Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نیکی کا بدلہ ضرور دیں

 

نیکی کا بدلہ ضرور دیں

Madinah Madinah

ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ اپنے اصحاب ؓکے ہمراہ رات کے وقت محوِ سفر تھے ۔ دیر تک چلتے رہے ۔ اخیر رات میں راستے سے ہٹ کر آرام کرنے کے لیے پڑائو کیا ۔ سب لوگ ایسے سوئے کہ سورج طلوع ہونے پر ہی آنکھ کھلی ۔ سب سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جاگے ، پھرحضرت عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے ۔ ابو بکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے سرہانے بیٹھ گئے اور بلند آواز سے تکبیر کہنے لگے حتیٰ کہ آپ بھی بیدار ہو گئے ۔ سورج ذرا بلند ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی ۔ نماز اختتام کو پہنچی تو آپ نے اپنا رخ نمازیوں کی طرف کیا ۔ آپ کو ایک آدمی نظر آیا جو لوگوں سے الگ بیٹھا تھا۔ اس نے جماعت سے نماز ادا نہیں کی تھی ۔ آپ نے اس سے دریافت کیا :

’’ اے بھائی ! آپ نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی ؟‘‘

اس نے جواب دیا :’’ مجھے نا پاکی ہوئی ہے اور پانی نہیں ملا ۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ زمین سے تیمم کر لو ۔ اس شخص نے تیمم کر کے نماز ادا کی۔

اس کے بعد آپ ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو کوچ کا حکم دیا ۔ اُن کے پاس پانی نہیں تھا ۔ راستے میں اُنہیں شدید پیاس نے آلیا ۔ تلاش کے باوجود کوئی کنواں ، چشمہ یا جوہڑ نظر نہ آیا ۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم یونہی پیاسے چلے جا رہے تھے کہ ایک اونٹ سوار عورت ملی ۔ اس کے پاس پانی بھری دو مَشکیں تھیں ۔

ہم نے اس سے پوچھا : ’’ پانی کہاں ہے ؟‘‘

’’ یہاں آس پاس کوئی پانی نہیں ۔ ‘‘ اس نے جواب دیا

’’ تمہارے گھر اور پانی کے درمیان کتنی مسافت ہے ؟‘‘

’’ ایک دن رات کی ‘‘

’’ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس چلو ۔ ‘‘ ہم نے مطالبہ کیا 

اس نے قدرے حیرت سے کہا :’’ اللہ کا رسول ؟ اللہ کا رسول کون ہے ؟‘‘

ہم اُسے اپنے ساتھ لے آئے کہ ہمیں پانی کی جگہ بتائے گی ۔ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے بھی اس عورت سے پانی کے متعلق دریافت کیا ۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھی وہی جواب دیا جو ہمیں دیا تھا ، البتہ اس نے آپﷺ سے یہ درخواست بھی کی کہ وہ یتیم بچوں کی ماں ہے ۔

آپ نے اس کی ایک مشک اتروائی اور اللہ کا نام لے کر مشک پر ہاتھ پھیرا ، پھر آپ مشک سے ہمارے برتنوں میں پانی اُنڈیلنے لگے ۔ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے پانی پیا اور سیر ہو کر پیا اور اپنے پاس موجود تمام مشکیں بھی لبالب بھر لیں ، پھر ہم نے اس عورت کی مشکیں واپس اس کے اونٹ پر چڑھا دیں ۔ وہ پہلے سے بھی بھر پور نظر آرہی تھیں ۔

بعد ازاں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آپ کے پاس ( کھانے کی ) جو چیزیں ہیں وہ لائیں ۔ ‘‘

آپ نے خاصی مقدار میں روٹی اور کھجور کے ٹکڑے ایک کپڑے میں باندھ کر اس عورت کے حوالے کیے اور فرمایا : ’’ یہ اپنے گھر والوں کے لیے لے جائو۔ ہم نے تمہارا پانی ذرہ برابر کم نہیں کیا لیکن اللہ نے ہمیں پانی پلایا ہے ۔ ‘‘

وہ عورت خوشی خوشی اپنے اونٹ پر سوار ہوئی اور چل دی ۔ گھر پہنچ کر اس نے سب کو بتایا :’’ میں سب سے بڑے جادو گر کے ہاں سے ہو کر آئی ہوں یا وہ نبی ہے اور اس کے پیروکاروں کا یہی خیال ہے ۔ ‘‘

قوم کو اس کا واقعہ سن کر نہایت تعجب ہوا ، پھر زیادہ عرصہ نہیںگزرا تھاکہ وہ عورت اور اس کی قوم حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے ۔ (بخاری)

لوگوں کو مانوس کریں ،وحشت میں نہ ڈالیں ۔ بہترین طرز عمل آپ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ہر کسی کی نیکی کا کچھ نہ کچھ بدلہ ضروردیں ۔

  ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor