Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

سزا

 

سزا

Madinah Madinah

وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا

وہ بات ان کو بہت ناگوار گذری ہے

پرویز مشرف کے خلاف دائر ریفرنس کا فیصلہ آ گیا۔ یہ فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی اُن خواہشات کے عین مطابق آیا ہے جس کا اظہار وہ وزیر اعظم بننے سے پہلے اپنے متعدد انٹرویوز میں کر چکے تھے۔ ہمارے ہاں عدلیہ کے بارے میں عام طور پر یہی مشہور ہے کہ اس کے فیصلے حکمرانوں کی منشا کے مطابق آتے ہیں۔ بات درست ہے یا غلط اس سے قطع نظر اس فیصلے میں تو صاف نظر آ رہا ہے وزیراعظم کی خواہش اور عزائم کا بطورِ خاص خیال رکھا گیا ہے حتیٰ کہ فیصلے کی جو زبان و بیان ہے وہ بھی وزیراعظم صاحب کے مزاج کی عکاس ہے۔ بہرحال فیصلہ آ گیا کہ پرویز مشرف کو آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت کا حقدار قرار دیا گیا۔ اگرچہ مجرم کے ان جرائم کی تعداد درجنوں میں ہے جن کی سزا شرعاً ،اَخلاقاً ، قانوناً ہر طرح موت ہی بنتی ہے لیکن ریفرنس میں ان اکثر جرائم کا ذکر نہ تھا۔ مثلاً اس میں بُردہ فروشی کے جرم کا بھی ذکر نہ تھا حالانکہ مجرم نے اپنی خود نوشت میں اس کا فخریہ اِقرار کیا کہ اس نے سینکڑوں لوگوں کو پانچ پانچ ہزار ڈالر کے عوض کفار کو فروخت کیا جن میں شیرخوار بچے بھی شامل تھے اور بردہ فروشی کے صلے میں قوم کو اغیار نے مادرفروشی کے  طعنے دیئے۔ عوام الناس کی اکثریت کو وہ ٹی وی پروگرام یاد ہی ہو گا جس میں اس کے سامنے اس جرم کی بابت سوال کیا گیا اور اس نے صحتِ جرم سے انکار کیا تو سائل نے اس کی کتاب کا وہ پیراگراف پڑھ کر سنایا جس پر اس کے چہرے پر اُڑنے والی ہوائیاں اور اس کی آئیں بائیں شائیں سب نے دیکھی اور سنی۔ اس ریفرنس میں ملکی معیشت کو مکمل بربادی کی راہ پر گامزن کرنے کے جرم کا بھی ذکر نہ تھا۔ اس ریفرنس میں ملک و قوم کو بحران کے لفظ سے شناسائی بخشنے کا بھی ذکر نہیں تھا حالانکہ اس شخص کے دورِ نا مسعود سے قبل لوڈ شیڈنگ اور کبھی کبھار کسی چیز کی قلت کا سامنا تو قوم کو بارہا ہوتا رہا لیکن لفظ بحران کی اس قدر ارزانی و فراوانی اس سے پہلے نہ دیکھی گئی تھی۔ چینی کا بحران ، آٹے کا بحران، اَمن و امان کا بحران، سلامتی کا بحران، بجلی کا بحران ، گیس کا بحران غرضیکہ بحران ہی بحران۔ اس سے قبل فساد فی الارض کا یہ منظر بھی اس قوم نے کبھی نہ دیکھا تھا کہ ملک کے ہر شہر میں اپنے لوگوں کے ہاتھوں اپنوں کا خون پانی کی طرح بہا ہو۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے ایک ذلت آمیز معاہدہ بھی ان جرائم میں سرفہرست ہے جس نے ملکی سالمیت اور خود مختاری کو تماشہ بنا کر رکھا دیا ،جن کی سزا موت سے کم ہرگز نہیں ہو سکتی۔ لیکن ریفرنس دائر کرنے والے چونکہ خود اپنے کردار کے اعتبار سے ان جرائم میں پرویز مشرف جتنے نہ بھی سہی تو بہرحال ان میں ملوث ضرور رہے اس لئے انہوں نے انہیں ریفرنس میں شامل نہ کرنے میں ہی عافیت جانی اور نسبتاً ایک چھوٹے جرم یعنی ملکی آئین کی پامالی اور معطلی کو بنیاد بنایا اور نتیجتاً اس پر سزائے موت کا فیصلہ آ گیا۔ آپ ذرا سوچئے جس مجرم کا سب سے چھوٹا اور ضرر کے اعتبار سے کمترین جرم اس سزا کا موجب ہو اس کے بڑے جرائم کی سزا کیا ہو گی ؟ بہرحال یہ سزا سنا دی گئی تو آپ خود اندازہ کر لیجئے کہ جو لوگ اس کے بڑے جرائم کے متاثرین ہیں ان کے دل کس قدر خوش ہوئے ہوں گے اور انہیں کیسی شفاء و سکون نصیب ہوا ہو گا۔ الحمد للہ اہل ایمان نے اس خوشی کو محسوس کیا اور اس یقین کے باوجود کہ مجرم اس سزا کی پکڑ سے فی الحال باہر ہے اور اس بات کا اِمکان بہت ہی کم ہے کہ اس کی سزا پر عمل درآمد ہو سکے بہرحال شکر ادا کیا اور سرور کی لذت پائی۔

یہ بات جو پچھلی سطور میں عرض کی ہے کہ آئین شکنی کا جرم پرویز مشرف کے جرائم میں خفیف ترین حیثیت کا جرم ہے اس کی تفصیل عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر دس ذوالحجہ یعنی یوم النحر کے دن صحابہ کرم کو مخاطب فرمایا اور ان سے پوچھا کہ یہ کون سا دن ہے؟ کون سا مہینہ ہے اور کون سا مقام ہے؟ صحابہ کرام سمجھے کہ سوال معمول سے ہٹ کر ہے کیونکہ سب جانتے تھے کہ دن مہینہ اور مقام کون سا ہے؟ لہٰذا یقیناً اس سوال کا منشا کچھ اور ہے۔ اس لئے انہوں نے ہر سوال کے جواب میں یہ عرض کر دیا کہ اللہ اور اس کے رسول( ﷺ) ہی بہتر جانتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: یاد رکھو مسلمان کی جان، مال اور عزت کی حرمت تم پر اسی طرح لازم ہے جس طرح اس دن، اس مہینے اور اس مقام کی حرمت۔

اسی طرح حج کے موقع پر ہی کا طواف کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے کعبہ شریف کی طرف متوجہ ہو کر اس سے مخاطب ہو کر با آواز بلند یہ بات فرمائی ( تاکہ لوگ سن لیں) کہ اے کعبہ ! تیری کتنی عزت اور حرمت اور کیسا بلند مقام ہے لیکن مسلمان کی جان، مال اور آبرو کا تقدس عند اللہ تجھ سے بھی بڑھ کر ہے۔

مقصد یہ تعلیم دینا تھا کہ ایک مسلمان اچھی طرح یہ بات جان لے کہ اس کا ہر وہ عمل جس سے کسی مسلمان کی جان ، مال اور آبرو کا تقدس پامال ہو بیت اللہ کی حرمت پامال کرنے سے بھی بڑھ کر شنیع اور قابل ملامت ہے۔ کیا بیت اللہ کی حرمت پامال کرنے والے کسی شخص کو بھی ہم احترام ، رعایت اور عزت دینے کے روادار ہو سکتے ہیں؟ اور اگر ایسے شخص کا یہ جرم کسی منصف کے سامنے انصاف کے لئے پیش کیا جائے گا تو وہ اس پر کیا سزا تجویز کرے گا ؟ جب ایک مسلمان کی حرمت بیت اللہ سے بڑھ کر ہے تو انسانوں کے بنائے ہوئے ایک آئین کے مقابل کس قدر بڑھ کر ہو گی۔اگر ہمارا آئین و قانون اس آئین شکنی پر اتنی سخت سزا سنا سکتا ہے تو اس شخص کی سزا کیا ہو گی جس کا دامن ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کے خون اور حرمتوں کی پامالی سے داغدار ہے۔ اس لئے چاہئے یہی تھا کہ اس شخص کے خلاف ان بڑے جرائم کی فرد جرم عائد کی جاتی اور ہماری عدالتیں اپنا قانونی فریضہ ادا کرتے ہوئے اس پر سخت سے سخت سزا سناتیں، لیکن بدقسمتی کہ بات ہے کہ مدعی چونکہ خود ان جرائم کے مرتکب تھے اس لئے انہوں نے ان تمام باتوں کو نظر انداز کیا۔ فیصلے کی خوشی اپنی جگہ لیکن اس بات کا اَفسوس ضرور ہے اس کا ایک نسبتاً ہلکا جرم سامنے لا کر بڑے جرائم کی پردہ پوشی کی گئی۔ والیٰ اللہ المشتکیٰ

اب آتے ہیں اس بات کی طرف، جس کی طرف کالم کے آغاز میں درج شعر میں اشارہ کیا گیا۔ سزا کا اجمالی فیصلہ سامنے آیا تو اس میں لاش کو لٹکانے کی بات کی گئی اور ایک طوفان برپا ہو گیا کہ فیصلے کا یہ حصہ اخلاق، شرع اور انسانیت کے خلاف ہے وغیرہ وغیرہ۔ اول تو جن مسلمانوں نے یہ بات زبان سے نکالی کہ لٹکانے کی بات ہی مطلقاً شرع کے خلاف ہے وہ توبہ کریں، حسن ظن ان کے بارے میں یہی ہے کہ انہوں نے یہ بات لاعلمی کی بنیاد پر کہہ دی ہو گی کیونکہ اس سزا کا ذکر تو خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس فیصلے میں لاش لٹکانے کو سزا کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اگر اصل سزا یعنی پھانسی پر عمل نہ ہو سکے اور مجرم زندہ حالت میں خود کو سزا کے لئے پیش نہ کرے تو اس کی موت کے بعد اس سزا پر عمل کر لیا جائے۔

پرویز مشرف ملعون اپنے قبیح و شنیع جرائم کی سزا سے بچ نہیں سکتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں ہے۔ دنیا میں ذلت کا شکار ہے۔ لا علاج امراض کی پکڑ میں ہے۔ یہ جرائم نہ اس دنیا میں اس کا پیچھا چھوڑنے والے ہیں نہ آخرت میں ان شاء اللہ وہ ان کی پکڑ سے بچ سکے گا۔

ایسے ملعون شخص کی حمایت اور ہمدردی میں قرآن مجید میں نازل ہونے والے کسی حکم کے بارے میں کہنا کہ نعوذ باللہ وہ انسانیت کے خلاف ہے ایک مسلمان کے لئے ہرگز روا نہیں۔ پرویز مشرف اگر دنیا میں اس سزا سے بچ بھی جائے (اور قوی امکان ہے کہ بچ جائے گا ) تو بھی اس کے ہاتھوں ستائے جانے والے کسی شخص کو افسوس نہیں ہو گا۔

وہ الحمد للہ اس سے بڑی سزاؤں کی زد میں ہے۔ لیکن کسی بھی مسلمان کا اس کی ہمدردی میں وہ بات کہہ جانا جو اس کے ایمان کے لئے نقصان دِہ ہو بہرحال افسوسناک ضرور ہے۔ الدین النصیحۃ کے مصداق ہمیں اس سے نہیں، اپنے مسلمان بھائیوں کے ایمان کی حفاظت سے ضرور غرض ہے اس لیے ان کی خدمت میں یہ درخواست عرض ہے کہ اس فیصلے پر اس انداز میں رائے زنی نہ کریں۔ ہندوستان میں ابھی تازہ تازہ این آر سی کا بدنام زمانہ قانون پاس ہوا ہے جس کے مطابق وہاں عشروں سے آباد مسلمان بھی شہریت کی منسوخی کے خطرے سے دوچار ہیں اور اس قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اس قانون میں یہ بات طے ہے کہ کسی بھی مسلمان کو اب وہاں نئی شہریت تو ہرگز نہیں مل سکتی صرف غیر مسلموں کو مل سکتی ہے۔ اس قانون کی بنیاد پر ہندوستان کے لیے بہت بڑی خدمات سرانجام دینے والا اور پاکستان کو بدامنی کی جہنم بنانے والے ننگ ملت ننگ دیں ننگ وطن الطاف حسین کی درخواست بھی رد کردی گئی ہے، لیکن ان حالات میں بی جے پی کے اہم رہنما اور وزیر کا پرویز مشرف کو ہندوستان کی شہریت کی کھلے عام پیشکش کرنا کس بات کی گواہی ہے؟ اہل عقل خود غور و فکر کر لیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor