Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

دربارِ رسالت میں ایک مقابلہ

 

دربارِ رسالت میں ایک مقابلہ

Madinah Madinah

فتح مکہ کے کچھ عرصہ بعد بنو تمیم کا وفد بڑی شان و شوکت اور ٹھاٹھ باٹھ کے ساتھ مدینہ منورہ آیا۔

یہ ستّر یا اسّی آدمیوں پر مشتمل تھا اور اس میں قبیلہ کے بڑے بڑے رؤساء ،شعلہ بیان خطیب اور سحر البیان شاعر شامل تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں عربوں میں باہمی فخر اور مقابلے کا جذبہ بہت زیادہ تھا اور وہ لوگ ہر وصف میں ایک دوسرے سے موازنہ کیا کرتے تھے ۔ اسلام نے اس بے کار کام کو مذموم قرار دیا اور فضیلت کی بنیاد صرف تقویٰ کو ٹھہرایا۔

 بنو تمیم کے لوگوں کے دماغوں میں بھی خاندانی فخر و غرور کا نشہ سمایا ہوا تھا۔ وہ مدینہ منورہ آتے ہی مسجد نبوی میں داخل ہوئے ۔

حضور ﷺ اس وقت گھر کے اندر تھے ۔ ان لوگوں کی بیباکی اور اکھڑ پن کی یہ کیفیت تھی کہ انہوں نے نہ تو حضور ﷺ کے باہر تشریف لانے کا انتظار کیا اور نہ اس بات کا لحاظ کیا کہ حضور ﷺ کس درجہ کی شخصیت ہیں۔ بلکہ خانہ اقدس پر جا کر بے تحاشہ آوازیں دینی شروع کر دیں :

''محمد (ﷺ) باہر آؤ اور ہماری بات سنو۔''

حضور کو ان کا اکھڑ پن ناگوار تو گزار لیکن آپ ﷺ باہر تشریف لے آئے ۔ آپ چاہتے تو ان لوگوں کو سخت سزا دے سکتے تھے لیکن آپ ﷺ کی شانِ عفووکرم دیکھئے کہ ان سے نہایت خندہ پیشانی سے ملاقات فرمائی۔

وفد کے ایک رئیس اقرع بن حابس نے حضور ﷺ نے کہا :

محمد ﷺ میں وہ ہوں کہ خدا کی قسم میری مدح انسان کی عزت کو بڑھا دیتی ہے اور میری ہجو انسان کو داغ لگا دیتی ہے ۔''

حضور ﷺ نے فرمایا: یہ تو خدا کا کام ہے ۔

انہوں نے کہا ''ہم سب سے زیادہ معزز ہیں۔''

حضور نے فرمایا ''تم سے زیادہ معزز یوسفؑ بن یعقوبؑ تھے ۔''

اگرچہ قبول اسلام کے لئے یہ شرط بڑی نامعقول تھی لیکن حضور ﷺ چاہتے تھے کہ یہ لوگ کسی طریقے سے بھی دعوتِ حق کو سمجھ جائیں چنانچہ آپ نے فرمایا

 ''میں فخر بازی اور شعر بازی کے لئے مبعوث نہیں ہوا لیکن اگر تم اسی کے لئے آئے ہو تو یونہی سہی، تم اپنا کمال دکھاؤ ہم جواب دیں گے ۔''

بنو تمیم میں ایک شخص عطارد بن حاجب تھے ، وہ ایک شعلہ بیان خطیب تھے اور ایک دفعہ نوشیراں کے دربار میں اپنی خطابت کے جوہر دکھا کر کمخواب کا خلعت حاصل کر چکے تھے ۔

 حضور ﷺ سے اجازت پا کر وہ اُٹھ کھڑے ہوئے اور باہمی تفاخر کے اس مقابلے کا آغاز اپنی اس تقریر سے کیا:

''تعریف اس خدا کی جس نے اپنے فضل و کرم سے تاج و تخت کامالک بنایا۔

 اہل مشرق میں ہمیں سب سے زیادہ معزز کیا۔

ہمارے خزانے سیم و زر سے بھرے ہوئے ہیں جنہیں ہم فیاضی سے خرچ کرتے ہیں۔

 لوگوں میں ہمارا مثل و نظیر نہیں۔

 کیا ہم آدمیوں کے سردار اور ان میں صاحب فضل نہیں ہیں؟

 اگر کسی کو یہ دعویٰ ہو تو وہ ہمارے قول سے اچھا قول اور ہمارے حالات سے اچھے حالات پیش کرے ۔

اب مجھ کو جو کہنا تھا کہہ چکا۔''

عطارد یہ تقریر کر کے بیٹھ گئے ۔ حضور نے ان کا جواب دینے کے لئے حضرت ثابت بن قیس انصاریؓ کو اشارہ کیا۔ انہوں نے یہ خطبہ دیا:

''تعریف اس اللہ عزوجل کی جس نے زمین اور آسمان پیدا کئے ۔

 ان پر اپنا حکم جاری کیا۔

 اپنی کرسی اور اپنے علم کو وسعت دی۔

 وہ قادر مطلق ہے جو کچھ ہوتا ہے ۔

 اسی کی قدرت سے ہوتا ہے ۔

 اس کی قدرتوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنی مخلوق میں سے ہمارے لئے ایک پیغمبر مبعوث کیا جو سب سے زیادہ شریف النفس ہے ۔

 سب دنیا سے بڑھ کر راست گو اور سب سے زیادہ شریف الاخلاق ہے ۔

 پھر اس پیغمبر پر ایک کتاب نازل کی اور اپنی خلقت کا اسے امانت دار بنایا اور وہی وہ شخص ہے جسے خدا نے سارے عالم سے برگزیدہ کیا۔

 پھر اس نے لوگوں کو حق کی طرف بلایا تو اس کی قوم اور اقربا میں سے پہلے مہاجرین نے حق کو قبول کیا۔

 جو نسب میں افضل ہیں ان کے چہرے سب سے زیادہ روشن ہیں اور ان کے اعمال سب سے اچھے ہیں پھر ان کے بعد سارے عرب میں سے ہم گروہِ انصار نے دعوتِ حق پر لبیک کہا۔

 لہٰذا ہم خدا کے انصار اور اس کے رسول کے وزیر ہیں اور لوگ جب تک ایمان نہ لائیں اور لا الٰہ الا اللہ نہ کہیں ہم ان سے لڑتے رہیں گے اور جو کوئی اللہ اور اللہ کے رسول کو ماننے سے انکار کرے گا ہم اس کے خلاف راہِ خدا میں جہاد کریں گے اور جہاد کرنا ہمارے لئے کوئی دشوار کام نہیں ہے ۔

 مجھے جو کہنا تھا کہہ چکا اور اب میں تمام مومنین اور مومنات کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعائے مغفرت کرتا ہوں۔''

تقریریں ہو چکیں تو اشعار کی باری آئی۔ بنو تمیم کی طرف سے ان کے سحر البیان شاعر زبرقان بن بدر کھڑے ہوئے اور اپنی قوم کی شان میں ایک پُرزور قصیدہ پڑھا جس میں خود ستائی، بلند مرتبہ ہونے کے دعوے اور نخوت کے سوا کچھ نہ تھا تاہم اس کے زورِ بیان اور فصاحت و بلاغت میں کوئی کلام نہ تھا۔

 حافظ ابن حجرؒ نے "اصابہ" میں لکھا ہے کہ زبرقان کے اشعار سن کر خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان من البیان لسحراً

یعنی کچھ تقریروں میں تو جادو ہوتا ہے ۔

زبرقان بیٹھے تو حضور ﷺ نے حضرت حسان بن ثابت کو حکم دیا کہ وہ ان کا جواب دیں۔

حضرت حسانؓ شعر و شاعری کے بادشاہ تھے ۔ زمانہ جاہلیت میں شاہان غسان کے درباروں میں اپنے حسنِ کلام اور طاقت لسانی کا لوہا منوا چکے تھے ۔ قبول اسلام کے بعد ان کی شاعری کے جوہر اور بھی چمک گئے تھے ۔ کیونکہ انہوں نے محض رضائے الٰہی کو اپنا مقصود بنا لیا تھا اور اپنی شاعری کو مدحت رسول کے لئے وقف کر دیا تھا۔

انہوں نے حضور کا اشارہ پاتے ہی اٹھ کر زبر قان ہی کے بحر اور قافیہ میں فی البدیہہ ایسے فصیح اور بلیغ اشعار سنائے کہ بنی تمیم انگشت بدفداں ہو گئے ۔ لیکن وہ آسانی سے کب ہار مانتے تھے ۔ زبرقان (اور بروایتِ دیگر عطارد) پھر اٹھ کھڑے ہوئے اور چند اشعار اپنی فضیلت میں پڑھے ۔ حضرت حسانؓ نے ان اشعار کا بھی برجستہ جواب دیا۔

 اب بنوتمیم کی زبانیں گنگ ہو گئیں۔ اقرع بن حابس جو خود بڑے فصیح البیان شاعر اور خطیب تھے اور جن کی اصابت رائے کا سارا عرب معترف تھا۔ یہاں تک کہ متحارب قبائل اپنے جھگڑوں میں ان کو جج  بنایا کرتے تھے ، بے ساختہ پکار اُٹھے

 ''باپ کی قسم محمد ﷺ کا خطیب ہمارے خطیب سے بہتر ہے اور ان کا شاعر ہمارے شاعر سے افضل ہے ۔ ان کا کلام ہمارے کلام سے زیادہ فصیح اور ان کی زبان ہماری زبان سے زیادہ شیریں ہے ۔''

اہل وفد نے ان کی رائے سے اتفاق کیا اور سب اسی وقت حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ۔ یہ لوگ چند دن مدینہ منورہ میں ٹھہرے اور قرآن اور عقائد دین کی تعلیم حاصل کی۔ عطاردؓ بن حاجب اسلام سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے نوشیرواں سے انعام میں پایا ہوا کمخوابی خلعت مدینہ کے بازار میں فروخت کر دیا۔ اس لئے کہ یہ ریشمی تھا۔

حضرت عمر فاروقؓ کو معلوم ہوا تو انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا

 '' یا رسول اللہ عطارد اپنا خلعت جو اس نے نوشیرواں کے دربار سے حاصل کیا تھا، فروخت کر رہا ہے ، آپ اُسے خرید لیں۔''

حضور ﷺ نے فرمایا:

 یہ ریشم کا بنا ہوا ہے اسے وہ مرد استعمال کرے گا جس کا عاقبت میں حصہ نہ ہو۔''

یہ وفد رخصت ہونے لگا تو حضور ﷺ نے ہر شخص کو انعام و اکرام سے سرفراز فرمایا۔

حضرت ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کی تقریر ایک مرتبہ پھر پڑھیں تاکہ اندازہ ہوسکے کہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں کن اوصاف پر خوش ہونا چاہئے اور ہمارے لئے سرمایہ افتخار کیا باتیں ہیں۔

 

فضائلِ مکہ مکرمہ

’’اور تمہارا رب جو چاہتا پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) چن لیتا ہے‘‘ (القرآن)

اللہ تعالیٰ نے ہی آسمان و زمین بنائے اورپھراللہ تعالیٰ نے ہی زمین پر مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو خا ص فضیلت عطاء فرمائی۔ اہل ایمان کی سعادت ہے کہ وہ ان مقامات سے محبت رکھتے ہیں اور ان مقامات پر حاضر ہوکر اپنی اُخروی سعادت کا خوب خوب سامان فراہم کرتے ہیں۔

نبی کریمﷺ نے مکہ مکرمہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

’’بے شک اللہ تعالیٰ نے جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے، تو اسی دن سے مکہ کو حرمت والا بنادیا ہے، اس لیے اب قیامت تک یہ مکہ شہر اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ حرمت کی وجہ سے حرمت والا رہے گا۔ اس کی یہ حرمت نہ تو مجھ سے پہلے حلال ہوئی ہے اور نہ ہی میرے بعد ، اور میرے لیے بھی صرف کچھ وقت کے لیے اسے حلال کیا گیا تھا۔‘‘ (صحیح البخاری)

مکہ مکرمہ شہر میں وہ مسجد حرام موجود ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں بتایا گیا ہے کہ:

’’بے شک وہ پہلا گھر جو لوگوں کے لیے بنایاگیاتویہ وہ گھر ہے جو مکہ میں ہے‘‘ (القرآن)

اس مسجد کی نماز کے متعلق نبی کریمﷺ نے فرمایا:

’’مسجد حرام میں ایک نماز دیگر مساجد میں ایک لاکھ نماز سے افضل ہے‘‘ (سنن ابن ماجہ)

 

وبائی اَمراض کے دنوں میں گھر سے نکلنے اور داخل ہوتے وقت  ان دعاؤںکا اہتمام کریں

گھرمیں داخل ہونے کی دعاء

اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ خَیْرَ الْمَوْلَجِ وَخَیْرَ الْمَخْرَجِ ۔ بِسْمِ اللّٰہِ وَلَجْنَا وَ بِسْمِ اللّٰہِ خَرَجْنَا وَ عَلٰی اللّٰہِ رَبِّنَا تَوَکَّلْنَا ۔

 پھر اپنے گھر والوں کو سلام کرے۔ ( سنن ابی داؤد )

 گھرسے نکلنے کی دعاء

(۱) بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلٰی اللّٰہِ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ

جو شخص یہ دعاء پڑھ لے تو اس کو کہا جاتا ہے کہ تیری کفایت کرلی گئی، تجھے بچا لیا گیا ، تجھے ہدایت دے دی گئی اورشیطان اس سے دور ہوجاتا ہے ، پھر شیطان دوسرے شیطان سے کہتا ہے کہ ایسے شخص سے تیرا کیا کام؟ جس کو ہدایت دے دی گئی اورجس کی کفایت کرلی گئی اورجس کو بچالیا گیا (سنن ابی داؤد ۔جامع الترمذي)

(۲) اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِکَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ أَوْ اَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ أَوْ أَجْہَلَ أَوْ یُجْہَلَ عَلَيَّ

(سنن ابی داؤد۔ جامع الترمذی)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor