Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

ایک نفل قربانی بے شمار فائدے

 

ایک نفل قربانی  بے شمار فائدے

Madinah Madinah

قربانی بذاتِ خود ایک بہت اہم عبادت ہے ۔ اللہ کریم نے قرآن مجید میں اور پیارے آقاﷺ نے احادیث طیبہ میں جیسے پر اثر انداز سے قربانی کی ترغیب دی ہے ‘ اُس کو پڑھنے اور سمجھنے کے بعد تو وہ مسلمان بھی قربانی سے محروم نہیں رہ سکتے ‘ جن پر قربانی واجب نہ ہو ۔ پھر وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مالی وسعت دی ہوتی ہے‘ وہ تو خوب بڑھ چڑھ کر قربانی کرتے ہیں ۔اُن کی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی طرف سے قربانی کے ساتھ ساتھ اپنے پیارے آقاﷺ کی طرف سے بھی قربانی کریں ۔ اپنے مرحوم والدین اور دیگر اہل ِ محبت کے ایصالِ ثواب کیلئے بھی وہ قربانی کرتے ہیں ۔

قربانی ‘ قرآن مجید کی روشنی میں:

’’آپ کہہ دیجئے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت صرف اﷲ تعالیٰ کیلئے ہی ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘ (سورۃ الانعام)اس آیت مبارکہ نے واضح طور پر بتادیا کہ ایک مسلمان کی پوری زندگی صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کیلئے ہی ہوتی ہے۔ مسلمانوں کی ہر عبادت صرف اسی ذات کیلئے ہوتی ہے جو اس کا خالق ومالک ہے۔ قربانی بھی جو ایک اہم ترین عبادت ہے اور جس کے ذریعے انسان اپنے رب کا تقرب حاصل کرتا ہے وہ بھی محض رضائے مولیٰ کیلئے کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ نہ تو یہ قربانی کسی بت یا بزرگ کے نام پر ہو، نہ ہی اس کا مقصد لوگوں کو دکھلاوا اور شہرت ہو ورنہ قربانی کا ثواب اور مقصد دونوں برباد ہوجائیں گے۔ آج کل رواج ہے کہ بعض مالدار لوگ قیمتی جانور خریدتے ہیں اور پھر اخبارات میں بڑے اہتمام سے یہ خبر اور تصویر شائع کرواتے ہیں۔ ایسے لوگ قابل رحم ہیں کہ قربانی پر اتنی رقم خرچ کرنے کے باوجود اس ریاکاری کی وجہ سے اﷲ تعالیٰ کے ہاں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ رہی دنیا کی یہ واہ واہ تو یہ اتنی ناپائیدار اور بے کار چیز ہے کہ اس کی خاطر اپنے نیک اعمال ضائع کردینا سوائے حماقت کے کچھ نہیں۔

’’اﷲ تعالیٰ کو ان (قربانیوں کا) گوشت اور خون نہیں پہنچتا لیکن اس کو تو تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتاہے۔‘‘ (سورۃ الحج)اس آیت میں قربانی کا اصل فلسفہ بیان فرمایا یعنی جانور کو ذبح کرکے محض گوشت کھانے، کھلانے یا اس کا خون گرانے سے تم اﷲ کی رضاء کبھی حاصل نہیں کرسکتے، نہ یہ گوشت اور خون اٹھ کر اس کی بارگاہ تک پہنچتا ہے۔ اس کے ہاں تو تمہارے دل کا تقویٰ اور ادب پہنچتا ہے کہ کیسی خوش دلی اور جوش محبت کے ساتھ ایک قیمتی اور نفیس چیز اس کی اجازت سے اس کے نام پر قربان کردی۔ گویا اس قربانی سے ظاہر کردیا کہ ہم خود بھی تیری راہ میں اسی طرح قربان ہونے کیلئے تیار ہیں۔(ماخوذ از فوائد عثمانی  ؒ)

’’بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کی، پس آپ اپنے رب کے سامنے نماز پڑھیں اور قربانی کریں، بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بے نشان ہونے والاہے‘‘ (سورۃ الکوثر)دین اسلام میں نماز کو جو کچھ مقام اور مرتبہ ہے اس سے ہر مسلمان بخوبی واقف ہے۔ یہی دین کا ستون اور مؤمن کی معراج ہے۔ یہی کافر اور مؤمن کے درمیان فرق کرنے والی چیز ہے۔ اسی طرح مالی عبادات میں قربانی کا ایک خاص مقام ہے۔ کیونکہ اصل تو یہ تھا کہ اپنے جان اور مال کی قربانی دی جاتی اور بوقت ضرورت ہر مسلمان دین اسلام کیلئے یہ سب کچھ قربان کردیتا لیکن عام حالات میں ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو حضرت ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی یادگار میں جانور کے ذبح کرنے کو ہی کافی قرار دے دیا۔ اس آیت مبارکہ میں دونوں کا حکم ایک ساتھ دیا جارہا ہے جس سے قربانی کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

قربانی ‘ احادیث رسول ﷺ  کی روشنی میں :

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’عید کے دن قربانی کا جانور (خریدنے) کیلئے پیسہ خرچ کرنا اﷲ تعالیٰ کے یہاں اور چیزوں میں خرچ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ (طبرانی)

حضرت زید بن ارقم رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یارسول اﷲ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے انہوں نے عرض کیا:یا رسول اﷲ! اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (تمہارا فائدہ یہ ہے کہ تمہیں قربانی کے جانور کے) ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ انہوں نے پھر عرض کیا: یارسول اﷲ! (جن جانوروں کے بدن پر اون ہے اس) اون کا کیا حکم ہے؟ (کیا اس پر بھی کچھ ملے گا؟) آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہر بال کے عوض بھی ایک نیکی ملے گی۔(الترغیب و الترہیب)

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ محسنِ اعظم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو (ایسا آدمی) ہماری عید گاہ میں حاضر نہ ہو۔ (الترغیب والترہیب)

ان آیات ِ مبارکہ اور احادیث ِ طیبہ کے پڑھنے کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ انسان ‘ قربانی کو بوجھ یا پریشانی سمجھ کر نہیں ‘ زندگی کا ایک پُر لطیف کام سمجھ کر انتہائی ذوق و شوق سے ادا کرے اور اپنی قربانی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کی کوشش کرے ۔ جو لوگ دنیا کے لالچ میں مبتلا ہوتے ہیں ‘ وہ کیسے ایک ایک روپے کا حساب رکھتے ہیں اور پورا پورا نفع کمانے کے چکر میں رہتے ہیں ۔

اہل عزیمت کے ساتھ نفل قربانی میں حصہ لے کر آپ ایک تیر سے دو نہیں ‘ کئی شکار کر سکتے ہیں ۔ یہ ایک قربانی آپ کو جہاد فی سبیل اللہ ‘ دعوت دین‘ شہداء کرام کے اہلِ خانہ کی خدمت ‘ علم ِ دین کی اشاعت ‘ خدمت ِ خلق اور دیگر کئی نیکی کے کاموں میں شرکت کا موقع فراہم کرتی ہے ۔اللہ کریم تمام مسلمانوں کی تمام قربانیوں کو قبول فرمائے اور جذبۂ قربانی سے ہمیں سر شار فرمائے ۔ (آمین ثم آمین)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor