میں 24 اکتوبر کو دیہی علاقوں کے 310 بلاکس میں پنچائیت کونسل کے انتخابات کی تیاری کی جا رہی ہے ۔ ووٹوں کی گنتی انتخابات کے روز ہی ہو گی۔

انتخابات کا یہ ڈرامہ کس قدر جھوٹا اور بے بنیاد ہے اس کا اندازہ اسی سے لگائیے کہ ریاست کے تقریباً تمام نمایاں سیاستدان دو ماہ سے حکومتی حراست میں ہیں اور پوری ریاست میں انٹرنیٹ، موبائل ٹیلیفون اور مواصلات کے دوسرے ذرائع پر پابندیاں عائد ہیں۔اسی لیے حریت رہنماؤں کے علاوہ کشمیر کے دیگر سیاسی رہنماؤں نے بھی ان انتخابات کو جعل سازی قرار دیا ہے۔ 

واضح رہے کہ اس وقت انڈیا جو کچھ کشمیر میں کررہا ہے اور کرنے جا رہا ہے وہ اس قدر ناقابل برداشت ہے کہ حریت رہنماوں کے علاوہ ان میں سابق وزائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کے علاوہ ہند نواز سیاستدان سجاد لون، شاہ فیصل اور کئی دیگر سابق ممبران اسمبلی بھی ایسے ہیں جنہیں نظر بند کرکے رکھا گیا ہے۔اس دوران اگرچہ جموں کے علاقے میں کسی قدر سیاستدانوں کی نظر بندی کو ختم کیا گیاہے، لیکن کشمیر کے مسلم اکثریت والے علاقے میں حالات جہاں عشروں سے مزاحمتی تحریک جاری ہے ، اب بھی کشیدہ ہیں اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج بھی ہورہا ہے اور ابھی تک مواصلات کی مکمل بندش ہے اور انٹرنیٹ اور موبائل فون کے کنکشن اگست سے معطل ہیں۔وادی کی سیاسی جماعتوں کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے کارکنوں سے رابطہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے ۔ کئی سیاسی کارکن گھروں سے غائب ہیں اور سیاسی جماعتوں کے دفاتر بند پڑے ہیں۔

مسلم حریت پسند رہنماوں کے علاوہ کشمیر نیشنل پینتھرز پارٹی کے ہرش دیو سنگھ جنھیں 58 روز کی نظر بندی کے بعد چند روز پہلے ہی رہا کیا گیا ہے ،نے کہا ہے کہ ’’یہ صرف دِکھاوے کے انتخابات ہیں۔ یہ صرف دکھانے کے لیے ہیں کہ وادی میں انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔‘‘نیشنل کانفرنس کے دیوندر رانا کا کہنا ہے کہ ریاست میں سب کچھ بند ہے ، سیاست کی بات کرنا ہی نامناسب ہے ۔ ‘ایسی صورتحال میں سیاسی سرگرمیاں کیسے ہو سکتی ہے ۔ جب سیاسی کارکن عوام سے مل نہ سکیں، ان کی خواہشات کو سمجھ نہ سکیں، یہ نظام کیسے چل سکتا ہے ۔

اسی طرح ایک اور سیاسی کارکن شہلا رشید جنہوں نے حال ہی جموں کشمیر پیپلز موومنٹ سے وابستہ ہوئی تھیں، کہتی ہیں کہ وہ سیاست چھوڑ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں: ' یہاں جو کچھ ہو رہا ہے ، جمہوریت نہیں ہے ، بلکہ جمہوریت کا قتل ہے ۔ یہ اپنی کٹھ پتلیوں کو لانے کی کوشش ہے ۔

البتہ بھارتی سرکار اپنی قوت و طاقت اور جبر و ظلم کی بنا پر پُراعتماد ہے کہ وہ اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی اور کئی مقامات پر وہ آزاد امیدواروں کی حمایت کرے گی۔بی جے پی کے رویندرا رائنا کہتے ہیں کہ کشمیر میں کوئی سیاسی خلاء نہیں ہے اور انتخابات سے کشمیر کی سیاست میں نئے لوگوں کو موقع ملے گا جہاں اس سے پہلے پیپلز ڈیموکرٹیک پارٹی اور نیشنل کانفرنس کا غلبہ تھا۔

 بی جے پی اس رائے سے متفق نہیں ہے کہ سیاسی رہنماؤں کی نظر بندی کی وجہ سے کشمیر میں سیاسی عمل کو کوئی فرق پڑا ہے ۔دیوندر رائنا کا موقف ہے کہ فاروق عبداللہ کے سوا کسی سیاسی رہنما کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے ۔بی جے پی کے مطابق ان لوگوں کو نفرت پھیلانے سے روکنے کے لیے انھیں نظر بند کیا گیا ہے تاکہ امن عامہ کی صورتحال پیدا نہ ہو سکے اور معصوم لوگوں کے جانی ضیاع سے بچا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کار نوراحمد بابا نے خبردار کیا ہے کہ یہ انتخابات کشمیر میں طوائف الملوکی کو جنم دے سکتے ہیں۔ 'یہ سارا عمل جابرانہ ہے جو لوگوں میں نفرت، غصے اور بغاوت کو جنم دے سکتا ہے ۔

بات تو بالکل واضح ہے کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات کے ذریعے بھارت سرکار میں شمولیت کو قبول کرنا ہوتا تو وہ کب کا ایسا کر چکے ہوتے، لیکن انہوں نے ہمیشہ اس کا ٹھکرایا تو اب انڈیا جبری بنیادوں پر انتخابات کا ایک جھوٹا ڈرامہ بنا کر کشمیریوں کی آواز کو دبانا اور ان کی تحریک کو ختم کرنے کی کوشش کررہا ہے مگر جس قوم نے اپنی نسلیں اس تحریک میں گنوائی ہوں وہ کب ایک جھوٹے ڈرامے سے دھوکہ کھاسکتی ہے۔ ہاں مگر بھارت والے اپنے جھوٹے خداؤں کی پوجا کرکے جس طرح دھوکہ کھا رہے ہیں تو وہ یقینا اس معاملے میں بھی اپنے فریب کے جال میں خود ہی پھنسیں گے اور یہ سب ڈرامہ بازی خود انہی کو ہی لے ڈوبے گی۔ ان شاء اللہ

٭…٭…٭

 

ظالم سے حفاظت کی دعاء

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں… حضور اقدس ﷺ نے مجھے ظالم بادشاہ کے پاس اور ہر طرح کے خوف کے وقت پڑھنے کے لئے یہ کلمات سکھائے…

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ، سُبْحَانَ اللّٰہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ

اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ عِبَادِکَ…

بڑی مبارک ، جامع اور مؤثر دعاء ہے… اس میں اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد درخواست کی گئی ہے کہ…

اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ عِبَادِکَ

یا اللہ! میں آپ کے بندوں کے شر سے آپ کی پناہ (حفاظت ) چاہتا ہوں

کسی ظالم شریر سے ملاقات ہو… وہاں یہ دعاء پڑھ لیں… کسی دشمن ، حاسد یا موذی کا خوف ہو… وہاں یہ دعاء پڑھ لیں… یہ دعاء طاقتور دشمن کے ہاتھ باندھ دیتی ہے… صبح و شام تین تین بار کا معمول بنا لیں تو اچھا ہے…

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor