Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شہر مدینہ …سرکارِ مدینہ ﷺ کی نظر میں

 

شہر مدینہ …سرکارِ مدینہ ﷺ کی نظر میں

Madinah Madinah

مدینہ منورہ کی حُرمت و عظمت :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو مکرم و محترم قرار دیا ہے ، حتیٰ کہ بعض احادیث میں اس کے خاردار درختوں کے کاٹنے اور شکار کرنے سے منع کیا ہے اور بعض احادیث میں فرمایا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی کسی کو حرمِ نبوی میں شکار کرتا ہوا دیکھے تو اس کا سامان چھین لے ، چنانچہ اسی حدیث کے پیش نظر ایک صحابی سعد ابن ابی وقاص ؓ نے ایک غلام کو حرمِ نبوی میں شکار کرتے ہوئے دیکھا تو اس کے کپڑے چھین لیے ، اس غلام کے مالکان آئے اور کپڑے مانگے تو سعد بن ابی وقاصؓ نے کپڑے نہیں دیے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنایا : من اخذ احدا یصید فیہ فلیسلبہ

وہ احادیث مندرجہ ذیل ہیں:

(الف) … عن علی رضی اللہ عنہ قال ما کتبنا عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الا القرآن و ما فی ھذہ الصحیفۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم المدینۃ حرام مابین عیر الی ثور فمن أحدث فیھا حدثا او آوی محدثا فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین لا یقبل منہ صرف ولا عدل (بخاری ۲۵۲،۲۵۱؍۱،باب حرم المدینۃ ، ابو دائود ۲۷۸؍۱، باب تحریم المدینۃ)

’’ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوائے قرآن اور کچھ اس صحیفے میں کچھ نہیں لکھا ، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ، مدینہ محترم و مکرم ہے عیر اور ثور (مدینہ کی دو پہاڑیاں ) کے درمیان، سو جو شخص اس میں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ، اس کی کوئی فرض اور نفل نماز قبول نہیں ہو گی۔ ‘‘

’’حضرت سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :  میں حرام قرار دیتا ہوں اس علاقے کو جو مدینہ کی دو پہاڑیوں کے درمیان ہے، یعنی اس بات کو کہ اس کے خاردار درختوں کو کاٹا جائے یا اس کے شکار کو قتل کیا جائے ‘‘۔

(ج)… عن سلیمان بن أبی عبداللہ قال رایت سعد بن أبی وقاص اخذ رجلا یصید فی حرم المدینۃ الذی حرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسلبہ ثیابہ فجاء موالیہ فکلموہ فیہ فقال ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرم ھذا الحرم وقال من اخذاحد ا یصید فیہ فلیسلبہ فلا اردعلیکم طعمۃ اطعمنیھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم و لکن ان شئتم دفعت الیکم ثمنہ (ابو دائود باب تحریم المدینۃ ۲۷۸؍۱)

’’  حضرت سلیمان بن ابو عبداللہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک آدمی کو پکڑا جو حرم مدینہ میں جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے شکار کر رہا تھا تو انہوں نے اس کے کپڑے چھین لیے تو اس کے مالکان آئے اور اس کو چھوڑنے کے بارے میں گفتگو کی تو سعد ؓ نے جواب دیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم مدینہ کو محترم قرار دیا ہے اور فرمایا کہ جو کسی کو حرم مدینہ میں شکار کرتا ہوا پکڑے تو چاہیے کہ وہ اس کا سامان چھین لے ، لہٰذا میں تمہیں وہ رزق نہیں لوٹائوں گا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عنایت کیا ہے ، البتہ اگر تم چاہو تو میں اس کی قیمت لوٹا دوں ‘‘۔

نوٹ: … احادیث مذکورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم نبوی کو حرام قرار دیا ہے جس طرح کہ حرم مکی کو حرام قرار دیا ہے ، لیکن ان احادیث میں حرام سے حرام شرعی مراد نہیں ہے ، بلکہ حرام بمعنی معظم و محترم ہے ، اس لیے فقہائِ احناف کے یہاں حرم نبوی کی خار دار گھاس اور اس کے شکار کو قتل کرنا شرعی اعتبار سے حرام نہیں ہے ، البتہ مکروہ ہے ، جبکہ حرم مکی کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے ، اس سے حرام شرعی مراد ہے ، لہٰذا حرم مکی کی گھاس کو کاٹنا اور اس میں شکار کرنا شرعاً حرام ہو گا ، لیکن خواہ احادیث مذکورہ میں حرام بمعنی معظم و محترم ہو یا حرام بمعنی شرعی ہو دونوں صورتوں میں حرم نبوی کی فضیلت ثابت ہوتی ہے

کما فی حاشیۃ المشکاۃ : قال التور بشتی قولہ صلی اللہ علیہ وسلم حرمت المدینۃ اراد بذلک التحریم التعظیم دون ماعداہ من الأحکام المتعلقۃ بالحرم قال الطیبی:

المشھور من مذہب مالک والشافعی أنہ لا ضمان فی صید المدینۃ و قطع شجر ھا بل ذلک حرام بلا ضمان فقال بعض العلماء یجب الجزاء کحرم مکۃ وقال بعضھم لا یحرم ایضا وھو مذھبنا أنہ یکرہ

’’ حاشیہ مشکوٰۃ میں ہے: علامہ تور پشتی ؒ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ’’حرمت المدینۃ‘‘ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تعظیم ہے نہ کہ وہ دوسرے احکام جو حرم مکی سے متعلق ہیں (صلی اللہ علیہ وسلم )علامہ طیبی نے کہا ہے کہ امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کا مشہور مذہب یہ ہے کہ مدینہ کے شکار اور اس کے درختوں کو کاٹنے میں کوئی ضمان نہیں ہے ، بلکہ وہ حرام ہے بغیر ضمان کے لازم ہوئے ، بعض علماء نے کہا کہ جزاء (بدلہ ) واجب ہے ، حرم مکی کی طرح اور بعض نے کہا کہ حرام نہیں ہے اور یہ ہی ہمارا مذاہب ہے کہ (درختوں کو کاٹنا اور شکار کرنا ) حرام نہیں بلکہ مکروہ ہے ۔ (جاری ہے )

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor