Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ہر دِن نئی شان

 

ہر دِن نئی شان

Madinah Madinah

اللہ کریم کی ہر دن نئی شان ہوتی ہے۔ وہ کسی کو پستی میں ڈال دیتے ہیں تو کسی کو بلندی عطاء فرما دیتے ہیں۔ کسی کے بنے بنائے کام کو بگاڑ دیتے ہیں تو کسی کے بگڑے ہوئے کام کو سُدھار دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کامل، علم وسیع ترین اور ارادہ مستحکم ترین ہوتا ہے۔ وہ جو چاہیں تواُنہیں کوئی بھی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو وہ روک لیں تو کوئی اُسے حاصل نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ شان ان دنوں ایک بار پھر پوری آب و تاب سے دُنیا نے دیکھ لی بلکہ ابھی تک دیکھ رہی ہے۔

کورونا نے بہت سوں کے بنے بنائے کام بگاڑ دیے اور بہت سوں کے بگڑے ہوئے کام بنادیئے۔ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق کی غلامی کرنے والے ایک ایسی دلدل میں جا گھسے ہیں کہ ابھی تک وہاں سے نکل نہیں پارہے ، اور ایک اللہ تعالیٰ کی غلامی کا دَم بھرنے والے پہلے تو یکسو تھے ہی مگر رمضان نے آکر انہیں بالکل ہی یکسو اور ان کی زندگی کو ایمانی ترتیب اور ایمانی اعمال پر جما دیا ہے۔

جو مسلمان اس رمضان کو جس قدر عمدہ ایمانی اعمال اور ایمانی ترتیبات پر گزارے گا تو رمضان کے بعد کی اُس کی زندگی کو اللہ تعالیٰ بلاشک و شبہ اسی عمدہ ایمانی ترتیب پر جاری فرمادیں گے اور یہ کریم رب کا عظیم احسان ہے کہ ان دنوں جب سب کے کام بگڑتے چلے جارہے ہیں اللہ کریم نے ایمان والوں کو اپنے کام بنانے کا موقع فراہم کردیا ہے۔

رمضان کریم تو ہے ہی ایمان والوں کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے۔ غزوہ بدر دیکھیے اور غزوہ فتح مکہ دیکھیے۔ دونوں واقعات رمضان المبارک میں پیش آئے ۔ ایک میں اسلام اور کفر کے درمیان اور حق اور باطل کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جُدائی کی واضح لکیر کھینچ دی گئی اور حق کی حقانیت اور باطل کا بودہ پن بالکل نمایاں کر دیا گیا۔ جب دوسرے واقعے میں اللہ تعالی کی عبادت کے سب سے پہلے گھر خانہ کعبہ پر اسلامی عظمت کے پھریرا لہرا کر شرک اور کفر کے لیے تا قیامت ذلت اور شکست کا اعلان کردیا گیا۔

تاریخ اسلام اس قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو ماہ رمضان میں ہمیشہ عزت اور سربلندی سے نوازا ہے ۔اللہ تعالیٰ کے ان محبوب بندوں کوبڑی جلیل الشان فتوحات حاصل ہوئیں،اسلامی قلمروکے دائرے پھیلتے چلے گئے اور مسلمانوں کے سخت ترین دشمنوں کو شکست فاش اور ذلت و رسوائی کا سامنا ہوا ۔

مجاہد تو اللہ تعالیٰ کو ویسے ہی محبوب ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم کا اعلان ہے کہ:

’’بے شک اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں اُن لوگوں سے جو اُس کی راہ میں سیسہ پِلائی ہوئی دیوار کی طرح صفت بنا کر قتال کرتے ہیں‘‘۔ (سورۃ الصف)

پھر اگر یہ مجاہد روزے کی حالت میں ہو اور روزہ دار مسلمانوں کی دعائیں بھی اُن کے ساتھ ہوں تو شان ہی الگ ہوتی ہے۔ اللہ کریم دیکھتے ہیں کہ کس طرح میرے یہ بندے ایک طرف نفس اور شیطان سے جنگ کررہے ہیں، تو دوسری طرف اللہ تعالی کے دشمن کے خلاف جہادی محاذ وں پر مورچہ زن ہیں۔ تب اللہ کریم کی محبت اور نصرت کا خوب فیض انہیں حاصل ہوتا ہے۔

رمضان میں مجاہدکی شان اور جذبات بھی عروج پر ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں؟ وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اگر غالب ہوگیا ، تو دونوں دشمنوں کو شکست سے دو چار کیا اور اگر شہید ہوگیا ، تو اللہ تعالی کے حضور میں ایسے حالت میں پیش ہوگا کہ روزہ، جہاد اور شہادت کے امتیازی تمغے اس کے سینے پر سجے ہوئے ہوںگے۔

بلاشبہ رمضان المبارک خاص برکتوں اور نصرتوں کا مہینہ ہے ۔ امت مسلمہ کے کامیابی اور غلبہ کا مہینہ ہے ۔جب بھی مسلمان ماہ رمضان میں جہادی میدان میں کود پڑے ہیں، تو اللہ تعالی کی نصرت سے کامیابی نے ان کے قدم چومے ہیں اور دشمن شکست سے دو چار ہوا ہے ۔

ماہِ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی فتوحات کی طویل فہرست میں سے چند اہم اور یادگار واقعات کی ایک فہرست دیکھ لیجیے:

٭غزوہ بدر، 13 مارچ624ء ، بمطابق 17رمضان المبارک2 ہجری، مشرکین مکہ کے ساتھ، یہ کفر اور اسلام کی پہلی جنگ بھی ہے ۔

٭غزوہ خندق، مارچ627ء ، بمطابق ذوالقعدہ 5 ہجری۔ قریش تو جنگ کے لئے شوال میں پہنچے ، لیکن مسلمان خندق رمضان کے مہینے میں کھودتے رہے تھے ، جو 3 سے 4 ہفتوں میں مکمل ہوئی۔

٭20 رمضان ۔ فتح مکہ ۔سنہ 8 ہجری فتح مکہ کا سال ہے اور یہ وہی فتح ہے جس کی خوشخبری صلح حدیبیہ کے بعد مذکورہ بالا آیت شریفہ کے توسط سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دی گئی تھی۔معتبر کتب کے مطابق فتح مکہ کا عظیم واقعہ 20 رمضان سنہ 8 ہجری کو رونما ہوا۔سنہ آٹھ ہجری تک اسلام کو عظیم فتوحات ملی تھیں مگر جزیرہ نمائے عرب کا مرکز یعنی مکہ معظمہ اوراسلام لیواؤں کی عبادتگاہ اور کعبہ معظمہ ابھی تک مشرک بت پرستوں کے قبضے میں تھا اور وہاں اخلاقی گراوٹوں اور زوال انسانیت اور انسانوں کے استحصال اور بندگان خدا کو بندہ انسان بنائے جانے جیسے رجحانات عروج پر تھے ، بیت اللہ میں 360 بت نصب تھے اور قریش ان کی پوجا کررہے تھے اور دوسروں کو بھی بتوں کی پوجا کرنے پر آمادہ کررہے تھے ۔فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بیت اللہ شریف کے ساتھ ہی اپنی سواری سے اترے اور بت شکنی کا آغاز کیا۔

٭ غزوہ تبوک، اکتوبر630ء ، بمطابق 9 ہجری۔ مسلمانوں کو اطلاع ملی کہ شام کے عیسائی ہرقل کی مدد سے مدینے پر حملہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ تبوک کے مقام پر پہنچے تو پتا چلا کہ عیسائی مسلمانوں کے رعب سے ڈر کر بھاگ گئے ہیں۔

٭رہوڈس کی فتح، 654ء میں، امیر معاویہ کی افواج نے یہ زبردست فتح سمیٹی۔

٭ اندلس کی فتح، 710ء ، طارق بن زیاد نے بادشاہ راڈرک کو شکست دی۔ماہ مبارک رمضان سنہ 92 ہجری کو مسلمانوں کے لشکر نے طارق بن زیاد کی سرکردگی میں اندلس کو فتح کیا اوراللہ رب العزت نے مسلمانوں کو دریائے لکھ کے ساحل پر واقع ملک لذریق میں فتح و نصرت عطا کی۔عرب مسلمانوں اور شمالی افریقہ کے بہادر بربر قبائل نیے سنہ 92 میں طارق بن زیاد کی سرکردگی میں اندلس کی طرف پیش قدمی کی۔طارق بن زیاد افریقہ کے فرمانروا موسی بن نصیر ایک سپہ سالار تھے اور خود شمالی افریقہ کی قوم بربر سے تعلق رکھتے تھے ۔ طارق بن زیاد نے بارہ ہزار کا لشکر لے کر مراکش اور ہسپانیا کے درمیان واقع آبنائے (جبل الطارق) سے گذر کر مختصر سے عرصے میں آج کے پرتگال پر بھی مشتمل اسپین کو فتح کیا۔

٭جنگ عسقلان، 12 اگست 1099ء بمطابق 22 رمضان، صلیبی جنگجوں نے فاطمی خلافت کو شکست دی۔

٭جنگ حطین، 4جولائی 1187ء بمطابق 12 رمضان میں سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے صلیبی افواج کو عبرتناک شکست دے کر بیت المقدس کو آزاد کروایا۔

٭سیف الدین محمود قطز کی قیادت میں عین جالوت کی جنگ 24/ رمضان المبارک 658ھ میں لڑی گئی، جس میں پہلی مرتبہ مغل لشکر کو شکست اور ہلاکو خان کا نائب کتبغائی مارا گیا۔

٭  عباسی خلیفہ معتصم کی قیادت میں عموریہ کی فتح 06 ؍ رمضان المبارک 223ھ کو ہوئی، یہ جنگ ایک مظلوم مسلمان عورت کی (وامعتصاہ) کی پکار میں لڑی گئی۔

٭ ظاہر بیبرس کی قیادت میں انطاکیہ کی فتح 14/ رمضان المبارک 666ھ کو ہوئی۔

٭ عثمانی خلیفہ سلیمان کی قیادت میں بلگراد کی فتح 26/ رمضان المبارک 927 ھ کو  ہوئی۔

٭عصرحاضر میں جاری مشرکین اور صلیبیت پرستوں کے خلاف جنگ میں بعض بڑے بڑے واقعات بھی رمضان المبارک میں ہی پیش آئے جس نے دشمنوں پر کاری ضربیں لگائیں اور دشمن کے ارادوں اور عزائم کو تہس نہس کیا۔ یقین نہ آئے تو ان دنوں مشرکین ہند کے میڈیا کو دیکھ لیجئے کہ کس طرح جہادی یلغار کی گونجیں اس پر سنائی دے رہی ہیں۔

ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مقام کو سمجھیں، وہ اپنا تقابل کفر اور شرک کی غلاظتوں میں لتھڑے ہوئے لوگوں سے بالکل بھی نہ کریں۔ وہ وسائل اور اسباب کے پُجاری ہیں جب ایمان والے ایک رب پر بھروسہ رکھنے والے ہیں۔ اُن کے ہاں دُنیا کی زندگی ہی سب کچھ ہے جب کہ ایمان والوں کے ہاں تو آخرت کی زندگی ہی سب کچھ ہے اور دنیا کی زندگی اسی آخرت کی تیاری کے لیے ۔ اُن کے ہاں موت ہلاکت اور تباہی و بربادی ہے جب کہ ایمان والوں کے ہاں موت ایک تحفہ ہے۔ اُن کے ہاں بھوکا پیاسا رہنا ذلت ہے جب کہ ایمان والوں کے ہاں رب کی رضا کے لیے بھوکا پیاسا رہنا ایک افضل ترین عبادت ہے ۔ اس لیے اے اہل ایمان! ان مادہ پرستوں کے پیچھے لگنے سے بچواور اپنی اقدار، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق اور اپنی زندگی کے مقاصد اور مشن پر توجہ مرکوز رکھیے، اسی میں ہماری کامیابی ہے۔

 

 

دین و دنیا کی بھلائیوں کی جامع دعاء

اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ اِیْمَاناً دَائِماً، وَ اَسْئَلُکَ قَلباً خَاشِعاً، وَ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً، وَ اَسْئَلُکَ یَقیْناً صَادِقاً، وَ اَسْئَلُکَ دِیْناً قَیِّماً، وَ اَسْئَلُکَ الْعَافِیَۃَ مِنْ کُلِّ بَلِیَّۃٍ ، وَ اَسْئَلُکَ تَمَامَ الْعَافِیَۃِ، وَ اَسْئَلُکَ دَوَامَ الْعَافِیَۃِ، وَ اَسْئَلُکَ الشُکْرَ عَلٰی الْعَافِیَۃِ، وَ اَسْئَلُکَ الْغِنَا عَنِ النَّاسِ (نوادر الاصول)

اس دعاء میں درج ذیل دَس چیزوں کی دعاء مانگی گئی ہے:

دائمی ایمان(2) اللہ تعالی سے ڈرنے ،دبنے والا دِل(3) نفع دینے والے علوم(4) سچا یقین(5)مضبوط دین(6) ہر بلا سے عافیت(7) مکمل عافیت(8) دائمی عافیت(9) عافیت پر شکر کی توفیق (10) لوگوں سے مستغنی ہونا (یعنی کسی کا محتاج نہ ہونا)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor