Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

رُسوائی کا آغاز

 

رُسوائی کا آغاز

Madinah Madinah

سال قبل جس مودی سرکار کا طوطی پورے انڈیا میں بول رہا تھا اور اس زور سے چلا رہا تھا کہ آس پاس کے کمزور دل والے طاقت ور بھی اس سے کانپ رہے تھے، آج وہی مودی سرکار اپنے ہی ملک کے دارالحکومت دلی میں شکست فاش کھاچکی ہے اور اس کے علاوہ بھی انڈیا کی دیگر کئی ریاستوں میں بی جے پی کو شکست اور کمزوری کے زبردست جھٹکے لگ چکے ہیں اور اب مودی سرکاراور بی جے پی کی طاقت کا نشہ بہت ہی جلد اُڑن چھو ہونے والا ہے۔

یہ حقیقت پہلے بھی آشکارا تھی کہ ’’بے جی پی ‘‘ ایک کٹر دہشت گرد، ہندو مت تعصب کی پیکر اور اسلام اور مسلم دشمنی سے لبریز جماعت ہے جس کا مقصد ہندوستان سے مسلمانوں کا صفایا اور مسلم تاریخ کا خاتمہ کرنا ہے اور اسی متعصبانہ اور دہشت گردانہ نظریے کو عملی روپ دینے کے لیے بی جے پی نے کئی طرح کی سازشیں کیں۔ ایک طرف اس نے اپنی ساکھ مضبوط کرنے کے لیے شہرت اور ترویج کے ذرائع پر پانی کی طرح پیسہ بہایا تاکہ ہر طرف اس کے گن گائے جاسکیں، دوسری جانب اس نے اندرونِ خانہ ہندوتعصب کا ایسا خوف دہندہ بیج بویا کہ اس سے ہٹ کر سوچتے ہی لوگوں کو اپنی جان و مال بارے خوف گھیر لے، اور انہی دونوں بیساکھیوں کا سہارا لے کر اس نے سیاست کے میدان میں اپنے آپ کو پاور فل بنوا دیا لیکن شرک ، توہم پرستی، اور مسلم دشمنی میں لتھڑے ہوئے انتہائی بزدل اور بے وقوف لوگوں کی کامیابی اور طاقت بہت ہی کم دنوں تک برقرار ہتی ہے اور یہی کچھ مودی سرکار اور بی جے پی کے ساتھ ہوا اور کل تک جس مودی کے خلاف لب کشائی کرنے کی جرأت بڑے بڑے سیاسی مخالفین نہ کرسکے تھے اب وہی مخالفین تو ایک طرف ، ان کی کہی ہوئی باتیں مودی اپنے جلسوں میں اپنی ہی زبانی خود دہرا کر اپنی ذلت اور رُسوائی کو مزید بڑھوا دے رہا ہوتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ ایسے کم عقل اور بے وقوف سے کس طرح ایمان والے خوف کھانے لگ گئے تھے!!

دلی میں بی جے پی اور مودی سرکار کو کس طرح ذلت کا سامنا ہوا ہے ؟ اس کی کچھ تفصیلات اس طرح ہیں جو کہ ذرائع ابلاغ پر موجود ہیں۔ ’’دِلی کی 70 رکنی اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق عام آدمی پارٹی بھاری اکثریت سے جیت گئی ہے ۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائیٹ کے مطابق عام آدمی پارٹی نے 62 نشستیں جیتی ہیں جبکہ بھارتیہ جتنا پارٹی کے امیدواروں کو صرف آٹھ نشستوں پر کامیابی ملی ہے ۔ملک کی بڑی سیاسی جماعت کانگرس ایک بھی نشست جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ۔الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اعداد و شمار کے مطابق عام آدمی پارٹی نے 53۔57 فیصد ووٹ حاصل کیے ، بی جے پی کو 38 اعشاریہ 51 فیصد ملے جبکہ کانگریس پارٹی کے حصے میں پانچ فیصد سے بھی کم ووٹ آئے۔وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اپنی جماعت کی بڑی کامیابی کے امکانات واضح ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلی کے لوگوں نے نئی سیاست کی بنیاد رکھی ہے ۔ انہوں کہا کہ یہ نئی سیاست 'کام کی سیاست' ہے ۔بی جے پی نے دلی کے اسمبلی انتخابات جیتنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ یہاں انتخابی مہم کی قیادت خود وزیر داخلہ امت شاہ نے کی اور انھوں نے تقریباً 40 ریلیوں اور جلسوں سے خطاب کیا تھا۔وزیر اعظم مودی نے بھی کئی ریلیاں کیں۔ مرکزی وزرا، کئی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اوردرجنوں رکن پارلیمان نے انتخابی مہم میں پرزورحصہ لیا۔ اس کے باوجود بی جے پی کو شکست فاش ہوئی ہے‘‘

خود ذائع ابلاغ نے اس کا جو سبب بتایا ہے وہ کچھ اس طرح ہے کہ:

’’بی جے پی نے یہ انتخاب مودی کے نام پر لڑا۔ اس کے پاس وزیر اعلیٰ کے لیے کوئی ایسا چہرہ نہیں تھا جو کیجروال کی مقبولیت کا مقابلہ کرسکتا۔عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال نے انتخابی مہم میں تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ میں بہتری اور اپنی حکومت کی کارکردگی کو موضوع بنایا۔ انھوں نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے صاف صاف کہا کہ ‘اگر آپ کو میرا کام پسند ہے تو آپ ووٹ دیجیے گا ورنہ نہیں۔

اس کے برعکس بی جے پی کی توجہ وزیر اعظم مودی کی کارکردگی پر رہی۔اس کے انتخابی منشور میں تو دلی کے مسائل پر توجہ دی گئی تھی لیکن مہم کے دوران مقامی موضوعات پر بات کم اور ہندو مسلم، شاہین باغ(جہاں مسلم خواتین نے مودی سرکار کے خلاف احتجاج کیا)، اور 'دیش کے غداروں ' کا ذکر زیادہ سنائی دیا۔ بی جے پی نے انتخابی مہم میں شہریت کے متنازع قانون 'سی اے اے ' کے خلاف ہونے والے مظاہروں بالخصوص شاہین باغ کے احتجاج کو بنیاد بنا کر نفرت اںگیز اور منفی مہم چلائی۔شاہین باغ میں شہریت کے متنازع قانون کے خلاف ہونے والے مظاہروں کو بی جے پی نے ملک دشمنی اور غداری سے تعبیر کیا۔اس مہم کا تقریباً سارا بیان شاہین باغ کے ان کے اپنے تصور پر محیط تھا۔ لوگوں کو بتایا گیا کہ اگر عام آدمی پارٹی جیت گئی تو پوری دلی شاہین باغ بن جائے گی۔بی جے پی کے ایک رہنما نے یہ تک کہہ دیا کہ شاہین باغ 'خودکش حملہ آوروں کا 'بریڈنگ گراؤنڈ' ہے ۔ 

بی جے پی کی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے خلاف پہلی بار اس قدر کھل کر نفرت کا اظہار کیا گیا جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا حالانکہ اترپردیش کے عام انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے خلاف نعرے سنے گئے لیکن اتنے بڑے رہنماؤں کے منھ سے نہیں جنتا دلی میں۔

 

بی جے پی بظاہر صرف نفرت کی بنیاد پر الیکشن جیتنا چاہتی تھی۔ یہ حکمت عملی مودی اور امت شاہ گجرات میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ اس مہم میں جن الفاظ کی گونج بار بار سنائی دی وہ 'غدار، دہشت گرد، شاہین باغ، پاکستان، اور مسلمان تھے لیکن نتائج سے لگ رہا ہے کہ دلی کے عوام نے سیاست کا یہ گجرات ماڈل قبول نہیں کیا۔

لیکن اس سب کے باوجود اب ماہرین یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ نتائج اس بات کے گواہ ہیں کہ دلی کے عوام نے بی جے پی کی نفرت انگیز مہم کو مسترد کر دیا ہے ۔

عام آدمی پارٹی کے لیے بہت بڑی حمایت دلی کی کچی بستیوں سے آتی ہے ۔ ان بستیوں میں تقریباً 50 لاکھ باشندے رہتے ہیں۔ ان کی حمایت جیتنے کے لیے انتخابات سے قبل مودی حکومت نے کچی بستیوں کو پکی بستیوں میں بدلنے کا قانون پاس کیا لیکن پھر بھی وہ ان باشندوں کا دل نہ جیت سکی۔

دلی کے غریب طبقے کے لوگوں کو یہ اندیشہ بھی تھا کہ بی جے کے اقتدار میں آنے سے انھیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے بہت سارے دستاویزات حاصل کرنے پڑیں گے ۔ اس ڈر نے بھی بہت سے ووٹروں کو بی جے پی کی طرف جانے سے روکا۔ ‘‘

یعنی جس بِل کو مسلم دشمنی کے پس منظر میں اپنی جیت اور کامیابی کا سبب گردانا گیا تھا، وہی بل مودی سرکار کو دلی میں ہروانے کا سبب بن گیا ہے اور یہ بات ظاہر بھی ہے کہ مسلم دشمنی کی بنیاد پر قائم ہونے والی بنیاد بہت ہی کمزورہوتی ہے اور یہ بات ایک بار پھر انڈیا میں ثابت ہوچکی ہے۔

بلکہ گائے کے پجاری ان مسلم دشمنوں کی ذلت ایک پہلو یہ بھی ہے کہ گزشتہ انتخابات میں مودی نے خود اس کی قیادت سنبھالی تھی اور اس وقت بھی انہیں شکست ہی ہوئی تھی اور اس بار امت شاہ نے قیادت سنبھالی تھی اور اب بھی انہیں شکست ہی ہوئی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انڈیا میں ابھی مودی بھی ہار چکا ہے اور امت شاہ بھی رُسوا ہوچکا ہے اور یہ ان کی رُسوائی کا داستان کا آغاز ہے۔

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!!

٭…٭…٭

 

 

کھانا کھانے کی چند مسنون دعائیں

حضرت آقا محمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص کھانا کھائے اور پھر یہ دعاء پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیتے ہیں…

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا وَ رَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ  وَ لَا قُوَّۃَ

ترجمہ: تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جنہوں نے ہمیں یہ کھلایا اور ہماری طاقت و قوت کے بغیر ہمیں یہ عطاء فرمایا۔(ابوداؤد)

صحیح بخاری شریف میںکھانے کے بعد کی جو دعاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے وہ یہ ہے:

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ غَیْرَ مَکْفِیٍّ وَ لَا مُوَدَّعٍ وَ لَا مُسْتَغْنً عَنْہُ رَبَّنَا

ترجمہ: تمام تعریف اللہ تعالی کے لئے ہے ۔۔بہت زیادہ تعریف، پاکیزہ تعریف، بابرکت تعریف ، اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کسی کے محتاج نہیںاور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ان سے کوئی مستغنی (بے حاجت، بے پرواہ) ہو سکتا ہے اے ہمارے رب!

ابوداؤد اور ترمذی میں کھانے کے بعد یہ دعاء مروی ہے :

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَ سَقَانَا وَ جَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا اورہمیں مسلمان بنایا

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor