Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

کرنے کے کام

 

کرنے کے کام

Madinah Madinah

بہت اَفسوسناک صورتحال ہے کہ مصیبت کے نزول کے وقت جو کام کرنے کے تھے وہ روکے جارہے ہیں اور جن کاموں سے رُکنا چاہئے تھا وہ زور وشور سے جاری ہیں۔واِلیٰ اللّٰہ المُشتکیٰ

کرونا وائرس کا ہوَّا کھڑا کرکے ساری دنیا کو بس گویا کہ اسی ایک موضوع پر سمیٹ دیا گیا ہے۔ شاید دنیا کے میڈیا کے پاس اس کے علاوہ بات کرنے کا کوئی اور موضوع ہی نہ ہوتا۔ یہ تو اللہ بھلا کرے فاتحین کی جماعت اِمارت اسلامیہ افغانستان کا کہ انہوں نے بالآخر امریکہ کی ناک زمین سے رگڑ کر دُنیا کو ایک اور قابل توجہ موضوع فراہم کردیا ورنہ کرونا کا خوف بانٹ کر اپنے مذموم مقاصد سمیٹنے والے شاید اس بیماری کے علاوہ کسی اور بات کا تذکرہ بھی کہیں نہ آنے دیتے۔

’’کرونا‘‘ اگر واقعی ایک وَباء اور بلا بن کر خدانخواستہ ہمارے ملک میں بھی آچکا ہے تو بحیثیت مسلمان کیا ہمارا یہ طرز عمل درست ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کو منہ دِکھانے کی فکر میں مبتلا ہونے کے بجائے منہ چھپانے کے لیے ایک حقیر سے ماسک کے لیے زیادہ فکر مند ہیں۔ وہ ماسک جس کے بارے میں خود اسے بنانے والوں کا فیصلہ ہے کہ وہ اس بیماری کے پھیلائو کو نہیں روک سکتا۔ اس کی عدم دستیابی، زخیرہ اندوزی، اس پر ناجائز منافع خوری کا رونا اس کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں پر لعن طعن میں ہمارا جتنا وقت اور توانائیاں صرف ہورہی ہیں کیا یہ وقت اور جُہد ہمیں دعائ، تضرع اِلیٰ اللہ، استعاذہ اور استغفار پر خرچ نہیں کرنا چاہئے تھا؟

جن ملکوں میں ماسک بکثرت دستیاب ہوئے اور حفاظتی انتظامات بھی ان کے ہاں ہم سے بظاہر بہت اچھے رہے کیا وہ اس مرض سے ہم سے زیادہ متاثر نہیں ہوئے؟

وَبائی اَمراض بد اعمالیوں کے وَبال کے طور پر مسلط ہوتے ہیں۔ ان کی آمد کے وقت ایک مومن کا اصل طرز عمل یہ ہونا چاہیے کہ وہ استغفار کی کثرت کرے، جن گناہوں میں مبتلا ہے ان سے سچے دل کے ساتھ توبہ کرے، موت کی تیاری کرے، حقوق ادا کرنے، قرض چکانے اور فرائض نبھانے کی جلد از جلد فکر کرے۔ لہوولعب سے باز آئے، ظلم کو ترک کرے، اپنی اور اپنے خاندان وعیال کی اور معاشرے کی اصلاح کی فکر کرے۔ حفاظت کے لیے جو مضبوط ترین حصار مسنون دعاء کی اور تعوذات کی صورت میں حضرت آقا مدنیﷺ اور اسلاف امت سے منقول ہیں ان کا صبح وشام اٹھتے بیٹھتے کثرت سے وِرد کرے اور خود کو اللہ تعالیٰ کی ملاقات کے لیے قابل بنانے کی فکر میں مستغرق ہو۔

ان امراض میں کسی بندۂ مومن کا ایمانِ صحیح کی حالت میں مبتلا ہوکر جان سے گزر جانا اس کے لئے مقامِ شہادت ہے۔ پھر اس سے اس قدر خوف کیوں؟کیا یہ خوف آنے والی موت کو ٹال سکتا ہے؟ ڈر کی یہ کیفیت موت کو ایک لمحہ بھی مؤخر نہیں کر سکتی البتہ یہ اس یقینی چیز کو دُشوار ضرور بنا دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کی اس مصیبت سے حفاظت فرمائے اور اس وَباء کو ظالم کفار پر مسلط فرمائے، ہر وقت یہ دُعاء رہنی چاہیے لیکن اپنے دل کے خوف کو مسلمان اس قدر نہ بڑھنے دے کہ نعوذ باللہ بیماری کا ڈر اللہ تعالیٰ کی عبادات کی بجا آوری میں رکاوٹ بننے لگے۔ مصیبت کے وقت جس جگہ کی طرف سب سے زیادہ بھاگنا چاہیے تھا وہاں کی ویڈیو وائرل ہو رہی ہے کہ وہ مقام خالی نظر آ رہے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ

باہر سے وہاں پہنچنے والوں پر اگر عارضی پابندیاں لگ گئیں اور وہ بے چارے اس کے سبب وہاں جانے سے روک دئیے گئے لیکن جو اہل ایمان وہاں آباد ہیں اور ان پر حاضری کی کوئی پابندی نہیں انہیں کیا ہو گیا کہ وہ اس مقامِ امن اور جائے قبولیت پر جا کر اُمت کے لئے والہانہ دعائیں کرنے سے رک گئے؟ کچھ حرمان نصیب جن کا اسلام سے ویسے ہی زبردستی کا تعلق ہے انہوں نے جمعہ کے اجتماعات تک روک لیے۔ دیکھا جا رہا ہے کہ اُن کی دیکھا دیکھی ہمارے ہاں بھی لوگ دینی مجالس میں حاضری سے کترا رہے ہیں۔ اوپر سے ہماری سدا سے سمجھدار اور عقلمند حکومتوں نے اس موقع پر بھی اپنی روایتی عقل و تدبر کا دامن نہیں چھوڑا اور اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے نام پر بچوں کے تعلیمی ادارے بند کرا دئیے۔ ساتھ ہی ساتھ دینی اِجتماعات میں حاضری کے حوالے سے محتاط رہنے کی وارننگ بھی جاری کرا دی البتہ پی ایس ایل کے میچوں میں ہزاروں افراد کے اکھٹے ہونے پر نہ کوئی قدغن لگائی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی وارننگ جاری کی۔ اسی طرح بازار شاپنگ مال ، پارک ، اور عوامی اجتماعات کے دیگر مقامات کے حوالے مکمل خاموشی رکھی ہے۔ یعنی ان کے خیال میں یہ پڑھا لکھا اور دین دشمن وائرس مساجد اور سکول میں تو آ سکتا ہے لیکن اسٹیڈیم ، سینما ، فوڈ سٹریٹ اور بازار کا رُخ نہیں کر سکتا۔ فیا للعجب

حکمرانوں نے تو قسم کھا رکھی ہے کہ وہ کسی بھی موقع پر نہ درست طرز عمل اپنائیں گے اور نہ ہی عوام کو سیدھا راستہ دکھانے کی کوشش کریں گے۔ ان کا تو سداسے مشن ہی عالمی طاقتوں اور مافیاؤں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہونا اور اس کی ہر حال میں تکمیل کرنا ہے۔ اس لئے انہیں ان کا کام کرنے دیجئے لیکن ہم سب کو بحیثیت مسلمان وہی طرز عمل اپنانا چاہیے جو اللہ و رسولﷺ کا پسندیدہ اور اِرشاد فرمودہ ہے اور جسے اسلافِ امت نے ایسے مواقع پر اپنایا۔ طاعون کی وباء خیر القرون پر بھی آئی، ہزاروں صحابہ کرام اس مرض میں مقام شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ ان کا طرز عمل بتاتا ہے کہ ایسے مواقع پر ان کے رجوع الی اللہ میں اضافہ ہوتا تھا، ان کے قلوب میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق بڑھ جاتا تھا اور وہ خود کو اس ملاقات کی تیاری میں مصروف کر لیتے تھے۔ایسا کرنے سے کسی کو موت جلدی نہیں آجاتی بلکہ موت کا وقت اٹل ہے وہ ہر حال میں اپنے مقرر وقت پر ہی آتی ہے خواہ انسان شوق کے ساتھ اس کا منتظر ہو یا اس سے نفرت اور کراہیت میں مبتلا ہو۔ بس فرق یہ ہے کہ شوق والے اور تیاری والے اس کے شدید مراحل سے بآسانی گذر جاتے ہیں جبکہ بھاگنے والوں کے لئے یہ بہت ہی سخت تکلیف کا باعث بن جاتی ہے۔ لازم ہے کہ ہم کرونا کے مقابل منہ چھپانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کو منہ دکھانے کی فکر کریں۔ خوف کی بجائے حوصلہ پھیلائیں اور ایک دوسرے کو خیر، حق اور صبر کی دعوت دیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor