Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دہلی فسادات اور لاوراث مسلمان

 

دہلی فسادات اور لاوراث مسلمان

Madinah Madinah

انڈیا کے شہر دلّی میں گذشتہ ہفتے سے شروع ہونے والے مسلم کُش فسادات جنہوں نے نہ صرف دلی شہر میں رہنے والے مسلمانوںکو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے، بلکہ پورے انڈیا کے مسلمان ان فسادات پر غم و غصے کا شکار بھی ہیں اور خوفزدہ بھی اور دنیا کے دیگر خطوں میں بسنے والے مسلمان بھی انتہائی تشویش میں مبتلا ہیں، اورکہا یہ جارہا ہے کہ حالیہ فسادات ایک دہائی میں ہونے والے سب سے زیادہ ہولناک فسادات ہیں۔

عجیب تر بات تو یہ ہے کہ یہ فسادات اور مسلمانوں کا قتل عام، ان کے گھروں اور دکانوں کا جلاؤ گھیراؤ، مساجد اور مساجد میں موجود قرآن کریم کے نسخوں کی بے حرمتی اور مسلمان نوجوانوں سے زبردستی ہندووں کے قومی مذہبی نعرے لگوانے کے لیے جبر و تشدد سب کچھ موجودہ بھارتی حکومت کے پاس کردہ متنازع شہریت کے قانون کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف بپا کیا گیا ہے اور مودی حکومت کے رہنماوں نے شاہین باغ میں پرامن احتجاج کرنے والے مسلمانوں کے خلاف جو بدتمیزاور سخت دھمکی آمیز گفتگو کی تھی اس سے لگ رہا تھا کہ یہ ظالم کسی بھی وقت مسلمانوں کا خون چوسنے کے لیے کھلی درندگی پر اُتر سکتے ہیں۔

حالیہ مسلم کُش فسادات کے اس پورے ہفتے میں ایک بار پھر حسب سابق دِلی پولیس ان ہنگاموں اور مسلمانوں کے خلاف مار پیٹ، ان کے گھروں اور دُکانوںکے جلاؤ گھیراؤسے نظریں چراتی دکھائی دِی اور متعصب و فسادی مسلح جتھوں نے شہر کی سڑکوں پر بلا روک ٹوک ہنگامہ آرائی کی۔

مسلمانوں کی مساجدکی بے حرمتی کی گئی، انہیں آگ لگائی گئی، حتی کہ بعض مساجد کے میناروں پر چڑھ کر وہاں لگے لاؤڈ اسپیکر کو توڑ کر پھینک دیا گیا اور ہندودہشت گردی اور تعصب کی انتہاء کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسجد کے مینار پر ہندوؤں نے اپنا جھنڈا تک لہرا دیا،مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر بھی حملہ کیا گیا بلکہ میڈیا ہی کی رپورٹ کے مطابق بعض اوقات مبینہ طور پر پولیس کے ساتھ مل کر حملہ کیا گیا۔صرف یہی نہیں بلکہ تشدد سے پردہ ہٹانے والے صحافیوں کو آتش زنوں نے روکا اور ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا گیا۔

ان مسلم کُش فسادات کے بارے میں سامنے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر میں مسلح افراد زخمی مسلمان مردوں کومذہبی ہندو ترانہ پڑھنے پر مجبور کرتے دکھائی دیئے اور ایک نوجوان کو بے رحمی کے ساتھ پیٹتے نظر آئے  اسی لیے کتنے ہی خوفزدہ مسلمان خاندان شہر کے مخلوط محلے چھوڑکر پناہ کی تلاش میں دربدری کی حالت پر پہنچ گئے۔

یہ فسادات ایک منظم منصوبے کا حصہ تھے اور اسی لیے مسلح جتھوں کو فسادات کرنے کی کھلی چھوٹ اور متاثرین کو ان کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا اور اسی لیے دلی کے ان فسادات کو ماضی میں مسلمانوں اور دیگر بعض اقلیتوں کے خلاف ہونے والی ہنگامہ آرائی کے ساتھ بھی جوڑا گیا اور اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ دلی ہنگاموں کا موازنہ ماضی میں ہونے والے انڈیا کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات سے کیا گیاکیونکہ حالات و واقعات کا رُخ بالکل ایک جیسا تھا اور فسادات کا طریقہ اور نعرے بھی وہی ماضی والے تھے۔ جیسا کہ سنہ 2002 میں گجرات میں ہونے والے مسلم کُش فسادات میں ایک ہزار سے زائد افرادلقمہ اجل بن گئے تھے اوران میں زیادہ تر مسلمان ہی تھے اوریہ سب کچھ سابقہ وزیر اعلیٰ گجرات اور موجودہ وزیر اعظم انڈیا مودی کے دور میں ہوا تھا اور اب بھی اسی کے دور میں ہو رہا ہے۔

دلی کے یہ فسادات مسلمانوں کے خلاف تھے اور منظم منصوبہ بندی سے تھے اس کا اعتراف خود غیروں نے بھی کیا ہے چنانچہ براؤن یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر اشوتوش ورشنے جنہوں نے انڈیا میں بڑے پیمانے پر مذہبی تشدد پر تحقیق کی ہے ، کا خیال ہے کہ دلی کے فسادات بہت حد تک 1984 اور 2002 کی طرح ’’ایک منظم قتل عام دکھائی دیتا ہے‘‘پروفیسر ورشنے کے مطابق منظم قتل عام اس وقت ہوتا ہے جب پولیس ہنگاموں کو روکنے کے لیے غیر جانبدارانہ طور پر کام نہیں کرتی، اس وقت توجہ نہیں دیتی جب ہجوم ہنگامہ آرائی کر رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات مجرموں کی ’’واضح طور پر‘‘مدد کرتی ہے ۔

یہاں یہ جان لینا بھی مفید ہے کہ دہلی کے کون سے علاقے ان فسادات کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں؟ اطلاعات کے مطابق دہلی کا شمال مشرقی علاقہ چار دن سے ان پرتشدد جھڑپوں اور مسلمانوں کی املاک پر حملوں کا مرکز رہا ہے ۔جن علاقوں میں تشدد اور جھڑپیں ہوئیں ان میں جعفرآباد، اشوک نگر، گوکلپورہ، بھجن پورہ اور کھجوری خاص کے علاقے اہم ہیں۔

میڈیا کے مطابق ان فسادات کے لیے دلّی سے بی جے پی کے مقامی رہنما کپل مشرا کے بیانات کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے ۔اس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا ’’دلی پولیس کو تین دن کا الٹی میٹم، جعفر آباد اور چاند باغ کی سڑکیں خالی کروائیے ۔ اس کے بعد ہمیں مت سمجھائیے گا، ہم آپ کی بھی نہیں سنیں گے ۔ صرف تین دن۔‘‘

یہ سب کچھ بلاشبہ مسلمانوں کے خلاف مذہبی بغض اور دشمنی کا بھی شاخصانہ ہے اور دہلی کے حالیہ انتخابات میں مودی سرکار اور بی جے پی کی کھلی ناکامی کا انتقام بھی جو انہوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور فسادات کے ذریعے لینے کی کوشش کی ہے۔

دہلی میں ہونے والے یہ فسادات اور پُرتشدد واقعات اتنے اوپن تھے کہ عالمی اداروں کی بھارت سے تمام تر دوستی اور اس کی جانبداری کے باوجود انہیں ان کے خلاف بیان دینا پڑا، چنانچہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دجارک نے کہا کہ انڈین دارالحکومت میں مظاہروں کے بعد وہاں سے آنے والی خبریں افسوسناک ہیں۔ نیز اس سے قبل بھی دسمبر 2019 میں ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن نے کہا تھا کہ ’’انڈین حکومت شہریت کے حوالے سے جو ترمیم شدہ قانون لائی ہے ، وہ متعصب ہے۔‘‘

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor