Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

جلتا اَمریکا

 

جلتا اَمریکا

Madinah Madinah

فرعونِ وقت امریکا کورونا کے عذاب میں مبتلا تو تھا ہی کہ اندرونی خلفشار اور لوٹ مار کی گرم بازاری نے مرے پر سو دُرّے کا کام کر دیا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوْ

کورونا نے امریکا میں سب سے زیادہ تباہی پھیلائی۔ ابھی بی بی سی اردو پر آج کی خبریں سنیں۔

متاثرین اور اَموات کی تعداد کے اعتبار سے امریکا دنیا میں اس وقت بھی سرفہرست ہے۔ متاثرین کی تعداد ۱۹ لاکھ جبکہ ہلاک شدگان کا عدد ایک لاکھ دس ہزار سے متجاوز ہے۔ کروڑ سے زائد لوگ اپنی نوکریوں سے برخاست کئے جا چکے ہیں، کساد بازاری اور بے روزگاری کے سبب جرائم کی شرح میں ۱۰۰ فیصد سے زائد اِضافہ ہو چکا ہے جبکہ کرونا اور اس کے بعد کے حالات کے خوف کی وجہ سے نشے کی لت کا معاشرے میں یومیہ پندرہ فیصد سے زائد اِضافہ ہو رہا ہے۔

چند دن قبل امریکا میں سول سوسائٹی کی طرف سے عدالت میں اس حوالے سے مختلف پٹیشنز دائر کی گئیں کہ کرونا کے سبب معیشت اور تعلیم کا بے حد حرج ہو رہا ہے اور معاشرتی اَقدار کو زبردست نقصان پہنچ رہا ہے لہٰذا حکومت کو ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ لاک ڈاؤن ختم کر کے کاروبارِ زندگی کو بحال کرے۔ اتنا جانی نقصان کرونا سے نہیں ہوا جس قدر اس لاک ڈاؤن کے اَثرات سے جنم لے رہا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں کچھ ہدایات جاری بھی کر دیں۔ امریکی عوام بے تابی سے منتظر تھے کہ عدالت کے احکام کی روشنی میں حکومت جلد لاک ڈاؤن اُٹھانے کا اعلان کر دے گی اور شہروں کی رونق اور چہل پہل بحال ہو جائے گی لیکن ایک ایسا واقعہ پیش آ گیا جس نے امریکا کو بدترین حالات میں مبتلا کر دیا۔

ایک 43سالہ سیاہ فام شخص کو امریکی پولیس اہلکار نے دن دیہاڑے سڑک پر گلا دَبا کر مار ڈالا۔ وقوعہ پر موجود اَفراد نے اس منظر کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ویڈیو جنگل کی آگ سے بھی تیز رفتار کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل گئی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہرگز نہیں تھا بلکہ پولیس کے ہاتھوں دورانِ گرفتاری یا دورانِ حراست لوگوں کا مارا جانا امریکہ میں ایک معمول کی بات ہے۔

کل بی بی سی عربی پر ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا۔ اس کے مطابق امریکی پولیس دنیا میں سب سے ظالم اور بد اخلاق فورس ہے۔ امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں اس طرح کے واقعات میں قتل ہونے والے افراد کی تعداد اوسطاً چھ ہزار سالانہ ہے اور اس بدسلوکی کا نشانہ سب سے زیادہ سیاہ فام امریکی بنتے ہیں۔ اور دوسرے درجے میں لاطینی امریکہ اور عرب ممالک سے نسلی تعلق رکھنے والے امریکی شہری۔ سفید فام امریکیوں کو اس سلسلے میں بہت کم شکایات ہیں۔ اس پر مزید ظلم یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات میں پولیس کے خلاف مقدمہ صرف چھ یا سات فیصد واقعات میں درج ہوتا ہے اور ان واقعات میں ملوث پولیس اہلکاروں کو سزا ملنے کی شرح صرف ایک فیصد ہے۔ یہ سزا بھی قتل کے جرم پر نہیں صرف بے احتیاطی اور فرائض کی ادائیگی میں معمولی پیشہ ورانہ غفلت کے جرائم پر دی جاتی ہے جو معمولی سے جرمانے یا کچھ عرصے کی معطلی سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ واقعات البتہ وہاں میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سیاہ فام امریکی طبقے میں غم و غصہ بڑھتا ہے۔ حالیہ واقعہ بھی اسی طرز ِعمل کا تسلسل ہی تھا۔ لیکن کرونا کے ہاتھوں گھٹن ، بے روزگای اور تنہائی کا شکار قوم جس ذہی کیفیت کو پہنچ چکی تھی اس کے لئے یہ واقعہ اس غیض و غضب کے اِظہار کا بہانہ بن گیا اور ایک دَم سے لاکھوں سیاہ فام افریقی اور ان کے ساتھ دیگر غیر منصفانہ برتاؤ کا شکار طبقات بے قابو ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور پھر دنیا بھر کو تہذیب ، تمدن ، سماجی اخلاقیات اور ایمانداری کے درس دینے والے امریکہ نے وحشت ، تشدد ، لوٹ مار اور غیر انسانی مار دھاڑ کے وہ مناظر دیکھے کہ الامان الحفیظ۔

صرف ایک ہفتے میں جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار اور تشدد کے جتنے واقعات پیش آئے ہیںاُن کی تعداد گذشتہ کئی دہائیوں کے مجموعی جرائم سے زیادہ ہو چکی ہے، پولیس نے ابتداء میں اس غضب کی آگ کو ٹھندا کرنے کے لئے منافقانہ طرز اپنایا۔ قوم سے اجتماعی معافی مانگی ، جرائم تسلیم کئے، ذمہ دار اہلکاروں پر پہلی بار قتل کا مقدمہ درج کیا اور اِنصاف کی یقین دہانیاں کروا کے قوم سے گھروں کو لوٹ جانے کی اپیل کی لیکن تھوڑی ہی دیر وہ اپنا یہ لبادہ برقرار رکھ سکے اور پھر دوبارہ متشددانہ اِقدامات پر اُتر آئے۔مظاہرین پر گاڑیاں چڑھائیں ۔ وحشیانہ مار پیٹ کی، راہ چلتے لوگوں پر ڈنڈے برسائے ، لیکن یہ سب کچھ بھی مخفی نہ رہ سکا اور کیمرے کی آنکھ سے ریکارڈ ہو کر ساتھ ساتھ نشتر ہوتا رہا۔ نتیجتاً عوامی غیض و غضب بے قابو ہوتا چلا گیاجو تاحال سنبھلنے میں نہیں آ سکا۔ محتاط اندازوں کے مطابق جو سرکاری اَملاک، دفاتر اور گاڑیاں نذرِ آتش کی گئی ہیں، ان کی مالیت ۱۰ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ ملٹی نیشنل سٹورز اور عوامی مقامات پر لوٹ مار کے تخمینے اس سے سوا ہیں۔ اب تک 7پولیس اہلکار قتل ہو چکے ہیں اور اس سے دُگنے مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔

معاشرے میں پھیلے اسلحہ کے ذخائر کے پیش نظر بڑی قاتلانہ کاروائیوں کا خطرہ ہر آن موجود ہے۔ ۱۱۹ سال بعد پہلی بار ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے فوج کی خدمات حاصل کرنا پڑی ہیں جس پر ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسے امریکی آئین میں انحراف کے مترادف گردانا جا رہا ہے ۔ لیکن حالات کی خرابی کس سطح کی ہے اس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اپوزیشن ، سول سوسائٹی ، میڈیا اور خود حکومتی حلقے کے کئی اراکین کی شدید مخالفت کے باوجود ٹرمپ فوج بلانے کے فیصلے سے ہٹنے پر آمادہ نہیں ہے ۔ ساتھ ہی یہ خطرہ بھی امریکیوں کے لئے شدید اُلجھن اور پریشانی میں اضافے کا باعث بن رہا ہے کہ امریکی پولیس، فوج اور دیگر عسکری اداروں میں سیاہ فام افراد کی بہت بڑی تعداد موجود ہے۔ جس انداز میں یہ تحریک چل رہی ہے اور جس طرح دنیا بھر سے سیاہ فام لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں اگر یہ نسلی تقسیم کی تحریک بن گئی تو ان اداروں کے اندر سے اُٹھنے والی بغاوت امریکا کی تباہی پر حتمی مہر ثبت کر دے گی۔

حضرت امیرِ محترم حفظہ اللہ تعالیٰ نے 2011 میں ایک چشم کشا مضمون ’’وہ آگ جو چل پڑی ہے‘‘ کے عنوان سے تحریر فرمایا تھا۔ اس وقت امریکا میں کچھ بد نسل پادریوں کی طرف سے قرآنِ مجید جلانے کی مذموم مہم چلائی گئی تھی۔ مجاہدینِ اسلام نے افغانستان اور عراق کے محاذوں پر امریکیوں کو وہ سبق دیا کہ وہ نشانِ عبرت بن کر اس مہم کو روکنے پر مجبور ہوئے۔ اس وقت یہ مضمون تحریر ہوا اور اس میں حالات کا مدلل تجویز پیش کرنے کے بعد یہ جملہ لکھا گیا کہ امریکا کی تباہی سیاہ فام اور گوروں کی لڑائی سے ہو گی۔ ’’قلندر ہر چہ گوید دیدہ گوید‘‘ کے مصداق آج یہ جملہ اپنی صداقت ببانگ دہل منوا رہا ہے کہ اس لڑائی کے ابتدائی اور غیر مسلح مرحلے نے ہی امریکا کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک کے سب سے بدترین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ اگلے کسی مرحلے میں جب یہ قوم لکڑیاں ، لائٹر اور پٹرول کی چھوٹی چھوٹی بوتلوں کی بجائے مشین گنوں سے مسلح ہو کر نکل آئی تو… حالات کا خود اندازہ لگا لیجئے…

یہ بھی سوچئے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک لشکری کورونا نے یہ گھٹن پیدا نہ کر رکھی ہوتی تو شاید حالات اس حد تک خرابی کی طرف نہ جاتے اور قوم جلد حکومت کی باتوں میں آ کر گھروں کو لوٹ جاتی لیکن یہ کرونا کے پیدا کردہ حالات کا نتیجہ نکل رہا ہے کہ ایک خون امریکا کو اس قدر بھاری پڑ گیا ہے۔ امریکا نے اللہ تعالیٰ کے سب سے عظیم لشکر مجاہدین کے ہاتھوں افغانستان میں شکست کھائی اور اب اپنی سرزمین پر کرونا اور سیاہ فام اِنقلاب کے ہاتھوں شکست و ریخت سے دوچار ہے۔

وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوْ

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor