Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

نُصرت

 

نُصرت

Madinah Madinah

’’اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو وہ بھی تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدموں کو جمادے گا‘‘ (القرآن)

یہ قرآن کا اٹل بیان ہے، جس کی صداقت میں کسی شک وشبے کی کوئی گنجائش نہیں، اور یہ وہ حقیقت ہے کہ تاریخ کا ہر دور اس کی صداقت پر گواہی دے گا، حق و باطل کی جنگ اور ایمان و کفر کی باہمی جنگ میں جب بھی اہل ایمان نے اللہ تعالیٰ کی نصرت کے بھروسے اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے کمربستہ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت کے عجیب عجیب مناظر دکھائے اور اہل ایمان کی ثابت قدمی کے ایسے نقشے دکھائے کہ ملت کفر اس استقامت کو دیکھ کر شرم وذلت سے پانی پانی ہوگئی اور اسے شرمندگی سے سرجھکانے کے سواکوئی نہیں چارہ نہیں ملا، اہل حق زخموں سے چور چور ضرور ہوئے مگر ان کی پیشانی پر ذلت و شرمندگی کا داغ نہیں لگ سکا۔

اس وقت مسلمانوں کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والا امریکہ کس طرح اپنے گھر میں ذلیل ہورہا ہے؟ اس کی ایک جھلک امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ سے لگائی جاسکتی ہے کہ کس طرح خوددشمن کے گھر سے اس کی شکست اور ناکامی کی کہانیاں شائع ہورہی ہیں۔ خبر کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے چشم کشا انکشافات کرتے ہوئے امریکی رہنماؤں کے افغان جنگ سے متعلق جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔ افغان جنگ پر 950 ارب ڈالر خرچ کرنے کے باوجود جیت مقدر نہ بن سکی۔دو دہائیوں پر محیط قانونی جنگ کے بعد امریکی اخبار کو افغان جنگ کی خفیہ دستاویزات موصول ہو گئیں، 18 سال سے امریکی رہنما افغان جنگ سے متعلق جھوٹ بولتے رہے ، امریکی حکام جانتے ہوئے کہ افغانستان جنگ جیتی نہیں جا سکتی پھر بھی دل بہلانے والے اعلانات کرتے رہے ۔مشیر امریکی کمانڈر کے مطابق کابل اور پینٹا گون میں امریکی حکام حقائق اور اعداد و شمار کو تبدیل کرتے تاکہ عوام کو جیت کا تاثر جائے ، تمام سروے ناقابل اعتماد تھے ، سروے کا مقصد امریکا کی جیت کو دکھانا تھا۔

امریکی جنرل نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس افغانستان سے متعلق پوری جانکاری تھی ہی نہیں، افغان جنگ سے متعلق دھندلا خاکہ بھی ہمارے تصور میں نہیں تھا، امریکا غریب ملکوں کو امیر، یا ملکوں میں جمہوریت لانے کے لئے حملہ نہیں کرتا۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایک اہم امریکی سفارتکار نے بتایا کہ امریکا کے حملے کا مقصد پر تشدد ممالک کو امن پسند بنانا ہوتا ہے ، افغانستان میں امریکی انٹیلی جنس زیادہ موثر نہیں تھی، وہاں مضبوط وفاقی حکومت کے قیام کی امریکی پالیسی بیوقوفانہ تھی۔افسر سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق افغانستان میں مضبوط وفاقی حکومت بنانے میں سو سال لگیں گے ، افسوس کے ساتھ ایسا لگتا ہے جیسے افغانستان میں ہمارا مقصد کرپشن کا بڑے پیمانے پر فروغ تھا، وہاں پر مضبوط فوج کے قیام کے لئے امریکی فنڈ افغان کمانڈرز نے جیبوں میں ڈالا جو دسیوں ہزار گھوسٹ سولجرز کی نذر ہو گیا۔امریکی فوجی تخمینے کے مطابق ایک تہائی بھرتی ہونے والے افغانی پولیس اہلکار نشے میں مبتلا یا طالبان سے تعلق رکھتے تھے ، 2001 سے اب تک 7 لاکھ 75 ہزار امریکی فوجی افغانستان تعینات ہوئے ، اکثر فوجی ایک سے زائد بار تعینات ہوئے ، افغانستان میں 2300 امریکی فوجی ہلاک 20 ہزار 589 زخمی ہوئے ، دوہزار ایک سے اب تک امریکا افغان جنگ پر ساڑھے نو سو ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے ۔

ملت کفر کی اس شکست اور ناکامی کی کہانی دیکھئے اور پھر اہل حق کی استقامت بھی دیکھئے تو آپ کو اوپر درج کردہ قرآنی آیت کی صداقت اور آفاقی حقانیت کا پورا ایک نقشہ نظر آجائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor