Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

روضہ رسول اقدس ﷺ

 

روضہ رسول اقدس ﷺ

Madinah Madinah

یقینا مکان کی شہرت و شرافت ، خاصیات و خصوصیات اور عظمت و عقیدت کا دارومدار صاحب مکان پر موقوف ہوتی ہے، مسجد اس لیے احب البِقاء اور قابل احترام ہے کہ وہ خانہ خدا اور مرکز ذکر الٰہی ہے، مئے خانہ اس لیے برا ہے کہ وہ برائیوں کا اڈہ ہے، کیا خانہ کعبہ کا تقابل کسی اور خانہ خدا سے کیا جاسکتا ہے؟ نہیں، کیونکہ وہ صرف خانہ نہیں بلکہ تجلی ربانی کا مرکز ہے، وہ صرف ایک گھر نہیں بلکہ پہلی عبادت گاہ ہے، وہ صرف مرکز اسلام ہی نہیں بلکہ مرکز نزول وحی بھی ہے۔

مدینہ منورہ کی حیثیت ہجرت گاہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بننے سے پہلے ایک زرعتی شہر سے زیادہ نہیں تھی اور ہجرت گاہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم بننے کے بعد اس کی عظمت وعزت میں چار چاند لگ گئے، اس شہر کو پہلے یثرب کہا جاتا تھا، لیکن جب اسے قیام گاہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے طور پر چن لیا گیا تو اس کا نام مدینہ پڑگیا اورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورانیت سے منورہ بن گیا، اور پھر آنجناب ﷺ کی توجہات کی وجہ سے مدینہ کی مختلف فضیلتیں امت کے سامنے آئیں، مدینہ کے ساتھ الرسول لگایا جائے تو الگ فضیلت، الطیبہ بڑھایا جائے تو الگ فضیلت، دارالہجرۃ کہا جائے تو مستقل فضیلت، حرم رسول اللہ کہا جائے تو الگ فضیلت بلکہ شرف و سعادت کی ایک مستند ترین بات یہ ہے کہ اللہ نے مدینہ کا نام طابہ اور طیبہ رکھا، کہتے ہیں کہ کثرت اسماء ، کثرت شرافت کو لازم کرتی ہے، صاحب وفاء الوفاء نے مدینہ کے  نام شمار کیے ہیں۔

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہاں کی آب و ہوا صحت بخش ہوگئی، وہاں کی سکونت دنیا و عقبیٰ کی بھلائی کا سبب بن گئی، وہاں کی تکلیف و مصیبت پر صبر کرنا، شفاعت نبی کا ذریعہ بن گیا، وہاں کے پھل، سبزی اور اشیاء خوردونوش حتی کہ صاع و مد میں برکت ہونے لگی، وہاں طاعون اور دجال کا داخلہ ممنوع ہوگیا، اہل مدینہ کے ساتھ مکرو فریب کرنے والے کو نمک کی طرح پگھلنے کی وعید سنائی گئی، وہاں جینے مرنے کے فضائل بیان کیے گئے ، اس شہر مدینہ کے میوہ جات میں ہی نہیں، بلکہ شہر پاک کی خاک پاک میں تاثیرِ شفا ودیعت کردی گئی، وہاں کے باشندوں کے ساتھ تکریم و تعظیم کی وصیت کی گئی اور اخیر میں تو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان کردیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو بزرگی دی اور اس کو حرام قرار دیا، اور میں نے مدینہ کو بزرگی دی ہے، اور مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی بزرگی کا تقاضہ یہ ہے کہ نہ تو اس میں خونریزی کی جائے، نہ وہاں جنگ کے لیے ہتھیار اٹھایا جائے اور نہ اس کے درخت کے پتے جھاڑے جائیں(مسلم شریف باب فضل المدینہ)

 بہرحال اس طویل تفصیل کے بعد ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر وہ یثرب، مدینہ منورہ کیوں بنا، وہاں کی خاک، حضور کی آمد کے بعد خاک پاک کیوں بنی اور اس خاک پاک کی عزت و آبرو میں ایسا اضافہ کیوں ہوا کہ

خورشید بھی گیا تو ادھر سر کے بل گیا

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے بھی وہاں لوگ جیتے اور مرتے تھے، لیکن سرکار دو عالم کی آمد کے بعد وہاں کا جینا عبادت اور وہاں کا مرنا عبادت کیوں بنا، وہاں کے ذرات آفتاب و ماہتاب کیوں بنے، لوگوں نے وہاں کی خاک کوسرمۂ چشم بنانے میں فخر کیوں محسوس کیا؟ الغرض اس طرح کے جتنے سوالات ہوسکتے ہیں، ان کا ایک ہی جواب ہے اور اس جواب کے سوا، اور کوئی جواب ہوبھی نہیں سکتا، وہ یہ کہ اب وہ صرف یثرب نہیں بلکہ مدینۃ الرسول بن گیا، اس رسول کا شہر بن گیا جس کے لیے پوری کائنات بنائی اور سجائی گئی، جس پر خود خالق کائنات اور معصوم فرشتے درود وسلام بھیجتے ہیں، وہ اس رسول کا شہر بن گیا جس کے سامنے حضرت جبرئیل علیہ السلام بھی باادب بیٹھتے ہیں، وہ اس رسول کا شہر بن گیا جس کو حالت بیداری میں دیدار الٰہی کا شرف حاصل ہوا، وہ اس رسول کا شہر بن گیا جو صرف نبی نہیں بلکہ خاتم النّبیین ہونے کے ساتھ رحمۃ للعالمین بھی ہے، وہ اس رسول کا شہر بن گیا جس کی شان والاتبار میں گستاخی موجبِ کفر ہونے کے ساتھ ساتھ موجبِ قتل بھی ہے، اور جس کی اطاعت کے بغیر خدا کی اطاعت بے کار ہے، وہ اس رسول کا شہر بن گیا جن کے بارے میں ایک شاعر نے حقیقت پسندانہ شعر کہنے کی کوشش کی ہے۔

رُخِ مصطفی ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا کوئی آئینہ

نہ ہماری بزم خیال میں ہے اور نہ دکان آئینہ ساز میں

سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔

تشریح: شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں: اس خصوصیت کی کوئی خاص وجہ ہے، کیونکہ جہاں تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا تعلق ہے اس نعمت سے ہر مسلمان کو نوازا جائے گا، اور آپ کی یہ کرم فرمائی اور مومن نوازی جملہ مسلمانوں کے لیے عام ہے، لیکن یہاں پر شفاعت سے مراد خاص شفاعت ہے جو درجہ خاص کے حصول کا ذریعہ ہوگی، ان کے علاوہ غیر زائرین کا اپنے زیادتی اعمال اور کثرتِ فضائل کے باوجود اس درجہ پر پہنچنا میسر نہ ہوگا۔

آگے لکھتے ہیں:اس کے علاوہ زائر کے لیے یہ بشارت بھی ہے کہ وہ دینِ اسلام پر مرے گا، یہ بھی سیّد ِانام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی برکت کے طفیل ہوگا، وہ اس طرح کہ شفاعت کے لیے دین اسلام پر مرنا ضروری ہے۔ (جذب القلوب الی دیار المحبوب)

مولانا ظفر احمد تھانویؒلکھتے ہیں: زائر کے لیے شفاعت کی جو بشارت ہے کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی فضیلت ہوسکتی ہے۔

و أیُّ فضیلۃ أعلیٰ و أسنی من وجوب شفاعتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لمن زارہ (اعلاء السنن)

لہٰذا ہر صاحب استطاعت شخص کی یہ خواہش ہونی چاہیے کہ اسے جب بھی موقع ملے گا وہ روضہء اقدس کی زیارت کرے گا اور جو لوگ حج کرنے جاتے ہیں، انہیں روضۂ اقدس کی زیارت بھی کرنی چاہیے، اگرچہ روضۂ اقدس کی زیارت حج کا کوئی رکن یا جز نہیں ہے، لیکن شروع سے امت کا یہ تعامل چلا آرہا ہے کہ خاص کر دور دراز علاقوں کے مسلمان جب حج کو جاتے ہیں تو روضہ پاک کی زیارت اور وہاں درود و سلام کی سعادت ضرور حاصل کرتے ہیں اور کسی سے اس کا انکار منقول نہیں ہے، تو یہ اجماع کے درجہ میں ہے۔

روضۂ اقدس پر دعاء مغفرت کی درخواست

چونکہ سرکار دو عالمﷺ اپنی قبر اطہر میں باحیات ہیں،اس لیے جیسے حضرت محمدﷺ کی زندگی میں ان سے دعاء مغفرت کی درخواست کرنا، سفارش کی درخواست کرنا اور استمداد جائز تھا، ویسے دنیا سے رخصت فرما جانے کے بعد بھی روضہ اقدس پر حاضر ہوکر درخواست کرنا جائز ہے، لہٰذا روضۂ اقدس پر حاضری دینے والے یہ درخواست کرسکتے ہیں کہ اے اللہ کے رسول ! ہم سراپا گنہگار ہیں آپ بارگاہ خداوندی میں ہماری مغفرت کے لیے دعاء فرما دیں۔حضرت مفتی شفیع صاحب عثمانیؒ نے آیت: و لو انہم اذ ظلموا انفسہم جاء وک فاستغفروا اللّٰہ واستغفر لہم الرسول لوجدوا اللّٰہ توّابا رحیما (النسائ)کے ذریعہ اس مسئلہ کے جواز پر استدلال کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیں:یہ آیت اگرچہ خاص واقعہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن اس کے الفاظ سے ایک عام ضابطہ نکل آیا کہ جو شخص رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجائے اور آپ اس کے لیے دعائے مغفرت کردیں، اس کی مغفرت ضرور ہوجائے گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری جیسے آپ کی دنیوی حیات کے زمانہ میں ہوسکتی تھی اسی طرح آج بھی روضہء اقدس پر حاضری اسی حکم میں ہے (معارف القرآن)

(جاری ہے)

 

وبائی امراض وآفات سے حفاظت کی مسنون دعائیں

 

(۱)اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ وَ تَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ وَ فُجَائَ ۃِ نِقْمَتِکَ وَ جَمِیْعِ سَخَطِکَ

یا اللہ! آپ کی پناہ چاہتا ہوں آپ کی نعمتوں کے زائل ہونے سے ۔۔اور عافیت کے منہ موڑنے سے اور آپ کی اچانک پکڑ سے اور آپ کی ہر ناراضی سے ۔

(۲)اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ وَ الْجُنُوْنِ وَ الْجُذَامِ وَ مِنْ سَیِّئِ الْاَسْقَامِ

اے اللہ! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں، برص سے، جذام سے ، جنون سے اور ہر بُری بیماری سے۔(سنن ابی داؤد)

رسول اللہﷺ کی اہلیہ محترمہ امی جان سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوتے تو سیدنا جبرئیل علیہ السلام آپﷺکو اس دُعاء کے ساتھ دَم کرتے تھے :

(۳)بِسْمِ اللَّہِ أَرْقِیکَ،مِنْ کُلِّ دَائٍ یَشْفِیکَ،مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ، وَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِی عَیْنٍ

اللہ تعالیٰ کے نام سے آپ پر دَم کرتاہوں، ہر بیماری سے ، ہر حاسد کے شر سے جب بھی وہ حسد کرے اور ہر نظربد کے شرسے وہی آپ کو شفاء دے گا۔ (صحیح مسلم،مسند احمد)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor