Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شہر مدینہ …سرکارِ مدینہ ﷺ کی نظر میں

 

شہر مدینہ …سرکارِ مدینہ ﷺ کی نظر میں

Madinah Madinah

 

مدینہ منورہ کیلئے برکت کی دعاء:

مدینہ منورہ کی سر زمین اس کے پھل ،پیمانے اور مُد کے لیے برکت کی دعا فرمائی ہے ، چنانچہ مسلم شریف کی حدیث ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگ باغ کا سب سے پہلا پھل دیکھتے تو اس کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو لیتے اور یہ دعاء فرماتے کہ اے اللہ! ہمارے پھل میں برکت عطاء فرما ، ہمارے شہر میں برکت فرما ، ہمارے صاع میں برکت فرما اور ہمارے مد میں برکت فرما ، اے اللہ بیشک ابراہیم تیرے بندے ، تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور بیشک انہوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعاء کی اور میں بھی مدینہ کے لیے اس طرح کی دعاء کرتا ہوں جیسا کہ ابراہیم نے مکہ کے لیے دعاء کی اور ایک گنا زیادہ وہ حدیث درج ذیل ہے:

وعنہ (ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ ) قال کان الناس اذا راوا اول الثمرۃ جا ء وابہ الی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاذا اخذہ قال اللھم بارک لنا فی ثمرنا و بارک لنا فی مدینتنا و بارک لنا فی صاعنا و بارک لنا فی مدنا ، اللھم ان ابراہیم عبدک و خلیک و نبیک وانی عبدک ونبیک وانہ دعا ک لمکۃ وانا ادعوک للمدینۃ بمثل مادعاک لمکۃ و مثلہ معہ (مسلم ۴۴۲؍۱باب فضل المدینۃ ، مؤ طامالک کتاب جامع الدعا باب فضل المدینۃ ۳۵۸)

آب و ہوا کی درستگی اور وبائی مرض کے لیے دعاء:

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے قیام کے زمانہ میںحضرت ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما بخار میں مبتلا ہو گئے یہ ایک سخت قسم کا بخار تھا جو وباء کی شکل میں اہل مدینہ کو آتا تھا اور جس کو آتا تھا کمزو رکر دیا کرتا تھا ، جس سے صحابہ کرام ؓ کے مدینہ منورہ سے بددل ہونے کا بھی اندیشہ تھا ، اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی :

اے اللہ ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا فرما دیجئے جیسا کہ ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ہے یا اس سے بھی زیادہ ، مدینہ کی آب و ہوا کو درست کر دیجئے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف منتقل کر دیجئے ۔ ( جحفہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بستی تھی جہاں کے باشندے یہودی تھی) اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعاء قبول فرمائی اور بخار کو ان لوگوں کی طرف منتقل کر دیا ۔

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے اس کے متعلق ایک خواب بھی نقل کیا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے خواب میں ایک کالی عورت دیکھی جس کے سر کے بال پراگندہ تھے ، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر اُتر گئی تو میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وباء مہیعہ کی طرف منتقل کر دی گئی ( مہیعہ جحفہ کا ہی نام تھا ) جیسا کہ مندرجہ ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے ۔

(الف )عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا قالت لما قدم المدینۃ وعک ابو بکر و بلال فجئت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاخبر تہ فقال:اللھم حبب الینا المدینۃ کحبنا مکۃ اواشد و صحھا وبارک لنا فی صاعھا و مدھا وانقل حما ھا فا جعلھا بالجحفۃ ۔ (بخاری ۲۵۳باب بلا عنوان اختصارا،مؤطا مالک ۳۶۵باب ماجاء فی وباء المدینۃ مختصر من حدیث طویل )

’’ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ شریف لائے تو ابوبکر اور بلال رضی اللہ عنہما بخار میں مبتلا ہو گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء فرمائی :

اے اللہ !ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت پیدا فرما جیسا کہ ہمارے دلوں میں مکہ کی محبت ہے یا اس سے بھی زیادہ ، اس کی آب و ہوا کو درست کر دیجئے اور ہمارے لیے برکت پیدا فرما اس کے صاع میں اور اس کے مد میں اور اس کے بخارکو جحفہ کی طرف منتقل کر دیجئے ۔

(ب) عن عبداللّٰہ بن عمروفی رؤیا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی المدینۃ رأیت امرأۃ سودا ء ثائرۃ الرأس خرجت من المدینۃ حتی نزلت مھیعۃ فتأولتھا ان وباء المدینۃ نقل الی مھیعۃ و ھی الجحفۃ (مختصر صحیح البخاری باب من کذب فی حلمہ ۲۶۲؍۴)

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے روایت ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کے بارے میں مدینہ کے قیام کے زمانہ میں میں نے ایک کالی عورت کو خواب میں دیکھا جس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں اُتر گئی میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وباء مہیعہ یعنی جحفہ کی طرف منتقل کر دی گئی ۔

(جاری ہے )

٭…٭…٭

 

 

جامع مسنون دعاء

 اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الثَّبَاتَ فِیْ الْأَمْرِ ، وَ الْعَزِیْمَۃَ عَلٰی الرُّشْدِ ، وَ أَسْأَلُکَ مُوْجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَ عَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ شُکْرَ نِعْمَتِکَ، وَ حُسْنَ عِبَادَتِکَ، وَ أَسْأَلُکَ قَلْبًا سَلِیْمًا، وَ لِسَانًا صَادِقًا، وَ أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَا تَعْلَمُ، وَ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ، وَ أَسْتَغْفِرُکَ لِمَا تَعْلَمُ، إِنَّکَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ

اے اللہ! میں آپ سے (دین والے)کام پر ثابت قدمی، اور ہدایت پر پختگی مانگتا ہوں، اور میں آپ سے آپ کی رحمت کو لانے والے اور آپ کی مغفرت کو پکا کرنے والے اعمال مانگتا ہوں، اور میں آپ سے آپ کی نعمتوں پر شکراور آپ کی اچھی عبادت مانگتاہوں، اور میں آپ سے سلامتی والا دل اور سچائی والی زبان مانگتا ہوں اور میں آپ سے آپ کے علم میں جو خیر ہے وہ مانگتا ہوں اور آپ کے علم میں جو شر ہے میں اس سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، اور جو کچھ بھی آپ جانتے ہیں تو میں اس کے بارے میں آپ سے مغفرت مانگتا ہوں ، بے شک آپ ہی تمام چھپی باتوں کو جاننے والے ہیں۔ (مسند احمد۔ سنن ترمذی۔ سنن نسائی)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor