Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

اختتام رمضان اور عید

 

اختتام رمضان اور عید

Madinah Madinah

یوں تو رمضان المبارک کا سارا مہینہ ہی فضائل ومناقب کا حامل ہے ، لیکن رمضان المبارک کے آخری عشرہ کو کئی ایک وجہ سے خصوصیت حاصل ہے، اس میں اللہ عزوجل نے کئی ایک اعمال اور عبادتیں ایسے رکھی ہیں جو اس عشرہ اخیر کو سارے دنوں پر فضیلت واہمیت عطا کرتے ہیں اور ان کو دیگر ایام وشہور سے ممتاز کرتے ہیں۔

نبی کریمﷺ نے رمضان کے آخری عشرہ کے بے انتہا فضائل ومناقب بیان فرمائے ہیںاور خود آپﷺ کا معمول یہ تھاکہ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں عبادت وریاضت اور رجوع الی اللہ میں خوب اجتہاد اور کوشش فرماتے۔

بخاری شریف کی روایت ہے کہ ’’جب رمضان کا آخری عشرہ آجاتا تو آپﷺ اپنی کمر کس لیتے ، راتوں کو جاگتے اور اپنے اہل وعیال کو جگاتے۔ ( بخاری شریف)

اس حدیث مبارکہ میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں نبی کریمﷺ کے چار معمولات کا ذکر ہے :

(۱) جب آخری عشرہ آجاتا تو خود آپﷺ کمر بستہ ہوجاتے، یعنی پوری جدوجہد اور کوشش کے ساتھ عبادت وریاضت میں لگ جاتے ، مطلب یہ ہے کہ گھر بار اور دیگر مشغولیات سے یکسو ہو کر بالکل عبادت میں لگ جاتے ، جس کی ایک شکل اعتکاف ہے۔

(۲) خود نبی کریمﷺ ان راتوں کو عبادات وذکر وتلاوت قرآن اور دیگر اعمال واشغال میں صرف کرتے۔

(۳) اپنے اہل وعیال کو بھی نماز ، ذکر وغیرہ پر ابھارتے اور ان رمضان کے آخری اوقات کو قیمتی بنانے کے لئے اکساتے اور ترغیب دیتے۔

(۴) آپﷺ کا اس آخری عشرے میں عبادت وریاضت اور رجوع الی اللہ کی مشغولیت دیگر ایام وشہور سے کافی بڑھ جاتی۔

حضرت امام ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : مجھے یہ پسند ہے کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آجائے تو میں رات میں تہجد پڑھوں، اور خوب مجاہدہ کروں اور اپنے اہل وعیال کو جگاؤں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فضیلتوں اور برکتوں کا مہینہ اختتام پذیر ہے۔ بہت جلد وہ وقت آئے گا جب ہم آپس میں تذکرہ کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر رحمت نازل فرماتے ہیں۔ ہم یاد کریں گے کہ روزہ دار کے منہ کی بو جو بھوک کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ نیز روزے داروں کیلئے دریا کی مچھلیوں کا دعائے مغفرت کرنا اور افطار کے وقت تک کرتے رہنا، جنت کا روزے داروں کیلئے سجایا جانا، سرکش شیاطین کو قید کرنے اور افطار کے وقت روزے دار کی دعا کے رد نہ ہونے کو یاد کیا کریں گے۔ ہر رات فرشتوں کی ندا یاد کی جائے گی کہ اے طالب ِخیر! سامنے آ اور متوجہ ہو۔ اے طالب ِشر! بس کر گناہوں سے، تائب ہوکر طاعت اور نیکی کی زندگی کو اختیار کر۔ ہمارے بعض اسلاف رمضان کے اختتام پر رمضان کی وداعی میں رویا کرتے تھے کہ گناہوں سے مغفرت کا موسم ، اللہ کے فضل وکرم کو حاصل کرنے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کا اہم وقت جا رہا ہے۔

بعض اسلاف کے متعلق کتابوں میں تحریر ہے کہ وہ6 ماہ تک ماہ رمضان میں کی گئی عبادتوں کی قبولیت کیلئے دعائیں فرماتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی مغفرت فرمائے، ہمارے لئے جہنم سے چھٹکارے کا فیصلہ فرمائے نیز روزوں اور رات کے قیام (تراویح اور تہجد) اور تمام نیک اعمال کو قبول فرماکر ہم سب کو اجر عظیم عطا فرمائے،آمین۔

رمضان کے اختتام پر ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم نے پورے ماہ روزے رکھ کر روزے کے اہم مقصد کو حاصل کیا یا نہیں۔ قرآن کریم کے اعلان کے مطابق روزہ کی فرضیت کا بنیادی مقصد ہماری زندگی میں تقویٰ پیدا کرنا ہے۔ اب ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارے اندر تقویٰ یعنی اللہ تعالیٰ کا خوف پیدا ہوا یا وہی حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی رمضان کے بعد دوبارہ لوٹ کر آگئی۔ روزے کا دوسرا مقصد گناہوں سے مغفرت ہے، لہذا مندرجہ ذیل حدیث کی روشنی میں ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے:

 ایک مرتبہ آقا مدنیﷺ نے منبر پر چڑھتے ہوئے3 مرتبہ کہا ’’ آمین، آمین ،آمین‘‘

 صحابہ کرامؓ کے سوال کرنے پر حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے اور جب میں نے منبر پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا غبار آلود ہو اس شخص کی ناک (یعنی بڑا بدنصیب ہے وہ شخص ) جس نے رمضان کا مبارک مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے کہا آمین۔ غور فرمائیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام جیسے مقرب فرشتے کی بد دعا اور پھر نبیوں کے سردار حضرت محمد مصطفیﷺ کا آمین کہنا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی اس بد دعا سے حفاظت فرمائے۔

 رمضان شریف ایک تربیتی دورانیہ ہے اس میں ہم بڑے ہی عمدہ سبق سیکھتے ہیں، اس میں ہمیں بلیغ نصیحتیں ملتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گردنیں جھکی ہوئی ہیں، دل خشوع سے معمور ہیں، آنکھیں اشکوں سے نم ہیں، اور روح میں سکینت سما گئی ہے۔رمضان نے آ کر جذبوں کو نیا ولولہ دیا، تزکیۂ نفس کیا ، دلوں کی ایمان سے آبیاری کی۔ رمضان میں شیطانی واروں پر پابندی لگ جاتی ہے، حرص و ہوس کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔ رمضان کی وجہ سے صفوں میں اتحاد پیدا ہو جاتا ہے ، سب ایک دوسرے کے قریب تر ہو جاتے ہیں اور خوبصورت منظر میں کندھے سے کندھا ملائے صف بستہ نظر آتے ہیں، یہ منظر اپنی ہیبت اور محبت کے ذریعے اتحاد ، اتفاق اور مضبوط تعلقات کی بہترین تصویر کشی کرتا ہے۔روزے داروں کے چہروں پر نیک لوگوں کی علامات واضح نظر آتی ہیں، وہ اطاعت گزاروں جیسا خوفِ الہی رکھتے ہیں اور زبان حال سے یہ کہتے ہیں کہ:

 حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہیں ہوا

مسلمان رمضان المبارک کا پورا مہینہ خواہشات کی قربانی، مجاہدے اور ہر طرح کی عبادات کی کثرت سے گزارتے ہیں اور اس مہینے کے خاتمے پر ایمانی و روحانی برکتوں اور عنایتوں کے منتظر ہوتے ہیں، چنانچہ عید الفطر کی شکل میں  امت کو مسرت اور خوشیوں  کا تہوار عطا ہوا۔ عید الفطر کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ عمومی خوشی کا دن ہے اسی لئے اس مہینے میں صدقہ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خوشحال، مالدار اور صاحبِ ثروت پر واجب قرار دیا گیا ہے کہ وہ گھر کے ہر فرد کی طرف سے فطرانہ ادا کریں۔ غریبوں، محتاجوں، ضرورت مندوں کو دیں تا کہ وہ لوگ اپنے لئے نئے جوڑے تیار کر سکیں، نئے کپڑے پہن سکیں، اچھا کھانا کھا سکیں اور عید کی خوشی میں برابر کے شریک ہوں۔ گو اس طرح عید کا دن پورے معاشرے اور پوری امت کے لئے عمومی خوشی کا دن بن جاتا ہے۔

اس سے ایک سبق واضح ملتا ہے کہ عید کے خوشیوں میں اپنے مظلوم مسلمانوں کو یاد رکھنا ضروری ہے۔کشمیر و فلسطین اور برما کے مظلوم مسلمانوں کو اپنی خوشیوں میں یاد رکھیں، ان کے لئے دعاگو رہیں اور جتنا ممکن ہو سکے ان کی مدد اور نصرت کے لئے کمربستہ رہیں۔  رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا  کہ مسلمان آپس میں ایک جسم کی مانند ہیں، اگر جسم کے کسی ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ پھر کیوں نہ دنیا بھر کے مسلمان خوشیوں کے اس گھڑی میں  شام، عراق، افغانستان، یمن، کشمیر فلسطین، سری لنکا اور برما میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا الم محسوس کریں۔ ان کے لیے متحد ہوجائیں اور ان کے لئے عالمی سطح پر اپنی کوششوں کو تیز کریں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor