Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

شاہِ مدینہ ﷺکا رمضان

 

شاہِ مدینہ ﷺکا رمضان

Madinah Madinah

رَمضان المبارک کے ماہِ سعید میں نبی اَکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ عبادت و ریاضت اور مجاہدہ میں عام دنوں کی نسبت بہت اِضافہ ہو جاتا تھا۔اس مہینے میں اﷲ تعالیٰ کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی اور اسی شوق اور محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں کا قیام بھی بڑھا دیتے ۔

 رمضان المبارک میں درج ذیل معمولات حضور نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ کا مستقل اور دائمی حصہ ہوتے :

1)… کثرتِ عبادت و ریاضت

اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے :

کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إذَا دَخَلَ رَمَضَانَ تَغَیَّرَ لَوْنُہُ وَ کَثُرَتْ صَلَا تُہُ، وابْتَہَلَ فِي الدُّعَائِ، وَأَشْفَقَ مِنْہُ۔(بیہقی، شعب الایمان، 3 : 310، رقم : 3625)

’’جب ماہِ رمضان شروع ہوتا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نمازوں میں اِضافہ ہوجاتا، اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دُعا کرتے اور اس کا خوف طاری رکھتے ۔‘‘

2)… سحری و افطاری

رمضان المبارک میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معمول مبارک تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے روزے کا آغاز سحری کھانے اور اِختتام جلد افطاری سے کیا کرتے تھے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، سحری کھانے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

تَسَحَّرُوْا فَاِنَّ فِی السُّحُوْرِ بَرَکَۃً(مسلم، الصحیح، کتاب الصیام، باب فضل السحور و تأکید استحبابہ۔ ۔ ۔ ، 2 : 770، رقم : 1095)

’’سحری کھایا کرو کیونکہ سحری میں برکت ہے ۔‘‘

ایک اور مقام پر حضرت اَبو قیس رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہما سے روایت کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے ۔‘‘(مسلم، الصحیح، کتاب الصیام، باب فصل السحور و تأکید استحبابہ، 2 : 771، رقم : 1096)

3)… قیام اللیل

رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راتیں تواتر و کثرت کے ساتھ نماز میں کھڑے رہنے ، تسبیح و تہلیل اور ذکرِ اِلٰہی میں محویت سے عبارت ہیں۔ نماز کی اِجتماعی صورت جو ہمیں تراویح میں دکھائی دیتی ہے اسی معمول کا حصہ ہے ۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک میں قیام کرنے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا :

’’جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس دن وہ بطنِ مادر سے پیدا ہوتے وقت (گناہوں سے ) پاک تھا۔‘‘(نسائی، السنن، کتاب الصیام، باب ذکر اختلاف یحیی بن أبی کثیر والنضر بن شیبان فیہ، 4 : 158، رقم : 2208۔ 2210)

4)… کثرت صدقات و خیرات

حضور نبی اکرمﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ صدقات و خیرات کثرت کے ساتھ کیا کرتے اور سخاوت کا یہ عالَم تھا کہ کبھی کوئی سوالی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دَر سے خالی واپس نہ جاتا رمضان المبارک میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت اور صدقات و خیرات میں کثرت سال کے باقی گیارہ مہینوں کی نسبت اور زیادہ بڑھ جاتی۔ اس ماہ صدقہ و خیرات میں اتنی کثرت ہو جاتی کہ ہوا کے تیز جھونکے بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکتے ۔

حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے :

فَإِذَا لَقِیَہُ جِبْرِیلُ علیہ السلام کَانَ (رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَجْوَدَ بِالْخَیْرِ مِنَ الرِّیْحِ الْمُرْسَلَۃِ(بخاری، الصحیح، کتاب الصوم، باب أجود ما کان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یکون فی رمضان، 2 : 672 ۔ 673، رقم : 1803)

’’جب حضرت جبریل امین آجاتے تو آپﷺ بھلائی کرنے میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے تھے ‘‘

حضرت جبریل علیہ السلام اﷲ تعالیٰ کی طرف سے پیغامِ محبت لے کر آتے تھے ۔ رمضان المبارک میں چونکہ وہ عام دنوں کی نسبت کثرت سے آتے تھے اس لئے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے آنے کی خوشی میں صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کرتے ۔

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث پاک سے کئی فوائد اخذ ہوتے ہیں مثلاً:

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جود و سخا کا بیان۔

رمضان المبارک میں کثرت سے صدقہ و خیرات کے پسندیدہ عمل ہونے کا بیان۔

نیک بندوں کی ملاقات پر جود و سخا اور خیرات کی زیادتی کا بیان۔

قرآن مجید کی تدریس کے لئے مدارس کے قیام کا جواز۔(نووی، شرح صحیح مسلم، 15 : 69)

5)… اِعتکاف

رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اعتکاف کرنے کا معمول تھا۔ اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے :

أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کَانَ یَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتّٰی تَوَفَّاہُ اﷲُ، ثُمَّ اعْتَکَفَ أَزْوَاجُہُ مِنْ بَعْدِہِ(بخاری، الصحیح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الا واخر والإعتکاف فی المساجد کلہا، 2 : 713، رقم : 1922)

’’حضور نبی اَکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری دس دن اعتکاف کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ ﷺ کا وصال ہوگیا ۔پھر آپﷺ کے بعد آپﷺ کی ازواج مطہرات نے اعتکاف کیا ہے ۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :’’حضور نبی اکرمﷺ ہر سال رمضان المبارک میں دَس دِن اِعتکاف فرماتے تھے اور جس سال آپﷺ کا وصال مبارک ہوا، اس سال آپﷺ نے بیس دن اعتکاف کیا۔‘‘(بخاری، الصحیح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الأوسط من رمضان، 2 : 719، ر قم : 1939)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor