Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اِیمان باقی، عزم باقی

 

اِیمان باقی، عزم باقی

Madinah Madinah

غم کا، خوف کا اور سخت پریشانی کا عالَم تھا کہ پھر’’رمضان المبارک ‘‘ آ گیا…

الحمد للّٰہ رب العالمین حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ

اہلِ دُنیا کے پاس تو کرونا کے علاوہ کچھ بھی نہ کہنے کو ہے، نہ سننے کو، اور نہ برتنے کو۔ اس لئے ان کا خوف بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور اس ایک ہی فکر میں ابتلاء نے اُنہیں نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا اَہلِ اِیمان پر عظیم اِحسان کہ اِنہیں رمضان المبارک جیسی عظیم اِیمانی نعمت، مصروفیت اور فکر عطاء فرما دی۔ دن کا روزہ اور اس روزے کو محفوظ ، قیمتی اور عند اللہ مقبول و محبوب بنانے کی فکر، رات کو تراویح جیسی ایمان افروز نعمت اور دِلرُبا عبادت۔ قرآن مجید جو دِلوں کی شفائ، سکون اور مرہم ہے ، جو ہر غم کا مداوا ہے، جو ہر تکلیف اور تشویش کا حتمی حل ہے، جو مسائل سے نکلنے کا حقیقی راستہ ہے، جو مصائب سے نبرد آزما ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، اس کی حلاوت بھری تلاوت اور وَالہانہ دُعائیں… رات کو قیام کی فکر، تہجد کی عاشقانہ عبادت کا عمومی دور دورہ جو رمضان المبارک میں ہر خاص و عام کے لئے میسر اور آسان عبادت بن جاتی ہے۔ سحر کا متبرک کھانا اور پھر اگلے روزے کی فکر۔ گویا اِیمان والوں کی زندگی کرونا کے خوفناک چکر سے نکل کر روزے اور عبادت کے اِیمانی دائرے میں آ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے کتنا کرم فرمایا اُن کی اِس نعمت کا شکر اَدا نہیں ہو سکتا۔

کرونا نے معیشت تہہ و بالا کر دی، سیاست ہلا کر رکھ دی،مستقبل کے منصوبوں پر خاک ڈال دی، عزائم چکنا چور کر دئیے، خواب بکھیر دئیے اور شیطانی چالیں اُلٹ ڈالیں۔ عالمی نظام کی بساط پر کوئی مہرہ بھی اپنی جگہ پر برقرار نہیں رہا۔ ہاں جو کچھ دُنیا کا تھا سب بدل گیا۔ بکھر گیا اور ٹوٹ گیا لیکن جو اللہ تعالیٰ کا تھا وہ باقی ہے، قائم ہے اور برقرار ہے۔ کچھ فرق آیا بھی ہے تو ہماری اپنی کمزوری کی وجہ سے ۔ اگر تھوڑی ہمت دِکھاتے اور درست فیصلے کرتے تو اتنا بھی فرق نہ آتا۔

اور ہاں ! دیکھی رب العالمین کی شان!…

دُنیا جو سب کچھ بچا کر رَکھنا چاہتی تھی وہ نہیں بچا اور جسے مٹانے پر اس طرح متحد اور متفق تھی کہ کوئی ایک طاقت بھی اس رائے میں مختلف نہ تھی وہ نہ صرف باقی ہے بلکہ پوری آب و تاب کے ساتھ اور پوری شان کے ساتھ اپنا وُجود منوا رہا ہے۔’’ جہاد فی سبیل اللہ ‘‘ ذورۃ سنام الاسلام ، اسلام کی عزت و شوکت کا نشان ، حریت کا اِستعارہ اور حرمت کا ضامن جہاد فی سبیل اللہ۔ اگر کرونا کی دہشت کسی چیز پر ذرہ برابر بھی اَثر انداز نہیں ہو سکی تو وہ صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ افغانستان کے مجاہد کو پتا ہی نہیں کہ کرونا کیا ہے اور دُنیا کے ساتھ کیا کر رہا ہے۔ اس نے اپنی گن نہیں چھوڑی، اپنا میدان اور مورچہ نہیں چھوڑا، اپنا عزم کمزور نہیں کیا اور اپنی یلغار نہیں روکی۔ دنیا نے کہا جناب ! کرونا کی خاطر فی الحال سکون کر لیجئے۔ جواب تھا کون کرونا؟ … جو طاقتیں نظر آتی ہیں اور تباہ کن اسلحہ وساز و سامان رکھتی ہیں ، جن کے پاس ٹکڑے کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے اور آگ لگانے کی قوت بھی۔ ہمیں وہ آگ اور بارود کے ڈھیر دِکھا کر پیچھے نہیں ہٹا سکے اور نہ رُکنے پر مجبور کر سکے تو ایک موہوم اور مشکوک سی طاقت ہمارے قدم کیونکر روک سکتی ہے؟

کشمیر میں آج بھی مجاہدین نے اپنا وجود منوایا۔ انڈیا کا دو بار بہادری کا میڈل حاصل کرنے والا کرنل اپنے معاون میجر سمیت مجاہدین کے ٹریپ میں آ کر جہنم واصل ہوا اور اس نے بدر والے مہینے میںاپنے بابا ابوجہل کی رَفاقت پائی۔ عہدِ کرونا میں کشمیر کے شیر دِل عوام نے رشید احمد ڈار جیسے مجاہد کے جنازے میں بارہ تیرہ ہزار کا مجمع لگا کر ہندوستان کو بتایا کہ جس جذبۂ جہاد و حریت اور شوقِ شہادت کا گذشتہ سات دہائیوں میں مادی طاقت کا اَندھا اِستعمال کچھ نہیں بگاڑ سکا، کرونا بھی اس پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔ کشمیر کا ہر دِن ہندوستان کے کرفیو اور کرونا کے لاک ڈاؤن دونوں پر بھاری گذرا ہے اور جہاد نے دونوں کے خوف اور رعونت کے منہ پر لات رسید کی ہے۔

سچ ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اُس سے ہر چیز ڈرتی ہے جبکہ اُسے کسی بھی چیز کا خوف نہیں ہوتا اور جو غیر اللہ کے خوف کو اپنی عادت اور مزاج بنا لے پھر وہ اسی طرح ہر موجود و موہوم سے ڈرتا ہی رہتا ہے اور اسی خوف میں اپنے اَحوال، اَقوال ، نظریات اور مزاج کو بدلتا چلا جاتا ہے۔ تقریباً دو عشرے قبل ایک ایسا ہی خوف کا عالَم نائن الیون کی شکل میں مسلَّط ہوا تھا۔ اس وقت بھی یہی ماحول بنا کہ جو اپنے آپ کو نائن الیون کے بعد کی پالیسیوں کے مطابق نہیں ڈھالے گا مارا جائے گا اور اس کا کام بھی تباہ ہو جائے گا۔ ہر ریاست، ہر طبقے اور ہر اِدارے کے سامنے اس خوف کا امتحان رکھا گیا۔ کون کامیاب رہا اور کون اس خوف کا شکار ہو کر ناکامی میں جا گرا گذشتہ ۱۹ سال کا ایک ایک دن اس تاریخ کا گواہ ہے اور آنے والا مؤرخ یہ سب تفصیل سے رقم کر دے گا۔ آج پھر اسی طرح کا ایک خوف ہمارے چاروں جانب پھیلا دیا گیا ہے اور بدقسمتی سے بہت سے دیندار لوگ بھی قبل از وقت ہی اپنا ذہن بنا کر دوسروں کی ذہن سازی شروع بھی کر چکے ہیں کہ اب انہیں نائن الیون سے بھی زیادہ بدلنا ہو گا۔

اس پچھلے امتحان کے وقت بہت سے دین کے علمبرداروں نے جس طرح دین کا حُلیہ بگاڑا اور کس طرح کے علمی و عملی اِنحرافات کو رِواج دیا وہ ایک تکلیف دِہ داستان ہے اور اب نہ جانے وہ مستقبل کے کیا کیا منصوبے بنا رہے ہیں کہ انہیں مزید کتنا بدلنا اور کتنا گرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے شر سے اُمت کی حفاظت فرمائے۔ آمین

کرونا کی خبروں کے زور پکڑتے ہی جو سب سے بُرا رجحان دیکھنے میں آیا وہ ایک طبقے کا حکومت سے پہلے ہی عوام الناس کی مسجد اور جماعت کی نماز سے دوری کے حوالے سے ذہن سازی کرنے کا تھا۔ اسی ترغیب کے بعد حکومت کو بھی شہہ ملی کہ وہ مساجد کی بندش کے حوالے سے قانون سازی پر اُتر آئی اور جمعہ ، جماعت پر سختی سے بندش لگا دی۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے اُن علماء کرام کو جنہوں نے پہلے بھی اس حوالے سے ایک حق موقف حکومت کے سامنے رکھا اور خصوصاً رمضان المبارک کی آمد سے پہلے اس بابت کچھ شدّت والا موقف اپنایا اور جمعہ ،جماعت اور تراویح کے حوالے سے ایک اچھا فیصلہ کرانے کی راہ ہموار کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مساجد مکمل کھلی رکھی جاتیں اور نماز باجماعت، تراویح ، جمعہ اور اِعتکاف کے حوالے سے کوئی روک ٹوک نہ ہوتی۔ مسلم ممالک میں عرب افریقہ کے ایک چھوٹے سے صحرائی ملک موریطانیہ نے اسی طرزِ عمل کو اپنایا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ نتیجہ دِکھایا کہ ان کا ملک سب سے پہلے کرونا وائرس سے مکمل خلاصی پانے والا علاقہ قرار پایا۔ ہمارے ہاں بھی اگر یہی مبارک طریقہ اپنایا جاتا تو بہت بہتر نتائج برآمد ہوتے لیکن بہرحال جتنا اپنا لیا گیا اس پر بھی شکر واجب ہے۔ الحمد للہ ہر مسجد میں اذان ہو رہی ہے ، باجماعت نماز اور جمعہ اَدا ہو رہا ہے اور تراویح کی بابرکت محفل بھی ہر مسجد میں منعقد ہے، اسی کا ثمر ہے کہ امریکہ، ڈبلیو ایچ او اور دیگر کئی ادارے اس امر پر باقاعدہ حیرانی کا اظہار کر چکے ہیں کہ پاکستان میں اس مرض کا پھیلاؤ اَندازوں سے کہیں کم رہا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین

بات جہاں سے شروع کی تھی وہیں لوٹتے ہیں۔ عہد کرونا میں جہادی یلغاروں اور محاذوں کی آبادی نے ثابت کر دیا ہے کہ دُنیا میں اگر آزادی کا کوئی تصور ہے تو ’’ جہاد‘‘ میں ہے۔ اگر کوئی حقیقی معنی میں آزاد ہے تو وہ صرف ’’مجاہد ‘‘ ہے اور یہی وہ عمل ہے جو ظاہری اور خفیہ ہر طرح کی طاقتوں کے علیٰ الرغم اپنا وجود باقی بھی رکھتا ہے اور اسے منواتا بھی ہے۔ اُمت اگر اس راز کو پالے اور اس حقیقت کو اپنا لے تو کیسی کیسی غلامیوں اور کس کس خوف سے نجات پا لے۔ ذرا سوچئے گا ضرور۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor